ہم منہ اندھیرے نکلے تھے، اس وقت ریت ٹھنڈی تھی، ہم تعداد میں کتنے تھے، صحیح معلوم تو نہیں، لیکن ہم تھے ضرور۔ ہم سورج ابھرنے تک کچھ سفر کرچکے تھے، جوں جوں سورج ہمارے سروں پر آتا جا رہا تھا، گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ہمارے سروں پر پگڑ تھے، گردن اورمنہ کو بھی ڈھانپ رکھا تھا۔ جب سورج ہمارے سروں کے عین اوپر پہنچا تو ہم چند ایک ٹیلے پارکرچکے تھے۔ ٹیلوں پر چڑھنے کی تکلیف اور اترنے کی تکلیف کا احساس مختلف ہوتا، چڑھتے وقت سینے پر زور پڑتا اور اترتے وقت پیروں میں پہنی جوتیوں کے پچھلے حصے سے ریت اوپر پگڑپر آپڑتی، وہاں سے کھسک کر چند ایک ذرے گردن میں چلے جاتے۔
وہ پھریوں چبھتے ہیں جیسے کانچ کے ٹکڑے ہوں۔ ہوا گرم اورتیز، گرم ایسی کہ تنور کے شعلوں جیسی، آنکھوں پر پڑتی تو آنکھوں کے سامنے کے منظر دھندلاجاتے اور بینائی کمزور پڑجاتی۔ ہم وقفے وقفے سے اپنے ہاتھ کمر پر لے جاتے اور قمیص کو پکڑکر ہلاتے، قمیص گیلی ہو کر کمر سے چپک چکی ہوتی، پسینہ بدن کو ٹھنڈا کرنے کا جتن کرتا، مگر گرم ہوا پسینے کا جتن ضائع کردیتی۔ ہمارے جوتوں میں ریت داخل ہو کر ہمارے پاؤں زخمی کر رہی تھی، یہ ذرے پسینے سے ہم آہنگ ہو کر چبھ رہے تھے۔
Read more