سب خیریت ہے نا؟

عائشہ خان اور حمیرا اصغر کی کہانی صرف دو زندگیوں کا اختتام نہیں، بلکہ ایک بہت بڑے سماجی المیے کی علامت ہے۔ یقیناً، یہ ایک دل دہلا دینے والی حقیقت ہے جس پر اب صرف افسوس یا حیرت نہیں بلکہ سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ دونوں خواتین اپنی زندگی کے الگ الگ مرحلوں میں تھیں ایک عمر گزار چکی تھی، تو دوسری ابھی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھی تھی۔ لیکن انجام دونوں کا ایک جیسا ہوا،

Read more

منزل باراں

بادل چھائے تھے، گہرے اور بھاری، جیسے آسمان نے کوئی پرانا غم سنبھالا ہوا ہو۔ بارش پوری آب و تاب سے برس رہی تھی، دن چڑھتے ہی شام کا گمان ہونے لگا تھا۔ شہر کی سڑکیں، گلیاں، مکان سب کچھ بھیگتا جا رہا تھا اور وہ بھی۔ آج سرکاری چھٹی تھی، لیکن وہ حسبِ معمول ناشتہ کیے بغیر جلدی سے نکلا اور ایک طویل مسافت کے بعد بس اسٹاپ پر آ کھڑا ہوا۔ عمر کی ساٹھویں سیڑھی پر قدم رکھ

Read more

نوبل انعام برائے صبر و برداشت

آپ نے جنگ نہیں کی؟ بہت اچھے! بات مان لی؟ سبحان اللہ! اب جو صدرِ محترم ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نگاہِ ناز دوڑائی تو قرعہ نکل آیا عسکری قیادت کے نام۔ جیسے ہی سلامی کا وقت آیا، ٹرمپ نے اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست بات کرنا ہی بہتر سمجھا، ظاہر ہے، کون چکر کاٹے جمہوریت کی گلیوں میں جہاں بات بات پر اختلاف ہو، اور ہر کوئی طنز کے تیر لیے گھات میں بیٹھا

Read more

بھروسا رکھیں۔ دروازہ کھلا ہے

یقین، بے یقینی کے اندھیروں میں سب سے روشن چراغ ہے۔ انسان جب زندگی کے الجھاؤ، مسائل اور ناہموار راستوں میں گم ہو جاتا ہے تو اسے اپنا ہر قدم بھاری لگتا ہے۔ ایسے میں وہ پریشان ہونا شروع کرتا ہے، بے چینی اس کی روح میں اترنے لگتی ہے، اور امید کے چراغ مدھم ہونے لگتے ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں، یہ انسانی فطرت ہے جبلت۔ میرے ایک محترم دوست، جنہیں میں ایک باوقار، نرم گفتار اور با

Read more

سانجھ: جہاں کتابیں بکتی نہیں، بانٹی جاتی ہیں

کتابوں کی دکانوں کا تذکرہ ہو تو ذہن میں اکثر وہی روایتی منظر ابھرتا ہے۔ شیلفوں پر سجی کتابیں، بے رونق چہروں والے دکاندار، اور ایک سودا سا، جیسے الفاظ کو ترازو میں تولا جا رہا ہو۔ اگر آپ لاہور کی ٹیمپل روڈ سے صفاں والے چوک سے گزر کر مزنگ اڈے کی طرف مڑیں، تو بائیں ہاتھ ایک گلی میں ’سانجھ‘ نام کی ایسی کتابوں کی دکان واقع ہے جو دکان سے کہیں زیادہ ایک تہذیبی بیٹھک ہے، ایک

Read more

ملیر جیل میں زلزلہ یا آزادی مارچ؟

کراچی کے معروف تاریخی ”سہولت خانہ“ المعروف ملیر جیل سے متعلق جو ابتدائی رپورٹ آئی ہے، وہ کسی ہالی وڈ فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے نہایت سنجیدگی سے بتایا ہے کہ ہزاروں قیدی زلزلے کے خوف سے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے باہر نکلے۔ ذرا سوچیے، وہ زلزلہ کیسا ہو گا جس نے قیدیوں کو بھی انسانی ہمدردی کے جذبے سے لبریز کر دیا جیل کی دیواریں کہیں گر نہ جائیں، چلو خود ہی باہر نکل کر

Read more

مقبولیت یا منڈی کا مال

پاکستانی سیاست میں اگر کوئی شے مستقل رہی ہے تو وہ ہے غیر مستقل مزاجی۔ بیانیے آتے ہیں، جلسے جاتے ہیں، اتحاد بنتے ہیں، اپوزیشن بکھرتی ہے، مگر جو شے ہر موسم میں پکی فصل کی طرح اگتی ہے، وہ ہے ”عمران خان“ ۔ سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا لیڈر گزرا ہو جس کے حامیوں اور مخالفوں نے اسے اتنا ”بیچا“ ہو۔ جی ہاں، بیچا، جیسے کوئی مارکیٹ پراڈکٹ ہو۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، سوشل میڈیا کے

Read more

سیاست اور پولی گرافی کا گٹھ جوڑ

پاکستان کی سیاست میں سچ اور جھوٹ کی تلاش، بالکل ایسے ہے جیسے دودھ میں سے بال نکالنا یا بال میں سے دودھ۔ دونوں کام یکساں طور پر لاحاصل محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ یہاں نہ دودھ خالص ہے، نہ بال اصلی۔ ایسے میں جب کسی سیاستدان کے بیان کو ”سچ یا جھوٹ“ کے معیار پر پرکھنے کی نوبت آ جائے، تو پولی گراف مشین کو خود پہلے کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جانا پڑتا ہے، تاکہ وہ ذہنی طور پر

Read more

تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

ایوب خان کا دور، جو اکثر سنہری دور کہلایا جاتا ہے، اتنا چمک دار تھا کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ ملک میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا ایسا شور تھا کہ اگر کسی نے رات کو آنکھ کھولی تو لگا جیسے کوئی نیا صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ سڑکیں، ڈیم، صنعتیں اور وہ مشہور و معروف ”ترقی“ جو صرف چند خاص علاقوں اور خاص طبقات تک محدود تھی۔ سب ایوب خان کی حکومت کے چمکتے دمکتے کارنامے تھے۔

Read more

اگلی گھنٹی کا انتظار

برصغیر میں وقت رک سا گیا تھا، پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں، جن کے درمیان عشروں پر محیط سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تناؤ، ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر آ کھڑی ہوئیں۔ لیکن اس بار معاملہ لفظوں اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ تک محدود نہ رہا۔ اس بار میزائل داغے گئے۔ اور پھر 88 گھنٹے کے اس ہولناک سکوت کے بعد اچانک سیز فائر کا اعلان ہوا۔ یہ 88 گھنٹے صرف جنگی خبریں نہیں تھے، یہ 88

Read more

سجن اور وزیر آباد یاترا

کئی برسوں سے یہ پروگرام بن رہا تھا مگر اس بار سب نے یک زبان ہو کر شرکت کی ہامی بھر لی۔ جس سے ہمیں امید بندھ گئی کہ اس مرتبہ ملاقات ہو جائے گی، یہ 1990 کی بات ہے ہم پنجابی کے پہلے اخبار سجن میں صحافت کے ساتھ زبان اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کسی نظریے کے لئے کام کرنے کا ڈھنگ سیکھ رہے تھے۔ حسین نقی ایک اہل زبان تجربہ کار صحافی نے پنجاب میں

Read more

سڑک سے رشتہ

گھر سے نکلتے ہی باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں، پہلا رابطہ سڑک سے ہوتا ہے، فاصلے طے کرنے میں مدد دیتی ہے، پیدل یا کسی سواری پر منزل کی طرف ہم چل پڑتے ہیں، زندگی کے معمولات کی تکمیل کے لئے بھی انہیں راستوں پر چلتے ہیں۔ آج کا دن کیسے گزرے گا، کیا کچھ کرنا ہے، سٹوڈنٹس اپنے تعلیمی ہدف اور آفس، کاروبار، فیکٹری اپنے کام پر جانے والے بھی اپنی سوچوں کے گھوڑے دوڑاتے جاتے ہیں،

Read more

”مجھے کچھ نہیں ہو گا“ – امی کے نام خط

امی! میں نے آپ کا ایک خط کھول کر پڑا، جب میں کچھ عرصہ کے لئے شہر سے باہر ملازمت کے سلسلہ میں گیا، وہاں مجھے آپ کی یاد آتی، کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا ایک دن ایسا بھی آئے گا میں اکیلا بیٹھ کر ان لمحات کو فلم کی صورت دیکھوں گا۔ آج احساس ہو گیا۔ یہ انسان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے، اردگرد دوست، ساتھی اور ملنے والوں کی کمی نہیں ہوتی

Read more

ضد لے ڈوبے گی

ضد کے معنی ہیں ہٹ دھرمی، اپنی مرضی کرنا، انا اور اڑ جانا۔ ضد سے مراد کسی بھی معاملے میں دوسروں کی مرضی کے برعکس اپنی مرضی کو فوقیت دینا اور اس پر اڑ جانا اور ڈٹے رہنا ہے۔ چاہے یہ مرضی ناپسندیدہ یا نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔ ضد میں آ کر انسان اپنی ذات کو ترجیح دیتا ہے۔ دیکھا جائے تو کسی بھی بات پر اٹک جانا، کسی کی نہ سننا، خود کو صحیح سمجھنا ہی ضد

