شاعر کا رکشہ اور ادھار کا کفن

میرا دوست کراچی کے ایک دلخراش منظر کی منظر کشی کر رہا تھا۔ علامہ اقبال کی کتاب "علم اقتصاد " کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ علامہ اقبال نے معیشت پر تحریر کردہ اپنی کتاب "علم اقتصاد" میں فرمایا تھا کہ "غریبی قویٰ انسانی پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات…

Read more

حمزہ شہباز کے انکار کی قیمت

نواز شریف سے مسئلہ کیا ہے کہ جس کے سبب سے اس کے خلاف اقدامات ذاتی دشمنی سے بھی بڑھ کر کیے جا رہے ہیں۔ جواب صاف ہے کہ وہ ”نہیں“ کہنا جانتا ہے۔ شام کے معاملے میں طاقت سے حکومت گرانے کے رویے کی مخالفت، یمن جنگ میں غیر جانبداری اور دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق کارروائی سی پیک پر ڈٹے رہنا نہیں کہنے کے کھلے مظاہرے تھے مگر اس نہیں کہنے کی قیمت بھی بہت بھاری ہوتی ہے۔ جو کہ نواز شریف صرف خود ہی نہیں بلکہ ان کا خاندان بھی ادا کر رہا ہے۔

حمزہ شہباز کے خلاف تازہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جیلیں، تکلیفیں طاقتوروں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی صورت میں سامنے کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ ڈینیل اور فلپ امریکہ کی تاریخ میں 2 ایسے بھائی ہیں کہ جنہوں نے امریکی ایٹمی اسلحے کے خلاف مہم چلائی اور نہیں کہنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں 100 بار سے زائد گرفتار بھی ہوئے۔ ان دونوں بھائیوں نے 7 دیگر افراد کے ہمراہ 17 مئی 1968 کو کینٹن ولا میری لینڈ میں ویت نام جنگ کی مخالفت میں امریکی ڈرافٹ فائلیں دیسی قسم کے نیپام بم سے جلا ڈالیں۔

Read more

نواز شریف کسی کو ”باپو“ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں

اختلافات کہاں پیدا ہوتے ہیں اور اختلافات ختم کیوں نہیں ہو پاتے۔ سیاسی معاملات میں پوائنٹ آف نو ریٹرن کہاں اور کیوں آ جاتا ہے۔ یہ سوالات اس وقت پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات میں جواب کے منتظر ہیں۔ نواز شریف اس حد تک کیوں چلے گئے کہ عارضہ قلب جیسی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ سخت ترین حالات کا سامنے کرنے کے لئے سینہ سپر نظر آتے ہیں۔ آج اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے ذرا سو سال قبل کی طرف چلتے ہیں۔ لیکن اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ ہر دور کے اپنے حالات ہوتے ہیں اور کسی لیڈر کا کسی دوسرے لیڈر سے تقابل نہیں بنتا اور نہ ہی میں یہ تقابل کرنے لگا ہوں۔

قائد اعظم ؒ کانگریس کے چوٹی کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ اختلاف رائے ممکن تھا مگر کسی کی شخصی پیروی کا تصور کانگریس میں بھی موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ہندوستان کی سیاست میں گاندھی جی کی اینٹری ہوتی ہے اور تلک کی موت کے بعد وہ اہم ترین رہنماء بن جاتے ہیں اور اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اتنی مضبوط کہ اب جو وہ کہیں گے وہی سچ ہو گا۔ کانگریس کے دیگر رہنما ان کی شخصیت کے زیر اثر آ جاتے ہیں مگر قائد اعظمؒ کسی کی مطلق العانیت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ یہاں اسے قائد اعظمؒ اور گاندھی کے اختلافات شروع ہوئے کہ قائد اعظمؒ کسی کو باپو نہیں مانتے تھے۔

