سندھو تیرا مان رہے!

(حیدرآباد میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، عرفانہ ملاح اور ان کے ساتھیوں کے نام) سندھو بہتا جائے میٹھے میٹھے، مہکے مہکے گیت سناتا جائے سندھو بہتا جائے لمبی راہ میں ہر راہی پر اپنا پیار لٹائے صدیوں سے پیاسی دھرتی پر ہریالی لہرائے سندھو بہتا جائے شاہ لطیف کی آنکھوں میں ٹھنڈک بن کر چمکے سچل کے بولوں میں میٹھا رس بن کر مہکے ہاری کے سوکھے ہونٹوں پر آس کا دیپ جلائے کیکر کے پیڑوں کو چھاؤں کا

Read more

سلگتے چنار اور این بی سی

1973 میں روزنامہ ”مساوات“ کراچی میں ایک ستارہ طلوع ہوا۔ اس کی پیش عملیاں دیکھیں ،تو دم بخود رہ گیا۔ یہ ایٹمی توانائی اس نوجوان کے اندر کیسے آئی۔ پہلے یونیورسٹی کے طلبا کی سرگرمیاں Cover کیں۔ پھر دیکھا ،رپورٹر کے عہدے پر فائز ہے، پلک جھپکی اور نیوز ڈیسک سنبھال لی۔ توانائی چین نہ لینے دیتی تھی، میگزین کے لیے کام اور ادارتی صفحات کے لیے اپنے تبصرے بھی لکھنے لگا۔ پسینہ پسینہ ہو رہا ہے، لکھتا جاتا ہے، درمیان میں گفتگو بھی جاری ہے، اور اس کا قہقہہ، پرزور قہقہہ، دل کے اندر اتر جاتا ہے، کسی نرم معصوم خوشبو کی طرح۔

Read more

عرفانہ ملاح کے نام احفاظ الرحمن کا خط

خانہ بدوش: لفظی ترجمہ، گھر کاندھوں پر۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جوہلکا پھلکا بوریا بستہ رکھتے ہیں۔ جب ایک جگہ سے جی اوب گیا، بوریا بستہ کاندھوں پر رکھا اور نئی منزل کی کھوج میں چل نکلے۔ خاصی مستند روایت ہے کہ رنگ برنگی ثقافت والے یہ لوگ ہمارے راجستھان سے نکلے اور ادھر ادھرپڑاؤ ڈالتے ہوئے پوری دنیا میں پھیل گئے۔ یہ ہے وہ، بے گھر لوگ چھوٹی ہوئی چوری چکاری کر لیتے تھے۔ بڑے ڈاکے نیک کام ہوتے تھے، یہ بے چارے جنہیں یورپ میں ”ڈرما“ کہا جاتا ہے، ہرجگہ دھتکارے گئے۔ مگر اب دنیا میں انہیں اب بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ہٹلر نے یہودیوں اور کمیونسٹوں کے ساتھ جپسیوں کا بڑی بے دردی سے قتل عام کیا۔

Read more

سمندر میں ڈال آؤ!

”آپ کو صرف ایک زندگی ملتی ہے۔ اس لیے اس لمحے سے پیار کرو۔ اس (گزرتے ) دن سے پیار کرو۔ دوسروں پر مہربانی کرو۔ اپنے اوپر مہربانی کرو۔ “ یہ یامسوجیوتاناکا کے الفاظ ہیں۔ ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا گیا تو اُس وقت اس کی عمر 15 برس تھی۔ اسی ناگاساکی کے تاکاتومیچی شیتا نے آنسوؤں میں ڈوب کر چشم دید واقعات سنائے اورملتجیانہ لہجے میں کہا، ”پیارے نوجوانو، تم نے کبھی جنگ کی تباہ کاریاں نہیں دیکھیں۔ جنگیں

Read more

گورکن کیوں بنو، سچا انساں بنو، سچا دہقاں بنو

کیا نئی بات ہے؟ مردِ دانا کی ٹکسال سے نکلے چھن چھن چھنکتے ہوئے قیمتی مشورے ہر گھڑی کام رانی کا دل چسپ مژدہ سناتے ہوئے زرد پتوں کی سانسوں میں ڈوبی ہوئی ناتوانی کا قصہ جو چھیڑا تو ہم اپنے کھونٹے سے کٹ کر بکھر جائیں گے سب سہُانا کہو، والہانہ لکھو، زورِ بازو پہ ہم کو بہت ناز ہے ہے لہو گرم یہ اپنا اعزاز ہے ہم عقابی صفت کے پرستار ہیں، ہاں، پلٹ کر جھپٹنے کو تیارہیں،

