کچھ ایسی ہستیاں بھی ہوتی ہیں، جنہیں اتنے تواتر کے ساتھ روزمرہ کی زندگی میں مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کی حرکات و سکنات، ان کا کسی خاص مقام سے گزرنا، کسی جگہ پر بیٹھنا، ہماری دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ وہ شخصیت اکثر ہمارے اتنے قریب ہو جاتی ہے کہ اس سے کسی قدر مانوس ہو جاتے ہیں، جیسے وہ کوئی قریبی، دوست، رشتہ دار، جاننے والا ہے۔ حالاں کہ اس سے کبھی دو بدو ملاقات یا بات چیت بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ اس شخصیت کا منظر سے کچھ عرصے تک ہٹ جانا، یا دکھائی نہ دینا۔ پریشانی اور تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔ کسی جاننے والے سے پوچھنے کی نوبت آ جاتی ہے۔
یہ کردار کیسے تھے۔ مثلاً: بچپن میں اسکول جاتے حتیٰ کہ کالج کا دور آ گیا، ایک درویش، یا مجذوب کہہ لیں، صرف تہبند باندھے، بڑی داڑھی اور جسم پر بال، ننگے پاؤں سڑک کنارے آتے جاتے دیکھتے۔ اس کا ایک شوق تھا۔ ایک مخصوص پان سگریٹ کی دکان پر آ کر پان کھاتا اور اس کے ساتھ پیپسی کی بوتل پیتا۔ بڑوں کے ساتھ اس دکان پر کھڑے ایک بار سنا، کہ یہ شخص ایک تاریخی عمارت کے کھنڈرات کے اندر ایک تہہ خانے میں سانپوں کے ساتھ رہتا ہے۔ ایسے کچھ عجیب و غریب واقعات پر مبنی اس کی حالات زندگی سن رکھے تھے۔ کئی برسوں تک اسے دیکھتے اور پھر اس سے متعلق داستانیں خود بخود ذہن کی سکرین پر نمایاں ہو جاتیں۔
Read more