کیا نواز شریف نے کارگل مہم جوئی کی اجازت دی؟


انہی ایام میں پاکستان کی ملٹری انٹلی جنس(MI) بھی فعال ہوگئی۔ اس کے ڈی جی ،میجر جنرل احسان الحق نے مغربی ممالک کے تمام ملٹری اتاشیوں کو GHQ آنے کی دعوت دی اور آپریشن کوہ پیما پر ایک بریفنگ کا اہتمام کیا۔ یہ بریفنگ DGMI اور DGMO نے مل کر دی۔ آخر میں سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا۔ یہ دفاعی اتاشی بریفنگ کے بعد جب GHQ سے رخصت ہوئے تو ان کی سمجھ میں یہی بات آئی کہ بریفنگ دینے والے دونوں سینئر فوجی افسروں نے تسلیم کیا ہے کہ اس آپریشن میں مجاہدین نہیں، بلکہ پاک آرمی کے ٹروپس شامل ہیں۔ اِن دفاعی اتاشیوں نے بشمول امریکہ اور برطانیہ کے دفاعی اتاشیوں کے، اپنے اپنے سفارت خانوں اور آرمی ہیڈ کوارٹروں کو مطلع کیا کہ یہ لڑائی دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی علاقے میں ہورہی ہے۔ تاہم فیڈرل حکومت نے پبلک میں یہی تاثر دیا کہ اس میں صرف مجاہدین حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن میڈیا کے وہ لوگ کہ جن کا بیک گراؤنڈ مغربی سفارت کاری کا حامل تھا انہوں نے رپورٹنگ کی کہ پاکستان کے ڈی جی ملٹری انٹلی جنس نے تسلیم کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جو لڑائی ہورہی ہے اس میں پاک آرمی کے ٹروپس شامل ہیں اور لڑائی ایل او سی پر بھارتی علاقے میں ہو رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ اس وقت اسلام آباد میں ہمارے جو سفارتکار پوسٹ تھے ان کو بھی کچھ معلوم نہ تھا کہ لائن آف کنٹرول پر یہ ہنگامہ کیا ہے۔ وہ لوگ بھی اندھیرے میں تھے۔

ملٹری انٹلی جنس کی اس بریفنگ کے بعد پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں متعین ملٹری اتاشی نے اپنے سفیر، ولیم میلام (William Milam) کو آکر بتایا کہ لڑائی تو ایل او سی کی انڈین سمت میں ہورہی ہے۔ اس وقت تک امریکی اطلاعات یہ تھیں کہ لائن آف کنٹرول پر صرف مجاہدین لڑائی میں مصروف ہیں اور آرمی ٹروپس نہیں۔ اس ملٹری اتاشی نے بریفنگ اٹنڈ کرنے کے بعد اِدھر اُدھر سے مزید خبریں اکٹھی کیں اور پاکستانی ملٹری اتاشی سے بھی بات کی اور مزید خبریں حاصل کیں جبکہ امریکی سفارت خانے کے سیاسی اتاشی نے بھی ریٹائرڈ ملٹری آفسروں سے ملاقاتیں کیں اور جب ان باتوں کی تصدیق ہوگئی کہ یہ مجاہدین نہیں بلکہ پاک آرمی کے ٹروپس ہیں جنہوں نے ایل او سی کراس کی ہے تو یہ سفارتکار خاصے مضطرب ہوئے اور یہ ساری اطلاعات واشنگٹن پہنچائیں۔ چنانچہ امریکی وزارتِ خارجہ کی طرف سے پہلا بیان آیا کہ پاکستان اپنے ٹروپس واپس بلائے۔

اس بیان کے آنے پر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق الطاف نے امریکی سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور پوچھا کہ واشنگٹن نے پاکستان پر یہ الزام کیوں لگایا ہے کہ یہ لڑائی ایل او سی کے اس پار بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لڑی جارہی ہے؟ امریکی سفیر نے ان کو بتایا کہ خود پاکستان آرمی نے یہ اطلاع دی ہے۔ جب طارق الطاف نے میلام کا یہ جواب سنا تو ہکا بکارہ گئے اور ان کا چہرہ اتر گیا۔

اس الطاف۔ میلام گفتگو کے بعد وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے ڈی جی ملٹری انٹلی جنس سے بات کی اور اس ’’پھڈے‘‘ کی شکائت کی اور پوچھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟َ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی بریفنگ کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود سفارتی حلقوں میں پاکستانی ٹروپس کی ایل او سی کے پار موجودگی اور امریکی دفاعی اتاشی کی یہ خبر متواتر گردش میں رہی۔

