گُلقند باجی، کِسان اور جنگ کا ٹلتا ہوا خطرہ

کہتے ہیں دور بہت دور سمندر میں ایک بہت ہی خوبصورت سا جزیرہ ہوتا تھا جہاں رنگ برنگے کھانوں کا شوقین ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عوام پیار سے کدو میاں کہتے تھے۔ بادشاہ جب عمررسیدہ ہو گیا تو اس نے اپنی بیٹی کو جزیرے کی حکمران بنوا دیا۔ زرق برق لشکارے مارتے کپڑوں کی شوقین یہ ملکہ عوام میں گُلقند باجی کے نام سے مشہور تھی۔ گلقند باجی بڑی حد تک خوشامد پسند واقع ہوئی تھیں۔ اس کام

Read more

طالبان فاتح: اب ان کی مرضی جو چاہیں کریں

وقت آ گیا ہے کہ ہم بالآخر یہ تسلیم کر لیں کہ جنگیں ٹویٹر اور فیس بک پر جذباتی پیغامات یا جھوٹی خبریں اور تصاویر پھیلانے سے نہیں لڑی جاتیں۔ ہر جنگ کا برسرزمین ایک میدان ہوتا ہے۔ اس میں متحرک فریقین کی فوجی قوت، حکمت عملی اور جذبہ ہی حتمی نتائج کا سبب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سب کہانیاں ہیں۔ وقت کا زیاں اور ذاتی خواہش کا بچگانہ اظہار۔

Read more

اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم ہوئی امریکی سیاست

ہمارے حکمرانوں کو ایک بار پھر بہت شدت سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ افغانستان اور دہشت گردی کے بارے میں دنیا تک ہمارا ”بیانیہ“ نہیں پہنچ رہا۔ ہماری ریاست کو بلکہ اس تناظر میں پھیلی وحشت کا حتمی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کو شکایت یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کے صحافی مشکل کی اس گھڑی میں اپنی ذہانت وصلاحیت قومی بیانیے کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کے لئے استعمال میں نہیں لارہے۔ چند صحافی تو دانستہ طور پر ملک کو بدنام کرنے والوں کے آلٰہ کار بن چکے ہیں۔ بقیہ افرادکی اکثریت سادہ لوحی میں ان کی سہولت کار ہے۔ گزشتہ پیر کے دن اس حوالے سے ایک اعلی سطحی بریفنگ میں یہ موضوع بھی تفصیل سے زیر بحث رہا۔ اگرچہ مذکورہ بریفنگ نظر بظاہر افغانستان کی تازہ ترین صورت حال تک محدود رہنا تھی۔

Read more

کل کی طرح آج بھی: افغانوں کی پنجاب سے ”محبت“

سوشل میڈیا پر گزشتہ ہفتے افغانوں کی پھیلائی چند وڈیوز وائرل ہوئیں۔ طالبان کی افغان شہروں پر پیش قدمی سے گھبرائے کابل کے رہائشی ان وڈیوز میں پنجابیوں کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ کئی لوگوں نے ای میل اور ٹویٹر کے ذریعے مجھے وہ وڈیو فارورڈ کیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی جاننا چاہا کہ پنجابیوں کو نفرت وحقارت کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ ابتدا میں نے ”ہم چپ رہے۔“ والا رویہ اپنائے رکھا۔ میری خاموشی کا مقصد کسی کا ”پردہ“ رکھنا نہیں تھا۔

Read more

آزاد کشمیر میں ”لِسّی“ ثابت ہوئی مسلم لیگ نون

مشتاق منہاس سے عرصہ ہوا ٹیلی فون پر بھی بات نہیں ہوئی ہے۔ وہ مگر میرے دل کے قریب ترین لوگوں میں شامل ہے۔ پرنٹ صحافت سے مجھے ٹی وی شوز کی جانب دھکیلنے میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ہم دونوں برسوں تک ایک ایسا پروگرام کرتے رہے جسے بے تحاشا لوگ ٹرینڈ سیٹر ٹھہراتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر اگرچہ اسے شوبز ہی شمار کرتا ہوں۔ ٹی وی سکرین پر رونق لگانے کی کاوش۔ صحافت نام

Read more

دلیپ کمار کی رخصتی

سینما میں بیٹھ کر دلیپ کمار کی کوئی فلم میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ میرے بچپن کے کئی برس مگر اساطیری شہرت کے حامل یہ اداکار بے شمار حوالوں سے روزمرہ زندگی کا حصہ رہے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی یادوں کا انبار ذہن میں امڈ آیا۔

لاہورکے اندرون موچی دروازہ میں موجود چوک نواب صاحب سے اکبری منڈی کی جانب بڑھیں تو درمیان میں ایک کوچہ آتا ہے جو آپ کو پرانی کوتوالی لے جاتا ہے۔ اس کوچے کے آغاز میں نائی کی ایک دکان تھی۔ مشہور تھا کہ وہ معروف گلوکار محمد رفیع کا قریبی رشتے دار ہے۔ وہ رشتے دار تھا یا نہیں اپنے فن میں کامل تھا۔ ہر مہینے کی آخری اتوار والد مرحوم میرے بال کٹوانے وہاں لے جاتے۔ مجھے کرسی پر ایک تختی رکھ کر اس کے اوپر بٹھایا جاتا۔ زلف تراش انتہائی انہماک سے گویا ایک ایک بال ماپتے ہوئے اپنے کام میں مصروف رہتا۔ میرے سامنے جو آئینہ ہوتا اس میں دیوار پر لگائی دلیپ کمار کی تصویر مسلسل نظر آتی رہتی۔ چہرے کا کلوز اپ تھا جس میں وہ مسکرارہے ہیں۔ چمکتے دانت اور ماتھے پر بالوں کی لٹ مجھ سے گفتگو کرتی ہوئی محسوس ہوتی۔ اپنا کام ختم کرنے کے بعد زلف تراش میرے ماتھے پر بھی ویسے ہی لٹ بناتا۔ میرے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے میری والدہ بھی اس لٹ کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتیں۔ میرے چہرے کو گویا دلیپ کمار جیسا بنانے کی کوشش ہوتی۔

Read more

شہباز شریف کے لئے ”کھایا پیا کچھ نہیں“ والا ماحول

اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں سوشل میڈیا پر کسی ایک فریق کا مستقل حاوی رہنا ممکن ہی نہیں۔ فیس بک، ٹویٹر یا انسٹاگرام بنیادی طور پر زیادہ سے زیادہ لائیکس اور شیئرز حاصل کرنے والی انسانی فطرت میں قدرتی طور پر موجود جبلت کو انگیخت دیتے ہوئے مسلسل بے چین رکھتی ہے۔ آپ کی لگائی پوسٹ کی محض تعریفیں ہوتی رہیں تو بات آگے نہیں بڑھتی۔ رونق اسی وقت لگتی ہے جب کوئی آپ کو للکارے۔ دلائل کے بجائے ذاتی حملوں سے آپ کو دبانے کی کوشش کرے۔ خلق خدا کے روبرو ہوئی ”بے عزتی“ کمزور ترین انسان کے لئے بھی برداشت کرنا مگر ممکن نہیں۔ جواب دینے کی مجبوری لاحق ہوجاتی ہے۔ دو نظریات نہیں بلکہ دو افراد کے مابین چھڑے تنازعہ کو ان کے ”حامی“ شیر بن شیر ”کہتے ہوئے مزید اکساتے رہتے ہیں۔ تماشا لگارہے تو لوگوں میں موجود چسکے کی ہوس کو تسکین مل جاتی ہے۔

