آپ چیف جسٹس کو اس جرم میں گرفتارکیوں نہیں کرتے؟
لاہور میں اقبال شناسی کے حوالے سے ایک تقریب میں جسٹس ایم آرکیانی کو بطور صدر بلایا گیا تھا ۔تقریب میں جہاں دیگر مہمان شامل تھے وہاں شورش کاشمیری کو خاص طور خطاب کے لئے مدعو کیا گیا تھا ۔شورش تو تقریر میں شروش برپا کردیتے تھے ۔ عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد، برصغیر ہندو پاک کے بہت بڑے خطیب تھے۔ اقبال کے عاشق تھے۔جب بولتے تو بے تکان اور ان تھک بولتے تھے۔کسی کا لحاظ نہ رکھتے ۔اس تقریب میں انہوں نے حکمرانوں کی عیاشیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔ ان کی تقریر کو خفیہ والوں نے نوٹس لے کر اوپر بھجوا دیے تو نواب امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان نے طیش میں آکرصدر پاکستان ایوب خان کی توثیق سے گرفتاری کا حکم جاری کردیا ۔
پولیس جب شورش کاشمیری کو گرفتار کرنے لگے تو کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ مجھے گرفتار کرلو، لیکن چیف جسٹس کو بھی گرفتار کرو جنہوں نے اس تقریب کی صدارت کی ہے ۔ اس تقریب کے صدر کیانی تھے اور مقرر چیئرمین کی اجازت سے بولتے تھے۔ یہ سنتے ہی پولیس کا دستہ پریشان ہوگیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ گورنر امیر محمد خان المعروف نواب آف کالا باغ کو زچ ہونا پڑا اور سرکار کو دوسرا حکم نامہ جاری کرناپڑا کہ ان دونوں ہستیوں کو گرفتار نہ کیا جائے ۔


