ماؤں کو بیٹے سے کیسا سلوک کرنا چاہیے؟


اپنے بیٹوں کی عمر کے ہر نوجوان میں انہیں اپنا بیٹا نظر آتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کے دوستوں کا بھی بے حدخیال رکھتی ہے۔

مائیں پوری پاگل ہوتی ہیں۔ مختلف، اوہام اور اندیشوں میں گھری ماں کو شہر میں ہونے والے واقعات، حادثات اور سانحات الگ پریشان رکھتے ہیں۔ اپنے بیٹوں کی عمر کے کسی نوجوان کو گولی لگے، زخمی ہو، بیمار ہو جا ئے، پولس پکڑ لے جائے، کسی کو پٹتے دیکھ لے، جسم کا کو ئی حصہ مفلوج ہو جائے، کسی لت میں مبتلا ہو جائے، بائک چلاتے ہوئے حادثہ ہو جائے،تو دھیان فوراً اپنے بیٹے کی طرف جاتا ہے۔

بیٹوں کے گھر سے باہر قدم نکالتے ہی، ماں دعا بن جا تی ہے۔ واہموں اور تشویش میں مبتلا سراسیمہ ماں اگر کبھی شہر میں ہو نے والے کسی حادثے کی خبر سن لے تو بوکھلاہٹ اس کے جسم کے ایک ایک حصے سے عیاں ہو جاتی ہے۔ دل کو لاکھ بہلانے کی کوشش کرے لیکن دھڑکنیں بیٹے کی آواز سننے پر بضد، سراسیمگی کے عالم میں بیٹے کو فون کرتی ہے۔ بیٹے کو وجہ بھی نہیں بتا تی نتیجتاً اسے اپنی تفریح میں مخل سمجھ کر بیٹا اپنی بیزاری کا اظہار کر کے فون بند کر دیتا ہے اور ماں کی خشک ہوتی رگوں میں یہ سرد آواز بھی ایسا خون دوڑاتی ہے کہ بیٹے کے لہجے کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔

ماں اپنا وجود بیٹوں کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے، مرنے سے ڈرتی ہے پر بیٹوں پر مرتی ہے۔ وہ تھکتی ہے، نا بیمار پڑتی ہے۔لیٹتی ہے پر سوتی نہیں، جاگتے میں خواب دیکھتی ہے، اور خواب میں آنکھیں موند لیتی ہے۔
بیٹوں کی خاطر ان کے باپ کو چھوڑ دیتی ہے، کہ باپ کی صحبت میں بگڑ نہ جا ئیں۔ ہیں لیکن وہ باپ جیسے نکلیں تو مرتے دم تک، دم دئیے رہتی ہے۔

محبت کرنا ایک بات ہے اور محبت سے پیچھا چھڑانے کے لیے بہانے تراشنا دوسری بات ہے۔ اب یہ ہی دیکھ لیں، کہ اگر بیٹا نکھٹو ہو، گھر پر توجہ نہ دیتا ہو، آوارہ ہو ماں کا احترام نہ بھی کرتا ہو، جھوٹ بولتا ہو، فلرٹی ہو، شراب، سگریٹ یا چرس کا عادی ہو، ماں کے ہاتھ پر پیسے رکھنے کے بجائے اس سے پیسے لیتا ہو۔ اونچی آواز میں ماں سے لڑتا جھگڑتا ہو۔ تب بھی ماں اسے نہیں چھوڑتی، یہ وہی ماں ہے جس نے اپنے شوہر کو ان ہی صفات کی بنا پر چھوڑا تھا۔ شوہر تو پھر تلافی کی کوشش کرتا ہے، سدھرنے اور محبت سے پیش آنے کا جھوٹا ہی سہی وعدہ کرتا ہے، مگر عورت اسے مزا چکھانے کی دھن میں طلاق یا خلع لے کر ہی رہتی ہے۔

میری ایک دوست نے شادی کے چار سال بعد ہی اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر دیا، کیوں کہ اس کی دوغلی فطرت، اس کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی۔ شوہر نے اس کے مطالبے سے تنگ آکر، بیٹے کے ساتھ اسے حق مہر اورضروری لوازمات دے کر رخصت کر دیا۔ طلاق کے بعد اس نے بی اے، ایم اے کیا، اب وہ پی ایچ ڈی کا اردہ رکھتی ہے۔ مجھ سے مشورہ کیا تو میں پھٹ پڑی، میں نے کہا تم اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرو گی جب کہ تمہارا بیٹا میٹرک فیل ہے، ایک سیاسی جماعت سے وابستگی نے اس کی ترقی کے راستے بھی مسدود کر دیے ہیں۔ تمہیں اپنے بیٹے کی پڑھائی لکھائی کی زیادہ فکر کرنی چاہیے۔

کہنے لگی یہ اپنے باپ پر گیا ہے، بالکل خر دماغ ہے اس کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی۔

میں نے پوچھا، اس کی شادی کرو گی ؟

کہنے لگی، ہاں کیوں نہیں اسے آنے والی ہی سدھارے گی۔ (بیٹے کو لاڈ پیار سے بگاڑ کے، اور سدھار کا کام بہو کے حوالے کرنے والی خواتین کو کیا نام دیا جائے)

تم خود کیوں نہیں سدھارتیں۔

میں نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا۔

کہیں چلی جاؤ یا اسے گھر سے نکال دو۔ چھوڑ دو اسے۔۔۔۔

چھوڑ دوں اپنے بیٹے کو چھوڑ دوں، یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟ وہ تو ویسے ہی میری پروا نہیں کرتا، اسے میری ضرورت ہی نہیں ہے۔

اسے تمہاری ضرورت نہیں، یہ سوچ کر تمہاری عزت نفس مجروح نہیں ہوتی ؟

دل دکھتا ہے، کڑھتی رہتی ہوں مگر میں ماں ہوں، اسے چھوڑ نہیں سکتی۔

کیوں، چھبیس سال پہلے تم جسے چھوڑ کر فکر سے آزاد ہوئی تھیں وہ بھی تو کسی کا بگڑا ہوا بیٹا تھا۔

کل کسی کے بیٹے کو چھوڑا تھا آج اپنے بیٹے کو چھوڑ دو۔ ممتا کو تھوڑی تسلی دو، آج بیٹے کو دی گئی سزا، اس کے کل کے لیے مفید ثابت ہو گی۔

وہ ضرور لوٹ کر آئے گا۔ اور جو آ گیا تب تمہارے پڑھائے سبق کا ایک ایک لفظ اور تم سے جدائی کی کڑی سزا اسے ضرور انسان بنائے گی۔ اور انسان وہی ہے، جو انسان کی عزت کرتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مردوں کے ہاتھوں عورتوں کی زندگی تباہ نہ ہو۔ تو یہ کام بھی عورت ہی کر سکتی ہے، عورت کی عزت کرنا عورت ہی سکھا سکتی ہے۔ خوا ہ اس کے لیے کسی حد تک بھی جانا پڑے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2