Read more

کشمیر میں انتخابی آلودگی مہم

سیاسی سرگرمیوں کا دھارا چلچلاتی دھوپ سے فرار ہو کر آزاد کشمیر کی ٹھنڈی فضاؤں میں بہنے لگا ہے۔ ڈیرے آباد ہو گئے ہیں۔ گرم شال اوڑھے سندھ اور پنجاب کے لیڈر سرسبز کشمیر کے نیلے آسمان کو حیرت سے تک رہے ہیں جو ان کی دستبرد سے بچ کر ابھی تک غبار آلود نہیں ہوا۔ تینوں بڑی جماعتیں آزاد کشمیر کی جماعتوں کی اتحادی بن کر اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ امیدوار ابھی تک جوڑ توڑ میں مصروف ہیں ’تحریک انصاف‘ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی جیت کے دعوے کر رہی ہیں۔

Read more

انٹیلی جینٹ لیڈر شپ کی اشد ضرورت

یہ واقعہ کسی بہت بڑے خطرے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہمیں چوکنا ہو کر رہنا پڑے گا۔ فطری طور پر پاکستان کے بارے میں بھارت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے خطرے کے طور پر سامنے آیا ہے کہ نئی دہلی اور کابل پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر برپا کرنے جا رہے ہیں۔ جوں جوں مودی کی جادو گری بھارت میں ناکام ہوتی جا رہی ہے توں توں وہ پاکستان کے خلاف دباؤ بڑھائے گا۔ کووڈ کی وجہ سے بھارتی معیشت بالکل بیٹھ گئی ہے۔

Read more

مودی سرکار کی کشمیری سیاسی رہنماؤں سے ”مشاورت“

مجھے یہ لکھتے ہوئے ہرگز فخر نہیں محسوس ہو رہا کہ بھارت کی مودی سرکار 5 اگست 2019 کے روز لئے اقدام سے قبل تیار کیے منصوبے پر مزید آگے بڑھنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کالم میں بارہا اس منصوبے کے خد و خال بیان کرتا رہا ہوں۔ مودی سرکار کا واضح ارادہ یہ تھا کہ چند ماہ گزر جانے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کے ”ریاستی تشخص“ جسے بھارت میں ”State Hood“ کہا جاتا ہے کو بحال کر دیا جائے۔ جس ”ریاست“ کو تاہم بحال کیا جائے گا یہ وہ ”ریاست“ نہیں ہوگی جو 1948 تک ڈوگرہ راج کے زیر تسلط ریاست جموں وکشمیر کہلاتی تھی۔ پاکستان کے گلگت اور بلتستان کے علاوہ موجودہ آزادکشمیر کے علاقے بھی اس ریاست کا حصہ تھے۔ مقبوضہ کشمیر کا لداخ بھی اس کا اہم ترین علاقہ تھا۔ جس ”ریاست“ کو اب ”بحال“ کرنے کی تیاری ہو رہی ہے اسے لداخ سے الگ کر دیا گیا ہے۔ وہ دلی سے براہ راست چلائی Union Territoryہی رہے گا یعنی ”وفاق کے زیر انتظام“ علاقہ۔

Read more

بھارتی بالا دستی کا خواب

عمران خان صاحب کی شخصیت اور سیاست کے بارے میں میرے بھی بے تحاشا تحفظات ہیں۔ اس حقیقت کو مگر نظرانداز نہیں کر سکتا کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ مسلم امہ میں واحد ایٹمی قوت کے حامل ملک کے وزیر اعظم کے منصب پر بیٹھے شخص کی گفتگو کو دنیا بہت سنجیدگی سے لیتی ہے۔ پاکستان کے مخصوص جغرافیائی حقائق کی وجہ سے خارجہ اور دفاع امور کی بابت ان کی جانب سے ادا ہوئے کلمات کا عالمی طاقتیں انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینے میں مصروف رہتی ہیں۔

Read more

بجٹ تقریر میں غلطیاں

پارلیمان میں کہا ہر فقرہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ ریکارڈ ہوئے ہر لفظ کو بعد ازاں تحریری صورت میں ڈھال کر تاریخی دستاویز کا حصہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اس تناظرمیں اہم ترین وہ تقریر ہوتی ہے جو ہر سال کے مالیاتی سال کے آغاز میں وزیر خزانہ قومی آمدنی کے اعداد و شمار عیاں کرنے کو پڑھتے ہیں۔ قومی خزانے میں میسر رقوم کی روشنی میں آئندہ مالیاتی سال کے دوران ریاستی اخراجات کا تخمینہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ابھی تک میسر رقوم مجوزہ اخراجات پورے کرنے کے قابل نہ ہوں تو نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔ تجویز کردہ ٹیکس بھی اس ضمن میں ناکافی شمار ہوں تو ملکی اور غیر ملکی بینکوں اور اداروں سے قرض لینے کے ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔

Read more

بقائے باہمی کی خواہش!

بجٹ کے موقع پر یہ خوش آئند منظر دیکھنے میں آیا، جب لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ان کے ساتھ کھڑے تھے، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ اپوزیشن کی یہ دونوں جماعتیں جو پہلے تو پی ڈی ایم میں ایک دوسرے کی حلیف تھیں لیکن یہ سیاسی رومانس زیادہ عرصے تک نہیں چل سکا اوردونوں جماعتوں کی توپوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف ہو گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اس وقت بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے جب انہوں نے پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل کے طور پر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شوکاز نوٹس بھیج دیا کہ آپ کوسینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی ”باپ“ کے ووٹ لینے کیوں پڑے جبکہ اسے اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی سمجھا جاتا ہے۔

