دہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ کمسنوں کے نام

وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ بازار میں سودا لینے گئی، بڑے دونوں بچے سکول گئے تھے جبکہ چھوٹے بیٹے نے ضد کرکے چھٹی کرلی تھی، جسے ساتھ لے کر آئی تھی۔ ابھی وہ سبزی کی دکان پر مول تول کررہی تھی کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا اور آناً فاناً سارا منظر تبدیل ہوگیا،ہر طرف دھواں پھیل گیا اور چیخ وپکار شروع ہوگئی، اردگرد لوگ سڑک پر گرے پڑے تھے، زخمیوں اور لاشوں کی پہچان مشکل تھی، بچ جانے والے خوفزدہ تھے، ایک لمحے کے لیے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور پھر جیسے ایک تباہی کا منظر تھا۔ چند منٹوں بعد ایمبولینسوں اور پولیس کی گاڑیوں کی آمد شروع ہوئی، مرنے اور زخمی ہونیوالوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا عمل جاری تھا۔

Read more

بھٹو ہر روز پیدا نہیں ہوتے

فروری 1974 دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور اور پنجاب اسمبلی ہال کا انتخاب کیا گیا۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی دنیا کے پچاس سربراہوں کو دعوت دی، مہمانوں کے قیام کیلئے شہر کی خوبصورت پرائیویٹ کوٹھیوں کی تلاش شروع ہوئی۔ ہر کوٹھی کا مالک خوشی کے ساتھ کسی مسلمان سربراہ…

Read more

مجھے جانتے نہیں؟

ایک پرانا قصہ لاہور میں بزرگوں سے سنا، بظاہر کوئی خاص نہیں لیکن جب بھی کسی کوسناتے محظوظ ہوئے بغیرنہ رہتا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے، ہمارے ایک جاننے والی انٹیلی جنس پولیس میں تھے، جسے آج کے دورمیں خفیہ والے کہاجاتا ہے، وہ ململ کاکرتہ اور تہبند پہنے اندرون شہرکی گلیوں میں گشت کررہے تھے، وہاں کچھ رش تھا، ایک دوسے ٹاکراہوا، کسی کاکندھا لگاتو غصے سے بولے تم مجھے جانتے نہیں، کیسے مجھ سے ٹکرائے، اس نے حیرت سے دیکھا، پہلے پریشان ہوا، پھر پوچھ لیا، جناب مجھے نہیں معلوم آپ کون ہیں، جواب میں موصوف نے کرتہ اٹھایا، تہبند میں ڈیوٹی پسٹل لگارکھاتھا، بولے ایہہ ویکھ تیری مامی لگی اے (جانتے نہیں یہ کیاہے ) ۔ اب وہ شخص پھر بھی نہ جان سکا، اسے اتنا ہی گمان ہوا کہ کوئی بدمعاش ہوگاجو دھمکی دے گیا۔

Read more

روحی بانو کو تنہا کیوں چھوڑا؟

کالج کے ابتدائی چار سال شعبہ نفسیات میں گزارے، اس دوران پڑھنے کے ساتھ ساتھ ناصرف پروفیسر سے مکالمے کا موقع ملتا، جس میں مختلف نفسیاتی اور ذہنی امور پر رہنمائی لیتے، بلکہ ہمیں نفسیاتی پریشانیوں اور امراض میں مبتلا افراد سے ملایا جاتا، فاؤنٹین ہاؤس میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا، زیادہ تر طلباء کا خیال تھا کہ مینٹل ہاسپٹل عرف عام میں پاگل خانہ لے کر جائیں گے مگر کہا جاتا کہ وہاں ذرا زیادہ بگڑے مریض ہوتے ہیں، آپ لوگ ان سے گفتگو نہیں کرسکیں گے۔ خیر یہ محض بہانہ تھا۔

Read more

لاہور میں صحافیوں کا ٹھکانہ

تیس برس پہلے کا ذکر ہے خبر کی دنیا سے وابستہ ہوئے،بڑوں سے معلوم ہوا کہ یہاں کبھی فارغ اوقات میں بیٹھنے کے لیے مقام ہوتا تھا،جسے پریس کلب کہاجاتاہے،بڑے ناموں کی بڑی اوردلچسپ باتیں بھی اسی سے منسلک تھیں،ریگل کے قریب ایک عمارت میں چند کمرے بندتھے جن کے مرکزی دروازے پر تالہ پڑا…

Read more

بے نظیر کو لفٹ دینے کا قصہ

10 اپریل 1986 کا دن چڑھا لاہور ائیرپورٹ جانے والے آخری چوک میں گزری رات سے ڈیرے ڈالے تھے، ہزاروں بلکہ ملک بھر سے آئے لاکھوں افراد کو اس لمحے کا شدت سے انتظار تھا جب وہ جلاوطنی ختم کرکے وطن آنے والی بھٹو کی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ ٹرک پر پارٹی…

Read more

حسین نقی کا مرتبہ

تم لوگ اپنی انرجی ادھر اُدھر آنے جانے میں ضائع کرنے کے بجائے کسی “بامقصد کام میں صرف کیوں نہیں کرتے” یہ جملہ سُن کر جیسے مجھے ایک دھچکا سا لگا کہ ہماری سرگرمیاں کیا واقعی بے مقصد اور فضول ہیں، یہ جملہ حسین نقی صاحب نے ادا کیا، جن کے ساتھ ہمارا واسطہ طلبہ…

Read more

بڑھاپے کا مکالمہ

شادی کے بیس سال بعد میری بیوی نے مجھے ایک عورت کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت دی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں لیکن تم اس عورت کے ساتھ وقت گزارو جو تمہیں مجھ سے بھی زیادہ محبت کرتی ہے۔ یہ عورت میری ماں تھی جو پچھلے پندرہ برسوں…

Read more

وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

وہ ایک بار پھر گم ہو گیا، نہیں! شاید وہ کبھی لا پتا ہوا ہی نہ تھا۔ ہمی اسے ڈھونڈتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے کچھ اس انداز میں پوچھتے رہتے، کہ وہ جیسے کہیں کھو گیا ہو۔ کتنے سال بیت گئے، وہ ویسے کا ویسا ہی، یہ اس کی مستقل مزاجی یا طبیعت…

Read more

وہ سب کیسے ملیں گے

آج بھی چالیس سال پیچھے نگاہ چلی جاتی ہے لیکن ساتھ میں سب کچھ وہاں پہنچ جاتا ہے، جب ایک بے فکری تھی، کیوں نہ ہوتی بچپن ہر کسی کا ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کی یادیں کون بھول پاتا ہے۔ ذہن میں ایک انبار لگا ہے چیزوں کا، باتوں کا، قصوں کہانیوں اور کرداروں…

Read more