اڈیالہ جیل سے ایک خط۔۔۔۔
آپ کو معلوم ہے میں کن حالات میں لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں اپنی بستر مرگ پر پڑی اہلیہ کو دونوں بیٹوں کی ذمہ داری پر بڑے بوجھل دل کے ساتھ اپنی بیٹی کے ہمراہ وطن واپس آیا، مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ میرے ساتھیوں نے بھرپور طریقے سے استقبال کرنے کا عزم کیا، افسوس کہ نگرانوں نے اپنی نگرانی ثابت کرنے کیلئے آپ کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ اور آپ کو نہ صرف حراست میں لیا بلکہ کئی مقامات پر شدید مزاحمت بھی کرنا پڑی۔ میرے شیرو ! میں جانتا ہوں آپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہو، اور یہی جذبہ مجھے آپ سے دور نہیں ہونے دے رہا، میں نے پاکستان آکر جیل جانے کا فیصلہ بھی اسی بنا پر کیا ہے۔
لندن سے اڈیالہ کا فیصلہ آسان نہ تھا۔ مجھے کس جرم کی سزا دی جارہی ہے کم ازکم آپ جانتے ہیں۔
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی لاہور والے میرا حصار میرا قلعہ ہیں، پوری دینا یہی کہتی ہے مگر لوہاری گیٹ سے ائیرپورٹ تک آنے میں آپ کو اتنا وقت لگ گیا۔ میری پرواز بھی پراسرار طور پر دو گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی اس سب کے باوجود مجھے بتایا گیا کہ ائیرپورٹ کی حدود کے قریب مشاہد اللہ خان اور چند لیگی کارکن موجود ہیں۔
لندن میں ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر جو کچھ ہوا میرا دل اس پر بھی خون کے آنسو رویا کیونکہ چند کھلاڑیوں نے وہاں آکر ادھم مچایا مگر ہمارے متوالے نہ جانے کہاں تھے جنہوں نے یہ سب ہونے دیا۔
چلو وہ تو دیار غیر تھا وہاں کے قوانین بھی حائل ہوجاتے ہیں، میرے نواسے نے غیرت کا مظاہرہ کیا اور انہیں منہ توڑ جواب دیا جس پر اسے کچھ دیر کیلئے حوالات جانا پڑا۔ لیکن پاکستان میں ہم ان سب حالات کے عادی ہیں، لاہور میں لگائی جانے والی رکاوٹیں کوئی نئی نہیں تھیں، راستوں سے نہ صرف آپ بلکہ دوسرے شہروں کے کارکن بھی بخوبی واقف ہیں پھر بھی اتنی کم تعداد میں نکلے ابھی تو آپ لوگ الیکشن مہم میں بھی امیدواروں کے ساتھ نکلتے ہو یا نہیں۔
مجھے اپنے امیدواروں سے بھی بے حد مایوسی ہوئی جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ گرفتاریوں کے خوف سے چھپ گئے، اگر انہیں گرفتار کرلیا جاتا تو کیا الیکشن کے بعد رہائی ملنا تھی۔
لوہاری سے ریلی کو نکالنے میں اتنی تاخیر ابھی تک کسی نے وجہ نہیں بتائی، یہ بھی معلوم ہوا کہ ریلی جب چلی تو نہ صرف ہائی کورٹ کے حکم پر کارکنوں کو رہا کردیا گیا بلکہ روٹ پر کھڑے کنٹینر بھی ہٹا دیئے گئے تھے، ہماری پرواز دو گھنٹے تاخیر کے باوجود 8 بج کر 40 منٹ پر لاہور پہنچ گئی مگر لوہاری سے چلنے والی ریلی جس میں مجھے کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے کہ شہباز صاحب اور چند لیڈروں کے سوا کوئی خاطر خواہ بڑا نام نہیں تھا اور کارکن بھی بہت بڑی تعداد میں نہ تھے، پھر بھی ریلی اس وقت تین کلومیٹر کے فاصلے پر ریگل اور چیئرنگ کراس بھی کراس نہ کرپائی۔
دوستو، ساتھیو! ایک طرف میرا عزم دیکھیں دوسری جانب یہ سب ۔ ہم نے کیا پیغام پہنچایا، کتنا شور مچائیں گے کہ ہمیں روکا گیا گرفتار کرلیا، جنہیں نہیں کیا گیا وہ کتنے آئے۔ مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ ائیرپورٹ پر آپ سے خطاب کی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے اور طیارے میں ہی آکر اپنی کارروائی مکمل کرلیں گے جیسا کہ ان لوگوں نے کیا ظاہر یہ ان کی ڈیوٹی تھی۔ مگر آپ کو گھروں سے نکالنے اور لانے کی ذمہ داری جن کی تھی وہ شاید اپنی ڈیوٹی نبھا نہ سکے۔
مریم مجھے حوصلہ دیتی رہی اور حکومت کی پابندیوں کا بتاتی رہی، لیکن میں اپنے دکھی دل کو نہ سمجھا سکا۔ میں کتنے مان سے نکلا تھا۔
مجھے یاد آگیا جب اتنے سخت مارشل لا میں جب میں وزیراعلیٰ پنجاب تھا پیپلزپارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو 1986 میں لاہور ائیر پورٹ اتریں تو پابندیوں کے باوجود لاکھوں افراد جمع ہوگئے، جنرل مشرف کے دور میں 2007 میں لاہور آمد پر بھی میرا شاندار استقبال ہوا تھا۔ لیکن 13 جولائی کا دن جیسے دل پر بوجھ بن گیا۔ مجھے تعداد کم ہونے کا بھی افسوس نہیں لیکن آٹھ نو گھنٹے بعد بھی دھرم پورہ تک ریلی پہنچی جب تک ہمیں اگلے طیارے میں بٹھاکر اسلام آباد لے جایا گیا اور پھر وہاں سے اڈیالہ بھی منتقل کردیا۔
کاش یہ میرا وہم ہو کہ میری قیادت مجھ سے غافل ہوگئی ہے یا پابندیوں سختیوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہے۔ اگر انہوں نے دل میں ڈر بٹھا لیا ہے تو پھر آنے والے دن کوئی اتنے اچھے نہیں ۔ میرے بازو بننے کیلئے انہیں یہ سب دل سے نکالنا ہوگا۔ ورنہ وہ مجھے بھی کمزور کریں گے اور خود بھی حالات کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
امید ہے آپ سب اور قیادت بھی میری بات سمجھ گئی ہوگی۔
مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا غم نہیں
مجھے خوف آتش گل سے ہے، یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
خیراندیش
محمدنوازشریف
(حال مقیم اڈیالہ جیل)