Read more

ریت کے ٹیلوں میں سکول جاتے بچوں کا مقدر

ہم منہ اندھیرے نکلے تھے، اس وقت ریت ٹھنڈی تھی، ہم تعداد میں کتنے تھے، صحیح معلوم تو نہیں، لیکن ہم تھے ضرور۔ ہم سورج ابھرنے تک کچھ سفر کرچکے تھے، جوں جوں سورج ہمارے سروں پر آتا جا رہا تھا، گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ہمارے سروں پر پگڑ تھے، گردن اورمنہ کو بھی ڈھانپ رکھا تھا۔ جب سورج ہمارے سروں کے عین اوپر پہنچا تو ہم چند ایک ٹیلے پارکرچکے تھے۔ ٹیلوں پر چڑھنے کی تکلیف اور اترنے کی تکلیف کا احساس مختلف ہوتا، چڑھتے وقت سینے پر زور پڑتا اور اترتے وقت پیروں میں پہنی جوتیوں کے پچھلے حصے سے ریت اوپر پگڑپر آپڑتی، وہاں سے کھسک کر چند ایک ذرے گردن میں چلے جاتے۔

وہ پھریوں چبھتے ہیں جیسے کانچ کے ٹکڑے ہوں۔ ہوا گرم اورتیز، گرم ایسی کہ تنور کے شعلوں جیسی، آنکھوں پر پڑتی تو آنکھوں کے سامنے کے منظر دھندلاجاتے اور بینائی کمزور پڑجاتی۔ ہم وقفے وقفے سے اپنے ہاتھ کمر پر لے جاتے اور قمیص کو پکڑکر ہلاتے، قمیص گیلی ہو کر کمر سے چپک چکی ہوتی، پسینہ بدن کو ٹھنڈا کرنے کا جتن کرتا، مگر گرم ہوا پسینے کا جتن ضائع کردیتی۔ ہمارے جوتوں میں ریت داخل ہو کر ہمارے پاؤں زخمی کر رہی تھی، یہ ذرے پسینے سے ہم آہنگ ہو کر چبھ رہے تھے۔

Read more

حکومت کا معاشی سروے اور مہنگائی کی اصل صورتحال

وزیر خزانہ شو کت تر ین نے معیشت کو ’سب اچھا ہے‘ ، کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔ ان کے مطابق ”شرح نمو کے حوالے سے گزشتہ بجٹ میں حکومت کا اپنا اندازہ 2.1 فیصد تھا جبکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا تخمینہ تو اس سے بھی کم تھا لیکن حکومت کی طرف سے مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، زراعت اور تعمیراتی شعبے کو گیس، بجلی کی مد میں مراعات دینے سے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ نے مثبت نمو کا مظاہرہ کیا جو تقریباً 9 فیصد تھی۔ اسی طرح مالی سال 21۔ 2020 میں عبوری شرح نمو 3.94 فیصد رہی، جو مجموعی طور پر تمام شعبوں میں مثبت ردعمل کی بنیاد پر حاصل ہوئی۔“ وزیر خزانہ نے مزید کہا زراعت نے 2.77 فیصد نمو کی، کپاس خراب ہونے کی وجہ سے ہمیں نمو منفی ہونے کا اندیشہ تھا لیکن باقی 4 فصلوں، گندم، چاول، گنا اور مکئی نے بہتر کارکردگی دکھائی، صنعتی شعبے میں 3.6 فیصداور خدمات میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کا ہدف 2.6 فیصد تھا۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 9 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی طور پر شرح نمو میں اضافے میں مدد ملی۔

Read more

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے تحفظات اور آئی جی پنجاب

چار پانچ روز پہلے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے میرے لئے وہ چونکا دینے والے تھے ’بھلا اس قدر طاقتور اور اہم شخصیت پولیس سے خود کو غیر محفوظ کیوں سمجھنے لگی ہے۔ 7 جون کو کچھ ٹی وی چینلز نے یہ ریمارکس بطور ٹکر چلائے۔ اگلے دن 8 جون کو تمام قومی اخبارات نے انہیں شائع کیا۔ محترم چیف جسٹس قاسم خان نے جو کہا ہے اس کے پیچھے ایک کہانی ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد مجھے اس کہانی تک پہنچنے کا تجسس ہوا۔

Read more

مشکل کی اس گھڑی میں تنہا اور فراموش کردہ فلسطین

”شیر بن شیر“ کے مشورے تو بہت دیے جاتے ہیں۔ ”شیر“ بننے کی مگر جو قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اس کے بارے میں کوئی سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ اپنے شعبے کے حوالے سے میں نے بھی خود کو اکثر ”شیر“ ثابت کرنا چاہا۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہوتے ہی مگر اپنی ”اوقات“ دریافت کرلی۔ ”شیر“ بننے کو تاہم میرے چند جواں سال ساتھی اب بھی مچلتے رہتے ہیں۔

یوٹیوب نے وی لاگ والا جو پلیٹ فارم مہیا کیا ہے وہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے کئی دیوانوں کو ”شیر“ بننے کے لئے اکساتا رہتا ہے۔ اس کے مضمرات مگر بے تحاشا دلوں میں خوف بھی جاگزین کر دیتے ہیں۔ منگل کی رات اسلام آباد کے ایک منہ پھٹ بلاگر۔ اسد علی طور۔ کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس نے مجھے اداس و پریشان کر دیا۔ اس واقعہ کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین فقط تفتیشی ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے اسلام آباد میں پے در پے ہوئے ایسے واقعات کو ہماری پولیس اب تک منطقی انجام تک پہنچا نہیں پائی ہے۔ کاش اس جانب بھی کوئی توجہ دے۔

Read more

زمینی حقائق نظرانداز کرتا ہمارا روایتی اور سوشل میڈیا

ہمارے عقیدے کے مطابق مکہ اور مدینہ یقیناً مقدس ترین شہر ہیں۔ ان کے بعد مگر بیت المقدس کا ذکر بھی ضروری ہے اور وہاں موجود مسجد اقصیٰ۔ رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع کے دن سے پیر کی صبح یہ کالم لکھنے تک اسرائیل کی پولیس اور امن وامان کو یقینی بنانے کے دعوے دار ادارے بلاتعطل اس مسجد کی بے دریغ بے حرمتی میں مصروف ہیں۔ نہتے فلسطینی شہریوں کو زمین پر پٹخ کر ان کی گردنوں پر گھٹنا رکھتے ہوئے وحشیانہ طاقت کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں خواتین کو بھی بخشا نہیں جا رہا۔ ٹویٹر وغیرہ پر خواتین کے احترام اور حقوق کے چمپئن بنے بے تحاشا افراد مگر ان پر ہوئے ظلم کی بابت منافقانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسا کوئی ایک واقعہ اگر کسی مسلمان ملک کی پولیس کی وجہ سے رونما ہوا ہوتا تو سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں کئی روز تک واویلا مچارہتا۔

Read more

ہم نہیں سیکھیں گے!

یہ گھڑی موت کی ہے۔پاکستان اور بھارت کے عوام ایمبولینسوں میں ،ہسپتالوں کے مرکزی دروازوں اورکورونا وارڈ ز میں ،گھروں کے تاریک کمروں میں اور ہسپتالوں کی طرف دوڑتی ہوئی حالت میں مَر رہے ہیں اور بہت ہی بے بسی سے مَر رہے ہیں۔کہیں آکسیجن نہیں ،کہیں وینٹی لیٹر نہیں،کہیں ہسپتالوں میں خالی بیڈ نہیں،کہیں فارمیسی میں دوائیاں نہیں۔مگر میڈیکل سٹورز ماسک سے بھرے پڑے ہیں ،حتیٰ کہ گلی محلوں میں ماسک بیچنے والوں کی صدائیں گونجتی رہتی ہیں ،یہ

Read more

شہباز شریف کا امتحان!

