قید سے باہر آنے کے بعد پرنس ولید بن طلال کے خیالات میں ڈرامائی تبدیلی

میل آن لائن کے مطابق پرنس ولید بن طلال نے اپنی قید اور اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ بد سلوکی پر غم و غصے کا اظہار کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بغلگیر ہو کر مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بہت زور دار انداز میں یہ اعلان کیا ہے وہ سعودی ولی عہد کی جانب سے مملکت میں کی جانے والی اصلاحات کے سب سے بڑے حامی ہیں۔
قید سے رہائی کے بعد پرنس ولید بن طلال پہلی بار کھل کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’اپنے بھائی عالی جاہ ولی عہد کے ساتھ ملاقات میرے لیے باعث عزت ہے، جس میں اقتصادی معاملات اور پرائیویٹ سیکٹر شعبے کے کردار اور مستقبل پر بات کی گئی۔کنگڈم کے ایچ سی اور اس کے متعلقہ اداروں کے ذریعے میں وژن 2030کا سب سے بڑا حامی ہوں۔ ‘‘
یاد رہے کہ وژن 2030ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا انتہائی اہم قرار دیا جانے والا اقتصادی و سماجی پراجیکٹ ہے جس کامقصد ایک جانب سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے آزاد کرنا اور دوسری جانب سعودی معاشرے کو قدامت پسندی سے نکال کر نئے دورے میں داخل کرنا ہے۔


