یہ رہا دوپٹہ، کھینچ لیجیے

اس خاموشی میں ایک اور آواز گونجی، میڈم لوگ پہچان لیں تو تنگ کرتے ہیں باتیں بناتے ہیں، علاقے والے بھی اور یہ سڑکوں کے لوفر لوگ بھی۔ مجھے پڑھنے کا شوق ہے، مجبوراً مجھے چہرہ چھپانا پڑتا ہے۔ کبھی یہ دوپٹے کا رنگ بدلتی ہوں کبھی عبایا۔ کیا کریں گھر سے ہی اتنی باتیں سن کر نکلتے ہیں ہمت ختم ہو جاتی ہے باہر والی باتوں کی۔ بچنے کا یہی طریقہ ہے نہ کوئی پہچانے نہ بات ہو لیکن پھر بھی بچت کہاں ہوتی ہے بھلا۔ اس نے بس ایک سرد آہ بھری اور خاموش ہو گئی۔
لوگ باتیں کرتے ہیں، باتیں بناتے ہیں، پہچان لیں تو پریشان کرتے ہیں، آوازیں کستے ہیں، جملہ بازی معمول ہے۔ اپنے شعور، عقیدے اور ذوق کے مطابق مناسب لباس کی آزادی ہر فرد کا حق ہے لیکن معاشرے کے لوگ بہرحال یہ حق دینے پہ تیار نہیں ہیں۔
کسی نے کمانا ہے، کسی نے تعلیم حاصل کرنی ہے، سب اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہیں اور کسی نہ کسی طور اسکی گنجائش پیدا کر رہی ہیں۔ ایسے میں اکثر لوگ ’مادر پدر آزاد‘ معاشرہ بننے سے روکنے کی کوشش میں دن رات مگن ہیں۔ کبھی عورت کو سیپی میں بند موتی سے تشبیہہ دیتے ہیں تو کبھی کاغذ میں لپٹی ٹافی سے وہ اصل میں کتنے افسردہ ہوں جب انہیں یہ احساس ہو کہ بہت سی خواتین یہ اس لیے کر رہی ہیں کہ انہیں کسی الوہی روایت نے نہیں بلکہ معاشرے پہ ان کی بداعتمادی نے مجبور کر رکھا ہے۔ یہ ایک عورت کا کھلم کھلا اظہار ہے کہ لوگ پہچانتے ہیں تو تنگ کرتے ہیں اس لیے میں اپنی مرضی کے برخلاف ایسا کرتی ہوں تاکہ ان سے بچی رہوں۔ اور کیا بچت ہو جاتی ہے؟ اب میں اس کا جواب نہیں دے رہی اتنی تو ہر ذی شعور شخص کی عقل بھی کام کرتی ہو گی۔
ارے نہیں صاحب! یہ کہانی میری نہیں ہے، یہ ان کی ہے جو آپکے خیال میں آپ کی روایات کی پاسداری کر رہی ہیں۔ ناگوار ہی گزرے گی بات لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ روایات کے نام پہ جبر کرتے ہیں۔ حضرت اوریا نے تازہ پروگرام میں خواتین کو جلسے میں جانے سے روکنے کی حمایت کی کہ عورت کا کام گھر سنبھالنا ہے بچے کو دودھ پلانا ہے، مخلوط اجتماع کی اجازت نہیں اور پھر اویس صاحب کے سوال پہ برہم بھی ہو گئے۔ جناب نعیم الحق اور عزت مآب رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ یہ لباس کا انتخاب ہے جو فروغ دیتا ہے بد نظری و بد عملی کو۔ بھلا ایسا لباس بھی کوئی پہنتا ہے۔ میں کچھ نہیں کہتی بس اتنا پوچھتی ہوں یہ آئے روز جو پانچ چھ سالہ، دس سالہ بچیوں سے زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں تو آخر ایک کم سن کا لباس بھی ایسا کیا نامناسب ہو گا جو دعوتِ گناہ دے رہا ہے؟ اگر برا منائے بغیر وضاحت کر دیں اور لباس بتا دیں تو آسانی ہو جائے گی کہ پھر ہم خود کو محفوظ رکھ پائیں گے۔ اوریا صاحب سے ظاہر ہے ہم سوال نہیں کرتے کہ انہوں نے تو صاف کہہ دیا جس کی شادی نہیں ہوئی وہ شادی کی تیاری کرے اور جو شادی شدہ ہیں وہ بچے سنبھالیں کہ آخر سیاست مرد کا کام ہے۔ افسوس کہ فاطمہ جناح، رعنا لیاقت اور بیگم شاہنواز حیات نہیں ورنہ اوریا صاحب پہ کیا گزرتی، نعیم الحق اور رانا ثناء اللہ انکے لباس کے انتخاب پہ شکوہ کناں رہتے، اور جلسے جلوس میں ان کی شرکت پہ پابندی لگ جاتی۔
تحریکِ انصاف کے سات مئی ۲۰۱۳ کے جلسے میں کچھ لوگ ہمیں دیکھ کر بھی بےقابو ہوگئے کہ شاید انہیں زندگی میں پہلی بار عورت نامی جانور دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اس سے پہلے کہ ہمارا ہاتھ اٹھتا کچھ رضاکار آ کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اور آخر تک وہاں موجود رہے کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ لیکن کیا ایسا صرف تحریکِ انصاف کے جلسوں میں ہوتا ہے؟ رکیے رکیے یہ جو اوپر کچھ خواتین کے اور ہمارے ذاتی تجربات ہیں ان کی روشنی میں تو ہمیں یہی دکھائی دیا کہ ایسا تو ہر گلی کوچے میں ہوتا ہے۔ کوئی دوپٹہ کھینچے، کوئی کندھے ٹکرائے، کوئی جملے کسے، یہ تو صاحب اس معاشرے میں گھر سے باہر آنے کی قیمت ہے جو ہر عورت کو ادا پڑتی ہے۔ عورتیں ہیں کہ پھر بھی باز نہیں آتی۔ نہ تعلیم حاصل کرنے سے رکتی ہیں، نہ جلسے جلوس میں جانے سے، نہ بازار جانے سے۔
ایسے میں آپ کا کام کیا ہے؟ اگر تو آپ ایک وحشی درندے ہیں جو عورت دیکھتے ہی بے قابو ہو جائیں تو پھر یہ ہم نہیں بلکہ آپ ہیں جسے قید کرنا چاہیے اور آپکے دماغ کے فتور کو درست کرنے کی ترکیب درکار ہے۔ لیکن اگر آپ انسان ہیں تو صاحب آپ سے گزارش ہے اس دنیا پہ ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کا ہے، عورت کو لباس سے لے کر طرزِ زندگی تک آپ کی رائے درکار نہیں ہے، اسے خود فیصلہ کرنے دیں اس نے گھر میں رہنا ہے یا باہر نکلنا ہے۔ سیاست ہو یا معاشرت عورت کے بغیر سب نامکمل ہے۔ آپ آخر ہوتے کون ہیں کسی کے لباس، اسکے انتخاب، اسکے طرزِ زندگی پہ فیصلہ سنانے والے؟
آپ انسان بن کے رہیں اور اپنے جذبات کو لگام دیں ورنہ ہماری جیسی بے لگام زبانیں یونہی بولتی رہیں گی کہ صاحب جو گھر سے باہر آئے، دفتر جائے یا جلسے میں، اسکول کالج جائے یا بازار اسے دیکھ کر اپنے اوپر قابو رکھیں اور یہ ذرا اپنے ساتھ بیٹھے صاحب سے کہیں کہ بس اب نظرِ کرم بہت ہوئی کسی اور طرف بھی نگاہ کر لیں۔ کیا ساری اخلاقیات خواتین کو سکھائی جائیں گی ؟ کچھ آپ بھی سیکھ لیں۔
آپ اس بات کو آج تسلیم کر لیں تو اچھا ہے کہ فرد کی آزادی ایک حقیقت ہے، فیصلہ اسی عورت کو کرنے دیں کہ وہ کیسے جینا چاہتی ہے، کیا اوڑھنا پہننا چاہتی ہے،ویسے اگر نہ بھی کریں تو ہم کونسا اختلاف پہ گولی مار دیں گے۔
آپ عمران خان ہیں، خواتین آپکے جلسے میں آتی ہیں، آپکو ووٹ دینے والوں میں ہم بھی شامل ہیں، تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ چلیں کم از کم یہاں تو کچھ نامناسب نہ ہو، اگر ہو رہا ہے تو اس کا حل بہتر انتظامات میں ہے خواتین کو روکنے میں نہیں۔
آپ عمران شاہ ہیں، آپکے دفتر میں چار خواتین کام کرتی ہیں، انکے
لیے مناسب ماحول کی فراہمی آپ کی ذمہ داری ہے۔
آپ عمران قریشی ہیں، آپ کے تعلیمی ادارے میں کسی لڑکی کے ساتھ بد تہذیبی ہو تو اس کی فریاد سننا اور مجرم کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری ہے کہ آئندہ ایسے کام نہ ہوں۔
لیکن اگر آپ عمران لوفر ہیں تو چلیں یہ رہا دوپٹہ۔ ۔ ۔ ۔ کھینچ لیجیے۔


بہت عمدہ۔۔۔جیتی رہیں?