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سات ماہ جیل کی ہوا کھانے کے بعد ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اس طرح خواجہ آصف کے سوا مسلم لیگ (ن) کی تمام قیادت ضمانتوں پر رہا ہو چکی ہے۔ شہباز شریف کی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت کی کارروائی کے دوران دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی، پہلے عدالت عالیہ کے ڈویڑن بینچ کے ایک جج مسٹر جسٹس سرفراز ڈوگرنے ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا

Read more

کرونا… اور مودی سرکار کی رعونت

علم سماجیات کے متعدد ماہرین ماضی میں وحشت پھیلاتی کئی وبائوں کے حوالے دیتے ہوئے اصرار کئے جارہے ہیں کہ کرونا کے بعد پورے عالم میں روزمرہّ زندگی کا چال چلن ویسا نہیں رہے گا جس کے ہم برسوں سے عادی ہوچکے ہیں۔ ان کے لکھے چند مضامین جو ٹھوس حوالوں اور اعدادوشمار کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے اپنا مؤقف بیان کررہے تھے، میں نے بھی بہت غور سے پڑھے ہیں۔ کنویں میں بند مینڈک کی طرح مگر اپنے حال

Read more

موت گھر گھر کی کہانی

کورونا کی وبا نے ایسے مہلک وار کرنا شروع کردیئے ہیںکہ کل تلک جن کا تصور بھی محال تھا۔ہلاکتیں اب ہر گلی محلے کی کہانی ہے۔ احتیاط کا دامن نہ تھما تو جلدہی کورونا سے ہونے والی اموات گھر گھر کی کہانی ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ موت ہم سب کے تعاقب میں ہے اور ہم بے خبر گہری نیند سو رہے ہیں۔ کورونا کے تیسرے وار نے ہمارے پڑوس میں بھارت کی گلیوں اور بازاروں کو ویران کردیا۔گلی گلی شہرشہر

Read more

دِلوں میں اُمڈتے شکوک و شبہات

ٹی وی ’’صحافت‘‘ یقینا Ratingsکی غلام ہوچکی ہے۔ اس کی وجوہات اگرچہ سمجھی جاسکتی ہیں۔24/7نشریات چلانے کے لئے وافر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ ان نشریات کو دیکھنے والے ٹی وی اداروں کو ان کی ’’قیمت‘‘ ادا نہیں کرتے۔اس ضمن میں جو ’’فیس‘‘ ہوتی ہے وہ کیبل آپریٹروں کو چلی جاتی ہے۔اپنی نشریات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے ٹی وی ادارے ان آپریٹروں کے ’’محتاج‘‘ ہوتے ہیں۔ کسی بھی ٹی وی چینل کی پہلی ترجیح یہ ہوتی

Read more

غلطیاں نہ دہرائی جائیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو آج کل متحدہ عرب امارات ،ترکی اور ایران کے دورے پر ہیں ،نے پاکستان کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ یہ پاکستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ امریکہ اورطالبان کے درمیان معاہدہ اور مختلف گروپوں کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے امید کا اظہا ر کیا ہے کہ تمام فریق افغا نستان میں امن لائیں گے۔24 اپریل کواستنبول میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس جس میں

Read more

وزیراعظم کا خطاب اور سپیکر کی گھبراہٹ

وزیر اعظم کا قوم سے خطاب معمولی واقعہ نہیں ہوتا۔ بحران کے دنوں میں ’’اچانک‘‘ ہو تو اس کا واحد مقصد بحران کا سبب ہوئے کسی موضوع کی بابت حتمی رائے کا اظہار ہوتا ہے۔اس تناظر میں گویا ریاست اور حکومت کی جانب سے بہت سوچ بچار کے بعد اپنائی پالیسی۔ پیر کی سہ پہر عمران خان صاحب نے قوم سے خطاب کیا۔ذاتی طورپر مجھے یہ خطاب قبل از وقت محسوس ہوا۔وجہ اسکی یہ تھی مذکورہ خطاب سے دو گھٹنے

Read more

پی ٹی آئی کی کہانی ختم تو نہیں ہو گئی ؟

پاکستان بھلے لوہے سے مضبوط ہو‘ سیاسی نظام کانچ کا ہے۔ چند ہفتے قبل پی ڈی ایم حکومت سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا۔ وہ پی ڈی ایم جسے مشترکہ طور پر سینٹ میں اکثریت حاصل تھی اور جسے چند نشستوں کا کندھا مل جائے تو وہ مرکز اور پنجاب میں حکومتیں بدل سکتا تھا۔ پی ڈی ایم کو ٹکڑے کرنے والا حکومتی وجود اب خود ہوائوں سے لرز رہا ہے۔ کسی ریاست اور سماج کو استحکام اور خوشحالی

Read more

یہ حکومت کامیاب ہو سکے گی ؟

جولائی دوہزار اَٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی حکومت کو اقتدار میں آئے تین برس کا عرصہ ہونے کو ہے۔اس مُدت میں کئی موڑ ایسے آئے ،جہاں حکومت کو یہ ثابت کرنا تھا کہ اِن پر عوام کے اعتماد کافیصلہ دُرست تھا۔مگر حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ۔ اس عرصہ میں حکومت عوام کے مسائل پر قابو پاتی، لیکن یہ اپنی توانائی اپنے لیے نئے مسائل پیدا کرنے پر صَرف کرتی

Read more

خدارا صحافت کو اپنے فرائض نبھانے دیں

پنجابی کا ایک محاورہ اس کالم میں بارہادہراتے ہوئے اُکتانہیں بلکہ تھک چکا ہوں۔ یہ محاورہ متنبہ کرتا ہے کہ اکثر اوقات ہاتھوں سے لگائی گرہوں کو دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے۔کئی حوالوں سے ریاستی قوت بھی ’’دانت‘‘ کی مانند ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ ’’دانت‘‘گزشتہ ہفتے کے آغاز سے مسلسل استعمال ہورہا ہے۔گرہیں مگر کھلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ میری دانست میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ’’دانت‘‘ کو گرہوں کے بجائے غیر متعلقہ جگہوں

Read more

روٹی نہیں تو سونا بھی مٹی

پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے اردو سیکھی اور اس میں نام پیدا کیا لیکن نہیں معلوم یہ کیسے ہو گیا کہ اردو کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دیگر قومی زبانوں سے بھی شناسائی پیدا ہوتی چلی گئی، ہندکو پر تو ایسی دسترس ہوئی کہ اس کی گرامر تک لکھ ڈالی: ’ایسے کہتے ہیں سخن ور سہرا‘۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی یاد آگئے، مرحوم گفتگو کے دھنی تھے، کانوں میں رس گھولنے والی گفتگو کے

Read more

کیا شوکت ترین معیشت کوسہارا دے پائیں گے؟

ہفتے کے دن بالآخر شوکت فیاض ترین صاحب نے بطور وزیر خزانہ ایوانِ صدر جاکر حلف اُٹھا ہی لیا۔انہیں یہ عہدہ سونپنے کی کاوش 2019میں بھی ہوئی تھی۔اسد عمر کی پالیسیوں سے ان دنوں ہمارے مختلف النوع دھندوں کے اجارہ دارمطمئن نہیں تھے۔وہ تواتر سے کسی موضوع یا شخصیت کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار شروع کردیں تو قومی سلامتی کے ذمہ دار بھی پریشان ہوجاتے ہیں۔’’متبادل‘‘ کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ مجھے ہرگز خبر نہیں کہ شوکت ترین

Read more

افغانستان میں امن امکانات اور خطے کا استحکام

افغانستان کا تنازع مختلف ادوار میں مختلف پہلوئوں سے زیر بحث رہا ہے۔حالیہ دنوں طے ہوتے تنازع پر ایک بار پھر دھند امنڈنے لگی ہے جسے بہرحال ایک دن چھٹ جانا ہے۔ سوویت قبضے کے دوران کمیونزم‘ سرد جنگ اور جہاد افغان بحث کے نکات تھے۔ سوویت انہدام کے بعد نئے وسط ایشیا کی تشکیل‘ افغانستان کی خانہ جنگی اور امریکی لاتعلقی کے موضوعات افغانستان کے معاملے کو چمکائے رکھتے۔ پھر ملا عمر اور طالبان کا ستارہ چمکا۔ اسامہ بن

Read more

پی ڈی ایم کا گنجل

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھری محفل میں جو پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس تھا بڑے جوشیلے انداز میں پی ڈی ایم کے سیکرٹری شاہد خاقان عباسی کا جاری کر دہ شوکاز نوٹس پھاڑ دیا۔ واضح رہے کہ پی ڈی ایم نے پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں بلوچستان کی حکمران جماعت ’باپ‘ کی ووٹو ں کی عملی طور پر مدد حاصل کرنے پر نوٹس جا ری کیا تھا۔ گویا کہ

Read more

رحمن صاحب: ’’اچھے زمانے تھے‘‘

ابن عبدالرحمان بھی چلے گئے۔ ہم انہیں رحمن صاحب پکارتے تھے۔بقیہ لوگوں کے لئے وہ آئی اے رحمان تھے جو اخبارات کے لئے کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ان کے انتقال کی خبر آئی تو ٹی وی سکرینوں پر ان کا ذکر ’’انسانی حقوق کے علمبردار‘‘ کی حیثیت میں ہوا۔اس Cause سے ان کی وابستگی یقینا بہت گہری اور پُرخلوص تھی۔ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے تاہم مجھے دُکھ یہ سوچتے ہوئے محسوس ہوتا رہا کہ وہ ہر اعتبار سے ایک مجسم

Read more

وزارت اطلاعات میں فواد چودھری کی واپسی

اتوار کی صبح یہ کالم لکھتے ہوئے امیدباندھی تھی کہ ڈسکہ کا ضمنی انتخاب ہارنے کے بعد تحریک انصاف کو کچھ ’’نیا‘ ‘ کرنا ہوگا۔ رات سونے سے قبل اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر نگاہ ڈالی تو ’’خبر‘‘ملی کہ وزیر اعظم صاحب نے فواد چودھری صاحب کو ’’ہنگامی‘‘ دِکھتی ایک ملاقات کے لئے بنی گالہ طلب کیا۔ملاقات ہوجانے کے بعد انہیں وزارتِ اطلاعات کا اضافی چارج دئیے جانے کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ شبلی فراز اس تبدیلی کی بابت اگرچہ لاعلمی

Read more

بھارت کو اب روہنگیوں سے خطرہ ہے

گزشتہ ہفتے بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اور ایسا فیصلہ دیا جو انسانی حقوق اور پناہ گزینوں سے متعلق کسی بھی معاہدے کی کسی بھی شق پر پورا نہیں اترتا۔مگر سپریم کورٹ تو بادشاہ ہے اور بادشاہ کا ہاتھ اور قلم کون پکڑ سکتا ہے۔ بھارت کے ہمسائے میانمار کے موجودہ حالات سے توآپ بخوبی واقف ہیں کہ کس بے دردی سے جمہوری عمل کی بحالی کے لیے نکل آنے والے لاکھوں شہریوں سے فوجی حکومت نمٹ رہی ہے اور

Read more

جہانگیر ترین کس کا اثاثہ ؟

برسوں پہلے فاخرہ بتول کا انٹرویو میری ساتھی بابری رضوی مرحومہ نے کیا۔ ہم نے فاخرہ کا شعر نمایاں طور پر شائع کیا: میں نے سمجھا تھا سمندر تم کو ’’تھا‘‘ کا مطلب تمہیں آتا ہو گا مشتاق منہاس‘ اسلم ڈوگر اور وحید چودھری سے لے کر ہمارے سلیم ممتاز چودھری تک یہ شعر گنگناتے پھرتے۔ اسلام آباد جائوں تو آج بھی دوست اس شعر کو پڑھ کر ’’تھا‘‘ کی معنویت کو نئے پہلوئوں سے دریافت کرتے نظر آتے ہیں۔

Read more

نالائقی نہیں تواور کیا؟

حالات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے عزم مصمم اورحکومتی ترجمانوں کے بلندبانگ دعوئوں کے باوجود اقتصادی صورتحال رجعت قہقری کا شکار ہے، اسے اتفاق ہی کہنا چاہیے کہ سرمنڈاتے ہی اولے پڑے۔ آئی ایم ایف کا زوردار پیکیج، جس کے تحت ہمیں اس عالمی مالیاتی سرکار نے پچاس کروڑ ڈالر کی مدد دینے کی منظوری دی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس رقم کے حصول کے لیے جونئی شرائط عائد کیں وہ ہمارے لیے مہنگائی کی ایک نئی لہر

Read more

جہانگیر ترین کے پاس سیاسی غلطی کی گنجائش نہیں!

