بیجنگ سے نیویارک ایک ہی پریشانی

بابائے لبرل ازم جون لاک نے کہا تھا کہ ”تمام انسان آزاد ہیں اور برابر برابر ہیں کوئی بھی شخص یا ادارہ کسی دوسرے فرد کی زندگی، صحت، آزادی اور ملکیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا“ یہ تصور اس لیے بھی درست ہے کہ جب کوئی کسی کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرکے اقدامات کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ دوسرے کے دل میں ایسے جذبات کا محرک بن رہا ہوتا ہے کہ جو بہرحال اس کے خلاف ہو اور اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں کی یا ان کے کسی طبقے کی آزادی میں مداخلت شروع کر دے تو ایسی صورت میں وہ پورا معاشرہ اور اس کی بنیادوں پر کھڑی ریاست وحکومت بذات خود خطرات میں بتدریج گرفتار ہو جاتے ہیں۔

Read more

چینی ہم سے مایوس ہیں ؟

چین میں ساہیوال کول پاور پلانٹ مکمل کرنیوالی چینی کمپنی کے مرکزی دفتر میں داخل ہو رہا تھا۔ ان کی انتظامیہ سے ہماری ملاقات طے تھی۔ چلتے چلتے اچانک میری نظر ان کے دفتر میں لگی دو تصویروں پر ٹھہر گئی۔ یہ کیا نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر وہ بھی اقتدار سے روانگی…

Read more

نواز شریف اور زرداری کے خلاف وائٹ پیپر تو آئے گا

اس زمانے میں ابھی نجی ٹی وی چینلز تو ہوتے نہیں تھے۔ حکومت کا سارا پراپیگنڈا سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر جاری ہوا کرتا تھا۔ 24 جولائی 1978 کی رات اچانک پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر ایک بھونچال سا آ گیا۔ آج کی زبان میں بریکنگ نیوز دینی شروع کر دی گئی تھی۔ جنرل ضیاء کی آمرانہ حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف قرطاس ابیض، وائٹ پیپر تیار کر لیا ہے۔ اس وائٹ پیپر کو عنوان دی کنڈکٹ آن جنرل الیکشنز ان مارچ 1977 دیا گیا۔

یہ ایک ہزار چوالیس صفحات پر مشتمل دستاویز تھی جس میں تین سو بیالیس ضمیمہ جات تھے۔ اس ساری دستاویز کا اصل مقصد صرف ایک تھا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ 1977 کے عام انتخابات مکمل طور پر دھاندلی زدہ تھے اور بھٹو حکومت درحقیقت عوامی مقبولیت کی حامل نہیں تھی۔ وائٹ پیپر 25 جولائی کو سامنے لایا گیا اس وقت تک بھٹو حکومت ختم ہوئے 385 دن گزر چکے تھے اور وہ وقت تھا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ قتل کی کارروائی اپنے حتمی انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔

Read more

گاندھی کا قاتل جیت گیا

بھارت میں جاری جنونیت کہاں جا کر ٹھہرے گی اور بھارت اور اس خطے میں کیا قہر سامانی قائم کرے گی اس کے متعلق سمجھنے کے لیے اس تصور کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ جس کے زیر اثر معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ بھارت میں متواتر یہ دوسرا مرحلہ ہے کہ وہاں بسنے والی دوسری بڑی قوم مسلمانوں کا کوئی ایک نمائندہ بھی حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی میں شامل نہیں ہوگا۔ یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ جب ہم انتہا پسند سوچ کا تجزیہ کرنے لگتے ہیں تو اس سے ہماری مراد بھارت میں بسنے والی اقوام اور ان کی سیاسی حرکیات سے ہو کر نہ کہ پاکستان میں بسنے والے محب وطن ہندوؤں سے ہو گی۔

Read more

چین سے تعلقات میں بڑھتی ہوئی عوامی غلط فہمیاں

چوتھی صدی عیسویں میں فاہیان جبکہ اس کے 2 سو سال بعد ہو این تسانگ نے اس خطے کا سفر کیا۔ فاہیان کا سفر دراصل اس کے مذہبی جذبات کی بناء پر شروع ہوا تھا۔ گوتم بدھ کی دھرتی ہندوستان تھی اور چین میں اس کا خاطر خواہ اثر پہنچ چکا تھا۔ مگر چینیوں کو علم ہوا کہ گوتم بدھ سے وابستہ نادر اشیاء اور دستاویزات ضائع ہو رہی ہیں لہٰذا فاہیان نے ہندوستان کے سفر کے لئے کمر باندھ لی۔ اور اپنی مقدس اشیاء کو تحفظ کرنے کی غرض سے کہ ان کو چین لے آئے وہ چل پڑا یہ بات یہاں کے باسیوں کے لئے بڑی حیران کن تھی کہ کوئی مذہبی کی کھوج کے لئے اتنا سفر کر سکتا ہے۔

