پانی کا بُحران اور نئے ڈیموں کی تعمیر کامعاملہ


پاکستان میں یکایک یہ آگاہی آئی ہے کہ پانی کا بُحران ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا حل جو لوگوں کی سمجھ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ دریائے سندھ پر ایک اور بڑا ڈیم بنا دیا جائے۔ اس کے حق میں دنیا جہان کی مثالیں اور دلیلیں دی جا رہی ہیں اور نئے پرانے بہت سے ماہرین کو اس کی وکالت کے لئے میدان میں دھکیل دیا گیا ہے۔

پانی کا بحران نہ تو آج کا مسئلہ ہے اور نہ ہی اس کا حل دریائے سندھ پرمزید ایک دو بڑے ڈیم بنانا ہے۔ ملک میں پانی کا بحران اس وقت شروع ہوا جب ہمارے بڑے قابل ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان نے بے سوچے سمجھے پنجاب کے تین مشرقی دریا: راوی، ستلج اور بیاس بھارت کو بیچ دیے۔ ایسا دنیا میں بہت کم ہوا ہے کہ وہ دریا جو ایک سے زیادہ ملکوں کو سیراب کرتے ہوں صرف ایک ملک کے تصرف میں دے دیے جائیں۔ دنیا میں کئی دریا، یورپ میں دریائے ڈینوب، افریقہ میں دریائے نیل اور خود برصغیر میں گنگا اور جمنا ایک سے زیادہ ملکوں سے گزرتے ہیں اور ان کے علاقے سیراب کرتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ ایک عجیب یک طرفہ معاہدہ ہے، جس میں وہ تین دریا پاکستان کے حصے میں آئے ہیں جن کے پانی کا بھارت کو جانا تقریباً نا ممکن تھا۔ اور باقی تین دریا، جن سے پاکستان کا ایک بڑا رقبہ سیراب ہوتا تھا، ان میں سے پاکستان کے لئے پانی کا کوئی حصہ مخصوص نہیں کیا گیا۔

ایسا جنوبی پنجاب اور سندھ کی قیمت پر کیا گیا۔ ستلج اور بیاس سے زیادہ تر ریاست بہاولپور کے علاقے سیراب ہوتے تھے، اور ان کی بندش سے وہاں کا ماحولیاتی نظام بُری طرح بہت متاثر ہوا۔ جہاں تک ان دریاؤں سے آباد ہونے والے مرکزی پنجاب کے علاقوں کا تعلق ہے، اس کے لئے دریائے سندھ کا پانی مختلف بڑی نہروں کے ذریعے ان کی طرف موڑ دیا گیا۔ دریائے سندھ کے پانی کو موڑنے سے نہ صرف جنوبی پنجاب کے اضلاع بشمول ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے حصے کا پانی کم کر دیا گیا بلکہ سندھ کے پورے صوبے کا ماحولیاتی نظام بُری طرح متاثر ہوا۔

دریائے چناب پاکستان میں میدانی علاقے میں داخل ہوتا ہے اور دریائے جہلم بھی منگلا کے بعد میدانی علاقے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں بڑ ے ڈیم بنانے کی گنجائش تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، چنانچہ ہمارے دانشوروں کی مشق کے لئے صرف دریائے سندھ رہ جاتا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دریا پر ایک یا دو مزید ڈیم بنا نے کے بعد، اگر مستقبل کی کوئی حکومت چاہے تو سندھ کا پانی مکمل طور پر بند کر سکتی ہے۔

یہاں ایک اور بات بھی سوچنے کی ہے۔ جب موسمی تبدیلی کی وجہ سے بارشوں کی مقدار کم ہو جائے گی تو چاہے ہم کئی نئے ڈیم بنا دیں ان میں پانی کہاں سے آ ئے گا۔ دریائے سندھ میں پانی تو اتنا ہی رہے گا چاہے اسے ایک ڈیم میں سٹور کیا جائے یا تین میں یا پانچ میں۔ جب تربیلہ میں پانی ڈیڈ لیول پر پہنچ جائے گا تو آگے پانی کہاں سے جائے گا۔ کیا عطا آباد جھیل اور چشمہ جھیل بننے سے پانی کی سپلائی بہت زیادہ ہو گئی ہے؟

یہاں ایک دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ سیلابوں کا پانی اس میں ذخیرہ کیا جائے گا، مگر یہ بھی بڑی کمزور دلیل ہے۔ سیلابوں کا پانی بھی سندھ میں چشمہ کے بعد زیادہ آنے لگتا ہے، جب پہلے کوہ سلیمان کے ندی نالے اور پھر باقی دریا اس میں ملتے ہیں۔ چنانچہ سیلاب کے پانی کو پنجند کے بعدذخیرہ کرنے کی بات ہوتی تو اس میں زیادہ وزن ہوتا۔

