منظورپشتین کا نعرہ مقبول کیوں ہو رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ عام انتخابات کا آغاز ہی بہت ہنگامہ خیزہے جس میں اب تک کئی خونیں واقعات ظہور پزیر ہو چکے ہیں۔ پشاور میں ایک خود کش حملے میں ہارون بلور کی شہادت، اس کے بعد بلوچستان میں نواب زادہ سراج رئیسانی کے انتخابی جلسے پر حملہ جس میں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہوگئے۔ اس طرح اسی دن بنوں میں پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ پر جان لیوا حملہ جس میں وہ محفوظ رہے لیکن ان تین دہشت گردانہ حملوں نے دو سو سے زیادہ گھر اُجاڑ دئیے۔ جمعہ کے روز سابق وزیراعظم کی اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ لندن سے واپسی اور اپنے محبوب رہنماؤں کے استقبال کے لئے جانے والے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے راستوں میں رکاوٹیں، ان پر لاٹھی چارج اور گرفتاریاں ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھیں جیسے وطن عزیز میں جمہوری اقدار کی بجائے مارشل لائی قوانین کا دور دورہ ہو۔

اس وقت وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتیں کام کر رہی ہیں اور بظاہر ان کا کوئی سیاسی ایجنڈہ بھی نہیں ہے، ان کی ذمہ داری بس یہی ہے کہ وہ نئی جمہوری حکومت کے قیام تک انتظامی امور سنبھالے رکھیں اور پر امن اور غیر متنازعہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں لیکن موجودہ حالات میں ان کی کارکردگی سے یوں لگتا ہے جیسے وہ خود بھی کسی مخصوص سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں اور وہ اس پوری صورت حال میں ایک فریق بن چکی ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مین سٹریم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نواز شریف اور ان کی بیٹی کا بعض معاملوں میں بلیک آؤٹ نہیں کیا جاتا۔ مثلاً لندن سے واپسی پر عاصمہ شیرازی نے نواز شریف کا جو انٹرویو لیا تھا، اسے نشر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس طرح معروف کالم نگار خورشید ندیم صاحب کے دو کالموں کی اشاعت اخبار میں روکنا اس اَمر کی غمازی کرتا ہے کہ کوئی بہت ہی طاقت ور ادارہ ان انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح سینئیر صحافی اور اینکر پرسن طلعت حسین نے 13 جولائی کو (ن) لیگ کی ریلی کے دوران ریکارڈ کیا جانے والا پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ جیو نیوز پر نشر نہ ہونے پر اسے جاری رکھنے سے انکار کردیا ہے۔ اس پروگرام میں مستونگ کے دہشت گرد حملے اور شہری و سیاسی آزادیوں کے معاملات کا تجزیہ بھی کیا گیا تھا۔ یقیناً متعلقہ نیوز چینل اور دوسرے نیوز چینلز کے لئے آزادئ اظہار کی حدود کا مخصوص تعین کیا گیا ہے۔

ایک جمہوری سیٹ اَپ میں غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے سے موجودہ عام انتخابات کے نتائج کو اس کے انعقاد سے قبل ہی مشکوک بنایا جا رہا ہے۔ جب موجودہ انتخابات کے ذریعے ایک منتخب جمہوری حکومت برسر اقتدار آئے گی تو کیا اپوزیشن کی جماعتیں اسے تسلیم کریں گی؟ اور کیا وہ اس کے خلاف احتجاجی دھرنوں کا راستہ اختیار نہیں کریں گی؟ جس پارٹی کے لئے یہ ساری جوڑ توڑ ہو رہی ہے، اس کے چئیرمین نے خود ہی وطن عزیز میں ایسے دھرنوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اگر وہ وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو وہی دھرنے اب ان کے خلاف بھی استعمال ہوں گے۔ وہ عوام کے سامنے اگر یہ وضاحت کریں گے کہ ان کے نئے پاکستان بنانے میں دھرنے رکاوٹ بن رہے ہیں تو عوام ان کی اس وضاحت کو تسلیم نہیں کریں گے کیوں کہ انھوں نے بھی تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو دل جمعی سے کام نہیں کرنے دیا تھا۔ یوں انتخابات کے بعد قومی سطح پر جو ممکنہ منظر نامہ اُبھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اس کے تحت ملک شدید سیاسی بحران کا شکار ہوگا اور غیر جمہوری قوتیں یہی تو چاہتی ہیں کہ ملک میں جمہوری ادارے مضبوط نہ ہوں اور سیاسی استحکام قائم نہ ہو تاکہ سیاست دان گڈ گورننس کا مظاہرہ نہ کرسکیں اور یوں بہ وقت ضرورت وہ اپنی من مانیاں کرتی رہیں۔

