کاش عدالت اللہ کے نام پر فیصلہ مؤخر کر دے


 آپ کو اکثر اس کا مشاہدہ ہوا ہو گا۔ کسی بازار میں یا کسی سڑک پر بند سگنل پر یا پھر اپنے ہی گھر کے دروازے پر۔ ایک بے بسی کی تصویر بنا شخص ہاتھ میں ایک گندا سا کاغذ تھامے آپ کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور رقت آمیز انداز میں ایک فریاد شروع کر دیتا ہے۔ ”اللہ کے نام پر میری مدد کریں۔ میری بیوی بیمار ہے۔ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ میری بیٹی جوان ہے۔ میں بے روزگار ہوں۔ آپ کی تھوڑی سی مدد سے میرا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ میں آپ سے کچھ زیادہ نہیں مانگ رہا۔ بس تھوڑی سی مدد کر دیں۔ اللہ آپ کا بھلا کرے گا۔ “

آپ میں سے اکثریت ایسے مناظر سے واقف ہو گی۔ ایسے مواقع پر زیادہ تر لوگ کچھ دے دلا کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے فریادیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایسے مواقع پر ترش رویہ اختیار کریں۔ ایسے مناظر جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ ملک میں ایسے فریادیوں کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے۔

حیرت مگر کل ہوئی جب تقریباً ایسا ہی ایک منظر تقریباً تمام ٹی وی چینلز کی اسکرینوں پر نمودار ہوا۔ اس منظر میں ایک صاحب ہاتھ میں پرچی پکڑے کچھ لوگوں (صحافیوں) کے سامنے کھڑے رقت آمیز آواز میں کچھ ایسا ہی سوال کر رہے تھے۔ ان کا سوال پاکستان میں احتساب عدالت کے منصف سے تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ احتساب عدالت ان پر چلنے والے مقدمے کا فیصلہ اس لیے چند دن کے لیے مؤخر کر دے کیونکہ ان کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ اپنی اہلیہ کی تیمارداری کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہ رہے تھے کہ وہ تین ماہ تک فیصلہ محفوظ رکھنے کی درخواست نہیں کہ رہے بلکہ ان کا مطالبہ صرف چند دن تک فیصلہ محفوظ رکھنے کا ہے یعنی جب تک ان کی اہلیہ کی طبیعت بہتر نہیں ہو جاتی۔

یہ صاحب تھے پاکستان میں تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان رہنے والے میاں محمد نواز شریف جن پر پاکستان میں بدعنوانی اور آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے مقدمات احتساب عدالت میں پچھلے نو ماہ سے چل رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاست پر چھائے ہوئے نواز شریف اس صورت حال تک کیسے پہنچے؟ یہ ایک عبرت ناک داستان ہے۔

اپریل 2016 میں بلائے ناگہانی کی طرح نازل ہونے والے پاناما لیکس نے نواز شریف کے سیاست میں مضبوطی سے جمے ہوئے قدم اکھاڑ دیے۔ ان کے بچوں کے متضاد انٹرویوز میڈیا کی زینت بنے۔ پھر نواز شریف نے خود قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کر دیا۔ بعد ازاں یہی عزم انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھی دوہرایا اور خود عدالت عظمیٰ کو خط لکھ کر کمیشن قائم کرنے کی درخواست کر دی۔

تاہم وقت نے ثابت کیا کہ وہ احتساب میں سنجیدہ نہیں تھے۔ کیونکہ اگر وہ احتساب میں سنجیدہ ہوتے تو قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی میں چھ ماہ سے زائد ٹی او آرز کا تماشہ نہ کھیلا جاتا بلکہ فوری طور پر عدالتی کمیشن کی راہ ہموار کی جاتی۔ لیکن نواز شریف اور ان کی جماعت کی غیر سنجیدگی نے عمران خان اور دیگر کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ پاناما لیکس کا مقدمہ خود عدالت میں لے جائیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔

عدالت نے نواز شریف کو تقریباً پانچ ماہ مسلسل موقع دیا کہ وہ اپنے اوپر لگے الزامات کو دھو ڈالیں مگر نواز شریف اور ان کے خاندان نے ایک کے بعد ایک غلطی کی اور عدالت کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی گمراہ کرنے کی پوری کوشش کی (جس کا حوالہ عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کی پاناما کیس نظر ثانی اپیل کے فیصلے میں دیا ہے)۔ عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی معزز بنچ نے 20 اپریل 2017 کو جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے سامنے 13 سوالات رکھے جن کے جوابات تلاش کرنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا۔

جے آئی ٹی نے مقررہ وقت میں اپنی تفتیش اور تحقیق کے اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کروا دی۔ اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے اس رپورٹ کی روشنی میں مزید سماعت کی۔ یہ سماعت 28 جولائی 2018 کو ان کی پارلیمنٹ سے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی رو سے نا اہلی کی بنیاد بن گئی۔

آمدن سے زائد اثاثوں کا مقدمہ عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالت کو سننے کا حکم دیا جس کے بعد ایک طویل سماعت شروع ہوئی۔ اب اس مقدمے کے پہلے ریفرنس یعنی ایون فیلڈ فلیٹس کے مقدمے کا فیصلہ آج یعنی 6 جولائی 2018 کو سنایا جا رہا ہے۔ نواز شریف اس سے پہلے ہی اپنے خاندان سمیت اپنی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کی علالت کے باعث لندن تشریف لے جا چکے ہیں اور انہوں نے رقت آمیز انداز میں بیگم صاحبہ کی بیماری کا واسطہ دیتے ہوئے احتساب عدالت سے مقدمے کا فیصلہ مؤخر کرنے کی التجا لندن سے ہی کی ہے۔

سیاست میں تاثر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ نواز شریف کی اس التجا نے یہ تاثر پیدا کر دیا ہے جیسے وہ اللہ کے نام پر جھولی پھیلائے مقدمے کا فیصلہ مؤخر کرنے کی فریاد کر رہے ہوں۔ یہ فریاد ایک مضبوط قومی راہ نما کے بجائے ایک بے بس فریادی کا تاثر پیش کرتی ہے۔ ایک ایسا فریادی جو آنے والے قومی انتخابات سے دست برداری کو تیار ہو۔ ایسا فریادی جس کے لیے ملک اور قوم سے زیادہ اس کی اپنی ذات اور اپنے خاندان کی اہمیت ہر چیز سے زیادہ ہے۔ ایسے بے بس فریادی کو خالی ہاتھ لوٹا دینا اچھا نہیں لگتا۔ کاش عدالت اللہ کے نام پر فیصلہ مؤخر کر دے۔


اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad