سات منٹ تک میرا دل بند رہا لیکن جسم سے باہر ہو کے بھی میں سب کچھ دیکھ رہا تھا

برطانیہ کی مشہور رائل شیکسپئیر کمپنی کے لئے کام کرنے والے اداکار شوگریوال اپنی زندگی کے ایک حیرتناک باب کا احوال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک فرانسیسی ریستوران میں کھانا کھا رہا تھا اور خود کو بہت ہی خوش محسوس کر رہا تھا۔ گھر واپسی پر اچانک میری طبیعت بوجھل ہونے لگی۔ اچانک مجھے شدید ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا، اور یہ آخری چیز تھی جو مجھے یاد ہے۔ اس کے بعد دنیا سے میرا رابطہ منقطع ہو گیا۔ اب میں خود کو کسی اور دنیا میں محسوس کر رہا تھا۔ میں خود کو اپنے جسم سے الگ محسوس کر رہا تھا۔ میری اہلیہ مدد کے چلا رہی تھی اور میں اس کی آواز سن رہا تھا۔ مجھے ہسپتال لے جایا گیا اور میرے دل کی دھڑکن بحال کرنے کی کوشش کی جانے لگی، اور میں یہ سب کچھ بھی دیکھ رہا تھا۔ ان لوگوں کے لئے میں ہوش و حواس سے عاری ہو چکا تھا لیکن میں اپنے اردگرد کا سب منظر دیکھ رہا تھا۔ یہ ایک عجیب کیفیت تھی۔ میرے سامنے زندگی اور موت، پچھلی دنیا اور اس کے آگے کی کوئی دنیا، یہ سب کیفیات موجود تھیں اور میں ان کے درمیاں معلق تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ پچھلی دنیا کو چھوڑ چکا ہوں لیکن مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ ابھی میں اگلی دنیا میں نہیں جا رہا۔ اس وقت میں شدت سے واپس آنا چاہ رہا تھا اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید ابھی آگے جانے کا میرا وقت نہیں آیا تھا۔ نجانے کب تک میں ان لطیف کیفیات میں رہا لیکن پھر یہ سب کچھ دھندلانے لگا اور میں واپس اسی دنیا میں آ گیا جہاں سے ’رخصت‘ ہوا تھا۔ ‘‘
شوگریوال کو ہوش میں آنے پر بتایا گیا کہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد سات منٹ تک اس کا دل بند رہا تھا، گویا وہ موت جیسی ہی کیفیت میں تھا۔ اس کے بعد بھی وہ ایک ماہ تک کومے کی کیفیت میں رہا تھا، یعنی وہ اتنے عرصے کے لئے دنیا سے بے خبر رہا، لیکن یہ ڈاکٹروں کا خیال ہے۔ شوگریوال کا کہنا ہے کہ وہ اس تمام عرصے کی کیفیات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اس نے اپنے حیرتناک سفر کے دوران جو کچھ دیکھا اسے تصاویر کی شکل میں بیان کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس نے اپنی ناقابل بیان کیفیات کو تصاویر کے قالب میں ڈھالا ہے۔ لندن کے سینکٹم ہوٹل میں 15 اگست سے 24 ستمبر تک ان تصاویر کی نمائش کی جا رہی ہے۔
Facebook Comments HS