یہ درست ہے کہ نواز شریف نے بدعنوانی کی ہو گی، قوم کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک منتقل کیا ہوگا لیکن بدعنوانی صرف نواز شریف نے کی ہے؟ کیا پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اپنی حکومت میں لوٹ مار نہیں کی تھی؟ کیا منتخب جمہوری حکومتوں کی حلیف جماعتوں نے اس بہتی گنگا میں یکساں غوطے نہیں لگائے ہیں؟ کتنے بیورو کریٹس ہیں جنھوں نے قوم کا پیسہ لوٹا ہے؟ کیا مالی بدعنوانیاں صرف سول حکومتیں کرتی رہی ہیں؟ فوجی جرنیل دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟ کتنے اعلیٰ فوجی افسروں پر کرپشن ثابت ہوتی رہی ہے لیکن انھیں کتنی سزائیں دی گئی ہیں؟ ہمارے فوجی سربراہان تو ریٹائرمنٹ کے بعد بیوی بچوں سمیت بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں اور ان کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور اثاثوں کی کوئی چھان بین نہیں کی جاتی۔ احتساب اگر کرنا ہے تو سب کا یکساں کرنا ہوگا۔ لیکن پاکستان میں کسی انقلاب کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں کیوں کہ جو طاقت ور ادارے سب کا احتساب کرسکتے ہیں، وہ خود کرپشن کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوئے ہیں۔ یہ جو بدعنوانی کے الزام میں سیاست دان گرفتار ہوتے ہیں، ان سے ابھی تک کسی نے قوم کا ایک دھیلا بھی واپس نہیں لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر ڈاکٹر عاصم کو 462 ارب روپے کی بد عنوانی کے الزام کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن طبی وجوہات کی بنا پر انھیں 25، 25 لاکھ کے دو مچلکے بطور زر ضمانت جمع کرانے پر 19 ماہ بعد رہا کردیا گیا تھا۔ چوں کہ طاقت ور ادارے خود بھی اس طرح کی مالی بد عنوانیوں میں ملوث ہیں، اس لئے وہ سیاست دانوں کو ان کے کالے کرتوت پر کیفر کردار تک پہنچانے میں غیرمعمولی جرأت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ ملک میں بد عنوانیوں کے خلاف کوئی ایسا مضوط نظام وضع نہ کیا جاسکے جس کے بعد سیاست دانوں کے لئے مالی بد عنوانیاں کرنا مشکل ہوجائے کیوں کہ ضرورت کے وقت ان کی ان ہی کمزوریوں کو ان کے خلاف استعمال کیا جانا مقصود ہوتا ہے۔

یہ درست ہے کہ سیاست دان ملک و قوم کے مسائل اور مشکلات ختم کرنے میں ناکام چلے آ رہے ہیں لیکن ہم یہ بھی دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ جس جمہوری حکومت کو عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے اقتدار کی ذمہ داری سونپ دیتے ہیں، ان کو فری ہینڈ نہیں دیا جاتا۔ ان کے سامنے سرخ لکیر کھینچ دی جاتی ہے کہ اس لکیر کو پار کرنے کی صورت میں ناخوش گوار نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ کوئی جمہوری حکومت جب اپنی عوامی طاقت کے زعم میں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا کر تنازعات ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے یا داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے قومی مفاد میں کوئی بڑا قدم اٹھانا چاہتی ہے تو پھر طاقت کے اصل مراکز میں ہلچل مچ جاتی ہے اور خفیہ ہاتھ حرکت میں آجاتا ہے۔ یا تو براہ راست قدم اٹھایا جاتا ہے یا عمران خان اور کینیڈا کے مولوی طاہر القادری جیسے لوگوں کے ذریعے منتخب حکومت کے لئے دھرنوں کی صورت میں غیرمعمولی مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف ہمارے سکیورٹی اداروں نے جو حکمت عملی وضع کی تھی، اس کے نتیجے میں سابق قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں بے گناہ انسانوں کا بے تحاشا خون بہایا گیا۔ سوات جیسے پرامن وادی میں انسانی المیوں کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ سابق قبائلی علاقوں میں سکیورٹی اداروں کی بد اعتدالیوں کی وجہ سے پختون تحفظ موومنٹ وجود میں آگئی جس نے اپنے جلسوں میں کھلم کھلا ایسے نعرے بلند کئے جن کی وجہ سے سکیورٹی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مشکوک ہو گئیں اور عوام میں ان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔ پختون تحفظ موومنٹ کے حساس الزامات پر مبنی نعروں سے قریباً ہر سیاسی جماعت نے برأت کا اظہار کیا تھا اور انھیں نامناسب قرار دیا تھا لیکن اس وقت ملک میں دہشت گردی کی جو نئی لہر پیدا ہوئی ہے، اس کے ردِعمل میں وہی نعرے اب عوامی نیشنل پارٹی کے ورکرز لگا رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور کے جنازے کے دوارن یہی نعرے گونجتے رہے۔ کئی دوسرے مقامات پر بھی اس دہشت گردی کے خلاف ہونے والے احتجاج میں ان نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی اور اب نواز شریف کے خلاف کئے گئے فیصلوں میں طاقت ور ادارے کی مبینہ پشت پناہی نے بھی گزشتہ جمعہ کے دن مسلم لیگ کے کارکنوں کو اس نعرے کی راہ دکھائی۔ اہل پنجاب ہمیشہ سے فوج کے ساتھ غیر مشروط طور پر کھڑے رہے ہیں لیکن طاقت ور ادارے کی ہر معاملے میں مسلسل مداخلت نے لوگوں کے ذہنوں میں اس کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کئے ہیں اور یہ قومی سلامتی کے لئے کوئی نیک فال نہیں ہے۔