We need nursing to become a normal career option. It is pathetic that Pakistan is a country that has highest maternal and fetal mortality rate in the entire world. ?
سر بازار چلتی لڑکیوں کو چھیڑنے والے لڑکے کیا آسمان سے اترے ہیں یا انہیں بھی کسی خاتون نے جنم دیا، پالا پوسا، جوان کیا اور سڑکوں پہ بھیج دیا کہ جاؤ جو بھی ملے اس کی عزت تار تار کرو ۔۔۔ وہ عورتیں کون ہیں، کن گھروں میں رہتی ہیں، جن کے سپوت یہ کارہائے نمایاں کرتے ہیں۔ کبھی ان عورتوں کو بھی نمایاں کیجئے۔ چور سے پہلے چور کی ماں کو پکڑئیے تاکہ چور پیدا ہونے بند ہوں۔ صرف چوروں پر تبرا بازی سے کام نہیں چلے گا
The last line is heart-wrenching.
Remarkable
with due respect… kia hamre muashare me kuch acha nae hai jo me parh sakooon.. her jaga negativeity hbari batein , articles,news etc. pls koi positive bat kro i guarnte k me amal kru ga.. shukriya
واہ زبردست انتہائی شاندار۔۔۔۔ کاش کہ دل میں اتر جائے "تیری” بات
کیا کہوں میں. معاشرہ وحسی درندوں کا بن گیا ہے. مذہبیت. انتہاپاندی, وحشیت اور درندگی ہی آخری منزل ہو گئی ہے. اب تو سب سے زیادہ حیوانیت پڑها لکها معاشرہ ہے جو اتنا وحشی ہو گیا ہے کہ بس عورت جہاں ملے ہاتهہ لگوا دو اور اپنئ سمارٹ فونز سے ویڈیو بهی کرو. صیح کہا تها الطاف حسین نے کہ پاکستان کا بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تهی
بھارت میں حالات پاکستان سے بھی برے ہیں۔ دہلی کو تو ریپ کیپیٹل آف دا ورلڈ کہا جاتا ہے۔ پاکستان بننے سے ہماری بچت ہی ہوئی ہے۔
میڈیا استاد ہے ہماری سوچوں کو غلیظ بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہاہے سماج میں نظر آنے والا بگاڑ اسی کی مرہون منت ہے
کیا خوب لکھا ہے آپ نے معاشرے کی بحت اچھی تصویرکھنچی ھے ناجانے یہ لوگ کب سدھریں گے کاش کے یہ سب بگڑے لوگ آپکی تحریریں پڑھ لیں آپکے نیک جذبات اورہمارے دل کی آوازان تک پہنچے
سلامت رہیے بہت عمدہ تحریر ہے۔ آپ نے جن معزز خواتین کے نام لکھے ہیں اوریا جان کے بڑے، جو علمائے اسلام کہلاتے تھے، انہیں بھرے جلسوں میں غلیظ گالیاں نکالا کرتے تھے۔
Mashallah.
اوریا نے بھی یہی کہا تھا کہ عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کارکنوں کو تہذیب کی تلقین کرے اور اپنے جلسوں میں عورتوں کی شرکت کے انتظامات بہتر بنائے ۔
تعریف کرنے والوں کا شکریہ
تنقید کرنے والوں کا ہزار بار شکریہ
comment aa e ni rha.ban tou ni karwa dia aap nay
Allah muaf kray g aj tou talkhi kutch ziada hi thee.tehreer mai bayikhtyrai bhi ziada thee k jaisay nurse kay sath mukalma tha acha laga.wesay bat ghlat ap ki bhi ni mgar phainknay wali bat orya sb ki bhi ni.aik ghutan zada muashray mai jisay jo mayasar ho ga wou uska faida uthaay ga.ab yay jo khawateen mard hazraat sy flirt aur sab krti hain mehrbani farma kar un pay bhi kutch ho jaay. bayrahravi aur ikhlaqyat say giri harktain kya sirf mardon main hain.last days aik izat maab mohtrama ny jo apnay taluqat-e-amma py social media py dhoom machai hy uss py b ho jaay.mazrat k sath wou bhi kya haqooq-e-niswaan mai ata hy aur aam hona chahiyay
Aap khawateen ki izat sar ankhon par , wou nurse meray liay aik hero ka darja rakhti hy uss py awaz kasnay walay py hazar ……but wou jo PTI k peshawar jalsay main aayee uss pay b tabsra farma dain plz.wesay ajkul yy auntiyaan tv py kum nazar aati hain any updat
بہت اچھا لکھا ہے ۔ معاشرے کی اس انتہائی بگھڑی ہوئی حالت کی نشاندہی کے لیے بندہ پہلے بھی خامہ فرسائی کرچکا ہے ۔ میرے خیال میں درندہ صفت بداخلاق انسانوں کے معاشرے میں سدھار آنے تک خواتین کو اپنی حفاظت خود ہی کرنی چاہیے ۔ عمران خان کے جلسے میں اگر یہ سب کچھ ہوتا ہے اور بار بار ہوتا آرہاہے تو اس کا علاج تو عمران خان کو سوچنا ہوگا مگر شرکت سے اس وقت تک گریز خواتین کو ہی کرنا چاہیے جب تک مکمل تحفظ یقینی نہیں ہوجاتا۔
فرد کی آزادی ایک حقیقت ہے. پڑھ کر بہت ہنسی آئی۔
Very imressive article. Perhaps I am the same animal you addressed thanks for giving me new direction to think.
dunia walo yani k saqlain sahab khwateeen flirt kr rahi hein to khuda aapko un sy mehfooz rakhy, kuch aap bhe likh dein sara kuch hum sab ny he to nahe likhna,,,daawat e aam hy.aaayen or hmein apni tehreer k zareay apny masayel sy roshnaas karaeay..
lo g hun banda gal v na karay.Ramish bibi kya krain k na waqt hy na shauq aur sb sy barh kay ap jaisa talent hi ni keh likh skain.humain tou ap ki tehreer psand hy so parh bhi letay hain aur comment bhi kar detay hain.jahan itnay saron ki awaz banti hain hmari bhi bun jaya karain
"یہ رہا دوپٹہ۔ ۔ ۔ ۔ کھینچ لیجیے”
I am speechless on this sentence, Crying inside.
Fatima! Kion likhti ho aisa jo sochney se zyada roney pe majboor kar dey.
کیوں نا یہی دوپٹہ چھیننے والے کے گلے میں ڈال کر اُسے سڑک پر گھسیٹا جائے، اٹھو! اپنے دوپٹوں کو ان لوگوں کے گلوں کا پھندا بنا دو جو اسے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
رامش فاطمہ، خوش رہیں، اپنا دھیان رکھیں اور اسے طرح بیباک لکھتی رہیں ۔
haazir hy yay aik link inka dopata kiss nay khaincha hy.
https://www.facebook.com/TrollerKaPage/photos/a.400586106712070.1073741828.400580470045967/836612956442714/?type=3&theater