Read more

جمہوریت اور لوگوں کی رائے

اکثریت اور اکثریت کی رائے، آئین و قانونی کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کا احترام جہاں مقدم ہے، وہیں تمام ریاستی اداروں کو ذمہ داری سے اپنے کام کرنے چاہئیں، کسی بھی سیاسی بحران یا تنازع کے عسکری حل کی بجائے سیاسی حل تلاش کرنے چاہئیں۔ 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک نئی جماعت بنائی، جسے اگلے دس سال کے دوران ملک میں مقبولیت حاصل ہوئی، عوام کی ایک بڑی تعداد نے بھٹو کی پالیسیوں اور نظریے کو درست قرار

Read more

کیا 8 فروری کی تاریخ پتھر پر لکیر ہے؟

دعوے اور یقین دہانیاں کرنا کوئی آسان نہیں، سب اپنی حدود میں رہیں گے، یا سب اپنی حدود میں رہتے کام کریں گے شاید ایسا کرنا مشکل کام ہے۔ کسی فرد، مجموعے یا ادارے کو با اختیار کرنا محض بات ہو سکتی ہے، مداخلت کی جبلت بہت بری ہے، اس سے گریز یا خود کو قابو میں رکھنا کسی ریاضت سے کم نہیں۔ معاملات اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کی سوچ بہت خطرناک ہے، کچھ

Read more

تاثیر مصطفیٰ بھی رخصت

یہ میرا جنگ کے نیوز روم میں باقاعدہ پہلا دن تھا 1991 فروری کی پانچ تاریخ تھوڑا سا گھبرایا کیونکہ زیادہ تجربہ نہیں تھا اور ادارہ بڑا۔ کہانیاں قصے بڑے۔ صرف اتنا تھا مجھے سکھانے والے بھی معمولی نام نہیں تھے۔ ان کا مجھے منتقل کیا گیا اعتماد شاید آج بھی کبھی شرمندگی کا باعث نہیں بنتا۔ جنگ کے نیوز روم میں مختلف مزاج کے لوگ تھے۔ میں نے ڈیسک پر بیٹھے جب بڑے دائرے کے ڈیسک والوں پر نگاہ

Read more

بزدار اور فرح گوگی کو کون پکڑے گا؟

کرپشن ہمارا آج کا مسئلہ نہیں بانی پاکستان نے پہلے دن اس کی نشاندہی کردی مگر نہ وہ اس میں ملوث لوگوں کا کچھ کرسکے نہ آنے والے دنوں میں کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بدعنوانی کی تعریف اور معنی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے۔ یہ محض پیسے کا غبن یا غلط طریقے سے حصول سمجھا گیا جبکہ اس سوچ اور نظریے کو بنیاد بنا کر ہر جگہ ہر حیثیت میں کام ہوتے رہے۔ سیاستدانوں

Read more

ہم اکثر کسی کو بڑا سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے

ایک دور تھا اور شاید اب بھی یہ جملہ دہرایا جاتا ہو کہ بڑوں میں بیٹھا کرو تمھیں سیکھنے کا موقع ملے گا۔ یہ حقیقت ہے جب اپنے سے بڑے اور تجربہ کار لوگوں کی محفل اور نشستیں مل جائیں تو انسان بہت سی اچھی بری باتوں سے آشنا ہوجاتا ہے۔ بچپن میں پہلے والدین ہی اس ذمہ داری کو نبھاتے ہیں لیکن انہیں آسانی سے قبولیت کم ملتی ہے خاص طور پر اکثر اپنے والد کی صحبت سے گریز

Read more

انسان بنیں

فلم کا ڈائیلاگ تھا سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑہ بنا دیتا ہے۔ ویسے تو مملکت خداداد پاکستان میں بے شمار وجوہات ہیں جو ہمیں ایسی کیفیت سے دوچار نہیں بلکہ اس میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ انسان اور خاص طور پر مسلمان محض اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ تمام مخلوقات میں بڑا اشرف مطلب بلند رتبے پر ٹھہرایا گیا ہے اپنی حرکات پر کبھی غور نہیں کیا کبھی چوہے تو کبھی گیدڑ جیسے افعال اپناتا ہے

Read more

پھوٹی کوڑی، دمڑی اور دھیلے

سیاست میں ادب سے رجوع کا حوالہ آج سے نہیں۔ گزرے وقتوں علم سے واقفیت رکھنے والے جید حضرات میدان سیاست میں اترتے رہے۔ اسی طرح قانون اور معیشت کی جانکاری بھی ان اصحاب کے لئے ضروری رہی ہے۔ سیاستدان کا مخاطب ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے اس لئے اپنے بیان میں استعمال زبان کا خیال بھی کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں عموماً اور ہمارے ہاں خصوصاً کسی ادارے سے فارغ التحصیل یا سند یافتہ افراد

Read more

لیٹر باکس نہیں خط کیا لکھیں

لیٹر باکس کہیں نظر نہیں آتے، پتا ہی معلوم نہیں تو آنے والے زمانوں کو کیا خط لکھا جائے گا! اپنی شناخت کی تلاش نہ جانے کب سے گمشدہ راستوں میں بھٹک گئی۔ ماضی میں پلٹ کر جنہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے اور ان سے کچھ سیکھنے کی خواہش تھی وہ شاید اس سوچ کے بعد دم توڑ گئی کہ ہمیں نے سب کچھ مسخر کیا اور آنے والے دنوں کی پہچان بھی ہمیں سے ہے۔ جب ڈاک کا رابطہ

Read more

دکھ سدا سکھ گاہے گاہے

اپنے دکھ چھپائے ہوئے تو ہیں لیکن ان کے ساتھ کیسے چلا جائے۔ انسان کی زندگی میں یہ دکھ تکلیف اور پریشانی ہمیشہ رہتی ہے اور وہ چاہتا خواہش کرتا ہے کہ یہ کبھی نہ ہوں۔ دکھ بہت ضروری ہوتا ہے یہ بے شمار احساسات سے آشنائی دلاتا ہے۔ اس کا درد بھی اکثر برداشت کرنا اچھا لگتا ہے۔ اپنے دکھ کی گٹھری کو سر پر اٹھانے سے صرف زندگی کا سفر بوجھل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایسے ہی ہے

Read more

ہم کہاں پہنچ گئے؟

ریاست کے قوم سے مخاطب ہونے کے مواقع بہت کم آتے رہے ہیں، جب دشمن ملک حملہ آور ہوا کوئی قدرتی آفت آئی۔ عوام سے نہ صرف مدد مانگی بلکہ انہیں اتحاد اور پرعزم رہنے کا درس بھی دیا گیا۔ پاکستانی قوم ایسے لمحات میں بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتی آئی ہے۔ ملی نغمے اور خاص طور پر قومی ترانے کے الفاظ اور دھنیں جذبہ حب الوطنی سے سرشار کرنے کا کام کرتے ہیں۔ قومی ترانہ فارسی میں ہے۔ اس

Read more

ابا جی کا خیال رکھیں

ماں جنم دیتی اور گود میں لے کر پالتی ہے، باپ انگلی پکڑ کر باہر کی دنیا سے متعارف کراتا ہے۔ بچے کی ضرورت کیا ہے اور اسے کیسے پورا کرنا ہے، اس سب کا جتن کرنے والی ہستی کبھی اپنی پریشانی اور تکلیف بتا نہیں پاتی۔ باپ کو گھر کے معاملات چلانے میں کیا کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے، کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب پڑھی ہے باپ کے چہرے

Read more

جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے

2007 دسمبر کی 27 تاریخ کو بے نظیر بھٹو سابق وزیر اعظم دہشت گردوں کا نشانہ بنیں۔ طالبان القاعدہ جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری پر الزام لگے اور انگلیاں اٹھیں۔ پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں نے غصے کا اظہار کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ جب حالات کنٹرول سے باہر ہوئے تو آئندہ کی بندوبستی سنبھالنے کی یقین دھانی پر زرداری نے پاکستان کھپے کا سندھی نعرہ لگا کر آگ پر پانی ڈالا۔ اور حالات کنٹرول میں لانے کے لئے

Read more

35 پنکچر کون لگائے؟

مشہور کہاوت ہے جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں، سب سے پہلے چوہے چھلانگ لگاتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار معاملہ صرف طوفان کے خوف سے جان بچانے کا ہوتا ہے۔ اکثر قائد انہی کو کھوٹے سکے کہتے ہیں۔ حالانکہ یہی ان کے ستون کہلاتے ہیں۔ بانی پاکستان نے بھی یہی اصطلاح استعمال کی اور کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ سیاست اور حکمرانی میں ان کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ جناح

Read more

عمران خان ہی کیوں؟

پاکستان میں سیاست پر گفتگو عمران خان کا حوالہ یا ذکر کیے بغیر ممکن نہیں، اسے سابق کرکٹر کی حکمت عملی اور سیاسی چال کا حصہ سمجھیں یا پھر ایسے حالات کا نتیجہ جس میں انہیں ایک نوآموز لیڈر سے مقبول بنا دیا۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مارچ 2022 میں اگر عمران خان کی حکومت ہٹا کر عام انتخابات منعقد کرائے جاتے تو انہیں بری طرح شکست ہوتی جبکہ ایک عام رائے اور جائزوں میں بتایا جا

