چل رہی ہیں، چل رہی ہیں، چل رہی ہیں قینچیاں


اوئے، بھٹو کے کرتوت یاد نہیں، اس نے بھی جو بویا وہ کاٹا۔ سر جی، وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں تو مقدمے میں سماعت کے طور طریقوں پر گفتگو کر رہا ہوں، جس میں بھٹو کو پھانسی کا حق دار قرار دیا گیا۔ اوئے، کیا بکتا ہے۔ نسیم حسن شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے، یہ ان کا اعتراف جرم نہیں، سچائی ہے، جو انھوں نے آخر کار تسلیم کرلی۔ ان کے بارے میں گستاخانہ لہجہ اختیار کرنا مقدس عدلیہ کی توہین کے مترادف ہے۔ جی تو دباؤ میں آنے والے بھی ”مقدس“ ہوتے ہیں۔ یہ تو لفظ مقدس کی توہین ہے۔ سُنا ہے جج خود نہیں بولتاِ اس کا فیصلہ بولتا ہے۔ یہاں تو جج مقدمے کی کارروائی کے دوران عجیب عجیب غیر متوقع الفاظ اور القابات دھڑادھڑ استعمال کرتے ہیں۔ بھٹو کیس میں جسٹس مولوی مشتاق حسین نے مقدمے کی سماعت کے دوران ایسے ریمارکس منہ سے نکالے کہ ان کا ذاتی عِناد صاف جھلکنے لگا۔

اوئے کاکے، گڑے مُردے مت اُکھاڑو، آج پر نظر رکھو اور خود پر قابو پاﺅ، آواز کے ساتھ تمہارا لہجہ بھی بلند ہو رہا ہے، آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں۔ حیدر علی آتش نے کہا تھا:

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا

جب آپ اوئے کہتے ہیں سر جی تو عمران خان یاد آتا ہے۔ اوئے، میں تیرے پیچھے آرہا ہوں اوئے تیرے گھر کا پھاٹک توڑ کر اندر گھس جاؤں گا ساری دیواریں گرا دوں گا سارے شیشے توڑ ڈالوں گا باتھ روم کے کموڈ اور تولیے آگ میں ڈال دوں گا۔

ہوش میں آؤ، اب عمران کو کہاں گھسیٹ لائے؟ گڑے مُردے اُکھاڑنے کا بہت شوق ہے، کیوں؟ سر جی، آپ کی نصیحت سر آنکھوں پر۔ آپ آج پر نظر ڈالیں، شوکت صدیقی صاحب نے کہا ابے، شوکت صدیقی کہاں سے آگئے، وہ تو ایک افسانہ نگار اور ناول نویس تھے، خیالی باتیں لکھتے تھے۔ میں نے بھی پڑھی ہے ”خدا کی بستی“ اور ”جانگلوس“ بھی۔ سر جی! میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے آنر یبل جج شوکت صدیقی کی بات کررہا ہوں۔ ان کے خلاف بھی ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”اگر چیف جسٹس ماتحت عدالتوں کی عزت نہیں کریں گے تو وہ بھی اپنے ادارے کے دفاع کے لیے جواب دِہ نہیں۔ مذاق ہی بنا لیا ہے، اگر کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا تو اس کی تضحیک شروع کر دیتے ہیں۔“ سر جی، بات تو ٹھیک ہے، یہ ناروا رواج عام ہو رہا ہے۔ جج کو تو صرف دونوں طرف کے دلائل سننے چاہییں۔ دوران سماعت دھمکی آمیز ریمارکس ادا کرنے سے یہ تاثر بر آمد ہوتا ہے کہ فیصلہ تو ہوچکا ہے۔

بَد بَختا، بدنصیبا، آگ میں ہاتھ ڈالتا ہے، جل جائے گا۔ توہین عدالت کا خطرہ مول لیتا ہے، پچھتائے گا۔ سر جی! آپ بھی زباں بندی کررہے ہیں۔ ہم لوگ تو اظہار رائے کی آزادی کا پرچار کرتے ہیں۔ اس پر بھی غور کریں۔ آپ کا بھی دہن بگڑ رہا ہے۔ مجھے آئینہ دکھانا چاہتے ہو؟ چلو بَکو، جو بھی بَکنا ہے، جی بھر کے بَکو، لیکن آواز اس کمرے سے باہر نہ جائے۔ بھڑاس نکال لو اور کر بھی کیا سکتے ہو؟ میرا مطلب ہے سر جی! آپ کھڑے ہو جائیں، بیٹھے نہ رہیں۔

پاگل ہو گیا ہے؟ اب تم مجھے آرام سے بیٹھنے بھی نہیں دینا چاہتے۔ تمہاری عمر کا نہیں ہوں، بوڑھا ہو رہا ہوں۔ داڑھی سفید ہو رہی ہے۔ مجھے تمہارے مقابلے میں زیادہ آرام کی ضرورت ہے۔ میری عمر کو پہنچو گے تو معلوم ہوجائے گا۔ جی، جی! آپ بے شک بیٹھے رہیں لیکن آواز تو بلند کریں۔ کہتے ہیں اہل قلم، اہل صحافت کا جُھکاؤ تو ہمیشہ حزب اختلاف کی طرف ہوتا ہے۔ یہ تو بڑی بے ہودہ دلیل ہے کہ جو بویا وہ کاٹا۔ دلیل نہیں، حرفِ آخر ہے۔ اہل صحافت کو تو ہتھیلی دیکھ کر قسمت کا حال بتانے والے نجومی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ صرف متعلقہ موضوع پراُصولی انداز میں بھرپور تجزیہ کرنا چاہیے۔ یہ تو بہت آسان عمل ہے کہ ’قسمت میں یہی لکھا تھا‘ کہہ کر جان چُھڑا لو۔

ان مختصر الفاظ میں زباں بندی کے سارے اسباب موجود ہیں۔ تو میں تمہاری اس بیان بازی سے، نام نہاد مدلل گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کروں کہ اپنا آرام چھوڑ کر کرسی سے اٹھ جاﺅں اور بازاروں میں نکل کر نعرے بازی کروں؟ اہل صحافت نعرہ باز نہیں ہوتے۔ پُتَر جی، بچّے جمُورے، دماغِچ پا لے۔ معروضی اسباب و حالات دیکھتے ہوئے ہر کام کرنا چاہیے۔ سر جی، آپ کا مطلب ہے، سر پر لٹکتی تلوار پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ ٹھیک ہے، تو سر جی! یہ صحافت وحافت چھوڑ کر کوئی اور کام کرنا چاہیے۔ کوئی اور کام، کیسا کام؟ سرجی! مثال کے طور پر حجام بن جاتے ہیں، کسی ہیئرکٹنگ سیلون میں کام کرتے ہیں۔ وہاں بھی قینچیاں چلتی ہیں۔ آمدنی بھی زیادہ ہے، لوگ ٹِپس بھی دیتے ہیں۔ شَٹ اَپ چوپ پ پ! تو دریدہ دہن ہے نامُراد، پِھٹّے مُنہ، دفع ہوجا، فوراً۔ میں تجھے ملازمت سے ڈِس مِس کرتا ہوں۔ تو یہاں کام کرنے کی اہلیت سے قطعاً محروم ہے۔ اپنا بستہ، بوریا بستر سمیٹ، باہر نکل جا۔ اب یہاں شکل مت دکھانا۔ سرجی اب تو معافی مانگے گا، نہیں ملے گی، فوراً رفو چکّر ہوجا! معافی نہیں سرجی، میں عرض کرنا چاہتاہوں کہ بال ترشوانے کے لیے میرے ”بطوطہ ہیئر کٹنگ سیلون“ پر آیا کریں گے ناں؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2