قاضی القضاۃ، کفن پگڑی، دیوی اور جالب


 

جب کبھی میں انصاف کی دیوی کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھتا ہو ں۔ مجھے علاؤالدین خلجی کے عہد حکمرانی میں قاضی القضاۃ کی کفن پگڑی یاد آجاتی ہے۔ وقت کتنا بدل گیا ہے۔ انصاف کی دیوی کا بول بالا ہے۔ اچھی بات ہے، لیکن انصاف کی دیوی کی حق کے ساتھ پرانی آشنائی تھوڑی پھیکی پھیکی سی پڑ گئی ہے، جو بہرحال پریشان کن ہے۔ سٹینلے لین پول لکھتے ہيں کہ علاؤ الدین خلجی نے ایک بار قاضی القضاۃ سے اپنی سلطنتی امور اور بیت المال سے شاہی ٹھاٹ باٹ پر لاگت کی شرعی حیثیت کے بارے میں پوچھا۔ قاضی القضاۃ نے بغیر کسی دباؤ، لالچ اور خوف کے برصغیر کے سلطان وقت پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ مجھے پتہ ہے میرا وقت مرگ قریب ہے۔ مجھے جناب کی تلوار کا بھی خوف ہے۔ اور مجھے پتہ ہے کہ مری پگڑی میری کفن ہوگی۔ پر شریعت کی رو سے بیت المال سے شاہی ٹھاٹھ باٹھ پر لاگت یقینا جائز نہیں، ہاں سلطانی اور بادشاہی شان و شوکت کے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ سلطان نے غصے سے آگ بگولہ ہو کر قاضی کو خوب سنائیں۔ پھر حرم کا رخ کیا، قاضی بھاگا بھاگا گھر آیا۔ گھر والوں سے الوداعی ملاقات کی، متوقع مرگ کیلۓ غسل / وضو کیا اور مرنے کے لئے تیار ہو کے واپس سلطان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ قاضی کی توقع کے برعکس سلطان نے اسے انعام و اکرام سے نوازا۔ اب آپ خود سوچیں، ایسے سلطان کو کون عالی جاہ، ظل پناہ اور شہنشاہ کے القابات سے نوازنے کی زحمت کرے گا۔ اس طرح کی سلطانی کا کو‏ئی اچار بھی نہ ڈالے۔ پگڑی اچھالنا تک نہیں جانتا تھا۔ ان پڑھ تھا شاید!

 

جب کبھی میں حبیب جالب کے شعر پڑھتا ہوں۔ تو پتہ نہیں کیوں قاضی القضاۃ اور جالب ایک دوسرے کا عکس لگتے ہيں۔ دیوی کا بہرحال نہیں پتہ کہ وہ جالب کی شاعری سے کس حد تک واقف ہے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا بھی ہے یا نہیں۔ حسن ظن اور غالب امکان یہی ہے۔ کہ پڑھی ہوگی کیوںکہ بعض اوقات انصاف کی داد رسی کے جلوے دیکھنے لائق ہوتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات شان بے نیازی کے جلوے دیکھ کے بندے کے ہوش و حواس اڑ جاتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ جالب کو فقیروں اور درویشوں سے اتنی ہمدردی کیوں تھی۔ غضب کا بندہ تھا، ڈنکے کی چوٹ پہ سچ بولتا تھا۔ اب بھلا حقوق العباد اور خلق خدا سے انصاف کے واسطے کو‏ئی جان تھوڑی داؤ پہ لگاتا ہے۔ پر ایسے مستانوں کو سمجھانا بجھانا انسان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ کہ ایسے پروانے عشق میں دنیا و مافیہا سے بے خبر شمع حق کے ارگرد منڈلاتے رہتے ہیں۔

 وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

اس آوارہ دیوانے کو جالبؔ جالبؔ کہتے ہیں

 نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو

حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا

 جب سے میں نے انصاف کی دیوی کے ٹھاٹھ بھاٹھ دیکھے ہیں۔ تب سے مجھے یقین سا ہوگیا ہے کہ دیوی بالکل بھی اندھی نہیں بلکہ بے نیاز ہے۔ ۔ آپ خود سوچیں دیوی جیسی طاقتور ہستی اندھی ہو سکتی ہے۔ ہم بھنگ پی کر بھی ایسی خرافات پر یقین نہیں کریں گے۔ اور "میں نہيں مانتا ” کی گردان جاری رکھیں گے۔ کیا ہو ا اگر جالب زندہ نہیں، تو دیوی کی بے نیازی اور ارباب اقتدار کے اہل و ستم کی روداد بیان کرتے شہر آشوب کا منظر پیش کرنے والے جالب کے شعر تو زندہ ہیں۔

شہر ویراں اداس ہیں گلیاں

رہ گزاروں سے اٹھ رہا ہے دھواں

 آتش غم میں جل رہے ہیں دیار

گرد آلود ہے رخ دوراں

 بستیوں پر غموں کی یورش ہے

قریہ قریہ ہے وقف آہ و فغاں

 صبح بے نور شام بے مایہ

لٹ گئی دولت نگاہ کہاں

 پھر رہے ہیں طیور آوارہ

 برق ہر شاخ پر ہے شعلہ فشاں

 کبھی زمانہ وقت کے ظلم وستم سے تنگ آکر کچھ فقیر بغیر اپائنٹمٹ لیۓ انصاف کی دیوی کے عالیشان محل جیسے رہائش گاہ پہ غلطی سے دستک دے دیتے ہیں۔ عجیب نالائق لوگ ہیں، دیوی کی نیند میں خلل ڈالتے ہیں۔ دیوی کے خراٹے اور دستک جاری رہتی ہے۔ عجیب وحشی اور دہشت گرد قسم کے لوگ ہیں۔ دستک دے رہے ہیں، یا دروازہ توڑنے کا ارادہ ہے۔ بھئی انصاف کی بھیک مانگتے ہیں، وہ بھی بدمعاشی کرکے۔ ویسے دیوی کو بھی اللہ ہدایت دے، عوام کو کم ہی لفٹ کراتی ہے۔ فقیر چپ سادھ لے کر اپنی کٹیا کی جانب بڑھتے ہیں۔ کہ فقیر کے لئے ایک در بند تو سو مزید کھلتے ہیں۔ آسمان کی جانب نگاہیں اٹھتی ہیں۔ اور پھر قضیہ عرش والی بڑی عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔ ویسے یہ چیتھڑوں میں ملبوس بدبودار لوگ اور مورت جیسی دیوی کا جوڑ کہاں۔ جوڑ سے مجھے” حور کے پہلو میں لنگور” یاد آیا۔ اہل زبان والو ں کی موشگافیوں سے اللہ بچائے، کس کی کڑیاں کس کے ساتھ ملاتے ہیں، حقوق نسواں والوں سے واسطہ نہیں پڑا ہے شاید!۔       

 یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے  

آباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے

 وہی حالات ہيں فقیروں کے

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

 

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ

بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ

 انتخاب اہل گلشن پر بہت روتا ہے دل

دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواؤں کی جگہ

 کچھ بھی ہوتا پر نہ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں

راہزن ہوتے اگر ان رہنماؤں کی جگہ

 اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں

تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

 ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام

شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

 

 

 

Facebook Comments HS