Read more

ازدواجی اونچ نیچ کا ایک لمحہ۔۔۔

یہ کوئی چھ برس پہلے کی ایک عام سی رات تھی، اس نے کوئی بڑے غیر معمولی انداز میں اس کے ساتھ بستر پہ دراز ہو کر اپنے اچھے دنوں میں لوٹ جانے کی خواہش یا کہہ لیں حسرت کو جگانے کا جیسے قصد کیا۔ ماضی کی طرح اس کے جسم کو سہلاتے ہوئے باتوں کا سلسلہ آگے بڑھانا چاہا وہ اپنے ذہن میں یہ لمحے کبھی کبھی تازہ کر کے بیتے دنوں میں کھونے کی اک کوشش میں تھا۔

Read more

گواہی دیتا ہوں

حقیقت دیکھ لینے یا دل کو یقین آ جانے پر کسی بات کا ثبوت مل جاتا ہے اور تسلی ہوجاتی ہے۔ زندگی گمان، خیالات، تصورات اور مختلف سوچوں سے مزین ہے، اس میں خواہشات، خواب اور ضرورتوں پر مبنی مقاصد انسان کا تعاقب کرتے ہیں اور کبھی اسے ان کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ دنیاوی اعتبار سے کئی ذرائع اور منازل طے کرنے کے بعد کچھ ملنے اور کھو جانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ حصول کی صورت میں کامیابی

Read more

سماجی مکالمہ اور رواداری

اختلاف رائے، مخالفت اور ضد تینوں کے معنی کیفیت اور اثرات بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سیاست اور مذہب کے معاملات میں انسان نے اپنی زندگی کے معمولات کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ اکثر کوئی نہ کوئی معلومات اکٹھی کر کے ہم کسی بحث کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں جس کے بعد اپنے ذہنوں کو ہم خیال اور مخالف کی ترتیب کے مطابق مصروف کرلیتے ہیں۔ ہم ساری صورتحال کے لئے تیار ہوتے ہیں ذہنی ہم آہنگی

Read more

زبان کون سی ہو؟

رابطہ کی بنیاد ایسے لفظ بنتے ہیں جن کا لہجہ اور معنی مخاطب کو سمجھ آجائیں۔ انسان اس مقصد کے لئے ابتدا سے ہی ایک یا اس سے زیادہ زبانوں کا سہارا لیتا آیا ہے ہر علاقے اور وہاں کے رہن سہن کا ایک تعارف زبان بنتی ہے یہی زبان زندگی گزارنے کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے۔ بچہ جب ہوش سنبھالتا یہ بلکہ کچھ پیچھے جائیں تو اپنے وجود کی تکمیل کے مراحل کے دوران ماں کی آواز سے کسی حد تک شناسائی حاصل کرچکا ہوتا ہے اردگرد کی دنیا سے اپنا تعلق بنانے میں ماں کی گفتگو اس کی زبان بہت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے وہ پہلا لفظ بھی ماں کے بولے الفاظ میں سے بولتا ہے یہیں سے اس کا زبان سے تعلق اور رشتہ استوار ہوتا ہے۔ وہ دنیا سے سب کچھ اسی زبان کی بدولت سیکھتا ہے۔ انہیں لفظوں کے سہارے آگے بڑھتا ہے۔

Read more

بھوک، مہنگائی اور تفریح

  مرغی کے گوشت کی بڑھتی قیمتیں : مڈل کلاس چکن کھانا بند کر دے گی اور خاموش ہو جائے گی، بعض لوگوں کا کہنا ہے اس وجہ سے پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکے گا کیونکہ ایک طرف بدعنوان نظام ہے اور دوسری جانب نام نہاد قوم۔ یہ بی بی سی پر مہنگائی سے متعلق فیچر میں سوشل میڈیا پر چلنے والے کمنٹس ہیں۔ لیکن اسے عوام کی آواز ہی کہا جائے گا۔ اگرچہ وہاں سابق اور موجودہ حکومت کے

Read more

جھوٹ ہی سچ ہے

سزا سے بچنے یا کسی دوسرے کو بچانے کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے، ہم اپنی خفت، شرمندگی اور کسی بھی خراب صورتحال کا سامنا نہ کرنے کے لئے غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، حقیقت سے جان چھڑانے کی بے شمار وجوہات ہیں۔ کوئی آپ کے بارے میں بری رائے نہ بنائے اس بناء پر بھی جھوٹ کا سہارا لینا پڑ جاتا ہے۔ کچھ جھوٹ ایسے ہوتے ہیں، جنہیں کسی صورت اچھا سمجھا یا سراہا نہیں جاتا، وہ کسی

Read more

صحیح راستہ ڈرائیور دکھائے گا یا محافظ؟

کہانی ایک دفعہ کا ذکر ہے سے شروع کریں، معلوم نہیں، پھر سب ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگیں، کہانی کا اختتام ایسا ہو گا بھی یا نہیں۔ ایک سو سال پہلے کی بات ہے ممبئی شہر میں ایک وکیل رہتا تھا، اس نے کراچی میں جنم لیا، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگلستان چلا گیا، جہاں سے وکالت کی ڈگری لی، باہر پڑھنے والوں کے وہاں کے لوگوں سے اچھے مراسم بن جاتے ہیں۔ جب وہ وکیل صاحب

Read more

سیاست کے شاہ سوار

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالیں تو سب سے زیادہ زیربحث آنے والے اور مقبولیت کی صف میں نمایاں نام آپس میں کچھ نہ کچھ مشترک یا ملتی جلتی خصوصیات اور خامیوں کے حامل رہ چکے ہیں۔ ان قائدین میں محمد علی جناح، ذوالفقار علی بھٹو، میاں نواز شریف اور عمران خان۔ سب سے پہلے وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ان میں بے نظیر بھٹو اور چند دیگر نام بھی عوامی قبولیت کی فہرست میں شمار کیے جاتے

Read more

افسانہ جوہاٹسو

زندگی کے شب و روز اپنی ڈگر پر چل رہے تھے، دن کا آغاز ایک ان دیکھے خوف سے ہوتا کہ نہ جانے کس کس مسئلے اور پریشانی کا سامنا ہو گا۔ مومنہ بچوں کو کالج سکول بھیجنے کی تیاری کراتی، ماں کے ان سے سخت سست مکالمے چلتے، کبھی لاڈ بھرے جملے بھی بچوں کو خوش کرتے، بڑا بیٹا علی اپنی ترنگ میں اٹھتا اس کا چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کا فائنل چل رہا تھا ایک آڈٹ فرم میں آرٹیکل شپ

Read more

قلم، کتاب کی دوستی

آج ایک بار پھر احساس ہوا کہ قلم کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور سب سے بڑھ کر سمارٹ فون جدید تقاضوں کی موجودگی میں کاغذ اور قلم کہیں ایک طرف چلے گئے۔ اب تعلیم اور اس سے زیادہ تفریح کے لئے موبائل فون کا سہارا لیا جاتا ہے، ہر دس میں سے کم از کم آٹھ افراد یا کبھی تمام فون استعمال کرتے نظر آئیں گے۔ کھانا کھاتے، کام کرتے، عبادت کے ساتھ یا فوراً بعد سفر کے دوران، پیدل چلتے، آرام کرتے حتی کہ سونے سے پہلے اور اٹھتے ہی یہی کام کیا جاتا ہے۔

Read more

گھبرانا بھول گئے

اب کوئی نہیں کہتا گھبرانا نہیں، لیکن عمومی حالات کچھ ایسے ہی بن چکے ہیں کہ اکثریت اس جملے کی منتظر ہے، چاہے گھر کا بڑا ہوا، ملک کا حکمران ہو، کوئی صالح بزرگ ہو، سماجی، معاشی اور کسی حد تک مجموعی سیاسی صورتحال کسی طور تسلی بخش نہیں ہیں۔ سیاست شاید ایسے ہی رہے گی، کیونکہ اس کا چلن اب بدل گیا، اس کی اخلاقیات اور ضابطے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ سماجی طور طریقے بھی راہیں بدلتے دکھائی دیتے

Read more

تقسیم کی کہانی کے آخری صفحات

ہندوستان کے طول و عرض میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے ہجرت کرنا ایک بہت بڑا سوال تھا، کلکتہ میں رہنے والوں نے مشرقی بنگال جانے کا قصد کیا تو بمبئی، آندھرا پردیش خصوصاً حیدرآباد کے مسلمانوں میں سے بہت کم کو پاکستان جانے کے مواقع ملے۔ سرکاری ملازمین اور فوج می بھی تقسیم ہو گئی تھی۔ ایک چوتھائی فوج پاکستان اور تین چوتھائی ہندوستان بھارت کو ملی۔ تقسیم کے وقت مشترکہ فوج کا فارمولہ مسترد کر دیا گیا تھا۔

Read more

متوسط طبقہ غربت کی لکیر عبور کر گیا…

حالات کدھر جا رہے ہیں۔ سیاست پر کوئی بحث کیے بغیر صرف معاشی صورتحال دیکھیں اس وقت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنے والے نفوس بڑھتے جا رہے ہیں۔ قوت خرید اتنی کمزور اور کم ہو چکی ہے کہ کئی ضرورت کی چیزیں دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ بقرعید پر پہلے سے کہیں زیادہ قیمت اور تعداد میں مویشی منڈیوں اور سڑکوں بازاروں میں آئے اور ہاتھوں ہاتھ بکے۔ یہ دینی فریضہ چونکہ اس فرض کا

