کیا نواز شریف نے کارگل مہم جوئی کی اجازت دی؟
پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سینئر افسروں کے درمیان اتفاق رائے تھا کہ انڈیا کی طرف سے نئے محاذ کھولے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے ان کی رائے کیوں نہیں لی گئی جبکہ کوئی بھی دفاعی پلان جس میں انڈیا کی طرف سے جوابی حملے کا اندیشہ ہو اس کے لئے ملک کی تینوں فورسز کا اجتماعی اور مربوط ڈیفنس پلان ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح تنقید کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا ۔ پاک فضائیہ کے ڈپٹی ائر چیف حیران تھے اور ان کا سوال تھا: ’’آخر اس تمام الابلا سے ہمیں حاصل کیا ہو گا؟‘‘۔ چیف آف جنرل سٹاف عزیز کا جواب تھا کہ جب انڈیا کی بڑی شاہراہ این ایچ۔ ون (NH-1) پر دباؤ پڑے گا تو انڈیا مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور ہو جائے گا۔
اس اجلاس میں محکمہ خارجہ کے سینئر افسروں نے وارننگ دی کہ اس آپریشن کا دفاع کرنا، گلوبل فورموں پر ممکن نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ میں ہمارے ایڈیشنل سیکرٹری ریاض محمد خان نے واشگاف الفاظ میں کہا: ’’اگر یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لایا گیا تو ہماری پوزیشن کمزور ہو گی۔ چین، سیکیورٹی کونسل کے دوسرے اراکین کے ساتھ مل کر یہی کہے گا کہ پاکستان کو وہ علاقے خالی کر دینے چاہیں جو مقبوضہ کشمیر میں ایل او سی کے پار واقع ہیں۔ سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے اس جنگ کے پھیل جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے شرکائے اجلاس کو بتایا: ’’میں اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ انڈیا بین الاقوامی بارڈر پر حملہ نہیں کرے گا۔ ‘‘ فارن سیکرٹری نے 1965ء سے پہلے آپریشن جبرالٹر کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اس وقت بھی کلیدی ملٹری اور سویلین افسروں نے ضمانت دی تھی کہ انڈیا بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کرے گا۔ لیکن پُرعزم آرمی چیف نے ان شکوک و شبہات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا: ’’ہم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کر سکتے ہیں‘‘۔ ایک جنرل صاحب نے یہ بھی کہا: ’’ہم کچھ بھی کہتے رہیں انڈیا کے خلاف ہماری دشمنی دائمی ہے‘‘۔
وہ سفارت کار جو مسئلہ کشمیر پر اداراتی مباحث سے آگاہ تھے انہوں نے اس بات پر اپنے شکوک کا اظہار کیا کہ یہ مسئلہ اگر سلامتی کونسل میں چلا گیا تو اس سے ہمیں کچھ فائدہ ہوگا۔ کہنہ مشق سفارت کار ریاض محمد خان نے بھی صاف صاف الفاظ میں کہا: ’’اگر اس آپریشن کو اقوام متحدہ میں لایا گیا تو ہماری پوزیشن بے اساس ہوگی۔ ‘‘ بین الاقوامی برادری میں لائن آف کنٹرول کے تقدس کا لحاظ نہ رکھنے پر ہم پر پہلے ہی تنقید ہوتی رہی ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں جب مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں بحث کی گئی تھی تو ان دونوں مواقع پر فیصلہ جنگ بندی پر ہوا تھا، مسئلہ کشمیر پر نہیں۔ کارگل تنازعے کا سوال بھی اگر سیکیورٹی کونسل میں گیا تو پاکستان کو واپسی کا کہا جائے گا اور انڈیا ایل او سی پر دفاعی انتظامات مزید مضبوط بنالے گا۔ دوسری طرف آرمی کا اصرار تھا کہ لائن آف کنٹرول کی حد بندی مبہم اور غیر واضح ہے اور کئی مقامات پر مجاہدین آج بھی انڈین آرمی سے برسرِ پیکار ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ایک آفیسر نے جب یہ پوچھا کہ مجاہدین، پوری طرح مسلح انڈین آرمی سے کیسے لڑ سکتے ہیں تو آرمی کے ترجمان رشید قریشی کا جواب تھا: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈین ٹروپس میدانوں کے باسی ہیں اور ان میں برفانی آب و ہوا کے شدائد برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں۔ یہاں آکر وہ جلد مر جاتے ہیں۔ ‘‘
اجلاس ختم ہوا تو تین وزراء، سرتاج عزیز، مجید ملک اور راجہ ظفر الحق، سرتاج عزیز کے آفس میں اکٹھے ہوئے اور DCC کے اجلاس کا پوسٹ مارٹم کرنے لگے۔ ان تینوں تجربہ کار حضرات میں یہ احساس پایا جاتا تھا کہ اس آپریشن سے بہت سی خطرناک فوجی اور سفارتی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ لیکن یہ بھی کہا کہ ٹروپس کی اچانک واپسی بھی کوئی آپشن نہیں، بلکہ آرمی جو اپنی کامیابی کا اعلان کر رہی ہے اس کے کارگل طائفے (Clique) سے کون کہے گا کہ واپس آ جاؤ۔ ۔ ۔ بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟۔ ۔ ۔ تاہم راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آپریشن کوہ پیما میں جو خامیاں یا کمزوریاں پائی جائیں ان کو دور کیا جانا ضروری ہے۔ کوہ پیما کے منصوبہ ساز ہماری سفارشات سے یہ مطلب بھی نکالیں گے کہ یہ آپریشن جاری رکھنے کا اشارہ ہے۔ اگر آپریشن کوہ پیما فیل ہو گیا تو ناکامی کا بوجھ سویلین حکومت پر آئے گا اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ یہی ہوگا کہ آرمی ٹیک اوور کر لے گی!
چنانچہ تینوں سینئر وزراء نے ان خدشات کو محسوس کرتے ہوئے وزیر اعظم کے اس فیصلے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا کہ آئندہ آپریشن کوہ پیما کے متعلق بحریہ اور فضائیہ کو بھی آن بورڈ رکھا جائے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



