سمندر میں ڈال آؤ!

”آپ کو صرف ایک زندگی ملتی ہے۔ اس لیے اس لمحے سے پیار کرو۔ اس (گزرتے ) دن سے پیار کرو۔ دوسروں پر مہربانی کرو۔ اپنے اوپر مہربانی کرو۔ “ یہ یامسوجیوتاناکا کے الفاظ ہیں۔ ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا گیا تو اُس وقت اس کی عمر 15 برس تھی۔ اسی ناگاساکی کے تاکاتومیچی شیتا…

Read more

گورکن کیوں بنو، سچا انساں بنو، سچا دہقاں بنو

کیا نئی بات ہے؟ مردِ دانا کی ٹکسال سے نکلے چھن چھن چھنکتے ہوئے قیمتی مشورے ہر گھڑی کام رانی کا دل چسپ مژدہ سناتے ہوئے زرد پتوں کی سانسوں میں ڈوبی ہوئی ناتوانی کا قصہ جو چھیڑا تو ہم اپنے کھونٹے سے کٹ کر بکھر جائیں گے سب سہُانا کہو، والہانہ لکھو، زورِ بازو…

Read more

مجبوری

بامِ عالم پر دماغِ ابلہ کی جولانیاں ورنہ کیا ہیں، اک بُزِاخفش کی کارستانیاں ہر فضیلت کا ستارہ جیب میں بھرنے کا شوق دانش و تہذیب کے سرّنہاں کا پاسباں عقل کے جوہر کی سب باریکیوں کا رازدار سب فرومایہ ہیں، عالی ذات میرا راہوار بام عالم تک دماغ ابلہ کی پرواز آساں ہی تو…

Read more

جنگ کے منڈلاتے بادل، کیفی اعظمی اور دو بلاگز

 ”ہم سب“ میں مظہر عباس کی تحریر ’پاک بھارت تناؤ، اگر آج کیفی زندہ ہوتے‘ نظر سے گزری۔ خوب لکھتے ہیں۔ موقع پرستی اور منافقت ان کی فطرت میں نہیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کراچی یونین آف جرنلسٹس میں ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔ ان کی جرات مندی قابل تعریف…

Read more

کون خوشی کے گھونٹ بھرے گا؟

ہرے بھرے پیڑوں کو آگ لگاتے ہو میٹھی مسکانوں کو آگ لگاتے ہو چھاؤں کے خوابوں کو آگ لگاتے ہو امیدوں کی آنکھوں میں انگارے بھرتے جاتے ہو نفرت پھیلاتے ہو دل کے باغوں میں امن کی سچی خوشبو کے ارمانوں میں ہرے بھرے پیڑوں کے پنچھی آنسو پیتے جاتے ہیں خشک زبانیں خوف کی…

Read more

فہمیدہ

جو بھی لکھّا سچّا لکھّا، جُھوٹ کے روپ دکھائے کورا کاغذ لے کر آئی، جو دیکھا وہ لکھا علم کی چادر میں جو تھے وہ کانٹے ہمیں دکھائے ظالم ساری چھاﺅں کھا گئے، آگ لگی آنگن میں زہر بھرا میٹھے قصوں میں، سانپ بھرے تن من میں کورا کاغذ لے کر آئی جو دیکھا وہ…

Read more

احفاظ الرحمٰن کی چند نظمیں

فریبوں کی سپاہ عکس در عکس اترتی ہے فریبوں کی سپاہ غُل مچاتی ہوئی پرچھائیاں سینے پہ سوار حلق کی سمت لپکتی ہوئی قاتل برچھی جانب قلب جھپٹتی ہے وہ خونیں تلوار آنکھ کو تاک رہا ہے یہ ستم گر نیزہ عکس در عکس اُترتی ہے فریبوں کی سپاہ کھوکھلے سر میں اُبھرتا ہے مسیحائی…

Read more

چل رہی ہیں، چل رہی ہیں، چل رہی ہیں قینچیاں

”ادارے“ مقدس ہیں، ان کے اختیارات لامحدود ہیں۔ ان کا ہر عمل واجب احترام ہے۔ تنقید کا ایک بھی لفظ زبان پر مت لاؤ ورنہ مٹا دیے جاؤ گے، پتھر کے مجسموں میں تبدیل ہو جاؤ گے۔ اسی میں عافیت ہے۔ شان میں گستاخی کرو گے تو بھسم کردیا جائے گا، کسی نقص کی نشان…

Read more