Read more

دوست اور لنگوٹیا

دل سے دل تک راہ بنانے میں کئی مراحل طے کرنے پڑتے ہیں مزاج کا ملنا، ذہنی ہم آہنگی اور باہمی قربت کے جذبات۔ پھر کہیں جا کے وہ سفر مکمل ہو کر کسی منزل تک پہنچنے کا مرحلہ آتا ہے جہاں دل سے دل تک کے راستے بن جاتے ہیں۔ دوستی کے مختلف تقاضے ہیں جن میں کبھی اتنا ہی کافی شمار کر لیا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے سمجھ لیتے ہیں۔ طبیعت ایک سی

Read more

خدمت کاصلہ کیاملا؟

کسی بھی سرکاری اور نجی ادارے میں ایک نوجوان پوری صلاحیتوں اور قوت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتا ہے، اپنے کیریئر میں کئی سرد گرم اور اتار چڑھاؤ بھی راستے میں آتے ہیں، کہیں تبادلہ، کہیں ترقی، کبھی شاباش، کبھی معطلی، اکثریت کی ملازمت کا دورانیہ بڑی جانفشانی اور لگن کی کہانی پیش کرتا ہے۔ سرکاری اداروں سے وابستہ لوگ زیادہ محتاط اور اصول و ضوابط کے پابند ہوتے ہیں، انہیں آج کے دور میں ملنے والی مراعات جنہیں

Read more

اختلاف کیسا؟

سوچ اور نقطہ نظر کا اختلاف اکثر بندے کو دوسرے سے دور کر دیتا ہے۔ ہم خیال ہونا ایک نظریے سوچ فرقے یا گروہ میں زیادہ تر اختلاف کی نوعیت بدل جاتی ہے بلکہ غلط بات اور عمل بھی درست یا قابل اعتراض نہیں لگتا ہے۔ سماج میں مذہب اور سیاست کی بنیاد پر اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن اس پر اصرار شدت پسند جذبات کے اظہار کی صورت سامنے آ جاتا ہے۔ انسانی فطرت میں ایسا ہوتا

Read more

خاموش ہو جاؤ

اظہار کے چند طریقے ہیں، بات کر لیں، اشارہ کر دیں، رو دیں، ہنس لیں، چیخ مار دیں، یا ایسا کچھ بھی کر دیں، جسے دوسرا سمجھ جائے، اظہار کا ایک طریقہ خاموشی اختیار کر لینا بھی ہے۔ اسے عظیم طاقت کا ذریعہ بھی قراردیا گیا ہے، مفکرین اپنے اپنے دور میں اس پر بحث کرچکے ہیں بلکہ اس کی افادیت سے آگاہ کرتے رہے ہیں، کسی نئی فکر اور سوچ پر نگاہ ڈالنے اور اسے دوسروں تک لانے کے

Read more

سیاست یہ نہیں

ہمارے ملک میں سیاسی معاملات بعض اوقات بڑے غیرسنجیدہ انداز میں چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اس سے وابستہ تمام فریق مطلب سیاستدان کبھی اپنی سنجیدگی کو ہاتھ سے جانے نہ دینے کا مکمل تاثر دیتے ہیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن الزامات۔دعوے۔ انکشافات۔ رازداریاں سب ساتھ ساتھ جل رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بڑے دعووں سے بھری پڑی ہے۔ حصول اقتدار اور دوسری جانب حکمرانوں کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے بڑے نعرے لگتے رہے ہیں۔ جنرل ایوب

Read more

سلطان پاپڑ والا

نیکی اور بدی میں مقابلہ ثواب اور گناہ کے نتیجے پر ختم ہوتا ہے۔ اللہ نے انسان کو لالچ کی مٹی میں گوندھ کر بنایا ہے۔ وہ کسی اچھے یا برے مقصد کو نصب العین اور منزل بنا کر زندگی میں جدوجہد کرتا ہے۔ سب سے بڑی آزمائش معاش کا حصول ہے جس کے گرد تمام مسائل گھومتے ہیں۔ مفلسی کی چادر پھیلانے اور سمیٹنے کی جنگ ساری عمر لگی رہتی ہے۔ سلطان ایسے بے شمار لوگوں میں سے ایک

Read more

علیم عثمان معذرت

میرے لئے نئی جگہ پر تعلقات بنانا اور کسی سے دوستی کرنا ہمیشہ تھوڑا مشکل رہا ہے اگرچہ اب عمر کا وہ حصہ آ گیا ہے جس میں زیادہ گریز نہیں برت پاتے اور جلد علیک سلیک کا مرحلہ گزار کر جان پہچان کی منزل چڑھ جاتے ہیں۔ اس نئے آفس میں ساری نگاہیں مجھ پر لگی تھیں چند نے حدود اربع پوچھا باقی نظروں سے ڈراتے رہے۔ رپورٹنگ روم میں رمان احسان کے بعد وہ دوسرا فرد تھا جس

Read more

پی ایس ایل: وہ بازی مار گیا

قذافی سٹیڈیم میں کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد جمع ہو چکی تھی ٹاس کے بعد لاہور قلندرز کی بیٹنگ کا انتظار ہو رہا تھا۔ ماحول بتا رہا تھا کہ لاہوری کرکٹ کے دلدادہ کی اکثریت قلندرز کی سپورٹر تھی۔ میری اگلی نشست پر ایک پختہ عمر کا شخص بیٹھا تھا جس کے ساتھ بیٹھے نوجوان نے گفتگو کا آغاز کیا اور ان سے پوچھا کس ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا ویسے تو میں لاہوری ہوں

Read more

ملا، ٹائمز کالج اور انقلاب

جنرل ضیاء الحق نے جمہوریت کی بساط لپیٹی، دائیں بازو کی کئی جماعتیں فوج کا خیرمقدم کرچکی تھیں، خصوصاً جماعت اسلامی اور اس کا طلبہ ونگ جمعیت ضیاء ٹولے کا بازو بن چکی تھیں۔ بھٹو کا تختہ الٹ کر عسکری طاقتوں کو نجات دہندہ قرار دینے والے ایک نئے پاکستان کا خواب دیکھ رہے تھے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جب 1947 میں نیا تھا، تب بھی نئے والی کوئی بات نہ آ سکی، یعنی بنیاد ہی جمہوریت سے محروم

Read more

ماضی کا سفر – پریس کلب کا چھیمی شاہ

سنہ 1994 میں لاہور پریس کلب دیال سنگھ مینشن کے دو کمروں سے نکل کر پہلی بار شملہ پہاڑی کے دامن میں ایک نئی خوبصورت اور شاندار عمارت میں منتقل ہوا، صحافیوں کی خوشی دیدنی تھی، کلب کی پہلی گورننگ باڈی میں مجھے بھی منتخب ہونے کا موقع ملا، نئی عمارت بڑی منفرد دکھائی دیتی، جس کا کچھ حصہ نیچے اور کچھ اوپر تھا۔ نوجوان صحافیوں میں مقبول ہما علی کلب کے صدر تھے، ساری باڈی بڑی سرگرم اور مختلف

Read more

ماضی کا سفر

کہتے ہیں ماضی میں جانا ڈپریشن اور مستقبل کی سوچ اینگزائٹی، بے چینی جبکہ حال میں رہنا سکون کا باعث ہوتا ہے، لیکن عمر رفتہ کو آواز دینے کا الگ ہی مزہ ہے، کس کا دل نہیں کرتا وہ لمحے بھر کے لئے گزرے دنوں کی یاد تازہ کرے وہ سارے واقعات ، باتیں ،ہنسی خوشی اور غم کے دورانیے سب ایک نشست میں ذہنوں کے دریچوں  پرٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر دستک دینے لگے۔ انسان کی فطرت ہے

Read more

کیسے کیسے چور!

ضرورت خواہش لالچ انسان کی سوچ پر جیسے سوار رہتی ہیں۔ ان کے بوجھ تلے دبے لوگوں کی نگاہیں ہمیشہ دوسرے کی من پسند اشیاء پر لگی رہتی ہیں۔ وہ شے کسی طور حاصل کرنے کا جتن اکثر بے خوف اور کہہ لیں بندے کی شرم بھی مار لیتا ہے۔ زندگی میں جانے انجانے یہ حرکت انسان سے سرزد ہوجاتی ہے۔ ضروری نہیں ہر کوئی فطری طور پر ایسا فعل کرتا ہو لیکن لالچ غرض اور کسی حد تک حرص

Read more

کھو جانے کا غم

بچہ ماں سے دور ہو جائے، یہ احساس نہایت تکلیف دہ اور ناقابل بیان ہوتا ہے۔ کہیں بازار میں جاتے ہوئے، انگلی پکڑے اور پلو تھامے کبھی نگاہیں من چاہتے کھلونے پر جماتا ہے، کبھی نظریں کسی دلکش شے کی جانب گھوم جاتی ہیں۔ اگر کہیں بھیڑ میں ہاتھ چھوٹ جاتا ہے۔ ایسے میں چیزوں کی چمک دمک میں مگن رہنے کے دوران بچہ ماں سے دور ہو کر گم ہوجاتا ہے۔ بچپن میں والدہ سے بچھڑنے کا واقعہ کئی

Read more

مہنگائی سے تنگ سب، مگر احتجاج کون کرے؟

عوام کے مسائل ایک خاص حد عبور کر جائیں تو حکمرانی مشکل سے دوچار ہوجاتی ہے، بشرطیکہ منتخب حکومت ہو، فوجی جنتا کے خلاف آواز اٹھانا، ایک موثر اپوزیشن سے توقع کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں احتجاج کا جمہوری حق کا استعمال کبھی ناممکن نہ رہا، ماضی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جب تحریکیں چلائی گئیں، ان میں سماج سے وابستہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں نے حصہ لیا، جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق، جنرل پرویز مشرف

