میرا شہر پیرس بن گیا تو میرا کیا بنے گا؟


paris-6th-fontaine-st-michel-cafe

میاں صاحب کے سہانے خواب کے بعد میں اندیشۂ شہر میں دُببلا کیوں ہوں؟ مجھے اپنی فکر کرنا چاہیئے۔

کراچی پیرس بننے جارہا ہے تو مجھے بھی فرانسیسی ادب میں اپنا متبادل تلاش کر لینا چاہیئے۔

اب میں اس ادھیڑ بُن میں لگا ہوا ہوں کہ مجھے کیا مقام حاصل کرنا چاہیئے۔ میری شناخت کس نام سے ہوگی؟ نام کچھ بھی ہو، اس سے پہلے لوگ موسیوکہا کریں گے، صاحب جناب سے نجات مل جائے گی۔ لوگ پکاریں گے موسیو اور میں کہوں گا جی ….. لیکن موسیو کون سے۔ موسیو بھی تو بہت سارے ہیں۔

میں ڈھونڈنے میں لگا ہوا ہوں کہ فرانسیسی ادیب کون سا اچھا ہے اور میں کس کی شناخت اختیار کروں کہ سابق کراچی اور حال پیرس کا احوال رقم کر سکوں۔

jean paul sartre and simone de beauvoir

پہلا نام موپاساں کا یاد آتا ہے۔ مگر ممتاز شیریں کے کسی مضمون میں پڑھا تھا کہ جوانا مرگ دیوانہ ہوکر مر گیا تھا۔ اس لیے کہ بُری بیماری میں مُبتلا تھا۔ نہیں صاحب، میرا مطلب ہے موسیو یہ چیونٹیوں بھرا کباب مجھے منظور نہیں۔ ویسے بھی تیز طرار اور چونکا دینے والے انجام کے افسانوں کے بجائے مجھے دھیرے دھیرے آگے بڑھنے والے افسانے پسند ہیں۔

مجھے پتہ ہے میں چیخوف نہیں بن سکتا اس لیے کہ وہ روسی تھا اور پیرس میں نہیں رہتا تھا۔ کاش میاں صاحب نے ہمارے لیے ماسکو کا انتخاب کیا ہوتا ___ مجھے کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا۔

اس کے بجائے میں بالزاک بھی بن سکتا ہوں، فلابیئر بھی اور زولا بھی۔ فلابیئر بننے میں تو محنت زیادہ لگے گی۔ یہ تو پرانے ہوگئے، سارتر کیوں نہ بن جائوں؟ چھوٹی عمر سے اس کا نام سُنتا چلا آیا تھا۔ مگر سیاست کی الف بے بھی نہیں جانتا اور فلسفہ بوجھوں مار دیتا ہے۔ آلبیر کامیو کے بارے میں کیا خیال ہے؟ زبردست ناول نگار تھا مگر جلدی مر گیا اور یوں بھی تیز رفتار گاڑیوں سے میرا دل الجھتا ہے۔ نہ جانے کب گاڑی الٹ جائے اور پھر جنازہ ہی پیرس پہنچے۔ میں باز آیا ایسے پیرس سے۔

flaubert

ناول نگار ہی کیوں، شاعر کیوں نہ بن جائوں۔ بودلیئر، راں بو، ملارمے، والیری، میرے آئیڈیل رہے ہیں۔ راں بو بننے کی تو عمر نکل گئی۔ سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹتا رہوں؟

ایک میں ہی کیا، فرانس اور پیرس سے اردو والوں کا عشق پرانا ہے۔ میرا جی کے لیے تو کعبۂ نظر بودیلیئر کی شاعری تھی۔ مجھے یاد ہے انتظار حسین کو فرانسیسی حکومت نے ادبی اعزاز سے نوازا تھا تو اس موقع پر میں بھی موجود تھا۔ انتظار صاحب نے کتنے بہت سے نام گنوائے جو ان کے لیے اہم تھے۔ وہ بڑے آرام کے ساتھ فرانسیسی اعزاز وصول کر کے گھر آ گئے۔

