طلاق سے حلالے تک: کیا قرآن میں حلالے کا ذکر ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مسلمان بیک وقت تین طلاق کے ناجائز (یا کم از کم غیر پسندیدہ) عمل کے ذریعے سہولت کا ایک دروازہ اپنی پشت پر بند کرلیتا ہے، اور پھر جب زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، تو دوسرے ناجائز عمل یعنی غیر شرعی حلالے کے ذریعے اپنے منہ پر اسی بند دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی خود ہی اپنے پیر پر کلہاڑی مار لے اور پھر اسے نمک سے بھر نے کی کوشش کرے۔

اور یہ اس وجہ سے ہے کہ ہم مسلمانوں نے اپنے معاشروں میں شریعت کے اُس سسٹم کو جاری نہیں کیا جو نکاح و طلاق اور حلالے کا قرآنی اور فطری سسٹم ہے۔ یہاں میں حلالے کے تعلق سے کہنا چاہوں گا کہ حلالہ کوئی سسٹم نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی سبیل ہے جسے خود ساختہ تَرکوں اور تدبیروں کے ذریعے بروئے کا لایا جا سکے، بلکہ یہ تو ایک صورت احوال ہے جو شاذ و نادر اورغیر مترقبہ طور پر کسی کسی کے سامنے آ جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح حادثات غیر مترقبہ طورپر ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ کسی کے سامنے آتے ہیں اور کسی کے سامنے نہیں بھی آتے۔ حلالے کی قرآنی صورت کوئی عمومی صورت نہیں ہے، جو سب کے ساتھ پیش آتی ہے۔ حلالے کا جو سماجی تصور ہے وہ شریعت کے بھی خلاف ہے اور شریعت کے منشا کے بھی خلاف ہے۔

قرآن میں حلالے کی جو صورت ہے وہ یہ ہے کہ مطلقہ عورت جب کسی دوسرے مرد سے شادی کر لے اور پھر یا تو اس کی وفات ہوجائے یا وہ بھی اسے طلاق دے دے تو ایسی صورت میں پہلا خاوند اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ عورت شادی کے لیے راضی ہو۔ یہ بہت ہی نادر طورپر پیش آنے والی صورت احوال ہے، جو ایسے میاں بیوی کے لیے سہولت کے طور پر شریعت میں رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ عقد نکاح میں رہنے کے بعد کسی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ہوں۔ وہ اپنے اس عمل پر نادم ہوں اور پھر سے ایک ساتھ رہنے کی تمنا رکھتے ہوں۔ تاہم یہ سہولت ہر کسی کو نہیں ملتی اور یہ راستہ ہر کسی کے لیے نہیں کھلتا۔ کیوں کہ طلاق دینے کے بعد طلاق دینے والے کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا۔

ایک یہ کہ عورت کا موجودہ شوہر اسے اپنے اختیار پر طلاق دے اور دوسرا یہ کہ اسے موت آجائے۔ ان تنیوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت پیدا کرنا طلاق دینے والے مرد کے اپنے اختیار میں نہیں ہے، طلاق دینے کے بعد وہ عورت کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ دوسرا نکاح کرے اورپھر اگر وہ نکاح کر بھی لے تو وہ اس کے اُس دوسرے شوہر کو طلاق دینے پر مجبور نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے موت دینا اس کے اپنے اختیار میں ہے۔ اور اسی لیے ایسا ہے کہ حلالے والی قرآنی صورت شاذ و نادر ہی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یہ صورت خود بخود پیدا ہوتی ہے ، اس کے لئے کوئی تدبیر نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے نہایت مختصر اور سادہ لفظوں میں یہ کہنا غلط ہوجاتا ہے کہ قرآن میں حلالے کا تصور پایا جاتا ہے۔

قرآن میں صرف ایک صورت کا ذکر ہے جو کسی کے حق میں پیدا ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے کے حق میں نہیں، بلکہ زیادہ تر تو یہی ہوتا ہے کہ یہ صورت طلاق دینے والے اکثر مردوں کے حق میں پیدا ہوتی ہی نہیں۔کیونکہ اس صورت کے پیدا ہونے کا پروسس عمومی طورپر بہت طویل ہے۔ طلاق کے بعد عدت، عدت کے بعد دوسری شادی، دوسری شادی کے بعد طلاق یا پھر انتقال اور پھر عدت۔ دو طلاقیں، دو عدتیں اور دو نکاح، آپ اندازہ لگائیں کہ اس کے لیے کتنی مدت درکار ہوگی۔ اس طویل پروسس کے لیے جو سب سے مختصر دورانیہ درکار ہوگا وہ کم از ڈیڑھ دو سال پر محیط ہوگا اور وہ بھی اس وقت جب دوسری شادی اور پھر طلاق یا انتقال سب کچھ چٹ پٹ ہوجائے، ورنہ بصورت دیگر اس پروسس کے لیے دسیوں یا بیسیوں سال بھی درکار ہو سکتے ہیں۔ پھر ظاہر ہے کہ اللہ نے ہر کسی کو اتنی فرصت عمر نہیں دی۔ اگر فرصت عمر دی بھی ہے تو اتنی قوت و فراوانی نہیں دی۔

طلاق کے تعلق سے اللہ کا سسٹم یہ ہے کہ جب کسی آدمی پر افہام و تفہیم کے سارے راستے مسدود ہوجائیں اور اس کے لیے طلاق دینا بالکل آخری چارۂ کار کے طورپر سامنے آ کھڑا ہو، پھر وہ اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کر ہی لے، تو اس کے لیے اللہ کا حکم یہ ہے کہ وہ اسے صرف ایک طلاق دے۔ یہ ایک طلاق بھی من چاہے طریقے پر نہ دے بلکہ دو باتیں اپنی بیوی کے تعلق سے اور دوباتیں اپنے تعلق سے پیش نظر رکھے۔ بیوی کے تعلق سے پہلی بات یہ پیش نظر رکھے کہ اس کی بیوی امید سے تو نہیں ہے اگر ہے تو طلاق نہ دے۔اوردوسری بات یہ کہ وہ یقینی طور پر یہ معلوم کرے کہ اس کی بیوی پاکی کی حالت میں ہے، نیز پاکی کے اس ایک پیریڈ میں اس نے عورت کے ساتھ جسمانی تعلق قائم نہیں کیا ہے۔ اگر وہ پاکی کی حالت میں نہیں ہے یا پھر پاکی کی حالت میں تو ہے مگر اس نے پاکی کے اس ماہ میں اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرلیا ہے، تو طلاق دینے سے رک جائے۔ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے۔

خود اس کے حق میں دو باتوں میں سے پہلی بات یہ ہے کہ وہ خود اپنے حالات پر بھی غور کرے کہ طلاق دینے کی صورت میں اس کے اوراس کے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ اگر مستقبل برباد ہونے کا اندیشہ ہو تو طلاق دینے میں جلدی نہ کرے اور دوسری یہ کہ وہ اپنے بارے میں یہ اطمئنان کر لے کہ وہ پوری طرح ہوش و حواس میں ہے، غصے، ٹینشن یا نشے کی حالت میں نہیں ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی حالت اس پر طاری ہے تو طلاق دینے کی غلطی نہ کرے۔ ان باتوں کو مد نظر رکھے بغیر اگر اس نے طلاق دی توبھلے ہی کسی مسلک کے مطابق طلاق واقع ہوجائے مگر وہ گناہ گار بہر صورت ہوگا اور اس کی، اس کے بچوں کی اور سب سے بڑھ کر اس عورت کی جو زندگی برباد ہوگی اس کا وبال اور گناہ بھی اسی کے سر جائے گا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •