جمہوریت پسند کیا کر رہے ہیں


وطن پاک میں جمہوریت پر آج پھر مشکل وقت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان دیکھی قوتیں سیاسی قوتوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کے درپے ہیں۔ مستونگ اور پشاور دھماکوں میں شہادتیں معمولی واقعات نہیں ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ دہشت گردی کا تسلسل ہے تو یہ بات ہضم ہونے والی نہیں ہے۔ یہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔ منصوبہ بندی کے ساتھ انتخابی امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاص مقاصد کے حصول کے لئے خون کی ہولی کھیلی گئی ہے۔ ہونیوالے حملے خاص طرز کے ہیں۔ جس پر اظہار افسوس اور تعزیت کی جا رہی ہے۔

عام شہری بھی شہید ہونے والوں کے لئے دعا مغفرت کے ساتھ اظہار افسوس کر رہے ہیں۔ مگر کیسی بھی جانب سے سخت مذمت اور غم و غصے کا اظہار اس طرح سے دکھائی نہیں دے رہا ہے جتنے بڑے سانحات ہیں۔ یوں لگتا ہے۔ جیسے معمول کے واقعات ہوں۔ اس کو اجتماعی بے حسی کہا جائے یا کچھ اور سمجھا جائے۔ جمہوری پراسیس کولہو لہو کرنے سمیت وطن کے مستقبل کو تباہ و برباد کرنے کی گھناونی سازش کے پچھے ہاتھ کیا بیس کروڑ عوام، ریاست اور ریاستی طاقت سے زیادہ بڑے ہیں۔

اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو اس کا مطلب ہے ہم اقلیت کے یرغمالی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا آپس میں اتحاد اور ہم آہنگی نہیں ہے۔ دشمن جس کا فائدہ اٹھا کر ہمیں مزید تباہی سے دوچار کرنے کی چال چل رہا ہے۔ ہم ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچنے کے کھیل میں اوروں کاشکار بنتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے ماضی کو دیکھیں اور خود پسندی کی عینک اتار کا تجزیہ کریں اور سوچیں کہ ہم نے کیا حاصل کیا اور کیا کھویا تو ہمیں اپنا، اپنے ملک کا نقصان زیادہ اور فائدہ بہت معمولی نظر آئے گا۔ اس کے باوجود ابھی تک ہم بڑے نہیں ہوئے ہیں۔ بار بار وہی کھیل رچا لیتے ہیں جس سے ملک و قوم کو ہمیشہ نقصان ہوا ہے۔ سازش ہمیشہ وہاں کامیاب ہوتی ہے۔ یہاں گھر کے بھیدی شریک سازش ہوتے ہیں۔ سازشی عناصر ہمیشہ وہاں سر اٹھاتے ہیں۔ یہاں گھر والے آپس میں نا اتفاقی یا انارکی کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ بم دھماکے، خود کش حملے، بدعنوانی، کرپشن، نا انصافی، رسہ گیری، اجارہ داریاں ریاست کی کمزوری کی علامات ہیں۔ سیاسی، سماجی اور دیگر بیماریوں کیخلاف ریاستی قوت مدافعت دم توڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ صورتحال خوف ناک ہے۔ ساری بیماریوں کے لئے تریاق جمہوریت ہے۔ جو ہم نے کبھی تریاق نہیں سمجھی بلکہ اس تریاق کی شیشی کو بار بار توڑ کراپنے ساتھ ہی دشمنی کی ہے۔ ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم ماضی دہرا رہے ہیں۔ پلیز رک جائیں۔ ملک و قوم کے ساتھ کھلواڑ بند کریں۔ انتخابی ڈرامہ بند کریں۔ انتخاب کرانے والی نگران حکومت پر ایک جماعت کے سوا تمام سیاسی جماعتیں عدم اعتماد کر رہی ہیں۔ نگرانوں کی غیرجانبداری مشکوک ہو چکی ہے۔ انتخابی نتائج ناقابل اعتبار ہوں گے۔

جب سیاسی قوتیں انتخابی نتائج تسلیم نہیں کریں گی توایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔ جس سے ملک وقوم مزید مشکلات سے دوچار ہوں گے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کو ملتوی کرکے قومی کمیشن تشکیل دیا جائے۔ جس میں عسکری، عدالتی اور سیاسی جماعتوں کی نمائندگی سمیت ملکی اقلیتوں کوبھی شامل کیا جائے۔ قومی کمیشن کے لئے قواعد و ضوابط اور معیار مقرر کیا جائے۔ قومی کمیشن اگلے تین ماہ میں صاف و شفاف انتخاب کرانے کا روڈ میپ دے اورفریم ورک تیار کرے۔ قومی کمیشن کے روڈ میپ کے مطابق نئی نگران حکومت تشکیل دی جائے۔ الیکشن کمیشن قومی کمیشن کی سفارشات کے مطابق انتخابی عمل مکمل کرے۔

بالا دست طبقات پاکستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا ادراک کریں۔ سیاسی قوتوں کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ نیا بیانیہ مرتب کرکے آگے بڑھا جائے۔ حالات و واقعات ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم حالات کو مزید بگڑنے نہ دیں۔ جمہوریت پسند قوتوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ملک وقوم کواس بحران سے نکالنے کے لئے دوقدم آگے بڑھ کراپنا کردار ادا کریں۔ اگر آج جمہوریت پسند قوتوں نے بھی حالات سے سمجھوتہ کرلیا اور محض اقتدار کے لالچ میں غیر جمہوری قوتوں کی ہا ں میں ہاں ملاتے رہے تو پھر ملک وقوم کے ساتھ یہ گھناونا کھیل کھیلا جاتا رہے گا۔ جمہوریت پسندوں کو اب بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت پسند کدھر ہیں۔ کیا کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS