لاہور کے چند گھر۔۔۔شاکر علی میوزیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیض گھر دیکھنے کے بعد ہماری اگلی منزل شاکرعلی میوزیم تھی۔ 93 ٹیپو بلاک نیو گارڈن لاہور۔ شاکرعلی کون ہے؟ میں نے بھی یہ نام آج سے چند دن قبل حلقہ احباب پاکستان کے سربراہ اورمیرے مربی ومشفق وقاص جعفری صاحب سے سنا۔ شاید آپ ان کے نام اور کام سے واقف ہوں، میں نے توجس سے بھی پوچھا وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگا۔ شاکر علی (1975۔ 1914)پاکستان کے عظیم آرٹسٹ، پینٹراور استاد تھے انھوں نے نیشنل کالج آف آرٹ میں پڑھایا اور کچھ عرصے تک اس ادارے کے سربراہ بھی رہے۔ بظاہر تو وہ لکیریں کھینچ کر خاکہ بناتے پھر اس میں رنگ بھرتے۔ لیکن ان کا کمال یہ تھا کہ وہ پنسل اور برش کی مدد سے تخیلات کووجود اورانسانی جذبات، دکھ درد، خوشیوں کواظہار فراہم کرتے۔ ماڈل ٹاؤن سے نیو گارڈن ٹاون پہنچنے میں ہمیں کوئی 8، 10منٹ ہی لگے ہوں گے۔ جوں ہی ہم میوزیم کے سامنے گاڑی سے اُترے۔ ایک گارڈ روم سے دوسکیورٹی گارڈ ایک ساتھ برآمد ہوئے، انھوں نے میرا شناختی کارڈ لیا اور ہمیں اندر جانے کی اجازت دی۔

گیٹ سے داخل ہونے سے پہلے ایک نظر اس عمارت پر دوڑائی تو آرٹ کا سب سے بڑا شہکار تو خود یہ عمارت معلوم ہوئی۔ کھینگراینٹ (جلی ہوئی اینٹوں ) سے بنی ہوئی یہ عمارت آس پاس کی عمارتوں سے بالکل مختلف پریوں اورجنات کا ایک تصوراتی قلعہ معلوم ہوتا ہے۔ عمارت میں داخل ہوتے ہی شاکرعلی کی ایک بڑی پورٹریٹ ہے، یہ ان کے کسی شاگرد کے دست ہنرمند کی کاوش ہے۔ شوکیسوں میں موصوف کی ڈگریاں اور ڈپلومے ان کے ذاتی استعمال کی دیگر کئی چیزیں، عینک، گھڑی، ٹوپی، جوتے، وغیرہ رکھی ہیں۔ ہماری رہنمائی کے لیے میوزیم کا ایک اہل کار آگیا ہم نے تصویروں کی اجازت لینی چاہی لیکن انھوں نے کہا تصویروں کی اجازت تعلیمی اداروں کے ان طلبہ کو ہوتی جو سربراہ ادارہ کے اتھارٹی لیٹر کے ساتھ آتے ہیں۔ ہم اس زمرے میں نہیں آسکتے تھے۔ لہٰذاہم نے اپنے مشاہدے اوران کی زبانی معلومات پر اکتفا کیا۔

انھوں نے بتایا کہ“ اس گھر کے لیے خاص طورپر جلی ہوئی اینٹوں کو جمع کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اس گھر کی تعمیر میں 10سال لگے۔ 1964ء میں اس گھر کی تعمیر شروع ہوئی اور 1975ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس میوزیم کا افتتاح شاکر علی مرحوم کی وفات کے بعد 1975ء میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹ (PNCA) کے زیر اہتمام ہوا۔ “گمان غالب یہ ہے کہ صاحب مکان کو اس مکان میں رہنے کا موقع بہت کم ملا۔ مکان کا بڑا حصہ ایک آرٹ گیلری کی شکل میں ہے۔ جہاں چاروں طرف دیواروں پر شاکر علی مرحوم کی پینٹنگ آویزاں کی گئی ہیں۔ ان کی کرسیاں، میزیں، صوفے العرض یہاں ہر چیز اپنے زمانے کے دستور سے بھی مختلف اور منفرد ایک فن پارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گیلری میں شاکر علی مرحوم کے فن پاروں کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کے فن کے نمونے بھی ہیں۔

گائیٖڈہمیں شاکر علی مرحوم کے بیڈروم میں لے گیا۔ سندھی سٹائل کی چادر اوڑھے زمین سے بمشکل تمام ایک فٹ اونچے دو بیڈ، شاکرعلی مرحوم کے کپڑے، استعمال کے برتن، آرٹ اور کرافٹ کے مختلف نمونے رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں بھی دیواروں پر ان کی تصویریں ہیں۔ الماریوں میں البتہ کپڑے، کوٹ وغیرہ زبردستی ٹھنسے ہوئے ہیں۔ گائیڈ، مرحوم کی نجی زندگی کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہنے لگا کہ ”شاکر علی دو بیویوں کے خاوند تھے، دونوں غیر ملکی تھیں اور اولاد کوئی نہیں تھی۔ “

ایک بیسمنٹ بھی ہے جہاں 3739 کتب پر مشتمل ایک لائبریری قائم کی گئی ہے یہاں پینٹنگ کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آرٹ، موسیقی اور اداکاری کی تربیت پر مبنی مختلف پروگرامات بھی ہوتے ہیں۔ بیس منٹ کے علاوہ مکان کے پچھلے حصے کا لان بھی پروگرامات کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔ 40، 45منٹ کے مطالعے ومشاہدے کے بعد ہم واپس جانے لگے۔ باہر نکل کراس شاہ کار عمارت پر الوداعی نگاہ ڈالی پھر گاڑی میں بیٹھ کرروانہ ہوئے۔ میں راستے بھر میں سوچتارہا کہ انسانی زندگی میں آرٹ اورکرافٹ کی افادیت کتنی ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کوئی قابل ذکر کام جنون کی حد تک اپنے کام سے عشق کے بغیر ممکن نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حمید اللہ خٹک کی دیگر تحریریں
حمید اللہ خٹک کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں