کچھ ادارے کام کر رہے ہیں، کچھ لوچ تل رہے ہیں

ایک گاؤں سے دیہاتی کندھے پر گٹھری اٹھا کر شہر آیا، یہاں اس نے بڑے سڑکوں پر گاڑیاں فراٹے بھرتی، ادھر سے ادھر آتے جاتی دیکھیں، بڑی دکانیں اور ان کے اندر شاندار اور پرکشش اشیاء پر نگاہیں ڈالیں، سب مناظر اس کے لیے نہایت دلکش تھے، ایک بازار میں پکوان تیار ہو رہے تھے، ایک جانب بڑی کڑاہی میں ایک شخص مہارت سے روٹی پکانے کے انداز میں کچھ فرائی کر رہا تھا، اس نے پوچھا کیہہ تل رہے او (کیا تل رہے ہو؟)، جواب ملا، لوچ تل رہیا آں (لوچی تل رہا ہوں)۔

Read more

سکول کی بندش سے پریشان بچوں کو دادا نے کیا بتایا؟

ابا کی عمر 86 برس ہے۔ کورونا کے باعث گھر میں بیٹھ کر سماجی دوری اور قرنطینہ کا فلسفہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکومت کا فیصلہ آیا کہ تعلیمی عمل فی الحال تعطل کا شکار ہی رہے گا، بچوں کو بغیر امتحان دیئے اگلی کلاسز میں پروموٹ کردیا جائے گا۔ میں نے انہیں اور…

Read more

مجھے کرونا پر یقین آ گیا

وہ سب نہیں مانتے تھے کہ کچھ ہے، شاید میں بھی انہیں میں سے تھا۔ ہمارا مزاج ہی ایسا ہے کہ اگر ذہن کوئی بات تسلیم نہ کرے تو پھر چاہے جتنے مرضی دلائل پیش کردیں، کم از کم دل نہیں مانتا۔ پھر کوئی بھی بحث لاحاصل اور بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے۔ میں شعبہ…

Read more

یہ قوم بننے کا وقت ہے

وہ آیا، اس دنے دیکھا اور سب پر حاوی آگیا، انسانی آنکھ بھی جسے نہ دیکھ پاتی ہے، اس معمولی سے وائرس نے بلاشرکت غیر پوری دنیا کو اپنے سحر میں نہ صرف جکڑ لیا بلکہ اس کا خوف جھونپڑی سے محلات تک پہنچ گیا۔ دنیا نے بیسویں صدی میں جنتی زیادہ ترقی کی، اس…

Read more

بے نظیر کو لفٹ دینے کا قصہ

10 اپریل 1986 کا دن چڑھا لاہور ائیرپورٹ جانے والے آخری چوک میں گزری رات سے ڈیرے ڈالے تھے، ہزاروں بلکہ ملک بھر سے آئے لاکھوں افراد کو اس لمحے کا شدت سے انتظار تھا جب وہ جلاوطنی ختم کرکے وطن آنے والی بھٹو کی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ ٹرک پر پارٹی…

Read more

نواز شریف کے نام بے نظیر بھٹو کا خط

میاں صاحب، مجھے علم ہے، آپ ان دنوں بہت زیادہ علیل ہیں، اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ آپ جس ذہنی اور جسمانی کرب اور تکلیف سے دوچار ہیں۔ مجھ سے زیادہ آپ بہتر جانتے ہوں گے کہ سیاسی سفر کے دوران ان دیکھی قوتیں انجان راستوں اور بند گلیوں میں لے جاتی…

Read more

سید امتیاز راشد: جنگ کا امن پسند صحافی رخصت ہو گیا

ذرائع ابلاغ کے شعبے میں اپنا منفرد مقام بنانے والے ادارے میں کام کرنے والوں کی محنت اور لگن نے اسے جنگ کی شناخت دی۔ لاہور میں 80 کی دہائی کے آغاز میں قدم جمانے میں جن کارکنوں نے بھرپور کردار ادا کیا، ان میں امتیاز راشد بھی ایک تھے، جن کا ساتھ اس ادارے…

Read more

دہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ کمسنوں کے نام

وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ بازار میں سودا لینے گئی، بڑے دونوں بچے سکول گئے تھے جبکہ چھوٹے بیٹے نے ضد کرکے چھٹی کرلی تھی، جسے ساتھ لے کر آئی تھی۔ ابھی وہ سبزی کی دکان پر مول تول کررہی تھی کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا اور آناً فاناً سارا منظر تبدیل ہوگیا،ہر طرف دھواں پھیل گیا اور چیخ وپکار شروع ہوگئی، اردگرد لوگ سڑک پر گرے پڑے تھے، زخمیوں اور لاشوں کی پہچان مشکل تھی، بچ جانے والے خوفزدہ تھے، ایک لمحے کے لیے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور پھر جیسے ایک تباہی کا منظر تھا۔ چند منٹوں بعد ایمبولینسوں اور پولیس کی گاڑیوں کی آمد شروع ہوئی، مرنے اور زخمی ہونیوالوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا عمل جاری تھا۔

Read more

بھٹو ہر روز پیدا نہیں ہوتے

فروری 1974 دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور اور پنجاب اسمبلی ہال کا انتخاب کیا گیا۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی دنیا کے پچاس سربراہوں کو دعوت دی، مہمانوں کے قیام کیلئے شہر کی خوبصورت پرائیویٹ کوٹھیوں کی تلاش شروع ہوئی۔ ہر کوٹھی کا مالک خوشی کے ساتھ کسی مسلمان سربراہ…

Read more

مجھے جانتے نہیں؟

ایک پرانا قصہ لاہور میں بزرگوں سے سنا، بظاہر کوئی خاص نہیں لیکن جب بھی کسی کوسناتے محظوظ ہوئے بغیرنہ رہتا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے، ہمارے ایک جاننے والی انٹیلی جنس پولیس میں تھے، جسے آج کے دورمیں خفیہ والے کہاجاتا ہے، وہ ململ کاکرتہ اور تہبند پہنے اندرون شہرکی گلیوں میں گشت کررہے تھے، وہاں کچھ رش تھا، ایک دوسے ٹاکراہوا، کسی کاکندھا لگاتو غصے سے بولے تم مجھے جانتے نہیں، کیسے مجھ سے ٹکرائے، اس نے حیرت سے دیکھا، پہلے پریشان ہوا، پھر پوچھ لیا، جناب مجھے نہیں معلوم آپ کون ہیں، جواب میں موصوف نے کرتہ اٹھایا، تہبند میں ڈیوٹی پسٹل لگارکھاتھا، بولے ایہہ ویکھ تیری مامی لگی اے (جانتے نہیں یہ کیاہے ) ۔ اب وہ شخص پھر بھی نہ جان سکا، اسے اتنا ہی گمان ہوا کہ کوئی بدمعاش ہوگاجو دھمکی دے گیا۔

Read more