Read more

مارشل لاء، منگل اور 7، 5، 12 کا چکر

سات اکتوبر 1958 منگل کا روز پاکستان کے قیام کو ابھی گیارہ برس ہوئے، صدر سکندر مرزا نے ملک کا آئین معطل کرتے ہوئے مارشل لاء لگادیا، 27 اکتوبر کو جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو عہدے سے برطرف کر دیا۔ انہوں نے کہا ملک میں استحکام کے لئے فوج کو کنٹرول سنبھالنا ہو گا۔ اس وقت بھی اپوزیشن جماعتوں نے ایوب خان کے اقدام کی حمایت کی۔ انہوں نے ملکی سیاست کو ہاتھ میں لینے کے لئے صدر

Read more

پردہ، حجاب اور ہراسانی

معاشرے میں طبقات کی تقسیم مالی حیثیت، سماجی طور پر کسی رتبے اور مذہب سے زیادہ قربت کے اعتبار سے پائی جاتی ہے، اسلامی دنیا اور مغرب میں حجاب سے متعلق مختلف رویے پائے جاتے ہیں، اسلامی ممالک میں پردے کے حوالے سے اپنے اپنے نظریات ہیں، مطلب یہ کہ حجاب اوڑھنے کے انداز ہر جگہ جدا جدا ہیں۔ افغانستان میں حالیہ تبدیلی کے بعد ایک بار پھر نگاہیں طالبان اور عورت کے مستقبل پر لگ گئی ہیں، انہیں کون

Read more

لٹ گئی فقیروں کی کمائی

اپنی کسی پیاری شے کے کھو جانے کا غم شاید ہر انسان زندگی میں کبھی نہ کبھی ضرور دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔ بچے کا کھلونا چاہے وہ زیادہ قیمتی نہ ہو، کوئی لے جائے یا لاپتہ ہو جائے، اس کی کیفیت اور بے چینی سے کون واقف نہیں، آنکھیں ہر سو تلاش میں مصروف اور دکھ میں ڈوبی ملیں گی۔ بچہ اپنی حالت کئی بار بیان بھی نہیں کر پاتا، سب سے آسان حل زار و قطار آنسو بہا

Read more

ہم کہاں سدھریں گے؟

بڑے بوڑھے ہمیشہ سے اچھی باتیں بتاتے اور نصیحتیں کرتے تھے، یہ سب ایک دفعہ کا ذکر والی کہانیوں تک رہ گیا ہے، وہ باتیں کیا ہوتی تھیں، سچ بولو، کسی کا دل مت دکھاؤ، برا کام کرنے والے کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا، لیکن کچھ کہانیاں بھی سناتے جس میں نیک آدمی کو انعام ملتا اور غلط کار سزا پاتا تھا۔ یہ بڑے اللہ کی بندگی کا درس دیتے اور آخرت سے ڈراتے تھے۔ اب تو شاید ہماری عمر

Read more

سمارٹ فون: سماجی بے رخی کا ہتھیار

جدید سہولتوں اور تقاضوں سے مزین فون انسان کی بے شمار ضرورتوں اور مسائل کے فوری حل کا ذریعہ ہے، فوری رابطے اور سماجی تعلق استوار کرنے کا باعث بنتا ہے، گزشتہ ڈیڑھ سال میں کوویڈ اور لاک ڈاؤن کی صورتحال میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت نے اس کا بھرپور طریقے سے سہارا لیا، لیکن ہمارا ساتھی بننے والا سمارٹ فون دوستوں سے دور کرتا جا رہا ہے، ان سے لاتعلق کر دیتا ہے، وہ پاس بیٹھے ہوتے ہیں

Read more

بھول جانے کا ہنر

یاد ماضی کا عذاب نہ جانے کیوں انسان کئی بار بوجھ کی صورت اپنے ساتھ لے کر چلتا رہتا ہے، حالانکہ گزرے وقتوں کی باتیں لمحے کس قدر گہرے اثرات ہمارے دل و دماغ پر چھوڑ گئے ہوتے ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو بے شمار حسین یادیں کسی فلم کی صورت ایک جھٹکے سے چل پڑتی ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ تلخ حقائق بھلائے نہیں بھول پاتے، وہ جیسے رستے زخموں کی مانند ہوتے ہیں، جن کی تکلیف درد

Read more

بیگم کلثوم نواز کا مریم کے نام خط

ہم خاندان والے تمہاری ولادت پر بے حد خوش ہوئے تھے آج بھی وہ دن یاد ہے دادا اور دادی کس قدر مسرور تھے۔ میاں صاحب نے سارے ملازموں میں مٹھائی کے ساتھ پیسے بانٹے۔ بیٹی یہ باتیں صرف اس لئے دہرا رہی ہوں کہ تمہیں باور کرا سکوں کہ شریف خاندان میں مریم نواز کی اہمیت کسی دوسرے سے کم نہیں۔ تم ابھی چھوٹی تھی دادا تمہاری ہر بات کو توجہ دیتے اور اس پر عمل کرنے یا پورا

Read more

وہ ہمسفر

یادداشت میں بچپن سے لے کر ڈھلتی عمر تک کئی ہستیاں کچھ ایسی بس چکی ہیں جن کا ذکر کیے بغیر آگے بڑھنا دشوار سا محسوس ہوگا۔ دوسروں کو سننے کی عادت کہیں پیچھے چھوڑ آئے اور اب جیسے دیکھی سنیں، سنانے میں گزار رہے ہیں حالانکہ مجھ جیسے وہ نہیں جن کا گزر بسر ایسا کرنے سے وابستہ ہو۔ ماں باپ کا ساتھ پہلا اور کسی حد تک روحانی حوالوں سے آخر تک چلتا ہے صرف سمجھنے اور محسوس کرنے

Read more

دلیپ کمار

زندگی میں بے شمار محبتیں سمیٹنے والا خوش قسمت انسان ہوتا ہے، دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے یا آسانیاں بانٹنے والا شاید اپنے حصے کا کام کر جاتا ہے۔ وہ جب تک اس دنیا میں رہتا ہے، پذیرائی اور دلی لگاو جیسے جذبات کا حق دار ٹھہرایا جاتا رہتا ہے۔ قدرت ان پر مہربان ہوتی رہتی ہے۔ یوسف خان بھی ایسے انسانوں میں ایک تھے۔

بہت کم لوگ ہوتے ہیں، جن سے قصے اور کہانیاں وابستہ ہوتی ہیں، دیو مالائی داستانیں ایک مختلف دنیا میں لے جاتیں جہاں پہنچ کر سننے والے کا ایک عجیب سا تعلق اس مرکزی کردار سے بن جاتا ہے اور پھر وہ زندگی کے آنے والے دنوں میں اس کردار کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ وہ کردار اس کی اپنی زندگی کا حصہ قرار پا جاتا ہے۔ کئی مواقع پر اس کے ساتھ ہی محسوس ہوتا ہے۔

Read more

گالی کیوں دی؟

چلتے چلتے ٹھوکر لگنے، کسی کے گاڑی مارنے، اچانک چائے گرنے، کسی کی غلط حرکت پر منہ سے گالی نکل جاتی ہے، انسانی تاریخ الفاظ کی جنگ و جدل سے بھری پڑی ہے، ہر ثقافت کے اپنے اخلاقی ضابطے ہیں اور ان میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے پس منظر ہوتے ہیں۔ سماجی امور کے ماہرین گالیوں یا کہہ لیں، مغلظات کی درست تشریح نہیں کر پاتے، یہ تھوڑا سا مشکل ہے۔ گالی کا تعلق ثقافت سے ہوتا ہے۔ گالی

Read more

سچ سے فرار کیوں؟

یہ حقیقت سب جانتے ہیں مگر اس کا ادراک اور معنی مختلف ہو جاتے ہیں۔ سچ سامنے ہوتا ہے البتہ سامنا کچھ مشکل ہوتا ہے۔ وجہ بالکل سادہ ہے اس کے اثرات اور نتائج پہلے سے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ جس کے باعث کچھ اور سوچ متبادل کے طور پر تیار ہوتی ہے۔ زندگی کے معمولات انہیں لگے بندھے فارمولوں پر چل رہے ہیں۔ اب سچ بے نقاب ہونے پر دکھ اور تکلیف کی نوعیت اور شدت قدرے کم

Read more

امریکا خاموش کیوں ہو؟

مشرقی یروشلم کے قریب جبل المشارف میں واقع فلسطینی علاقہ شیخ جراح، تیرہویں صدی میں صلاح الدین ایوبی کے معالج شیخ جراح کے مقبرے کے نام پر رکھا گیا، یہ علاقہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان املاک کے تنازعات کا مرکز ہے، اسرائیلی قوم پرست 1967 سے فلسطینی آبادکاروں کو یہاں سے بے دخل کرنے کے درپے ہیں۔ اس مقصد کے لئے شیخ جراح کے اردگرد گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران اسرائیلی آبادکاری کی گئی ہے۔ یہ علاقہ ایک بار

Read more

انکل سرگم۔ پیار بانٹنے والا

ماچس ہوگی آپ کے پاس ؟ میں نے سگریٹ ہونٹوں میں دبایا تھا اور پوچھنے والے کی آواز مانوس سی لگی۔ جیب سے ماچس نکال کر جب متوجہ ہوا تو حیرت اور خوشی کے ملے جذبات تھے۔ وہ بچپن سے دیکھے جانے والا ہردلعزیز کردار انکل سرگم کا خالق فاروق قیصر تھے۔ بے ساختہ منہ سے نکلا آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ انہوں نے بھی جواب میں سر ہلایا۔ سگریٹ سلگانے کے بعد اپنی گفتگو میں مصروف ہو گئے۔