Read more

لیون کا قصائی اور نیب

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کا کفن میں لپٹا وجود کیا چند دنوں میں ایک ماضی کے قصے کی مانند رہ جائے گا کہ جن کو یاد کر کے کبھی کبھی کالموں کا پیٹ بھرا جائے گا یا اس واقعہ کی بدولت یہ واضح ہو گیا ہے کہ نیب کا ادارہ اس سرخ نشان کو عبور کر چکا ہے کہ جس کے بعد مستقبل کی تاریخ میں آج کی تاریخ صرف ندامت بن کر زندہ ہو گی کہ جس ندامت کی حیثیت صرف بے حیثیت ہو گی۔ اداروں کو اس انداز میں چلانے اور برقرار رکھنے کے کہ جس کی وجہ سے لوگ خود کشی تک پر مجبور ہو جائیں وقتی طور پر تو طاقتوروں کے لئے طاقت کے اس مظاہرے پر سوائے خوش ہونے اور اس کو اپنی کامیابی قرار دینے کے اور کچھ نہیں ہوتا لیکن حقیقت میں بہت کچھ اور بھی ہوتا ہے۔

جرمنی میں ہٹلر کی حکومت دوسری جنگ عظیم میں وقتی طور پر کامیابیاں سمیٹ رہی تھی۔ فرانس کے وسیع علاقے پر قبضہ کر چکنے کے باوجود فرانس کے شہر لیون میں فرانس کی مقامی آبادی کی مزاحمت بہت زیادہ تھی۔ برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ ان مزاحمت کاروں سے میری اپنی بھی لیون میں ملاقاتیں رہیں اور درد کہانیاں جن پر بیتیں ان سے سنیں۔ اس مزاحمت کو کچلنے کے لئے جرمنی کی اسوقت کی انٹیلی جنس گسٹاپو نے اپنے ایک نوجوان افسر کلازباربی کو 1942 ؁ء میں فرانس بھیجا اور لیون میں گسٹاپو کا سربراہ مقرر کر دیا۔

Read more

پاک بھارت کشیدگی بین الاقوامی تناظر میں

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ ہونے کے بعد اب معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کشیدگی صرف اس وجہ سے ہوئی کہ پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر حملہ ہو گیا اور بھارت نے اس کے اثرات زائل کرنے کے لئے اپنی فضائی…

Read more

انڈیا، دہشت گردی، سعودی عرب اور وقتی مزہ

بین الاقوامی تعلقات میں یہ زبانی کلامی تو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہمارے تعلقات باہمی بھائی چارے پر مبنی ہیں لیکن اس حقیقت سے بہرحال پردہ پوشی ممکن ہی نہیں ہوتی کہ یہ تعلقات دو طرفہ مفادات اور باہمی اغراض کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان سے وابستہ 3 ایسے واقعات ہوئے کہ جن سے وطن عزیز کے مفادات براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ پلوامہ واقعہ، سعودی ولی عہد کا دورہ پھر افغانستان کی صورتحال تو ہمہ وقت ہمارے ساتھ ساتھ ہی رہتی ہیں۔یہ تمام معاملات بظاہر جدا جدا ہیں لیکن ان کے اثرات باہمی پیوستہ ہیں۔ پلوامہ واقعہ پر بھارت کا جو رد عمل سامنے آیا ایسا رد عمل وہ اکثر و بیشتر واقعات پر دیتا ہی رہتا ہے۔ اور اس کا ماسوائے اس کے اور کوئی مقصد نہیں کہ اپنی اور بین الاقوامی رائے عامہ میں اس تصور کو پختہ کیا جائے کہ پاکستان بقول اس کے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اور اس ذریعے سے وہ پاکستان میں اپنی دہشت گردی جس کا ایک ثبوت کلبوشن یادیو ہے پر سے دنیا کی نظروں کو ہٹانا چاہتا ہے۔

Read more

بینکاروں پر تکیہ نقصان دہ؟

پلوامہ واقعہ پر بھارت کا جو ردِ عمل سامنے آیا، یہی توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت کی جانب سے بڑھکبازی شروع کر دی جائے گی کیونکہ بھارتی انتخابات کی آمد آمد ہے اور وہاں پر انتخابات پر کامیابی کا ایک موثر گُر پاکستان دشمنی ہے۔ پھر بھارت کو اُس وقت اِس کا زعم…

Read more

سب جل جائے گا۔ غیر سینسر شدہ مکمل کالم

جرمنی کی تاریخ میں 27 فروری 1933 کا دن ایک قومی المیے اور اس سے جڑے مزید المیوں کی ابتداء کے طور پر ایک غیر معمولی دن کے طور پر تاریخ میں نقش ہے۔ اس دن جرمن پارلیمنٹ کی عمارت میں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ پارلیمنٹ جس کے اختیارات پہلے ہی محدود کیے جا چکے تھے۔ آگ کا انگارہ دکھائی دے رہی تھی۔

