زبان……
’’کیا آپ میرے منہ میں ایک نئی زبان لگا سکتے ہیں؟‘‘
میں نے پلاسٹک سرجن سے فرمایش کی۔
’’کیوں نہیں! کوے کی زبان لگوا لیجیے۔
اس سے آپ سارا دن شور مچا سکتے ہیں۔‘‘
سرجن نے کہا۔
’’کوئی اور آپشن؟‘‘
’’جی ہاں، ڈوگی کی لمبی زبان موجود ہے۔
جی چاہے بھونکیں، جی چاہے جوتے چاٹتے رہیں۔‘‘
’’کوئی اور آپشن؟‘‘
’’کوبرا کی دو شاخہ زبان بھی دستیاب ہے۔
اس سے آپ دوسروں کو ڈس سکتے ہیں۔‘‘
’’مجھے یہی زبان چاہئے۔‘‘
میں نے فیصلہ سنایا۔
’’آپ اسے کہاں استعمال کریں گے؟‘‘
سرجن نے دریافت کیا۔
میں نے بتایا،
’’اپنے انتخابی جلسوں میں۔‘‘
(بشکریہ روزنامہ جنگ)


