دانشورو! عوام کو عزت دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان اور تحریک انصاف کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اورفوج کا الزام لگانے والے دانشور درحقیقت ہم عوام کی توہین کر رہے ہیں۔ کیا ان دانشوروں نے عوام کو جاہل اور پاگل سمجھا ہوا ہے۔ کیا ہم کو نظر نہیں آتا پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ نے سندھ کا کیا حال کیا ہے جہاں بھوک سے بچے مر رہے ہیں؟ اندرون سندھ میں وڈیرے جو اپنے علاقے میں خدا بنے بیٹھے ہیں۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی جماعت نے تینوں چیزیں عوام سے چھین لی۔ سندھ کو پاکستان کا پسماندہ ترین صوبہ بنا دیا، بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگا لگا کر ۔

کیا ہم عوام کو نہیں پتہ کہ ن لیگ نے بنیادی سہولیات عوام کو دینے کے بجائے اربوں ڈالر کا قرضہ لیکر زیادہ خود کھایا اور باقی میٹرو،اورنج لائن ٹرین پر لگایا تاکہ نام بھی ہو جائے اور کمیشن بھی کھایا جا سکے۔ پنجاب پولیس کو گلو بٹ بنا دیا تاکہ مخالفین کو جب چاہے مروایا جاسکے جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی جا سکے۔ پولیس کی کارکردگی چھوٹو گینگ سے لگا سکتے ہیں

اور 10 معصوم کلیاں قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہو جاتی ہیں لیکن حکام بالا کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی اور جب زینب کا واقعہ میڈیا پر آتا ہے تو گلو بٹ پولیس حرکت میں آتی ہے۔ ورنہ اس واقعہ سے پہلے پولیس مدثر نامی نوجوان کو باقی بچیوں کے ریپ کیس میں ملزم بنا کر مار چکی ہوتی ہے جبکہ بعد ملزم عمران کا ڈی این اے باقی کیسوں سے بھی میچ ہو جاتا۔ مدثر جیسے بے گناہ لوگ ہر روز ن لیگ کی سیاسی پولیس کے ہاتھوں مرتے جعلی پولیس مقابلوں میں۔

اور اب ہم عوام جب ان تمام حقائق کو جانتے ہوئے،برداشت کرتے ہوئے عمران خان کی تحریک انصاف کی ذات،برادری سے نکل کر حمایت کر رہے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کا طعنہ دے کر ہماری توہین کی جا رہی ہے۔ میں خود اپنے حلقے میں اپنی برادری کے بندے کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو ووٹ دے رہا ہوں جو کہ ہماری برادری کا نہیں۔ مجھے تو کسی اسٹیبلشمنٹ کے بندے نے نہیں کہا اپنی برادری چھوڑنے کو اور مجھ جیسے کئی ہیں جن کو جانتا ہوں میں۔
باقی جو لوگ تحریک انصاف کے ساتھ ملے ہیں کیا یہ دانشور نہیں جانتے کہ ہر الیکشن میں یہ لوگ پارٹیاں تبدیل کرتے آئے ہیں۔ اب تحریک انصاف میں آگئے تو حیرانی کیسی۔
نواز شریف کے خلاف دو سال کیس چلنے کے بعد جب وہ اک ثبوت بھی پیش نہ کرسکا اور سزا ہوگئ تو اس کے پیچھے بھی اسٹیبلشمنٹ یعنی نواز شریف دودھ کا دھلا ہوا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے سزا کروائی۔
ان دانشوروں سے گزارش ہے، سارا علم آپ لوگوں پر نازل نہیں ہوا یا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صرف آپ لوگوں کے پاس نہیں۔ اک مڈل کلاس شخص جس کو نوکری نہیں ملتی، جس کے والدین کا علاج نہیں ہوتا، جو جھوٹی ایف آئی آر پر پولیس کی مار کھا چکا ہے، وہ شخص آپ لوگوں سے بہتر جانتا ہے ن لیگ اور پیپلزپارٹی گورنمنٹ کے ثمرات کو۔
اب جب عوام کی اکثریت دو پارٹیوں جان چھڑا کر عمران خان اور تحریک انصاف کو آگے لانا چاہتی ہے، تو ہماری پسند کے پیچھے بھی اسٹیبلشمنٹ نظر آجاتی ہے۔
تو دانشورو! ہمارا ووٹ تحریک انصاف کے لئے ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور فوج کی حمایت کا طعنہ دے کر ہماری اور ہمارے ووٹ کی توہین نہ کرو۔
اپنی دانشوری اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھو۔ کیوں کہ تم میں سے اکثر نے کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر تک نہ کیا ہوگا۔ باقی مسائل تو دور کی بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •