سندھو تیرا مان رہے!
(حیدرآباد میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، عرفانہ ملاح اور ان کے ساتھیوں کے نام) سندھو بہتا جائے میٹھے میٹھے، مہکے مہکے گیت سناتا جائے سندھو بہتا جائے لمبی راہ میں ہر راہی پر اپنا پیار لٹائے صدیوں سے پیاسی دھرتی پر ہریالی لہرائے سندھو بہتا جائے شاہ لطیف کی آنکھوں میں ٹھنڈک بن کر چمکے سچل کے بولوں میں میٹھا رس بن کر مہکے ہاری کے سوکھے ہونٹوں پر آس کا دیپ جلائے کیکر کے پیڑوں کو چھاؤں کا
Read more