Read more

صحافت کا سفر

آج 32 برس بیت گئے۔ مئی 1989 میں صحافت کے شعبہ میں قدم رکھا۔ ہمیشہ ذکر کرتا ہوں میرے استاد حسین نقی نے ترغیب دی۔ وہ ایک پیشہ ور صحافی کے ساتھ ساتھ ایک ایماندار اور مخلص انسان ہیں۔ خبر کی تلاش اور بنانے کے عمل میں کسی قسم کی بددیانتی کی حوصلہ شکنی کرتے رہے۔ سچ اور حق بات کرنے سے کبھی روگردانی کا تصور بھی ممکن نہیں۔

Read more

ماں کا بیٹے سے مکالمہ

رب کی ذات نے جیسے ان تین حروف میں اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ دنیا میں یہ ہستی انسان کا پہلا تعارف قرار پائی۔ ماں اس تخلیق میں رب کی ساجھے دار ہوتی ہے۔ وہ دنیا میں آنے کے بعد کئی آفاقی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتی اور اپنی محبتوں کی آغوش میں لے کر بندے کو اس کے ذمے کام سمجھاتی ہے۔

Read more

کورونا پھر آ گیا

زندگی جیسے کچھ محتاط سی گزرنے لگی ہے، ویسے بھی زیادہ تر کسی قاعدے اور قانون کے تحت چل بھی نہیں رہی تھی، ایک برس بیت گیا ، پوری دنیا نے چلن بدل لیا یا پھر عادتیں تبدیل کرنے کے جتن میں لگے ہیں۔ زندگیوں کا تعلق معاش ، صحت اور تعلیم سے بھی ہوتا ہے۔ ان سب کو مہلک وائرس نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ بڑی طاقتوں سے لے کر غریب ملکوں کے بندوبست کرنے والے جان بچانے

Read more

پریشان رملا

عاصم دس سال یورپ میں گزارنے کے بعد پاکستان آیا جس کے پاس سنانے کے لیے بے شمار کہانیاں تھیں۔ وہ بھی ان لوگوں میں سے ایک تھا جو اپنے روشن اور بہتر مستقبل کے لیے دیار غیر میں روزگار کی تلاش میں گیا۔ اس دوران ایک سے دوسرے ملک تک کے سفر کیے اور نہ جانے کتنی صعوبتیں برداشت کیں۔ مگر کچھ پانے کی طلب میں ایسے کٹھن مرحلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عاصم کی مشکلات کا آغاز

Read more

سیاسی کارکن بھٹک گئے؟

ایک پرانے سیاسی ورکر بتا رہے تھے کہ انہوں نے تحریک لبیک میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ حیرت ہوئی، وہ کبھی جیالے تھے اور بھٹو کے شیدائیوں میں شمار کیے جاتے، بے نظیر کی شہادت پر غمزدہ تھے، زرداری صاحب کے دور میں مایوسی نے گھیرا، عمران خان بہتر لگا، اس کے حق میں دلائل دیتے اس وقت بھی یقین نہیں آتا تھا، موجودہ حکومت کا دور دیکھا، اب معلوم پڑا، ان کی مایوسی بڑھ گئی، وہ زیادہ مختلف رویہ

Read more

سچ اور جھوٹ کا مکالمہ

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں، میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں، بات سچ کہیے مگر یوں کہ حقیقت نہ لگے، جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے، میں جو ہے، جیسے ہے، جہاں ہے، اسے بیان کرتا ہوں، اسی لئے سچ کہلاتا ہوں، زندگی میں سچ اورجھوٹ کا جواز اور منطق موجود رہتی ہے، دوسرے تک حقیقت بیان کرنا اور درست واقعہ بیان کرنا، ابلاغ کی ذمہ داری ہے، سوال یہ ہے کہ جھوٹ

Read more

میرا قرنطینہ میں رہنے کا تجربہ کیسا رہا؟

قرنطینہ کالفظ کہیں بہت پہلے پڑھاتھا، ایک بار پھر نگاہیں آشنا ہوئیں، سیاست میں قید تنہائی کا ذکر سنتے آئے تھے، دنیا ایک نئی وبا سے واقف ہوئی، بہت سوں نے مختلف سوال اٹھائے، کچھ نے سازشی نظریے کی باتیں کہیں، میرے جیسے میڈیا سے وابستہ ہونے کے باوجود واضح نہیں تھے کہ وائرس کیسے، کب اور کس کو متاثر کر سکتا ہے، ایک بات ضرورتھی کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے، کسی نے اپنے اندرجھانکنے کی بھی کوشش کی،

Read more

فرض کر لیں

بندے کی زندگی خواہشات، ضروریات اور کئی نوعیت کے تقاضوں سے بھری پڑی ہے، وہ دنیا میں آنے کے بعد مسلسل اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے، اس میں دنیاوی اور دینی روحانی معاملات میں الجھے دونوں طرح کے انسان شامل ہیں۔ اگر ایک طرف پیسہ مال دولت کی چاہت ہے دوسری جانب بھی کچھ ایسا ہی ہے، بندہ کسی نہ کسی چیز کو مقصد بنا کر اس کے حصول میں لگا رہتا ہے۔

Read more

حسن طارق کون تھا؟

پاکستان فلم انڈسٹری میں محض فلم کی شوٹنگ دیکھنے کے جنون نے سٹوڈیو کا دروازہ ایسا کھولا کہ نامور مصنف سیف الدین سیف کی فلم سات لاکھ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کیرئیر کا آغاز کیا، اور پھر حسن طارق نے وہ آیا، اس نے دیکھا اور چھا گیا، کی کہاوت درست ثابت کردی، ہمارے ابا، آج کل ماضی کی بھولی بسری یادوں کو تازہ کرتے ہیں، جہاں یہ سب ذہنی تسکین اور اطمینان کا سامان پیدا کرتا ہے،

Read more

گھبراہٹ اور خوف کیوں؟

گھبراہٹ ایک عام انسانی احساس ہے۔ ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے، جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گزرتے ہیں۔ خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میں عام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ احساسات شدید ہو جائیں یا بہت عرصے تک رہیں، تو ہمیں ان کاموں سے روک سکتے ہیں، جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔

فوبیا کسی ایسی مخصوص صورت احوال یا چیز کا خوف ہے، جو خطرناک نہیں ہوتی اور نا ہی عام طور پر لوگوں کے لیے پریشان کن ہوتی ہے۔ گھبراہٹ کی ذہنی علامات میں ہر وقت پریشانی، تھکن، چڑچڑے پن کا احساس، توجہ مرکوز نہ کر پانا اور نیند کے مسائل شامل ہیں۔

Read more

یہ اپنے انجان، آخر بن جاتے ہیں، وبال جان

کچھ ایسی ہستیاں بھی ہوتی ہیں، جنہیں اتنے تواتر کے ساتھ روزمرہ کی زندگی میں مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کی حرکات و سکنات، ان کا کسی خاص مقام سے گزرنا، کسی جگہ پر بیٹھنا، ہماری دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ وہ شخصیت اکثر ہمارے اتنے قریب ہو جاتی ہے کہ اس سے کسی قدر مانوس ہو جاتے ہیں، جیسے وہ کوئی قریبی، دوست، رشتہ دار، جاننے والا ہے۔ حالاں کہ اس سے کبھی دو بدو ملاقات یا بات چیت بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ اس شخصیت کا منظر سے کچھ عرصے تک ہٹ جانا، یا دکھائی نہ دینا۔ پریشانی اور تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔ کسی جاننے والے سے پوچھنے کی نوبت آ جاتی ہے۔

یہ کردار کیسے تھے۔ مثلاً: بچپن میں اسکول جاتے حتیٰ کہ کالج کا دور آ گیا، ایک درویش، یا مجذوب کہہ لیں، صرف تہبند باندھے، بڑی داڑھی اور جسم پر بال، ننگے پاؤں سڑک کنارے آتے جاتے دیکھتے۔ اس کا ایک شوق تھا۔ ایک مخصوص پان سگریٹ کی دکان پر آ کر پان کھاتا اور اس کے ساتھ پیپسی کی بوتل پیتا۔ بڑوں کے ساتھ اس دکان پر کھڑے ایک بار سنا، کہ یہ شخص ایک تاریخی عمارت کے کھنڈرات کے اندر ایک تہہ خانے میں سانپوں کے ساتھ رہتا ہے۔ ایسے کچھ عجیب و غریب واقعات پر مبنی اس کی حالات زندگی سن رکھے تھے۔ کئی برسوں تک اسے دیکھتے اور پھر اس سے متعلق داستانیں خود بخود ذہن کی سکرین پر نمایاں ہو جاتیں۔

Read more

بچھڑنے کا غم

یہ زمانہ طالبعلمی کی بات ہے جب سفر کے لیے بس اور ویگن منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتے تھے مگر زیادہ تر ہم لوگ سڑکوں کو ناپنا اپنا مشغلہ سمجھتے تھے۔ کسی سواری کا کبھی اچھے وقت کی طرح انتظار نہ کیا اور قدموں کو اپنی قسمت کا پہیہ بنا لیتے۔ لیکن چلنے میں شاید بڑے بھائی صاحب زیادہ چیمپئین تھے جن کا مقابلہ کرنا میرے لیے چیلنج ہی رہتا تھا۔ ان کی یہ بات بہت خوبصورت لگتی کہ پیدل چلنے سے صرف فاصلے طے نہیں ہوتے بلکہ ہمیں نئے راستے ملتے ہیں اور نئے لوگوں کو ملنے، دیکھنے، سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اردگرد ہونے والے واقعات لوگوں کی حرکات گفتگو اور اشارے بہت کچھ بتاتے ہیں۔

Read more

ریاض شاکر – وہ مسکراہٹیں بکھیرنا نہ بھولتے

ہم مسکرانا کیوں بھول جاتے ہیں، رب نے ہمیں اس خصوصیت سے نوازا ہے، ہمارے مزاج پر مسکرانے سے بڑا مثبت اثر پڑتا ہے، تھوڑی سے کوشش کر کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ ریاض شاکر نے میرے اس سوال کے جواب میں یہ سب کہہ ڈالا، جب میں نے پوچھا آپ زیادہ تر ہنستے یا دوسروں کو ہنساتے رہتے ہیں، یہ کیونکر ممکن ہے؟

نیوز روم سے شیشوں کی پارٹیشن میں راہداری کی دوسری جانب رپورٹنگ میں جب بھی دیکھنا، قہقہے لگ رہے ہوتے، ہمیں یہ سب عجیب محسوس ہوتا کہ یہاں سارے بڑی سنجیدگی سے خبروں کی ترتیب سیدھی کرنے میں لگے ہیں، ادھر سبھی ہنسی مذاق میں مصروف ہیں۔

Read more

سیاست کا آئٹم سانگ

سیاست کے پردہ سکرین پر ایک کے بعد ایک فلم چلتی ہے، پروڈیوسرز نے بڑی محنت کی ہوتی ہے، ماضی کی مثال دیں ساٹھ کی دہائی کے آخر میں سندھ کے جواں سال بیرون ملک سے تعلیم یافتہ جاگیر دار خاندان کے سپوت کو ہیرو بنا کر پیش کر دیا۔ اس کے ڈائیلاگ بھی خوب تھے، ناظرین کے دل موہ لئے، فلم ہٹ ہوئی، حتیٰ کہ اسلامی دنیا کے سرکٹ میں بھی ہیرو نے اپنی دھاک بٹھا لی۔ ایٹم بم بنانے کی بات بڑی ہٹ ہوئی۔ سب نے سیٹیاں اور تالیاں بجا کر داد دی۔

فلم کا اختتام تھوڑا ٹوئسٹ کر گیا، مخالفین نے مذہبی حلقوں کو ساتھ ملا کر ہیرو کا بوریا بستر گول کر دیا، ہیرو کا انجام جیل کی کال کوٹھری، اس کا خاندان بھی خوار ہوا، عدالت نے پھانسی سنا دی، سب کو لگا فلم میں دلچسپی پیدا کرنے اور ناظرین کی ہمدردی لینے کے لئے مناظر ڈالے گئے ہوں گے، کیونکہ ہیرو کو کبھی کچھ نہیں ہوتا ہے، وہ ہمیشہ فلم کے آخر میں بچ جایا کرتا ہے، لیکن دیکھنے والوں کی خواہشات اور توقعات پروڈیوسرز کی منشا کے خلاف تھیں۔

Read more

اپنے بابے کی خیر منائیں

ترکاری کی دکان پر ایک بزرگ گئے، دکاندار سبزیوں پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا، وہ دیکھتے رہے، جب دکاندار فارغ ہوگیا بولا، بزرگو کون سی سبزی دوں، انہوں نے جواب دیا جسے ہوش آ گیا ہو، حالات کے تھپیڑے پڑنے، کئی بار ٹھوکریں کھانے، بحرانوں کے منجدھاروں میں غوطہ زن ہونے کے باوجود ہم لوگوں کے ہوش ٹھکانے نہیں لگے، شاید اب بھی کسی چھڑکاؤ کے منتظر ہیں، اس کے بعد ہی ہمیں حقیقی معنوں میں ہوش آئے

Read more

نواز شریف ایل بی ڈبلیو ہو گئے

سیاست اور کھیل دونوں میں مخالف کے حربوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور اردگرد نگاہ بھی رکھنا پڑتی ہے چونکہ یہ کھیل ابتداء میں نوابوں نے شروع کیا تھا۔ اس لیے کرکٹ کے کچھ نخرے بھی اٹھانا پڑتے تھے۔ خاص کر مراعات یافتہ کھلاڑی بڑے ناز برداری کے قائل ہوتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو کرکٹ کا بڑا شوق تھا۔ اس لیے بطور وزیراعظم بھی اس کی تکمیل کے لیے میدان میں اتر جاتے، ویک اینڈ پر لاہور آمد ہوتی، میاں نواز شریف باغ جناح میں کٹ پہن کر پہنچ جاتے، وہاں عمران خان کے کزن جاوید زمان خان پروٹوکول کے لئے موجود ہوتے، وہ جم خانہ کلب کے منتظم تھے۔ نواز شریف کو پیڈ کرائے جاتے اور وہ بیٹ تھامے گراؤنڈ میں قدم رکھتے، مخالف ٹیم ایک روز پہلے اپنی باری لے چکی ہوتی، اس روز انہوں نے جم خانہ کلب بلکہ کہہ لیں میاں صاحب کو باری دینا ہوتی تھی۔

Read more

قصہ ایک جنازے کا

پرانی بات ہے، میٹرک کے طالبعلم تھے، دوست کے والد کی وفات کی اطلاع ملی، خبر سنتے ہی بڑا دکھ ہوا، مرحوم بڑے مرنجاں مرنج طبعیت کے مالک اور صاحب علم انسان تھے، میری طرح دوست بھی بہن بھائیوں میں چھوٹا تھا، اس مناسبت سے دونوں کی مجموعی کیفیت ملتی جلتی تھی۔ ہم چھوٹے تھے اور ایسی نوعیت کے اجتماعات میں کم ہی جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ یاسر کا گھر قریب تھا اور تعلقات کی نوعیت ایسی تھی کہ

Read more

استاد جی… سلیم اختر

بھائی! ہر کسی کو اپنا کام خود ہی کرنا پڑتا ہے، دوسرے کے کام میں ٹانگ پھنسانے والے تنگ ہوتے ہیں، اس لیے دنیا کا سب سے مشکل کام اپنے کام سے کام رکھنا ہے”۔ یہ وہ جملے تھے جنہیں سننے کے بعد میں نے پہلے اس شخص کو بڑے غور سے دیکھا وہ ناک پر ذرا آگے کھسکا کر چشمہ ٹکائے، خبروں کی نوک پلک درست کرنے میں مصروف تھا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے پیکٹ کو مخصوص انداز

Read more

لاہور کے تکیے

نانی کی آواز آئی جاؤ، اپنے نانا کو دیکھو وہ تکیے میں بیٹھے چوسر کھیل رہے ہوں گے انہیں کہو گھر آکر کھانا کھالیں۔ یہ 1977 کے مارشل لاء کے بعد کا دور تھا، گرمی چھٹیوں میں ہم ننھیال جاتے تو میرا پسندیدہ مشغلہ تکیے جاکر بڑے بوڑھوں کو شطرنج، چوسر کھیلتے اور آپس میں نوک جھونک کرتے دیکھنا ہوتا تھا۔ وہ اپنے کھیل کے دوران بہت سے ماضی کے واقعات دہراتے اور حکمت کی باتیں بھی کرتے جس میں

Read more

سماجی رابطے یا فاصلے

یار! ”ایک بات بتاؤ کہ انسان ایک دوسرے سے اچھے اور مضبوط تعلق بنانے یا الگ تھلگ اور دور رہنے کے لئے پیدا ہوا ہے، ہمارے درمیان پائے جانے والا فرق جسے کبھی سوشل سٹیٹس، کبھی سوچ کا اختلاف، کبھی فرقے، کبھی نظریات اور کسی بھی وجہ کو بنیاد بناکر قائم کیا جا چکا تھا۔ کیا اسے مضبوط بنایا جا رہا ہے یا پھر باہمی اتفاق واتحاد، سب کا خیال رکھنے اور مشکل میں مدد آنے کے درس کے امتحان

Read more

بارش میں بھیگی یادیں

بارش شدت اختیار کر جائے تو آسمان سے برسنے والے قطروں کی لڑی، ذہن کو ماضی کا سفر کرنے کا سامان پیدا کردیتی ہے۔ ارد گرد کی بھیگی فضا اور زمین پر بنتے پانی کے لا تعداد بلبلے، جنہیں کبھی بچپن اور شاید لڑکپن میں چاہتے ہوئے بھی نہ گن پاتے تھے، ایک ایک بوند گرنے کے بعد فوری طور پر ایک مکمل ہالہ بن جاتا، یہ بلبلا جیسے اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے اور پھر لمحہ بھر میں

Read more

آواز خاموش کرانا درست نہیں

آواز کے معنی کیا ہیں، انسان اور جانداروں کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتی ہے، اس پر کتنا انحصار کیا جاتا ہے، اردو لغت میں دیکھیں، وہاں مطلب کچھ یہ موجود ہیں، پکار کر بیچنے کا ڈھنگ، جانوروں کی صدا، سائیں سائیں، غل غپاڑہ، فقیر کی صدا، ایسے ہی لہجے کے اعتبار سے کسی چیز کے ٹکرانے یا تصادم کا کھٹکا، کھٹ کھٹ بھی آواز کہلاتی ہے، اس کے مترادف الفاظ میں بانگ، پکار، توک، تڑاقا، جھنکار، دھماکا، شور، صدا،