اس واقعے سے قبل 30 جنوری 1933 کو ہٹلر ایک غیر آئینی طریقہ کار سے کہ جس کے متعلق دعویٰ یہ کیا جا رہا تھا کہ یہ عین آئینی طریقہ کار ہے، برسر اقتدار آ چکا تھا۔ ہٹلر بذات خود پارلیمنٹ پہنچا اور اخبار نویسوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ”یہ ایک قسم کا خدائی اشارہ ہے اور اب ہم کمیونسٹوں پر کاری ضرب لگا سکیں گے“۔

اس شام سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا کہ کمیونسٹوں نے پارلیمنٹ کو آگ لگا دی ہے۔ ہٹلری میڈیا اس سرکاری بیان کو ثابت کرنے میں جت گیا اور نتیجتاً ہزاروں مزدور رہنماء اور مزدور حقوق کی تحریک سے وابستہ افراد نازیوں کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔

Read more

قطر میں وزیراعظم کے دورے میں کیا ہوا؟ افغان مسئلے پر پیش رفت

مُلا برادرز کی افغان طالبان کے قطر کی سیاسی شعبے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی ایک ایسی خبر ہے کہ جس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان میں ایک نیا منظر نامہ تشکیل دیے جانے کی غرض سے کوششیں برق رفتاری سے جاری ہیں۔ زبانی کلامی گفتگو کو ایک طرف کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اس سلسلے میں کیا تیاریاں جاری ہیں اور وہ ان حالات میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی غرض سے کس حد تک صلاحیتوں کو اپنے اندر پاتے ہیں اس کو سمجھنے کی غرض سے حکومت کی گزشتہ پانچ ماہ کی کارکردگی اور بالخصوص حالیہ ترکی، امارات اور قطر کے دوروں میں صلاحیت اور سنجیدگی کے عنصر کو پر کھا جا سکتا ہے۔ جو بدقسمتی سے سرے سے موجود نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات میں ایک برادر اسلامی ملک کے صدر کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ گفتگو اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نا پختہ کاری سے عمران خان کو بہت قربت کا رشتہ ہے جس کو وہ نبھا بھی رہے ہیں۔ اسی طرح قطر میں بھی وہ معاملات کو حل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ بیان کرنے والے تو یہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ ہمیں پاکستان کی عدالتوں میں کیوں بلانا چاہتے تھے اور ہماری تحریر پر اُدھر کیوں بھروسا نہیں کیا گیا تیاری موجود نہیں تھی لہذا جواب نہ کوئی بن پڑا۔

Read more

نواز شریف، اذان ضرور ہو گی

قانونی موشگافی کیا رہتی ہے اس کا تعلق عوامی رائے سے قائم نہیں ہو پاتا ہے۔ بالخصوص اس کیفیت میں کہ جب رائے عامہ میں حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں طبقات سیاسی رہنماء کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ کا معاملہ اس کے طاقت کے مراکز سے تعلقات میں تلاش کر رہے ہوں۔ یہی معاملہ اس وقت پاکستان کو در پیش ہے۔ نواز شریف کی سیاسی زندگی اس وقت جس موڑ پر آ پہنچی ہے اس کے متعلق یہ تاثر قائم رکھنا کہ وہ خود اس کی توقع نہیں کر رہے تھے، حالات کے معاملے میں اپنی آنکھیں بلکہ کان اور دماغ بھی بند کر لینے کے مترادف ہو گا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حالات کس رخ جا سکتے ہیں۔ کسی کو بھی سپر پرائم منسٹر تسلیم نہ کرنے کے بیان نے یہ طے کر دیا تھا کہ ووٹ کی طاقت کا تصادم اینٹی پولیٹیکل سوچ سے ضرور ہو گا۔ نتیجتاً تجربات پھر دہرائے جائیں گئے۔ اور فی الواقعہ ایسا ہوا بھی۔ لیکن ہمارے سامنے اصل سوال یہ موجود ہے کہ ان تجربات کی بنا پر جو سیاسی بناء پڑتی ہے اس سے اس وقت وطن عزیز کس طرح نبرد آزما ہے۔

Read more