ایک اور بڑے ڈیم کی تعمیر کے خلاف آخری دلیل یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں اتنا زیادہ وقت لگے گا کہ پانی کا بحران اپنے انتہائی درجے کو پہچ چکا ہو گا۔ اور شاید یہ ڈیم بنانے کے لئے ہمارے پاس وسائل بھی نہ ہوں، اتنے قرضوں کے بعد ملک کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبانا کوئی عقل مندی نہیں۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پانی کا بحران اتنا ہی شدید ہے تو اس پر قابو پانے کے باقی اقدامات پر کیوں بالکل غور نہیں کیا جا رہا۔ مثلاً:

پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے گنے کی کاشت پر پابندی کے بارے میں کیوں نہیں سوچا رہا، جس سے بہت زیادہ پانی ضائع کیا جا رہا ہے۔ چینی کی پیداوار پہلے ہی ہمارے ملک میں اپنی ضروریات سے بہت زیادہ ہے اور پھر اس کی قیمت بھی عالمی منڈیوں میں ہمارے مقابلے میں بہت کم ہے۔ فالتو چینی کو برآمد کرنے کے لئے حکومت سے، جس کے پاس پہلے ہی وسائل کم ہیں، سبسڈی مانگی جا رہی ہے اور شاید لی جا رہی ہے۔ گنے کی پیداوار میں کمی یا خاتمے سے نہ صرف قیمتی پانی بچایا جا سکے گا بلکہ لوگوں کو سستی چینی بھی فراہم کی جا سکے گی۔ مگر اس پر کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ شوگر ملوں کے مالکوں میں مسلم لیگ(ن)، تحریکِ انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈر اور دوسرے طاقتور لوگ شامل ہیں۔
ہمارے ہاں باقی فصلوں کی کاشت میں بھی بہت پانی ضائع کیا جاتا ہے، جس کی روک تھام کا کوئی پروگرام نہیں بنایا گیا۔

اس طرح آبادی میں بے شمار اضافے کی وجہ سے پانی کا ایک بڑا حصہ شہروں کو فراہم کیاجا رہا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ دراصل اس وقت پانی سے بھی زیادہ خطرناک مسئلہ ہے، جس کی طرف پچھلے دنوں چیف جسٹس صاحب نے بھی ہلکا سا اشارہ کیا تھا، لیکن یہ ہمارے قومی بحث مباحثے کا بالکل حصہ نہیں ہے۔ اگر آبادی اس حساب سے بڑھتی رہی تو یہ ہمیں پائیدار نہیں رہنے دے گی۔ جب مشرقی پاکستان ہمارا حصہ تھا تو ہمارے بعض دانشور کہا کرتے تھے کہ سارے وسائل بنگالی کھا ئے جا رہے ہیں۔ اب ماشا اللہ ہماری آبادی بنگلہ دیش سے بہت آگے بڑھ گئی ہے، مگر ہم اس پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔

اسی طرح پوٹھوہار، سپن غر، کوہ سلیمان، کیر تھر، اور مکران وغیرہ کے پہاڑی سلسلوں پر ہم نے سوائے چند ایک کے کہیں کوئی ڈیم نہیں بنائے۔ ان تمام پہاڑی سلسلوں میں ڈیم بنانے سے نہ صرف پانی کے مسائل حل ہوں گے بلکہ لاکھوں ایکڑ مزید اراضی کو بھی کاشت میں لایا جا سکے گا۔

انگریزوں نے سیلابوں کے پانی کو کام میں لانے کے لئے تمام دریاؤں پر سیلابی نالے بنائے تھے جن سے کافی رقبے سیلاب ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے جھیلیں بنائی تھیں جن میں سے سب سے بڑی کینجھر جھیل ہے۔ ہمیں چولستان، بلوچستان، تھر پارکر اور صوبہ سندھ میں دریائے سندھ کے مغرب میں ایسی بڑی بڑی بے شمار جھیلیں بنانا چاہیئں، جو نہ صرف سیلابی پانی کا ذخیرہ کریں گی، بلکہ مقامی لوگوں کو آبپاشی، ماہی گیری وغیرہ سمیت روزگار کے مواقع مہیا کریں گی۔

جب ملک کے وسیع علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں ایسے آبی ذخیرے بنیں گے تو پانی کی فراہمی کے علاوہ پورے ملک کی آب و ہوا بھی تبدیل ہونا شروع ہو جائے گی۔

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں نوآبادیاتی دورمیں بنائی جانے والی تمام عمارتوں میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے کا انتظام تھا، جسے رفتہ رفتہ ترک کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں بھی قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بارش کے پانی کو استعمال میں لایا جا سکے۔

Facebook Comments HS