اس وقت سیاسی منظرنامے میں جہانگیر ترین گہرے نقوش کے ساتھ موجود ہیں۔جہانگیر ترین اپوزیشن جماعتوں خصوصی طورپر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے اُمید کی کرن اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔تیس کے قریب صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان ،جو جہانگیر ترین کی طاقت ہونے کا احساس دلارہے ہیں ،ایک لحاظ سے عمران خان کے طرزِ حکومت و طرزِ سیاست میں بے پناہ خامیوں اور کمزوریوں کا اظہاریہ بھی

Read more

امریکہ یا روس

نو برس بعد روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف پاکستان تشریف لائے تو ملک کے طو ل وعرض میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ پاکستان امریکہ یا اہل مغرب سے ناطہ توڑ کر حلقہ بگوش روس ہونے جارہاہے ؟پاکستان کے اندر ایک طبقہ ہمیشہ موجود رہاہے ،جو پاکستان کو روس یا امریکہ میں سے کسی ایک بلاک میں شامل کرانے پر تلا رہتاہے۔ پاکستان نے گزشتہ دس پندرہ برسوں میں تسلسل کے ساتھ روس کے تعلقات میں پائی جانے والی تلخی

Read more

سرپیٹ لینے کی تیاری

’’صحافت‘‘ کو ’’غیر جانب داری‘‘ کا ڈھونگ رچانے کے لئے کئی صورتیں اختیار کرنا ہوتی ہیں۔ٹی وی سکرینوں پر’’رواں تبصرہ‘‘ بھی ایسی ہی ایک قسم ہے۔ کوئی اہم واقعہ ہو تو اسے ’’خاص نگاہ‘‘ سے دیکھنے والے تبصرہ نگار سکرینوں پر ہجوم کی طرح جمع ہوجاتے ہیں۔یوں تمام ’’فریقین‘‘ کی ’’نمائندگی‘‘ ہوجاتی ہے۔ ان کی بدولت ہوا ’’تجزیہ‘‘ ٹھوس حقائق کو تاہم ہمارے سامنے لانے میںہمیشہ ناکام رہتا ہے۔ ’’تجزیہ‘‘ درحقیقت اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تعصبات سے لدے ’’بیانیوں‘

Read more

’’تزویراتی ‘‘ محاذ پر بنامنظر

کسی زمانے میں عمران خان صاحب کے قریب ترین رہے جہانگیر ترین بالآخر ٹی وی سکرینوں پر پھٹ پڑے ہیں۔ اندازے اب یہ لگائے جارہے ہیں کہ تحریک انصاف کی صفوں میں سے مزید کتنے ایم این ایز او ر ایم پی ایز ان سے یکجہتی کے اظہار کو مجبور ہوں گے۔ عمران صاحب سے تقاضہ ہوگا کہ وہ اپنے دیرینہ دوست کو انصاف فرا ہم کریں جن کے نجی طیارے نے انہیں وزیر اعظم کے منصب تک پہنچانے میں

Read more

’’ہمارے نمائندوں‘‘ کی اصل ترجیح؟

بالآخر منگل 6 اپریل 2021کے روز میں نے کرونا سے تحفظ فراہم کرنے والا ٹیکہ لگوالیا ہے۔معاملہ ذاتی تھا تاہم 31مارچ سے اس کی بابت تسلسل سے لکھا۔ مقصد توجہ کا حصول نہیں تھا۔ سرکارکی خصوصی شفقت بھی درکار نہیں تھی۔ صحافیانہ تجسس کو بروئے کارلاتے ہوئے درحقیقت اس نظام کی خامیوں کی نشان دہی مقصود تھی جو حکومت نے کرونا سے تحفظ والی ویکسین کی فراہمی کے لئے اختیار کررکھا ہے۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ

Read more

بے بسی کاگِدھ

عجیب دِن ہیں،بے بسی کا گِدھ ہمہ وقت ٹھونگے مارتارہتا ہے۔بے بسی نے خوف کو جنم دیا ہے،خوف بھی،وسوسوں میں لپٹا ہوا۔بے بسی میں وسوسے ہوتے ہیں اور وسوسے انسان کے دُشمن ہیں۔وباء کا اثرپھیلتا جارہا ہے،یہاں بہ ظاہر سال بھر پہلے وباء پھوٹی ،مگر بے بسی اور خوف سے تو یوں معلوم پڑتا ہے کہ اس ملک پر تہتر برس سے وبا کا قبضہ ہے۔ ہرلحظہ بے بسی اور خوف میں لپٹا ہوا۔یہ عجیب دِن ہر ایک کے لیے

Read more

کوئی مثبت سمت نہیں۔۔۔

نو منتخب سینٹ کے انتخاب کے پہلے اجلاس میں ہی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اپوزیشن اتحادی جماعتوں پی ڈی ایم کی صفوں میں ایسی دراڑ پڑ چکی ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہو گا ۔ اگرچہ لیڈر آف اپوزیشن یوسف رضا گیلانی نے نہ صرف اپوزیشن کے بارے میں مجموعی طور پر صلح جوئی کا رویہ اختیار کیا بلکہ حکومتی بینچوں کی طرف بھی اسی طرح کے تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی

Read more

ویکسین: رسد کم طلب زیادہ مگر گھبرانا نہیں

کرونا سے تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین کے حوالے سے میری کہانی ابھی انجام کو نہیں پہنچی۔ گزرے جمعہ کی شام اسے لگانے کے سرکاری بندوبست والے خود کار نظام کی بدولت مجھے اپنے فون نمبر پر ایک کوڈ نمبر وصول ہوگیا۔ہدایت یہ بھی تھی کہ قومی شناختی کاڈ سمیت کوڈ والے پیغام کو اپنے گھر کے نزدیک کسی ویکسین سنٹر پر دکھائو اور ٹیکہ لگوالو۔ مذکورہ پیغام مجھے ایک ماہ کے ا نتظار کے بعد ملا تھا۔ طویل انتظارنے

Read more

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟

آسیب سے وابستہ پراسراریت نے ہمیشہ مجھے اپنی جانب کھینچا۔ایک تو یہ دکھائی نہیں دیتے مگر کام پورا پورا کرتے ہیں۔انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کسی انسان پر قبضہ کر کے اپنی کارروائی ڈالتے ہیں۔گویا ایک خاص عرصے کے لیے آپ کو ہیک کر کے معمول بنا لیتے ہیں اور پھر ایک دن معمول کو بے یار و مددگار چھوڑ کے چمپت ہو جاتے ہیں اور کسی اور جسم میں حلول کر جاتے ہیں۔ کچھ آسیب جسم

Read more

سوشل میڈیا مضمرات : ’’مفت ویکسین ‘‘

کئی مہینوں سے اس کالم کے باقاعدہ قارئین کی اکثریت اصرار کررہی ہے کہ محض اخبارات کے لئے لکھنے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔زمانہ بدل چکا ہے۔دورِ حاضر کا مؤثر ترین ذریعہ اظہار یوٹیوب ہے۔مجھے اپنی کاہلی پر قابو پاتے ہوئے اس سے رجوع کرنا چاہیے۔ذہن بنجر ہوا محسوس ہورہا ہے تو کم از کم اخبار میں چھپے کالم کو اپنی تصویر اور آواز سمیت یوٹیوب چینل پر دہرادوں۔یوں میرے خیالات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ جائیں گے۔جی مگر

Read more

کورونا کی تیسری لہر اور ہمارے روّیے

ہمارے ہاں کورونا وبا ء کا پہلا مریض چھبیس فروری دوہزار بیس کو سامنے آیا تھا۔یوں یہ وباء لگ بھگ تیرہ ماہ سے موجود ہے ۔پہلی لہر میں شدت مئی اور جون دوہزار بیس میں آئی تھی ،جولائی کا مہینہ بھی مشکل تھا۔ بعدازاں آہستہ بہ آہستہ اس کا زور ٹوٹنا شروع ہوا اور اگلے دوایک ماہ تو یوں محسوس ہوا کہ وباء پر مکمل قابو پایاجاچکا ہے ،مگر پھر دوسری لہر شروع ہوگئی ۔ دوسری لہر کو پہلی لہر

Read more

بازیچہ اطفال

حالیہ قومی اہمیت کے معاملات میں جن کے محرکات بین الاقوامی ہیں کی بنا پر پاکستان کی سبکی تو ہوئی ہے لیکن اس سے زیادہ خان صاحب کا انداز حکمرانی طشت از بام ہو گیا ہے۔حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے بھارت سے چینی، کپاس اوریارن کی درآمد کھولنے کے فیصلے اور بعد میں کابینہ کی طرف سے اسے مسترد کیے جانے سے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ فیصلے کب، کہاں اور کیسے ہوتے ہیں۔ اسی قسم کی بوالعجبیوں

Read more

دیدہ ور، شوکت علی

شوکت علی سے دوستی کا دعویٰ نہیں۔شناسائی البتہ بہت پرانی تھی۔ زیادہ ملاقاتیں ریڈیو پاکستان لاہورکی کینٹین میں ہوئیں۔مختلف شعبوں کے نامی گرامی فن کاروں سے بے تکلف ملاقاتوں کا ایک ٹھکانہ لاہور آرٹس کونسل کے درختوں کے نیچے رکھی ٹوٹی پھوٹی میز اور کرسیاںبھی ہوا کرتی تھیں۔مجھے ہرگز علم نہیں کہ شوکت علی کا تعلق موسیقاروں کے کس گھرانے سے تھا۔اس گھرانے کا مخصوص آہنگ کیا ہے۔ اس کی گرجدار آواز نے اگرچہ ہمیشہ حیران کیا۔ اُونچے سروں میں

Read more

کشمیر:ترجیحات طے کیجیے

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامے میں تیزی سے ایسی تبدیلیاںرونما ہورہی ہیں جو طویل المعیاد اثرات کی حامل ہیں۔بھارت بتدریج لیکن مستقل مزاجی سے زمینی حقائق تبدیل کر رہا ہے۔ چنانچہ کشمیری مسلمانوں کی معاشی، سیاسی اور انتظامی بالادستی تیزی کے ساتھ کم ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں آبادیاتی تبدیلی بھی ایک حقیقت کے طور پر متشکل ہورہی

Read more

حسینہ کی شرائط اور پاک بنگلہ رابطے

اس بار نریندر مودی بنگلہ دیش گئے تو وہ پہلے سے زیادہ شدت پسندانہ بہروپ بھرے ہوئے تھے۔ سر اور داڑھی کے بال سادھوئوں سے ہو گئے ہیں‘ مودی کے بنگلہ دیش آتے ہی ہنگامے شروع ہو گئے۔اٹھارہ افراد اب تک جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بنگالی مسلمان مودی کو واپس جانے کا کہہ رہے تھے۔ آخر عوامی لیگ حکومت کو دو دن سوشل میڈیا پر پابندی لگانا پڑی تاکہ مودی کی آمد پر ملک میں ہونے والے فسادات عالمی

Read more

حفیظ شیخ کی فراغت …مگر

تاریخ اور مہینہ یاد نہیں رہا۔ غالباََ گزشتہ برس کے ستمبر یا اکتوبر میں یہ واقعہ ہوا تھا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس تھا۔ وہاں ڈاکٹر حفیظ شیخ صاحب نے اپنے لیپ ٹاپ کے بٹن دباتے ہوئے چند اعدادوشمار دکھائے۔ان کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ ہماری معیشت بالآخر ’’بحال‘‘ ہوجانے کے بعد ’’استحکام‘‘ کی جانب گامزن ہے۔ اگلا موڑ یقینا خوشحالی کی جانب لے جائے گا۔اعدادوشمار سے لدی یہ Presentationختم ہوئی تو اجلاس میں خاموشی چھاگئی۔ ندیم افضل چن نے

Read more

چین ایران معاہدہ!

ہمارے خطے میں چین کا ایران کو’ ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے ’سی پیک‘ میں شامل کرنا ایک بڑا واقعہ ہے جس کے جیو سٹرٹیجک محرکات ہیں جو محض اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ ایشیا سے یورپ تک پھیلیں گے۔ بھارت اور امریکہ تو پہلے ہی سی پیک کے تحت پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر چیں بجبیں ہیں لیکن ون بیلٹ ون روڈ کے معاہدے میں اب چین کے ساتھ ایران کا شامل

Read more

پورے سماج کو علاج کی ضرورت ہے

کیمیکلز ہماری زندگی میں شامل ہیں‘ کیمیکل چیزیں بناتے ہیں‘ رنگ بناتے ہیں‘ ذائقے اور خوشبو کو محفوظ کرتے ہیں‘ کچھ کیمیکلز ہمارا موڈ بدلتے ہیں‘ ہماری کڑوی زبان پر میٹھے لفظوں کا جھرنا جاری کرتے ہیں۔ ہماری اداسی کو خوشی میں بدل دیتے ہیں اور ہم دنیا سے بیزار رہنا چھوڑ دیتے ہیں‘ یہ کیمیکل اس قدر آسانی سے مل سکتے ہیں مجھے اندازہ نہیں تھا‘ پہلے ان کیمیائی مادوں کو جان لیتے ہیں پھر ان کی کمی کے

Read more

افضل گرو ، مولانا روم اور انصاف

مجھے آج اچانک سے افضل گرو کیسے یاد آ گیا ؟ یہ  آگے چل کے بتاؤں گا۔مگر افضل گرو شائد آپ کو بھی یاد ہو۔وہی جسے بھارتی پارلیمنٹ پر تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے حملے کی سازش کا حصہ ہونے کے جرم میں  بارہ برس قیدِ تنہائی میں رکھنے کے بعد نو فروری دو ہزار تیرہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔اس کی اپیل ہر عدالتی فورم پر مسترد ہوئی۔بعد ازاں صدر مملکت پرنب مکھر جی نے