اس بات کا اظہار اس سے پرجیت ون میں قائم بدھ وہار کے سنیاسیوں نے کیا تھا کہ جہاں پر کبھی گوتم بدھ تعلیم دیا کرتا تھا۔ اس نے اپنا سفر ادیان یعنی چمن کے آس پاس سے شروع کیا۔ گاندھار، ٹیکسلا اور پشاور سے ہوتے ہوئے وہ دریائے سندھ کو پار کرکے جمنا کے کنار متھرا میں پہنچا۔ سنکاشیہ، قنوج اور شراوستی گیا۔ اس نے گوتم بدھ کی جائے پیدائش کپل وستو دیکھی۔ گنگا کو پار کر کے پاٹلی پتر آیا اور وہاں پر موجود خیراتی ہسپتالوں کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔

Read more

خزانہ سنبھالنے کمپنی بہادر کا ریزیڈنٹ آ گیا

بعض واقعات تاریخ کا دھارا موڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد برسوں نہیں بلکہ بسا اوقات صدیوں تلک حالات انہی واقعات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ بنگال کے نواب سراج الدولہ برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسی شخصیت گزری ہے کہ اگر وہ انگریزوں کے خلاف اپنوں کی بیوفائی کے سبب سے شکست نہ کھا جاتے تو ناصرف کے برصغیر کی تاریخ دوسری طرح تحریر کی جاتی بلکہ عالمی منظر نامہ بھی کچھ اور ہی ہوتا۔

جنگ پلاسی میں کامیابی کے بعد جہاں انگریز برصغیر میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے لگ گئے وہیں پر انہوں نے اس خطے کی سماجی حرکیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اقتدار کو قائم کرنے اور دوام بخشنے کی غرض سے ایک نیا عہدہ تخلیق کیا اور اس عہدے کا نام ریذیڈنٹ رکھا گیا۔ ریذیڈنٹ کی قانونی پوزیشن کو ایک سفارتکار کی تھی مگر یہ صرف کتابوں میں ہی لکھا ہوا تھا۔ جیسے ہمارے ہاں آئین میں سول بالا دستی لکھی ہوئی ہے۔ بہرحال انگریزوں نے برصغیر کے تمام حصوں پر براہ راست حکمرانی کی بجائے دیسی ریاستیں بھی قائم رہنے دیں اور قانون کے اعتبار سے یہ دیسی حکمران، حکمران ہی تھے مگر ان کے ساتھ اپنا ریذیڈنٹ بھی مقرر کر دیا۔

Read more

شاعر کا رکشہ اور ادھار کا کفن

میرا دوست کراچی کے ایک دلخراش منظر کی منظر کشی کر رہا تھا۔ علامہ اقبال کی کتاب "علم اقتصاد " کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ علامہ اقبال نے معیشت پر تحریر کردہ اپنی کتاب "علم اقتصاد" میں فرمایا تھا کہ "غریبی قویٰ انسانی پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات…

Read more

حمزہ شہباز کے انکار کی قیمت

نواز شریف سے مسئلہ کیا ہے کہ جس کے سبب سے اس کے خلاف اقدامات ذاتی دشمنی سے بھی بڑھ کر کیے جا رہے ہیں۔ جواب صاف ہے کہ وہ ”نہیں“ کہنا جانتا ہے۔ شام کے معاملے میں طاقت سے حکومت گرانے کے رویے کی مخالفت، یمن جنگ میں غیر جانبداری اور دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق کارروائی سی پیک پر ڈٹے رہنا نہیں کہنے کے کھلے مظاہرے تھے مگر اس نہیں کہنے کی قیمت بھی بہت بھاری ہوتی ہے۔ جو کہ نواز شریف صرف خود ہی نہیں بلکہ ان کا خاندان بھی ادا کر رہا ہے۔

حمزہ شہباز کے خلاف تازہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جیلیں، تکلیفیں طاقتوروں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی صورت میں سامنے کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ ڈینیل اور فلپ امریکہ کی تاریخ میں 2 ایسے بھائی ہیں کہ جنہوں نے امریکی ایٹمی اسلحے کے خلاف مہم چلائی اور نہیں کہنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں 100 بار سے زائد گرفتار بھی ہوئے۔ ان دونوں بھائیوں نے 7 دیگر افراد کے ہمراہ 17 مئی 1968 کو کینٹن ولا میری لینڈ میں ویت نام جنگ کی مخالفت میں امریکی ڈرافٹ فائلیں دیسی قسم کے نیپام بم سے جلا ڈالیں۔

Read more

نواز شریف کسی کو ”باپو“ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں

اختلافات کہاں پیدا ہوتے ہیں اور اختلافات ختم کیوں نہیں ہو پاتے۔ سیاسی معاملات میں پوائنٹ آف نو ریٹرن کہاں اور کیوں آ جاتا ہے۔ یہ سوالات اس وقت پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات میں جواب کے منتظر ہیں۔ نواز شریف اس حد تک کیوں چلے گئے کہ عارضہ قلب جیسی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ سخت ترین حالات کا سامنے کرنے کے لئے سینہ سپر نظر آتے ہیں۔ آج اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے ذرا سو سال قبل کی طرف چلتے ہیں۔ لیکن اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ ہر دور کے اپنے حالات ہوتے ہیں اور کسی لیڈر کا کسی دوسرے لیڈر سے تقابل نہیں بنتا اور نہ ہی میں یہ تقابل کرنے لگا ہوں۔

قائد اعظم ؒ کانگریس کے چوٹی کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ اختلاف رائے ممکن تھا مگر کسی کی شخصی پیروی کا تصور کانگریس میں بھی موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ہندوستان کی سیاست میں گاندھی جی کی اینٹری ہوتی ہے اور تلک کی موت کے بعد وہ اہم ترین رہنماء بن جاتے ہیں اور اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اتنی مضبوط کہ اب جو وہ کہیں گے وہی سچ ہو گا۔ کانگریس کے دیگر رہنما ان کی شخصیت کے زیر اثر آ جاتے ہیں مگر قائد اعظمؒ کسی کی مطلق العانیت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ یہاں اسے قائد اعظمؒ اور گاندھی کے اختلافات شروع ہوئے کہ قائد اعظمؒ کسی کو باپو نہیں مانتے تھے۔

Read more

لیون کا قصائی اور نیب

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کا کفن میں لپٹا وجود کیا چند دنوں میں ایک ماضی کے قصے کی مانند رہ جائے گا کہ جن کو یاد کر کے کبھی کبھی کالموں کا پیٹ بھرا جائے گا یا اس واقعہ کی بدولت یہ واضح ہو گیا ہے کہ نیب کا ادارہ اس سرخ نشان کو عبور کر چکا ہے کہ جس کے بعد مستقبل کی تاریخ میں آج کی تاریخ صرف ندامت بن کر زندہ ہو گی کہ جس ندامت کی حیثیت صرف بے حیثیت ہو گی۔ اداروں کو اس انداز میں چلانے اور برقرار رکھنے کے کہ جس کی وجہ سے لوگ خود کشی تک پر مجبور ہو جائیں وقتی طور پر تو طاقتوروں کے لئے طاقت کے اس مظاہرے پر سوائے خوش ہونے اور اس کو اپنی کامیابی قرار دینے کے اور کچھ نہیں ہوتا لیکن حقیقت میں بہت کچھ اور بھی ہوتا ہے۔

جرمنی میں ہٹلر کی حکومت دوسری جنگ عظیم میں وقتی طور پر کامیابیاں سمیٹ رہی تھی۔ فرانس کے وسیع علاقے پر قبضہ کر چکنے کے باوجود فرانس کے شہر لیون میں فرانس کی مقامی آبادی کی مزاحمت بہت زیادہ تھی۔ برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ ان مزاحمت کاروں سے میری اپنی بھی لیون میں ملاقاتیں رہیں اور درد کہانیاں جن پر بیتیں ان سے سنیں۔ اس مزاحمت کو کچلنے کے لئے جرمنی کی اسوقت کی انٹیلی جنس گسٹاپو نے اپنے ایک نوجوان افسر کلازباربی کو 1942 ؁ء میں فرانس بھیجا اور لیون میں گسٹاپو کا سربراہ مقرر کر دیا۔

Read more