2018 کے انتخابات میں کیا نیا ہونے جا رہا ہے؟
2002 کے انتخابات میں جنرل پرویز مشرف وردی میں پوری طاقت کے ساتھ ایوان صدر میں براجمان تھے۔ عمران خان سے چونچیں لڑانے کے باوجود بات بن نہ سکی۔ بےنظیراور نواز شریف دونوں ہی ملک سے باہر تھے یا کہہ لیں جلا وطن تھے۔ روایتی مسلم لیگ کی کمان چوہدری برادران کے پاس تھی۔ میدان صاف تھا۔ نتائج قریب قریب من پسند آئے باقی کسر پیپلز پارٹی کے محب وطن با ضمیر ساتھیوں نے فیصل صالح حیات کی قیادت میں پوری کر دی۔ 2008 کا زمانہ یوں تھا کہ عدلیہ تحریک نے مشرف حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں، لال مسجد سانحے کی لالی ابھی تازہ تھی۔ بےنظیر بھٹو کا کراچی میں جو استقبال ہوا تھا اس کا شاید خود بےنظیر سمیت کسی کو اندازہ نہیں تھا اور یہ سچ ہے کہ اگر بے نظیر کسی ڈیل کے تحت آئیں بھی تھیں تو اس ڈیل کی دھجیاں استقبال نے اڑا دیں۔ سانحہ کارساز ہوا، پھر تین نومبر کی ایمرجنسی لگی، آخر کار بے نظیر بھٹو شہید کر دی گئیں، پاکستان بھر جل اٹھا خصوصی طور پر سندھ، اس آگ لگے ماحول میں آصف زرداری کی آواز گونجی پاکستان کھپے، یہ تھا 2008 کے انتخابات کا پس منظر، یہ ہونے والے واقعات اتنے بڑے تھے کہ ابھی تک عمران خان اور ان کی تحریک انصاف تھی بھی اور نہیں بھی، عمران خان کی مقبولیت دھشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے تھی ضرور مگر سنجیدہ حلقے ابھی بھی انہیں کوئی مرکزی حیثیت دینے کو تیار نہیں تھے۔ نتائج آنے پر کسی کو حیرت نہیں تھی۔
2013 کے انتخابات کو یاد کرتے ہیں۔ ان انتخابات سے قبل 30 اکتوبر 2011 کی شام لاہور کے مینار پاکستان والے گراؤنڈ میں عمران خان کی تحریک انصاف نے اپنے قیام کے قریب پندرہ سال بعد ایک ایسا جلسہ کیا تھا جس نے پہلی بار مسلم لیگ قائدین کی نیندیں اڑا دیں تھیں۔ میڈیا ایک نئی قیادت کے نشے میں جھوم رہا تھا۔ مین سٹریم میڈیا اس جلسے کے بعد تقریباً ہر رات کو آصف زرداری کو جیل بھیجنے کے بعد ہی سوتا تھا۔ چوہدری افتخار اپنی بحالی کے بعد طاقت کے نشے میں چور، حکومت کو راہ راست پر لانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ایک وزیراعظم کو توہین عدالت میں گھر بھیج چکے تھے دوسرا وزیراعظم کپکپا رہا تھا۔ عمران خان پاپولر تو بہت تھے مگر بس پاپولر ہی رہ گئے، کے پی کی حکومت انہیں ملی باقی نتائج ویسے ہی تھے جس پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔
اب آج کی بات کرتے ہیں۔ نواز شریف، تا حیات نااہل ہو چکے، جیل ان کی راہ تک رہی ہے۔ سب جانتے ہیں ان کے امیدوار کیوں ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں، طاقت کے مراکز پر حملہ آور ہونے کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ نواز شریف سے بہتر کون جانتا ہے مگر پھر بھی وہ باز نہیں آ رہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ حقیقت کی دنیا میں رہتے ہوے ایسے کسی خواب سے بھی دور ہیں کہ ان انتخابات میں وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ ان کا ورکر بھی پانچ سال کی حکومت کے بعد اپوزیشن کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکا ہے۔
پیپلز پارٹی کی تمام دلچسپی چھوٹے صوبوں پر ہے یا یوں کہیں کہ ان کی تگ ودو، خواہش اور کوشش میں مرکزی حکومت ہے ہی نہیں وہ سندھ میں صوبائی اور مرکز میں نمبر دو پر رہنے کی لڑائی میں ہیں۔ گزشتہ چند انتخابات اور ان کے نتائج کو سامنے رکھیں تو سامنے دیوار پر یہ صاف لکھا نظر آتا ہے کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی اور عمران خان وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے۔
یہاں گزارش کرتا چلوں کہ ان بیس دنوں میں اگر کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ ہو گیا جس کا تعلق مغرب اور مشرق کی سرحدوں سے ہوا، اور جس کا امکان پوری طاقت سے موجود ہے، پھر کہانی کا رخ یکسربدل جائے گا۔ قبائلی علاقوں کو عجلت میں، رخصت ہوتی اسمبلیوں سے پختونخوا میں ضم کر دیا گیا ہے اور اب وہاں ہونے والا ڈرون، یا کسی بھی طرح کا حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا جس کے ساتھ ہی بھارت مشرقی سرحدوں کو گرم کردے گا۔ تشویش ناک امکانات کو ایک طرف رکھتے ہوئے واپس آتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ عمران خان جیسے جذباتی انسان جو اپنی ذات کے حوالے سے اپنے ہی کارکنوں کی زندگیوں کو عذاب میں رکھتے ہیں، کو ایٹمی پاکستان کا کنٹرول کس طرح دیا جائے، کیونکہ اس کنٹرول کے پاس تو نواز شریف، بےنظیر اور زرداری جیسے گھاگ اور منتخب لیڈر بھی نہ پھٹک سکے وہاں عمران بے چارہ کیا کر لے گا۔ سوال دوسرا ہے کہ کیا عمران خان منتخب وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد وہ حیثیت قبول کرنے کو تیار ہوں گے جس میں بی بی، نواز اور زرداری نے کام کیا یا وہ نواز شریف کے راستے پر چلتے ہوے آخر کار طاقت کے اصل مرکز پر حملہ کریں گے۔ اس خدشے کا انتظام ٹکٹوں کی تقسیم میں کر لیا گیا ہے باقی بندوبست اسمبلی کے اندر سے ہو جائے گا۔ امکان یہ ہی ہے کہ وہ سادہ تنخواہ پر گزارہ کر لیں گے۔ یہاں سادہ تنخواہ کا مطلب ان فیصلوں کو اپنے ذمہ لگانا بھی ہوتا ہے جس کی مخالفت آپ خود کرتے ہیں۔ ایک عرض یہ بھی کہ نواز شریف کا باب ہرگز بند نہیں ہوا، خدا نہ کرے مگر کہنا پڑتا ہے کہ اگر وہ ایک جنازہ اٹھائے واپس آئے اور سیدھا جیل چلے گئے تو عمران خان آرام سے بیٹھ نہیں پائیں گے۔ مریم نواز بھی ان کے ساتھ جیل گئیں تو دو سال سے کم عرصے میں وہ ہمدردیاں سمیٹ رہیں ہوں گی۔
رہے تحریک انصاف کے خواب دیکھنے والے، نعرے باز مخلص سادہ کارکن، ان کی درگت ابھی سے بننا شروع ہو چکی۔ باقی مار حکومت بننے کے بعد پڑے گی اور ایسی پڑے گی کہ وہ جھوم اٹھیں گے۔




