طلاق سے حلالے تک: کیا قرآن میں حلالے کا ذکر ہے؟
اب اگر وہ ان تمام امور کا جائزہ لے لے تو اپنی بیوی کو صرف ایک طلاق دے دے اورچھوڑدے، عدت گزرجائے گی اور اس کی بیوی اس سے علیحدہ ہوجائے گی۔ اگر وہ صرف اور صرف اتنا ہی چاہتا ہے کہ اپنی بیوی سے الگ ہونا چاہتا ہے تواس کے لیے طلاق کا اتنا پروسس بہت کافی ہے۔ اور اگر خدا نخواستہ اسے اپنی بیوی کو سزادینا مقصود ہے، یا سسرال والوں سے جھگڑوں کا غصہ اس پر اتارنا مقصود ہے، یا کسی اور قسم کی ناراضی کے تحت وہ ایسا کررہا ہے تو وہ گناہ گار ہوگا اور خدا کی نظر میں ظالم تصور کیا جائے گا۔
بدقسمتی سے ہمارے سماج میں ، خاص کر ہندوستان میں کوئی ایسا سسٹم موجود نہیں ہے جو ایسے شخص کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر سکے۔ اسے قرار واقعی سزا دلا سکے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ فرض کرلیں کہ اسے اس بات کا غصہ ہے کہ اس کی بیوی اپنے ساتھ اتنا جہیز نہیں لائی جتنا کہ اس نے توقع کی تھی اور وہ اسی وجہ سے اسے طلاق دینا چاہتا ہے تو اس کے گناہ گار ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ اگر ہم جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ طلاق کی کئی وجوہات ایسی بھی ہوتی ہیں۔
اس صورت میں یعنی ایک طلاق دینے کی صورت میں اس کے پاس سہولت کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔ وہ دروازہ یہ ہے کہ اگر بعد میں کسی وقت اسے اپنے عمل پر پشیمانی ہو اور وہ اپنی سابق بیوی کو ایک بار پھر سے اپنی زوجیت میں لینا چاہے اور وہ بھی اس کے لیے راضی ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے پاس ابھی اسے دوبارہ بیوی بنانے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ مگر وہ محض اپنی نادانی کی وجہ سے سالوں پر محیط پروسیس کو صرف تین سیکنڈ میں سمیٹ دیتا ہے اور بیک وقت تین طلاق دے کر اپنے اوپر سہولت کا راستہ بند کرلیتا ہے۔ اور پھر حلالے کی قرآنی و فطری صورت (اگر اسے قرآنی کہنا درست ہو) کو جو ممکنہ تو ہوتی ہے مگر یقینی نہیں ہوتی، تاویلات کا سہارا لے کر اپنے لیے غیر فطری طریقے سے جاری کرتا ہے۔ اس کے بھی طویل دورانیے کو سمیٹ کر مختصر ترین کر دیتا ہے۔ پہلے اس عورت کی کہیں شادی کرواتا ہے، پھر اس سے طلاق دلواتا ہے اور پھر عدت کے بعد اس سے دوبارہ شادی کرتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ آدمی نے ایک گناہ کے ذریعے اپنی پشت پر سہولت کا دروازہ بند کرلیا اور پھر دوسرے گناہ کے ذریعے اسے کھولنے کی کوشش کی۔
گناہ کے اس پورے عمل کے پس پردہ کم از کم دو قصور ہمارے (علما کے) بھی ہیں ایک تو یہ کہ ہم نے نکاح و طلاق کے فطری اور قرآنی پروسس کو معاشرے میں بڑے پیمانے پر نہیں پھیلایا۔ دوسرا قصور یہ کہ ہم نے جواز کے راستے نکالنے کی فکر زیادہ کی۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ جواز کے راستے ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کی سہولت کے پیش نظر نکالے گئے ہوں گے۔ مگر ان کا الٹا اثر ہوا اور سماج مجموعی طورپر مجروح ہوا۔ جب کہ بہتر طریقہ یہ تھا کہ تین طلاق اورحیلے بہانے والے حلا لے کی راہیں مسدود کی جاتیں اور ایسا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی۔ بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔
اس معاملے میں ہم سب کی سب سے بڑی خامی یہی رہی کہ ہم نے طلاق کے سنت طریقے کو اپنے سماج میں عام نہیں کیا۔ بہت سارے لوگ تو سنت طریقے کو جانتے ہی نہیں اور جب جانیں گے ہی نہیں تو مانیں گے کس طرح اور پھر کس طرح عمل میں لا سکیں گے۔ اگر طلاق کا سنت طریقہ معاشرے میں رائج ہو جاتا تو ہمارا معاشرہ طلاق بدعت کے گناہ بلکہ بوجھ اور اسی طرح حلالے کے حیلے بہانوں سے بچ جاتا۔
آج کل حکومت اور میڈیا کی مہربانی سے ہمیں یہ موقع ہاتھ آ گیا ہے کہ ہم طلاق کے سنت طریقے اور حلالے کی غیر شرعی صورت سے مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلموں کو بھی اچھی طرح متعارف کروا سکتے ہیں، کیونکہ آج کل یہ موضوعات لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور بہت سارے لوگ حقیقی صورت احوال سے آگاہی چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ لعن طعن ہونے باعث اب کم پڑھے لکھے اور نا سمجھ مسلمانوں پر بھی یہ واضح ہو گیا ہے کہ طلاق بدعت برا عمل ہے اور حلالے کی مروج صورت ایک لعنت ہے۔
اگر اس وقت طلاقِ سنت کے سہل طریقے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے گا تو لوگ بہت جلد اسے قبول کرلیں گے اور انہیں یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ طلاقِ سنت کے رائج ہونے سے حلالے کی لعنت خود بخود ختم ہوجائے گی؛ کیونکہ اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ مرد کے پاس طلاقِ سنت کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح کرنے کا آپشن موجود رہتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ حلالے کے جواز اور عدم جواز کے تعلق سے جب بھی علما سے استفسار کیا جاتا ہے تو حلالے کی اسی صورت کے متعلق کیا جاتا ہے جس کا تصور عوام میں اور خاص کر غیر مسلموں کے ذہن میں پایا جاتا ہے اور بدقسمتی سے جس کی معدودے چند مثالیں مسلم معاشرے میں پائی بھی گئی ہیں۔ ہم (علما) جب حلالے کا جواز قرآن سے دیتے ہیں تو ہمارے ذہن میں قرآن میں مذکور وہی اتفاقی اور شاذ صورت ہوتی ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا۔ چنانچہ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ حلالے کا جواز قرآن سے نکلتا ہے اور استفسار کرنے والے اسے معاشرے میں مروج صورت کا جواب سمجھ کر اس کی تشہیر کرتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو ہمارا جواب اس سوال کے لیے نہیں ہوتا جو حلالے کے تعلق سے پوچھا جاتا ہے یا میڈیا میں گردش میں رہتا ہے۔ اس لیے پہلے ہی مرحلے میں کہیے کہ حلالے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر اگر چاہیں تو بعد میں اس اتفاقی اور شاذ صورت کو بیان کر سکتے ہیں، جس کا حوالہ قرآن میں مذکور ہے۔ اگر ہم اسے حلالہ نہ بھی کہیں تب بھی کوئی حرج نہیں۔
اللہ نے آپ کو طلاق دینے کا اختیار دیا ہے تو اس اختیار کا غلط استعمال مت کیجئے۔ اس اختیار کی قدر کیجئے اور اس کا بے جا استعمال مت کیجئے۔ اول تو طلاق دینے کے بارے میں سوچئے ہی مت ۔ پھر بھی اگر اتنی ہی مجبوری آ جائے تو طلاق ہمیشہ سنت کے مطابق ہی دیجیے، تا کہ آپ کے لیے ایک راستہ کھلا رہے۔ زندگی کا کچھ پتا نہیں کہ وہ کب کس راستے پر جا پڑے، وقت کا کچھ پتا نہیں کہ وہ کب آپ پر تنگ ہوجائے۔ کیا پتا کل کو آپ کی وہی عورت آخری درجے کی مجبوری بن جائے جسے آپ نے بیک وقت تین طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تھا۔ یاد رہے کہ طلاق، جذباتیت، نفرت یا غصے میں انجام دینے والا عمل نہیں ہے، بلکہ ہوش و خرد اور حسن تدبیر کے ساتھ انجام دینے والا عمل ہے۔
