مرتے ہوئے پانیوں میں زندگی ڈھونڈنے والا جرمن سفیر


مارٹن کوبلر جرمن سفیر ہیں جو پاکستان میں تعینات ہیں۔ یہ سفارت کاری کی بہت خوشگوار جہتیں متعارف کروا رہے ہیں۔ سنی سنائی سے سے زیادہ وہ دیکھی دکھائی پر بھروسہ کررہے ہیں۔ پاکستان کی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں میں ایک عام سامع کی طرح شرکت کرتے ہیں۔ عوامی مقامات پر جا کر روایات و اقدار کا جائزہ لیتے ہیں۔ لوگوں میں گھل مل کرتہذیب و تمدن کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ روایتی پکوانوں اور مشروبات کا لطف لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ پنجاب کے کسی علاقے میں جانا ہو تو ریل پر سفر کرتے ہیں۔ سفر کے دوران اردو بول چال پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وقت ملے تو پشاور میں افغان مہاجرین کے کیمپ میں پہنچ جاتے ہیں۔ مہاجروں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر حال احوال کرتے ہیں، ان کی مشکلات دریافت کرتے ہیں اور ان کا درد دل سنتے ہیں۔ حجامت کروانی ہو تو کسی باربر کے پاس جانے کی بجائے "حجام” کے پاس چلے جاتے ہیں۔

پشاور سےچارسدوالی (پشاوری چپل) خریدنا نہیں بھولتے۔ نمکین تکہ اور چبلی کباب کی مہک جرمنی تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سندھ پہنچتے ہی سندھی ٹوپی اور اجرک اوڑھ لیتے ہیں۔ شام میٹنگ سے فارغ ہوتے ہیں تو کراچی کی سٹوڈنٹ بریانی سینٹر کا پتہ پوچھتے ہیں۔ لاہور جاتے ہیں تو رکشے میں سفر کرتے ہیں۔ انارکلی میں گھومتے ہیں، لکشمی چوک پر کھابے اڑاتے ہیں۔ شمال کی طرف جاتے ہیں تو بلتی بچوں میں دوڑتی زندگی دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ گلگت کی شرح خواندگی دیکھ کر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان بھر کے لیے خواندگی کی اسی شرح کی خواہش کرتے ہیں۔ پھراپنا یہ روزنامچہ وہ ٹوئٹر پر بزبانِ اردو لکھتے ہیں۔

پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پانی کے بحران کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے۔ آلودہ پانی پر گزر بسر کرنے والے ممالک میں بھی پاکستان پہلے دس ممالک میں اپنا درجہ رکھتا ہے۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جن کا پانی بھی برسوں سے پیاسا ہے۔ یعنی اگر ہمیں پانی میسر ہو تو بھی ہم پانی کے بحران کا شکار ہیں۔ کیونکہ اس ملک کی صرف پندرہ فیصد آبادی صاف پانی تک رسائی رکھتی ہے۔

آمدنی کا سب سے کم حصہ پانی کی ترسیل، صفائی ،نکاسی اور ذخیرہ پر خرچ کرنے کے حوالے سے ہم نے مثال قائم کر کھی ہے۔ آلودہ پانی کی ہی برکت ہے کہ سالانہ پچاس ہزار معصوم روحیں بن کھلے مرجھا رہی ہیں۔ ایک انسانی آبادی پر ہی کیا موقوف، ہمارے ہاتھوں آبی حیات کا عرصہ حیات بھی تنگ ہوا پڑا ہے۔ یومیہ پچاس کروڑ گیلن آلودہ پانی ہم سمندر میں گرا رہے ہیں۔ نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔ اتنا بڑھتا ہے کہ آب رواں کے اندر تیرتی ہوئی مچھلی کے دانتوں سے زندگی کی ڈور چھوٹ جاتی ہے۔ زندہ رہ جانے والے جان بھی نہیں پاتے کہ یوں تیرتے تیرتے کون سی بلا چاٹ جاتی ہے۔

جو پانی میسر ہے وہ مرچکا ہے اور مرا ہوا پانی دسترس سے نکلے جا رہا ہے۔ تمام مقامی اور عالمی اشاریے بتاتے ہیں کہ دو ہزار پچیس تک پاکستان کے گردے مثانے خشک ہو چکے ہوں گے۔ اسی برس جسم کا ہر حصہ خشکی کی شکایت کرے گا۔ صرف کراچی کو یومیہ گیارہ سو ملین گیلن پانی درکار ہے۔ لے دے کے پانچ سو ملین گیلن اسے میسر ہے۔ دریا ہوں، نہریں ہوں، ڈیم ہوں یا جھیلیں ہوں، ہر جگہ پانی اپنی کم ترین سطح پرآچکا ہے۔ پانی کو ذخیرہ کرنے کے متنازع ذرائع پر ہم نے توانائیاں صرف کردی ہیں اور آگے بھی انہی ذرائع پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ غیر متنازعہ ذرائع کے امکان پر بات نہ کرنے کی ہم قسم کھا چکے ہیں۔