وقت بدل چکا ہے۔ عوام میں سیاسی اور سماجی شعور تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے بہت سی انہونیوں کو ہونی میں بدل دیا ہے لیکن ہمارے ملک کے اصل مقتدرین نے اپنی روش تبدیل کرنے کی ضرورت اب بھی محسوس نہیں کی ہے۔ پہلے میڈیا کنٹرولڈ تھا اور بہت سے معاملات پر پردے ڈالنا آسان تھا لیکن آج کے جدید سوشل میڈیا کے دور میں کسی معاملے کو چھپانا یا اسے وسیع تر قومی مفاد کی دھند میں لپیٹنا ممکن نہیں رہا ہے۔ حب الوطنی پر کسی واحد ادارے کی اجارہ داری اب عوام کو منظور نہیں۔ نئی نسل حقائق کھوجنے میں بہت تیز ہے۔ وہ حالات اور واقعات کی کڑیاں ملا کر اصل نتائج نکالنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہے۔ اس لئے وہ پالیسیاں جو ملک میں دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن رہی ہیں یا جن کی وجہ سے ہمارے اپنے دوست ممالک بھی ہم سے نالاں نظر آتے ہیں، انھیں فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ خود ساختہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں کا پردہ چاک ہوچکا ہے۔ تزویراتی گہرائی جیسی پالیسیوں اور پراکسی جنگوں کے ذریعے ملک کے دفاع کا تصور دَم توڑ چکا ہے۔ ملکی سلامتی کے لئے فراست، تدبر اور صداقت پر مبنی پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے، ورنہ دہشت گردی کے خلاف ہماری کارروائیوں پر جس طرح عالمی سطح پر یقین نہیں کیا جاتا، اسی طرح اب اگر دہشت گردی کا کوئی واقعہ ملک میں رونما ہوجاتا ہے تو عوام اپنے غصے اور اشتعال کا اظہار پختون تحفظ موومنٹ کے وضع کردہ نعروں کی صورت میں کریں گے۔ کیوں کہ سکیورٹی اداروں کی مسلسل ناکامی اور ہر روز بڑی تعداد میں بے گناہ لوگوں کی لاشوں کا گرنا ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ اگر کسی کو یقین نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری قربانیوں کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں مل رہی ہے تو اسے نان کو اَپریٹیو کنٹریز یا ٹیریٹریز (NCCTs) کے حالیہ فیصلے پر غور کرنا چاہئے جس کے تحت پاکستان کو گرے لسٹ میں اس لئے شامل کرلیا گیا ہے کہ اس تنظیم کے ممبر ممالک کا خیال ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر فنڈنگ کی جاتی ہے۔ گرے لسٹ میں شامل کرنا محض ایک تنبیہ ہوتی ہے کہ متعلقہ ملک منی لانڈرنگ سے متعلق جی سیون اور ایف اے ٹی ایف کے 37 ممالک کو مطمئن کریں اور دہشت گرد تنظیموں کو کی جانے والی فنڈنگ کو روکیں ورنہ اگلا مرحلہ بلیک لسٹ ہونے کا ہے جس کے منفی نتائج پاکستان جیسا معاشی طور پر کمزور اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ملک برداشت نہیں کرسکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •