بس اوئے۔۔۔
کبھی پتنگ بازی کے دوران لوٹنے والا ڈور ہاتھ لگنے پر فوری نعرہ لگا دیتا تھا۔
بس اوئے۔
اس کا مطلب میں نے پکڑ لی۔ اب کوئی اس کا حق دار نہیں۔
اب یہ پتنگ میری ہے۔
لٹیرے بڑے اخلاق والے ہوتے تھے اور اس نعرے کا مثبت جواب دیتے
اور اس پتنگ یا ڈور سے فوری اور خوشی خوشی دستبردار ہوجاتے
اچھے دنوں کی باتیں ہیں،
یار بیلی اکٹھے کہیں جا رہے ہوتے تو
کوئی مہوش، خوباں کہیں دکھائی دیتی تو
کوئی تیز نگاہ، گبرو، فوری صدا بلند کردیتا
بس اوئے۔
پہلا مطلب بہت خوب، اچھی اور دوسرا؟
وہی یعنی میری نگاہ پہلے پڑی اب باقی اصحاب نہ صرف اس معاملے سے تھوڑا نہیں بہت زیادہ دور ہی رہیں۔
کیونکہ اب یہ ان کا ذاتی معاملہ ٹھہر گیا۔
یار لوگ اسے بھی خوش دلی سے مان لیتے
یہ جذبہ کہلاتا تھا سپورٹس مین سپرٹ
مگر ہائے زمانہ
دن بدلے، دل بدلے، سب کچھ بدل گیا
اب چاہے کوئی پہلے بولے یا آخر میں
بس اوئے صرف تگڑے اور ڈاہڈے کی ہوتی
اس کے ہاتھ میں ہی سب کچھ آتا ہے
بلکہ کمزور اور ماڑے ویسے ہی دستبرداری کے جذبے سے کہہ اُٹھتے ہیں۔
جمہوریت میں کبھی اصول تھا، جس کے حق میں فیصلہ ہوا، وہی سب کو قبول ہوتا۔
اب فیصلے کرنے والے سب نہیں، ایک ہوتا ہے
وہ بھی کسی کو قبول نہیں ہوتا۔
جس کا دھڑا اور گروپ بڑا یا مضبوط، فیصلہ بھی اس کے نام
سیاست میں بھی کمزور کی بس ہوگئی،
اس نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے۔
بے بس عوام بھی کچھ پلے نہ پڑنے
مسائل اور حالات کی تلخی سے تنگ آکر بول اٹھتے ہیں۔
بس اوئے (ہمارے بس کا روگ نہیں)