Read more

مجبوری

بامِ عالم پر دماغِ ابلہ کی جولانیاں ورنہ کیا ہیں، اک بُزِاخفش کی کارستانیاں ہر فضیلت کا ستارہ جیب میں بھرنے کا شوق دانش و تہذیب کے سرّنہاں کا پاسباں عقل کے جوہر کی سب باریکیوں کا رازدار سب فرومایہ ہیں، عالی ذات میرا راہوار بام عالم تک دماغ ابلہ کی پرواز آساں ہی تو ہے کہتے ہیں، سب دیدہ و نادیدہ سیاروں کی پیدائش اور افزائش کی سب درجہ بہ درجہ منزلوں کا علم ورثے میں ملا تھا ان

Read more

جنگ کے منڈلاتے بادل، کیفی اعظمی اور دو بلاگز

 ”ہم سب“ میں مظہر عباس کی تحریر ’پاک بھارت تناؤ، اگر آج کیفی زندہ ہوتے‘ نظر سے گزری۔ خوب لکھتے ہیں۔ موقع پرستی اور منافقت ان کی فطرت میں نہیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کراچی یونین آف جرنلسٹس میں ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔ ان کی جرات مندی قابل تعریف ہے۔ ان تمہیدی جملوں کی ضرورت یوں پیش آئی کہ میری اس تحریر میں کسی منفی پہلو کی جستجو نہ کی جائے۔ یہ سطریں محض

Read more

کون خوشی کے گھونٹ بھرے گا؟

ہرے بھرے پیڑوں کو آگ لگاتے ہو میٹھی مسکانوں کو آگ لگاتے ہو چھاؤں کے خوابوں کو آگ لگاتے ہو امیدوں کی آنکھوں میں انگارے بھرتے جاتے ہو نفرت پھیلاتے ہو دل کے باغوں میں امن کی سچی خوشبو کے ارمانوں میں ہرے بھرے پیڑوں کے پنچھی آنسو پیتے جاتے ہیں خشک زبانیں خوف کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہیں تم کنگالوں کی حیوانی دانش اپنی عظمت کے گن گاتی ہے خوب، تمہاری عظمت تو ان پھلجھڑیوں کے دم سے

Read more

فہمیدہ

جو بھی لکھّا سچّا لکھّا، جُھوٹ کے روپ دکھائے کورا کاغذ لے کر آئی، جو دیکھا وہ لکھا علم کی چادر میں جو تھے وہ کانٹے ہمیں دکھائے ظالم ساری چھاﺅں کھا گئے، آگ لگی آنگن میں زہر بھرا میٹھے قصوں میں، سانپ بھرے تن من میں کورا کاغذ لے کر آئی جو دیکھا وہ لکھا  سچّا لکھّا، وقت پہ لکھا، دل کے داغ دکھائے ہریالی کی راہ دکھائی، خوشی کے باغ دکھائے ہر ظالم طاقت کو آ کر میداں

Read more

احفاظ الرحمٰن کی چند نظمیں

فریبوں کی سپاہ عکس در عکس اترتی ہے فریبوں کی سپاہ غُل مچاتی ہوئی پرچھائیاں سینے پہ سوار حلق کی سمت لپکتی ہوئی قاتل برچھی جانب قلب جھپٹتی ہے وہ خونیں تلوار آنکھ کو تاک رہا ہے یہ ستم گر نیزہ عکس در عکس اُترتی ہے فریبوں کی سپاہ کھوکھلے سر میں اُبھرتا ہے مسیحائی کا زعم رقص کرتے ہوئے بہلاووں کا سرسبز چمن خوش نگاہی کی طلب، کشتہ اُمیدوں کا کفن بے لباسی پہ لکھی تہمت ارزاں کی سند

Read more

شہباز شریف کو مخاطب کر کے لکھی گئی ایک نظم

                                             انکار کی آن سلامت ہے جو تیر جگر کے پار ہوئے، سب کارگہِ غفلت میں ڈھالے تھے تم نے جو وقت گزر کر خاک ہوا بے قیمت تھا، سر خم کرنے کا ہرجانہ تم آگ سے یاری مانگتے تھے، کھینچو اب اس کا خمیازہ جب بازی ہاتھ سے کھو بیٹھے، جب زرداری نے اپنے سارے داؤ سمیٹے اور

Read more

چل رہی ہیں، چل رہی ہیں، چل رہی ہیں قینچیاں

”ادارے“ مقدس ہیں، ان کے اختیارات لامحدود ہیں۔ ان کا ہر عمل واجب احترام ہے۔ تنقید کا ایک بھی لفظ زبان پر مت لاؤ ورنہ مٹا دیے جاؤ گے، پتھر کے مجسموں میں تبدیل ہو جاؤ گے۔ اسی میں عافیت ہے۔ شان میں گستاخی کرو گے تو بھسم کردیا جائے گا، کسی نقص کی نشان دہی کروگے تو توہین کے مرتکب ہوگے، توہین کا ارتکاب کرو گے تو عقوبت کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ اپنے جامے سے باہر نہ

Read more