Read more

محترمہ بے نظیر بھٹو بنام میاں نواز شریف

میاں صاحب۔
امید ہے آپ کے مزاج اچھے ہوں گے اور طبیعت پہلے سے بہتر ہوگی۔ میرے علم میں ہے کہ کیسے آپ کو ایک بار پھر مقدمات میں گھیر لیا اور سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا۔ جس کے دوران بیگم کلثوم کی علالت اور اسی حالت میں ان کی وفات کا ایک گہرا صدمہ آپ کی زندگی کو متاثر کر گیا۔ میں سمجھ سکتی ہوں یہ بہت دکھ اور تکلیف کی گھڑی ہوتی ہے، آپ اپنی شریک حیات کے پاس نہیں تھے، کیسے آپ کو اجازت دی گئی اور میں اندازہ لگا سکتی ہوں، یہ بھی سیاستدانوں کو پہنچائی جانے والی اذیت کی ایک شکل ہے، جس میں اپنوں کی بیماری اور دنیا سے رخصت جیسے المناک مواقع پر دور رکھا جائے۔

Read more

ریاست کے لئے صرف ایک ستون کافی نہیں

اگست 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت گرادی گئی، جسے بارہ سال کے مارشل لائی دور کے بعد جمہوری طریقے سے ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بنایاگیا۔ محض 20 ماہ کی سرکار ہٹانا شاید اس عمل کا آغاز تھا، جس کا تسلسل اب تک برقرار ہے، اس مجھے صحافت میں قدم رکھے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا، ہمیں نیوز روم میں کام کے ساتھ رپورٹنگ اور فیچر رائٹنگ، کالم نویسی بھی سکھائی جاتی تھی، میں نے حکومت

Read more

خاموشی اور تنہائی

دھوپ بڑی خاموشی سے غائب ہوگئی، اور آسمان پر بادلوں نے قدم جمالیے، پھر اچانک ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، وہ سڑک کنارے چلتے چلتے، کافی دور نکل آیا تھا، آج اسے دن بڑا لمبا لگ رہا تھا، سوچیں اس کے قدموں کا ساتھ نہیں دے پارہی تھیں، خیال کہیں اور منزل کا کچھ علم نہیں تھا، رات بھی آنکھوں میں گزاری، یادوں کا ایک سمندر تھا، جس میں وہ غوطہ زن رہا، کبھی ماضی کے اچھے دن اور

Read more

کورونا کی بیماری میں مجھے کس چیز نے حوصلہ دیا؟

میرے بھائی۔ ہمت نہیں ہارنا، یہ کوئی بیماری نہیں، تم جلد صحت یاب ہو جاؤ گے، بس، حوصلے سے کام لینا یہ چند دنوں کی بات ہے اور پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایسے کچھ اور الفاظ جنہوں نے اس موذی وبا کے دام میں آنے کے بعد اپنے پیاروں نے پہنچائے۔ بلاشبہ کسی مرض میں مبتلا ہونے پر عموماً عیادت کے دوران ایسے تاثرات پر مبنی جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ جن کا بنیادی مقصد صرف اس بیمار کی ڈھارس بندھانا، اسے فوری طور پر پریشانی کی کیفیت سے باہر نکالنا ہوتا ہے۔

میں ان دنوں چونکہ کورونا کی نگرانی میں تھا اس لئے قریبی رشتہ دار اور دوستوں کو معمول سے ہٹ کر فکر لاحق تھی، یہ بات بڑی باعث تقویت تھی کہ سب کا مطمح نظر میری صحت کی بحالی اور زندگی کی بقا تھا۔ کورونا جیسے روگ کا شکار فرد کسی حد تک ذہنی دباؤ میں ہوتا ہے، اگر اندر سے نہیں تو مشورے دینے کے بہانے مختلف واقعات سنانے والے اسے کمزور کردیتے ہیں۔ ہاں یہ تجربہ ضرور ہوا کہ بندہ مضبوط اعصاب کا ہو یا پھر اپنی قوت ارادی کا اچھے سے مظاہرہ کرے تو بہت زیادہ تنگ نہیں ہوتا۔

Read more

کورونا کی دستک

فون کی گھنٹی بجی، میں شاید اسی کا منتظر تھا۔ ہمارے دوست ڈاکٹر صاحب،دوسری طرف بول رہے تھے ”یار، بدقسمتی سے رپورٹ پازیٹو آئی ہے،،۔ میں نے اسی روانی میں پوچھ لیا ”اچھا،میں نے بھی وہی کچھ کرنا ہے، جیسی ہدایات پہلے دی تھیں؟،،۔ وہ بولے ”جی، اور بیٹے کی طبیعت سے آگاہ کرتے رہیے گا،،۔ آخر کا وہ میری دہلیز پر دستک دے چکی تھی، لیکن تین روز پہلے وہ مہمان جسے وبال جان ٹھہرایا جا چکا ہے، بہت

Read more

فرقان کی آخری دعا

یہ سوال ان دنوں اکثر ذہنوں میں آتا ہے اور ہم ایک دوسرے سے بھی کرتے ہیں، تمہارے کسی جاننے والے کو کورونا ہوا ہے؟ جواب زیادہ تر یہی ملتا ہے، نہیں میڈیا میں ہے، بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عید پر لاک ڈاؤن نرم یا ختم کیا گیا، اس کی وجوہات سب کو معلوم ہے لوگ کاروبار کرنا چاہتے تھے اور خریداری کر کے اپنی خوشیاں کسی صورت التوا میں ڈالنے کے لیے تیار نہ تھے۔

سعودی عرب کی حکومت نے چھ روز کا کرفیو لگادیا، جیسے وہاں دیگر اقدامات اٹھائے گئے اسی طرح فیہ فیصلہ بھی زیادہ اچھا نہ لگا۔ کم از کم پاکستانیوں نے دل سے قبول نہیں کیا۔ خیر ہمیں تو آزادی مل گئی تھی اور اس کا کھلا اظہار کیا گیا۔ بھرپور طریقے سے تاثر دیا گیا کہ کچھ نہیں ہے اور یہ کہ بندے کو ہر حال میں خوش رہنا چاہیے، حالانکہ خوشی کا تعلق دل کے اطمینان سے ہوتا ہے۔

Read more

بے بس مسیحا

مہلک وبا سے متاثرہ افراد کی کہانیاں بہت زیادہ پڑھنے سننے میں آ رہی ہیں، اس میں طبی شعبے سے واسبتہ لوگوں کی ہلاکت بھی پریشان کن ہے، انسانوں کی زندگیوں میں تہلکہ مچا دینے والا وائرس لاکھوں جانیں لے چکا ہے، پوری دنیا اس کے چنگل میں آچکی ہے، اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے، مریض کا علاج ہوتا ہے، مگر اس مرض کی کوئی دوا نہیں ہے۔ ڈاکٹر ابھی تک صرف گرتے کو سہارا دینے تک اپنافرض نبھا

Read more

کچھ ادارے کام کر رہے ہیں، کچھ لوچ تل رہے ہیں

ایک گاؤں سے دیہاتی کندھے پر گٹھری اٹھا کر شہر آیا، یہاں اس نے بڑے سڑکوں پر گاڑیاں فراٹے بھرتی، ادھر سے ادھر آتے جاتی دیکھیں، بڑی دکانیں اور ان کے اندر شاندار اور پرکشش اشیاء پر نگاہیں ڈالیں، سب مناظر اس کے لیے نہایت دلکش تھے، ایک بازار میں پکوان تیار ہو رہے تھے، ایک جانب بڑی کڑاہی میں ایک شخص مہارت سے روٹی پکانے کے انداز میں کچھ فرائی کر رہا تھا، اس نے پوچھا کیہہ تل رہے او (کیا تل رہے ہو؟)، جواب ملا، لوچ تل رہیا آں (لوچی تل رہا ہوں)۔

Read more

سکول کی بندش سے پریشان بچوں کو دادا نے کیا بتایا؟

ابا کی عمر 86 برس ہے۔ کورونا کے باعث گھر میں بیٹھ کر سماجی دوری اور قرنطینہ کا فلسفہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکومت کا فیصلہ آیا کہ تعلیمی عمل فی الحال تعطل کا شکار ہی رہے گا، بچوں کو بغیر امتحان دیئے اگلی کلاسز میں پروموٹ کردیا جائے گا۔ میں نے انہیں اور خاص کر اپنے بچوں کو یاد دلایا کہ ہمارے بچپن میں بھی جب بھٹو کے خلاف اپوزیشن نے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں انہیں

Read more

مجھے کرونا پر یقین آ گیا

وہ سب نہیں مانتے تھے کہ کچھ ہے، شاید میں بھی انہیں میں سے تھا۔ ہمارا مزاج ہی ایسا ہے کہ اگر ذہن کوئی بات تسلیم نہ کرے تو پھر چاہے جتنے مرضی دلائل پیش کردیں، کم از کم دل نہیں مانتا۔ پھر کوئی بھی بحث لاحاصل اور بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے۔ میں شعبہ طب سے وابستہ افراد میں اٹھتا بیٹھتا تھا، ان میں سے کچھ میری سوچ کی کسی حد تک تائید کرتے کہ وائرس اتنا طاقتور یا

Read more