عالمی ماہرین اور مبصرین کی نظر میں پاکستان بہت تیزرفتاری سے پانی کے جس بحران کی طرف بڑھ رہا ہے وہ دہشت گردی کے حالیہ بحران سے کہیں بڑا بحران ہوگا۔ ایسا بحران جس میں ہم اپنے شہیدوں کا لہو اور بجلی کی ٹھنڈی تاریں بھول جائیں گے۔ پانی کی رہی سہی بوندوں کی زندگی سات برس بتائی جارہی ہے۔ مگرہاتھی کے کان میں سونے والوں کی نینددریائے سندھ سے زیادہ گہری ہوچکی ہے۔ اس کا اندازہ حالیہ انتخابی مہم سے باسانی لگایا جاسکتا ہے۔کسی بھی جماعت کا منشور بتاتا ہے کہ عوامی مسائل کے حوالے کون سی جماعت کتنے پانی میں ہے۔ کون سی جماعت ہے جس کا منشور نچوڑکر پانی کی ایک بوند بھی ٹپکائی جاسکتی ہو ؟

عالمی ذرائع ابلاغ، تحقیقی اداروں اور مکالماتی مجلسوں میں جوچیز سب سے زیادہ زیربحث ہے وہ چھلو بھر پانی میں ڈوبتا پاکستان ہے۔ اور ساحل پہ بے فکری کی بکل مار کر جو طوفان کا نظارہ کررہا ہے، وہ بھی پاکستان ہی ہے۔ ہماری آنکھ کا پانی کتنا ہی خشک ہوجائے قدرت ہم پر مہربان رہتی ہے۔ یہ قدرت کا سوچا سمجھا بندوبست ہی ہوگا کہ پاکستان میں سفارت کے لیے جرمنی نے مارٹن کوبلر کا انتخاب کیا۔ پانی کی قلت کے اور ماحولیاتی تبدیلی کو انہوں نے اپنا درد سر بنا لیا ہے۔ اس درد سری میں انہیں ٹھیک سے اندازہ ہوگیا ہے کہ خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسول ہاشمی۔ یہ قوم سانپ کے سینے پر سے گزر جانے کا انتظار کرتی ہے۔ سانپ گزرجائے تو پوری سنجیدگی سے لکیر پیٹتی ہے۔

پانی کی قلت کے اسباب اور سدباب پر جرمن سفیر بہت کچھ بول چکے اور بہت کچھ بلوا چکے ہیں۔ انہوں نے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ جب تک یہ احساس نہ دلا دیا جائے کہ اندھیرے میں ہاتھی کھڑا ہے، تب تک ہاتھی پر بات کرنا درد کا ضیاع ہے۔ یعنی احساس ہی اجاگر نہ ہوگا تو شعور کیسے اجاگر ہو گا۔ چنانچہ وہ عرصے سے اپنی ذات میں احساس کو نرم گرم سے کچوکے لگانے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں ۔

ایک صبح مارٹن کوبلر نے ٹوئٹر پراپنی ایک تصویر شائع کی جس میں وہ دانت مانجھ رہے ہیں اور ہاتھ میں ایک گلاس پانی ہے۔اس تصویر کے ذریعے انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ٹونٹی کھلی چھوڑ کر دانت چمکانے میں مگن ہونا ذہین ہونے کی علامت نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا”دانت صاف کرتے ہوئے ایک گلاس میں پانی لے لیا جائے تو کئی لیٹر پانی بچایا جا سکتا ہے”۔ اسلام آباد میں عید کی صبح بھیگ رہی تھی۔ مارٹن کوبلر نے یہ وقت بالکونی میں گزارا۔ کھڑکی کے شیشے پر رکی ہوئی بوندوں کو کیمرے کی آنکھ میں لیتے ہوئے انہوں نے کہا "عید کا کیا ہی خوب تحفہ ہے، امید ہے کہ فصلیں تباہ نہیں ہوں گی”۔

انہی دنوں مارٹن کوبلر نے ایک تصویر ٹوئٹر پر شائع کی جس نے دیکھتی آنکھوں کو سہی معنوں میں احساس سے دوچار کر دیا۔ لگتا تھامارٹن کوبلر عرب کے کسی تپتے ہوئے صحرا میں بیٹھے زندگی کھوج رہے ہیں۔ عنوان دیکھا تو یقین نہ آیا کہ یہ تواسلام آباد کی راول جھیل ہے۔ اس جھیل میں خوابوں کاایک جزیرہ ہے جس کے پہلو میں سر شام ستارے اترتے ہیں۔ جہاں ستارے پانیوں میں پیر لٹکا کر بزم خوانی کرتے ہیں عین اسی جگہ مارٹن کوبلر بیٹھے ہیں، مگر پانی کی ایک بوند بھی نہیں ہے۔ عنوان باندھتے ہوئے انہوں نے دردمندی سے کہا "یہ سارا پانی کہاں چلا گیا؟”۔ جیسے بہت بے بسی میں کوئی خودکلامی کرے کہ اب کیا ہو گا؟

جون کے آخری ہفتے میں جرمن حکومت کے تعاون سے پانی کی کمی، خوراک کی قلت اور جنوبی ایشا میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ مارٹن کوبلر اس کامیابی پر جذباتی دکھائی دیے۔ مگر ان کی خوشی پراس بات کا دکھ غالب تھا کہ کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارتی ماہرین کو ویزا نہیں مل سکا۔ اس دکھ کا اظہار انہوں نے جس سادہ سے جملے میں کیا اس کی گہرائی تربیلا سے زیادہ ہے۔ ٹوئٹر پیغام میں کچھ نہ لکھتے ہوئے لکھا "ماحولیاتی تبدیلیاں سرحدوں کو خاطر میں نہیں لاتیں”۔ پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات!

Facebook Comments HS