اچھا، کیوں نہ پیرس میں رہتے ہوئے مہاجر ادیب بن جائوں۔ الجزائر میں پیدا ہونے والے اور فرانسیسی میں لکھنے والے طاہر بن جلون کا کیسا شاندار ناول ہے___ روشنی کی یہ خیرہ کن نابودگی۔ پھر میرے نام کے آگے بھی لکھا ہوگا مترجمہ محمد عمر میمن۔ چلیے ایک حسرت تو پوری ہوئی۔ پھر جب اوکھلی میں سر دیا ہے تو دھموکوں سے کیا ڈرنا؟

ہاں اگر تقدیر ژاں ژینے بنا دے تو وہ بھی قبول کر لوں گا ___ ژینے بنانا ہے تو ژینے بنا دے! مگر پھر جیل جانا پڑے گا اور سر کے بال صاف کروانا ہوں گے۔ ڈھائی مٹھّی بال رہ گئے ہیں، وہ بھی چند روز کی بہار ہے۔ اس لیے پیرس کے خبط میں سر منڈوانا منظور نہیں۔ کہیں اولے نہ پڑجائیں! اور مجھے اُس کی علت کا بھی معلوم ہے۔

اب پیرس کا نام لیا ہے تو ہمّت کرنا پڑے گی۔ مگر میں یہ کیوں سوچ رہا ہوں کہ فرانسیسی شناخت مجھے اپنی مرضی سے مل جائے گی؟ ساتھ میں اور بھی تو ہوں گے حریفِ مئے مرد افگن عشق! سب کو موقع ملے گا۔ مجھے یقین ہے جب گھنٹی بجے گی اور نام پکارے جائیں گے تو ڈاکٹر فاطمہ حسن اپنے لیے سمون دبیوار الاٹ کرا لیں گی اور تانیثی ادب پر مقالہ لکھنے اٹھ کھڑی ہوں گی۔ عذرا عباس کو سینٹ جان پرس کلیم میں مل جائے گا اور وہ اس کو پرس میں ڈال کر چل دیں گی، ہم سب مُنھ دیکھتے رہ جائیں گے۔

پیرس کا کرب ___ بودیلیئر کی نثری نظموں کا مجموعہ میرے ہاتھ میں رہ جائے گا جس کا ڈاکٹر لئیق بابری نے فرانسیسی سے ترجمہ کیا تھا اور جب مجلس ترقی ادب نے پہلے پہل چھاپا تھا تو احمد ندیم قاسمی صاحب نے کہا تھا، اسے ضرور پڑھو۔ پھر ایک کاپی رعایتی قیمت پر دلوا دی تھی۔

اب یہ پیرس میں بھی کرب آ گیا تو اب کیا ہو گا۔ بقول شخصے، غم کے مارے کدھر جائیں گے۔

روز مرہ کی اداسی اور پیرس سے دوری کے سبب اب مجھے حوالے یاد نہیں رہتے ورنہ قرۃ العین حیدر نے کسی تحریر میں محمد حسن عسکری سے ملاقات کا ذکر کیا ہے کہ عسکری صاحب کی ہر تان ایک زمانے میں فرانس پر آکر ٹوٹتی تھی۔

قرۃ العین حیدرنے کراچی کی مشہور کتابوں کی دکان میں ملاقات ہونے پر صدقِ دل سے کہا، عسکری صاحب آپ فرانس چلے جایئے۔ عسکری صاحب نے اسی طمانیت سے جواب دیا، اب فرانس میں کچھ نہیں رکھا!

لیجیے صاحب قصّہ تمام ہو گیا۔ اب میاں صاحب میرا مسئلہ حل کریں کہ منجھی کتھّے ڈھاواں!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2