چین اور اسرائیل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قربت

چین بھی دنیا میں اپنی مخالفت اور کھٹ پٹ دیکھتے ہوئے نئی مارکیٹیں تلاش کرنے کی جدوجہد میں لگا ہوا ہے پھر اسرائیل کے حوالے سے چین میں بلکہ دنیا بھر میں یہ خیال بہت مضبوط ہے کہ اسرائیل اپنی آبادی اور رقبہ کے اعتبار سے ضرور چھوٹا ملک ہے لیکن سائنس کے میدان میں اس کے سائنسدانوں نے بہت کامیابیاں حاصل کیں اور مختلف معاملات میں اعلی ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ اور چین اس کی ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا ہے، اس کے باوجود کے دونوں ممالک امریکہ کے حوالے سے مختلف حکمت عملیاں رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک نے متعدد شعبوں میں باہمی شراکت سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چین اس حوالے سے تین نکاتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے وہ تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تعلقات کو بڑھا رہا ہے اور ان تینوں نکات کے ذیل میں متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھا رہا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے نتیجہ کے طور پر چین کے اثرات سیاسی طور پر بھی اسرائیل میں بڑھ رہے ہیں۔ ویسے تو چین بہت سارے منصوبوں میں کام کر رہا ہے لیکن حیفہ میں کارمل ٹنل منصوبہ، جبکہ تل ابیب میں لائٹ ٹرین منصوبہ چین ہی کی بدولت آگے بڑھ رہا ہے، اس کے علاوہ چین اشدود اور حیفہ کی بندرگاہوں کی توسیع کا کام سر انجام دینے میں مشعول ہے۔ رہائشی عمارتوں کی تعمیر میں چین بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے جب گذشتہ برس اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے چین کا دورہا کیا تو اس وقت دس ایسے معاہدوں پر دستخط ہوئے جن کی مالیت پچیس ارب ڈالر ہے۔
چین اسرائیلی ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے کے لئے کتنی اہمیت دے رہا ہے اس کا اندازہ چین کی انٹرنیٹ کی بڑی ترین کمپنیوں میں سے ایکBaiduکے سی ای او روبنلی کی اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو سے ملاقات کے بعد کے بیان سے کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل میں سرمایہ کاری دراصل ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ہے۔ اسی طرح چین کی معروف انٹرنیٹ کمپنیAli Babaدنیا میں 7ریسرچ لیبارٹریاں قائم کر رہی ہے اور ان میں سے ایک لیبارٹری اسرائیل میں قائم کی جائے گی۔ چین درحقیقت اسرائیل کی اعلی۔ ٹیکنالوجی، خوراک، زراعت، پانی اور بائیو ٹیکنالونی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے Israel Technion Institute of Technology اور چین کیShantouیونیورسٹی نے چین کے صوبےGuandongمیں کیمپس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے چین نے 147ملین ڈالر کی گرانٹ اور زمین فراہم کی ہے جبکہ غیر سرکاری چینی تنظیم نے 130ملین ڈالر کی گرانٹ دی ہے۔
اسی طرح حیفہ یونیورسٹی اور ایسٹ چائنہ نارمل یونیورسٹی میں شنگھائی میں مشترکہ لیبارٹری قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بائیو میڈیسن، نیوربائیولوجی وغیرہ پر مشتمل تحقیق کرے گا۔ تل ابیب یونیورسٹی نےTshinghua یونیورسٹی سے ملکر ریسرچ سنٹر بنا رہی ہے۔ تاکہ بائیو ٹیکنالونی، شمسی توانائی، ماحولیاتی ٹیکنالوجی اور پانی پر تحقیق کی جا سکے۔ صرف2016میں چین نے اسرائیل میں ٹیکنالوجی میں 16.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جو2015کے مقابلے میں10گناہ زیادہ ہے۔ اسرائیل کی سیاحت کی انڈسٹری میں بھی چینی بڑے پیمانے پر آ کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں پہلے یہ تعداد چند ہزار پر محدود تھی مگر اب یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی سالانہ تجاوز کر گئی، اسی سبب سے اسرائیل نے امریکہ اور کینڈا کے بعد چین کو وہ تیسرے ملک کا درجہ دے دیا ہے کہ جس کے شہریوں کو 10سال کا ملٹیپل ویزہ جاری کرتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے دونوں ممالک میں کلچرل معاملات بھی بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، گذشتہ نومبر میں چین نے تل ابیب میں اپنا کلچرل سنٹر کھولا یہ دنیا میں چین کا 35واں کلچرل سنٹر ہے اور مشرق وسطی میں دوسراہے اس سے قبل صرف مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں یہ موجود ہے۔ چین نے گذشتہ دسمبر فلسطین اسرائیل امن سمپوزیم کی بھی میزبانی کی جس میں چین کے صدر نے اپنا امن کے لئے چارنکاتی فارمولہ بھی پیش کیا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دونوں ممالک کیوں آگے کی سمت اپنے تعلقات کو بڑھا رہے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ چین اسرائیل کی ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ اسرائیل کی خواہش ہے چین عرب دنیا سے اس کے معاملات میں عرب دنیا کی حمایت کی بجائے اپنا جھکاؤ اسرائیل کی طرف کر لے۔ اس نے یہی طریقہ کار اختیار کر کے بھارت کو بھی اپنی طرف راغب کر لیا یہ علیحدہ بات ہے کہ اب عرب فوجی بھارت سے ہی تربیت لینے آ رہے ہیں۔

