میرا ووٹ اب نواز شریف کی امانت ہے
جب 1956 میں باڑ نے کھیت کو کھانا شروع کیا تو اس وقت پاکستان میں اصلی اور زمین سے جڑے ہوئے سیاستدانوں کی اک فصل موجود تھی، جن کی اپنی کمیاں، کوتاہیاں اور ساتھ ساتھ میں خوبیاں بھی تھیں۔ تسمے کی نوک سے لکھی گئی تاریخ میں پاکستانی بچوں کو مگر یہ پڑھایا گیا کہ وہ تمام کے تمام بالکل نکمے، کرپٹ، بدکار اور بےکار لوگ تھے۔ یہ الگ بات کہ جس گوادر پر پاکستانی مور کی طرح اپنی دم پھیلائے اتراتے پھرتے ہیں، اسے پاکستان کا حصہ بنانے والا بھی سیاستدانوں کے اسی گروہ سے تھا جن پر پاکستان کو آئین سے محروم رکھنے کا الزام مسلسل لگایا جاتا ہے۔
پڑھنے اور سننے والے، پڑھ اور سن کر اپنی ذہن سازی کر لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوئی کوشش نہیں کرتے کہ 1956 کے محکمہء زراعت کے سب سے پہلے انقلاب سے قبل یہی سیاستدان کتنی مرتبہ اک آئین کی جزیات مرتب کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے اور اعتراضات عام طور پر اختیارات اور ریاست کی ہیئت میں وسائل کی تقسیم کے معاملات پر اٹک جاتے تھے، مگر اس پر، اُس وقت کی سیاسی دانش اک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ جاتی، مگر اقتدار کو اک مسلسل گھومنے والا دروازہ بنا کر رکھا گیا۔ میرے وطن پر تو غلام محمد جیسے مفلوجوں نے بھی فالجانہ حکومت کی اور یقین کیجیے کہ مرحوم کی طاقت کا منبع سیاست دان نہ تھے۔
محکمہءزراعت کے چیف زرعی آفیسر، ایوب خان گجر (گجروں سے معذرت) نے پاکستانی سیاست کو اپنی مرضی کے تابع چلانے کے لیے ایبڈو کا قانون دیا۔ انہوں نے بعد میں خواہ مخواہی بابا بن جانے والے قدرت اللہ شہاب کی مدد سے پاکستان میں شعوری ترویج کے درخت پر پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈریننس سے مسلسل وار کیے اور اک ایسی نسل کی تخلیق کا آغاز کیا جو ہمیں اب بکثرت پاکستان تحریک انصاف میں نظر آتی ہے۔ ایوب گجر صاحب نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے گملے میں پنیری کی طرح اگایا۔ بھٹو مرحوم نے اقتدار میں رہتے ہوئے بلاشبہ بھیانک غلطیاں بھی کیں، مگر ان کا تختہ دار کو چوم لینا ان کی تمام غلطیوں پر بھاری ہے، تاقیامت بھاری رہے گا۔
بھٹو صاحب کے ساڑھے چار سالہ جمہوری دور کے بعد، اگلے چیف زرعی آفیسر، ضیاءالحق ارائیں میرے وطن کی فصل کی باڑ بن کر آئے اور اس اپنے طریقے سے کھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ارائیں صاحب نے پاکستانی سیاست کو نواز شریف صاحب کا تحفہ دیا اور بالکل بھٹو صاحب کی ہی طرح، نواز شریف صاحب بھی چیف زرعی آفیسر، جناب ضیاء الحق ارائیں کے گملے میں ہی بیجے گئے، مگر اپنے سیاسی سفر میں وہ اتنی بار گرائے جا چکے ہیں کہ اب اک بار پھر گرائے جانے کے بعد، ان کا اک بار پھر سے اٹھنا اب سیاسی نہیں، میرے وطن کی سیاسی تہذیب اور تاریخ کے دھارے کا تعین کر سکتا ہے۔ تاریخ کے ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے، مجھے تاریخ کے دھارے کے آگے بڑھنے کا انتظار ہے۔
میری پیدائش 1972 کی ہے، اور موجودہ تماشہ میں اپنی زندگی میں کتنی مرتبہ دیکھ چکا ہوں، اک فہرست آپ سب کی نذر ہے دوستو:
۔ 1977 میں چیف زرعی آفیسر، ضیاءالحق ارائیں صاحب تشریف لائے۔ گیارہ سال رہے۔
۔ 1988 میں چیف زرعی آفیسر، ضیاءالحق ارائیں صاحب نے جونیجو مرحوم کی اسمبلی برخاست کی۔
۔ 1990 میں محترمہ بی بی شہید کو گھر بھیجا گیا۔ گھر بھیجنے سے قبل ان پر کئی پارلیمانی وار بھی کیے گئے اور یہ وار کرنے میں ایم کیو ایم پیش پیش رہی تھی۔
۔ 1993 میں میاں نواز شریف صاحب کو گھر بھیجا گیا۔
۔ 1997 میں اک بار پھر محترمہ بی بی شہید کی حکومت کو برخاست کر دیا گیا۔
۔ 1999 میں میاں نواز شریف صاحب کے خلاف، نئے چیف زرعی آفیسر، پرویز مشرف جٹ (جٹوں سے معذرت) نے باڑ لگا کر فصل کھا لی۔
۔ 2004 میں میر ظفراللہ خان جمالی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے بعد چوہدری شجاعت وزیر اعظم بنے اور پھر تاحال کے مفرور، شوکت عزیز صاحب کو وزیراعظم بنایا گیا۔
۔ 2012 میں یوسف رضا گیلانی صاحب کی حکومت کو فارغ کیا گیا۔
۔ 2017 میں نواز شریف صاحب کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔
یہ تو صرف حکومتوں کی برطرفی کی تواریخ ہیں۔ ان کے درمیان میں چیف زرعی افسران اور ان کے ساتھ ملے ہوئے پنچایتی بابوں نے ان چیف زرعی افسران کے اشارہء ابرو پر آئین اور قانون میں مسلسل تبدیلیوں کی اک لہر چلائے رکھی اور اس میں ان دونوں کو پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے پاکبازوں کا بھی بھرپور تعاون مہیا رہا کرتا تھا۔
اور ہاں، ان تمام حکومتوں کو برخاست کرنے کا الزام صرف ایک ہی تھا: کرپشن!
دنیا میں کوئی بھی جمہوری حکومت پرفیکٹ نہیں ہوتی۔ وہ غلطیاں کرتی ہے اور اگر وہ غلطیاں عوام کی سیاسی برداشت سے باہر کی ہوں تو عوام انہیں نکال باہر کرتے ہیں، بصورت دیگر چلنے والی جماعتوں کو ہی حق حکومت سازی دیتے ہوئے اپنی ریاست کو ترقی اور بہتری کے سفر پر چلائے جاتے ہیں۔ اس سے ہی ملکوں اور ریاستوں کا دنیا میں مقام بلند ہوتا ہے۔ آج ہمارا مقام کیا ہے؟ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہمارا نام ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے۔
آخر میں کہنا یہ ہے کہ میں میاں نواز شریف صاحب کا حامی نہیں، مگر بطور اک سیاسی شہری، میں یہ سمجھتا ہوں کہ سانپ سیڑھی کا یہ کھیل میں بہت دیکھ چکا ہوں اور اب تھک اور اکتا گیا ہوں۔ میرے تھک یا اکتا جانے سے ریاست کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہاں مگر، مجھے ضرور پڑتا ہے۔ اپنی تھکن کے آخری مرحلہ میں، میں شاید اپنا آخری ووٹ میاں نواز شریف صاحب کو اپنے وطن کی امانت سمجھ کر لوٹاؤں گا، اور پھر اس کے بعد یہ دیکھوں گا کہ اگر میرے ووٹ کی کوئی عزت ہے تو 1993 سے جاری یہ سلسلہ مرتے دم تک جاری رکھوں گا۔ بصورت دیگر، باڑ جانے، فصل جانے۔
پسِ تحریر: استاد بوتل کے بقول، دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم کے حالیہ انقلابی، ایبڈو اور پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کو پاکستان کے تناظر میں گوگل کر لیں۔