مئی 1999ء کے اواخر میں پرائم منسٹر نے فیصلہ کیا کہ آپریشن کوہ پیما پر کابینہ کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کابینہ کا ایک اجلاس بلایا اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ سے کہا کہ وہ اس آپریشن پر بریفنگ دیں۔ اس میں سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد اور سیکرٹری دفاع افتخار بھی موجود تھے۔ ڈی جی آئی ایس آئی ویسے تو پہلے وزیراعظم کے سامنے اپنی نجی ملاقاتوں میں آپریشن کوہ پیما پر تنقید کرتے رہتے تھے لیکن اس اجلاس میں انہوں نے آپریشن کی چیدہ چیدہ تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے مجاہدین کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ یہ آپریشن تسلی بخش طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس آپریشن پر اپنا ذاتی تجزیہ پیش نہ کیا۔ یہی حال سیکرٹری خارجہ کا بھی تھا۔ وہ بھی اپنی پہلی ملاقاتوں میں آپریشن کوہ پیما پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ لیکن اس اجلاس میں ان کو اس آپریشن میں کوئی منفی بات نظر نہ آئی۔ انہوں نے اس طرف بھی بالکل کوئی اشارہ نہ کیا کہ اس آپریشن میں پاکستان کے لئے سفارتی نقصانات کابھی کوئی امکان ہے بلکہ بجائے اس کے یہ فرمانے لگے کہ اس آپریشن سے ملک کو کئی فوائد حاصل ہوں گے!

جنرل بٹ کی بریفنگ کے بعد سخت سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ حاضرین کی اکثریت خوش تھی کہ آپریشن کوہ پیما تسلی بخش طور سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بجلی اور پانی کے وزیر گوہر ایوب نے اس ’’عظیم کارنامے‘‘ پر آرمی کی تعریف کی اور آپریشن کی تائید پر اصرار کیا۔ وزیر ثقافت شیخ رشید احمد نے بھی آرمی کی تعریف کی جبکہ وزیر مذہبی امور نے فرمایا: ’’جہاد کرنے کے لئے یہی بہترین وقت ہے!‘‘ دوسری طرف اس آپریشن کے نقاد بھی موجود تھے۔ ان میں مواصلات کے وزیر راجہ نادر پرویز اور صحت کے وزیر مخدوم جاوید ہاشمی شامل تھے۔ سب سے زیادہ سخت نقاد سیکرٹری دفاع تھے جو 20 منٹ تک بولتے رہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ ’’جہاد‘‘ کو پاکستان کے دفاع میں مرکزی عنصر کے طور پر کیوں سمجھ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’کیا وجہ ہے کہ ہم نے آزادی کے 52 برس بعد اب جا کر جہاد کی اہمیت کا احساس کیا ہے‘‘۔ سیکرٹری دفاع کے بھائی چودھری نثار علی خان نے بھی کئی سخت سوال اٹھائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق پاکستان کارگل۔ دراس سیکٹر میں شکستِ فاش کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان فوجی افسروں نے جو بریفنگ دے رہے تھے ان سے نثار نے براہ راست پوچھا : ’’اس آپریشن کا حکم کس نے دیا تھا؟‘‘ لیکن نثار کا یہ انتباہ اب اس آپریشن کے بارے میں ہو رہا تھا جو بروئے عمل لایا جا رہا تھا اور جاری تھا۔

اس کے بعد بعض پاور فل شخصیات کے مابین باہمی ’’تُو تُو میں میں‘‘شروع ہو گئی۔ ڈیفنس سیکرٹری کے خطاب کے بعد گوہر ایوب جو کافی برہم تھے انہوں نے پوچھا : ’’سیکرٹری دفاع، آرمی چیف کے پلان کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ اور شیخ رشید نے بھی سوال کیا کہ ’’سیکرٹری دفاع ان ’’رازوں‘‘ کا انکشاف اب کیوں کر رہے ہیں؟‘‘  اس جھک جھک پر وزیراعظم نے اجلاس ختم کر دیا اور کابینہ کے اس اجلاس میں جن لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا ،کارگل کے منصوبہ سازوں نے ان کو بالکل درخوراعتناء نہ جانا۔

(محترمہ نسیم زہرا کی کتاب "کارگل سے فوجی بغاوت تک” حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ یہاں اس کتاب کے کچھ اہم اقتباسات دیے گئے ہیں۔ اردو ترجمے کے لئے "ہم سب” لیفٹنیٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان کا شکرگزار ہے)

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4