Read more

پاکستان، آئی ایم ایف اور بائیڈن

یہ حقیقت دریافت کرنے کے لئے آپ کو آکسفورڈ یا ہارورڈ جیسی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری درکار نہیں کہ امریکہ کی منظوری کے بغیر آئی ایم ایف کسی ملک کو ایک ڈالر بھی فراہم نہیں کرسکتا۔امریکہ کا اس معاملے میں حتمی کردار سمجھنا ہو تو یہ تاریخی حقیقت بھی ذہن میں رکھیں کہ دوسری جنگ عظیم کی لائی تباہی سے نبردآزما ہونے کے لئے برطانیہ کو بھی آئی ایم ایف سے ’’امدادی پیکیج‘‘ کی شدید ضرورت محسوس

Read more

آئی ایم ایف: ہماری خودمختاری اور پارلیمان

خواب تو ہمیں یہ دکھائے گئے تھے کہ ’’جب آئے گا عمران‘‘ تو گزشتہ کئی برسوں سے اقتدار میں باریاں لینے والوں کو چوکوں میں اُلٹا لٹکادیا جائے گا۔اپنی جان بچانے کے لئے وہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں لوٹانا شروع کردیں گے۔مقبول ترین اندازے کے مطابق کڑے احتساب کے ممکنہ عمل کی بدولت ریاستِ پاکستان کو کم از کم 200 ارب ڈالر کے قریب رقم مل جائے گی۔بیرونی قرضوں کی یکمشت ادائیگی کے بعد بقیہ بچی

Read more

پی ڈی ایم مگرسیاست اپنی اپنی؟

سابق وزیراعظم یو سف رضا گیلانی جنہوں نے اسلام آباد کی جنرل نشست پر قومی اسمبلی کے ارکان کے ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوکربڑا معرکہ مارا تھا، نے بڑے طمطراق سے چیئر مین سینیٹ کا انتخاب لڑا لیکن اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سات ارکان انہیں دغا دے گئے۔ کہتے ہیں کہ اس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کلیدی کردارادا کیا۔ ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے گیلانی کا چیئرمین بننا اس کے

Read more

لکیر کھنچنا کیوں ضروری ہے؟

حالیہ سینیٹ انتخابات سے جمہوری اقدار بُری طرح پامال ہوئی ہیں۔مقامِ افسوس ہے کہ جمہوریت کی عزت پر وار خود کو جمہوری و سیاسی کہنے والوں کی جانب سے کیے گئے ہیں ۔یوسف رضا گیلانی کا سینیٹر بننا،صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ بننا اور پھر یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننا ،سب کا سب غیر جمہوری انداز سے ہوا۔ ہر طرف سے اپنی اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے جو حربے استعمال کیے گئے ،وہ اس

Read more

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان تلخی میں وقفہ

غالباً  آصف زرداری سے مولانا فضل الرحمن کی اپیل پرکہ بچوں کی لڑائی بند کرائیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پا رٹی کے درمیان بیان با زی میں تلخی کم ہوئی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بلا ول بھٹو اور مر یم نواز کے درمیان منہ ما ری میں کچھ توقف آیا ہے۔ مولا نا کے علا وہ بی این پی مینگل گروپ کے سربراہ اختر مینگل نے بھی بلاول ہاؤس میں ملاقات میں آصف زرداری سے اپیل کی کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاملات درست کر یں۔

Read more

اسلامیہ کالج سول لائنز میں دفن تاریخ

کئی بار زندگی بڑا حیران کر دیتی ہے۔ اسلامیہ کالج سول لائنز کی لائبریری کے دائیں ہاتھ ایک خستہ حال عمارت ہوتی تھی۔ اس کی چھت دیکھ کر ہم قیاس کیا کرتے کہ کبھی چھوٹا سا مندر ہو گا۔ البتہ عمارت کے تینوں گنبد اور محرابیں پنجاب کے کھلے تعمیراتی ذوق کا عکس ہیں۔ عمارت کے احاطے میں ایک تناور درخت تھا۔ بھری دوپہر میں بھی یہاں چھاؤں ہلکی سی شام کیے رکھتی ’گنبد والے ایک ملحقہ کمرے میں مالی اور بیلدار اپنے کھرپے‘ گھاس کاٹنے والی تلواریں ’کسیاں اور بیج وغیرہ رکھتے۔

Read more

”وقت مگر اب آگے بڑھ چکا ہے“

پاکستان کے صحافی خوش نصیب ہیں۔ انہیں مصروف رکھنے کے لئے نیب کے پاس ”چور اور لٹیروں“ کا روپ دھارے سیاست دانوں کی مبینہ کرپشن کے بارے میں ہزاروں کہانیاں ہیں۔ ”ذرائع“ کی مہربانی سے گھر بیٹھے میسر ہوجاتی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں نمودار ہوئی پھوٹ نے بھی رونق لگارکھی ہے۔

ایسی چٹ پٹی کہانیوں کے ہوتے ہوئے رپورٹروں کو یہ جاننے کے لئے جان کھپانے کی ضرورت نہیں کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ دوحہ مذاکرات کے ذریعے طے ہوئے معاہدے کے مطابق یکم مئی 2021 تک افغانستان سے امریکی افواج نکالے گی یا نہیں۔ مذکورہ وعدے پر عمل نہ ہوا تو طالبان کیا رویہ اختیار کریں گے۔

Read more

مریم نوازشریف کو یہ بات سمجھنی چاہیے!

میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور آصف علی زرداری کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری ،میدانِ سیاست میں ہیں۔ آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے(یعنی کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا) جبکہ مریم نواز کہتی ہے کہ میرے والد اگر واپس آتے ہیں تو اُن کی جان کو یہاں خطرہ ہے۔آصف علی زرداری اور اُن کی پارٹی مریم نواز کے خدشات کے جواب میں برملا کہتی ہے کہ سیاست کرنی ہے تو پھر

Read more

پیپلز پارٹی اور متبادل اپوزیشن اتحاد

مریم نواز اور ان کے والد بزرگوار نے اگرقومی و بین الاقوامی قانون‘ جمہوری روایات اور آئینی ساخت کو کسی استاد سے پڑھا اور سمجھا ہوتا تو انہیں اندازہ ہوتا کہ سیاست میں شخصیات کو چیلنج کیا جاتا ہے ریاست کو نہیں۔ بدقسمتی سے مریم نواز کا سیاسی ٹیلنٹ ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ قصور میاں نوازشریف کا ہے جنہوں نے بر وقت اپنے سیاسی جانشین کا فیصلہ نہ کیا۔ وہ پہلے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو

Read more

بلاول کے ہاتھوں پی ڈی ایم کا انتقال پُرملال

موسمیات کا میں ہرگز ماہر نہیں۔مارچ 2021کے تیسرے ہفتے سے مگر پاکستان کے کئی علاقوں میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ 2019 اور 2020 کا مارچ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔کئی مقامات شدید ژالہ باری کی زد میں بھی آئے تھے۔ تسلسل کی منطق کو نگاہ میں رکھیں تو گماں ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں صدیوں سے قائم بارشوں کا نظام یا Pattern بدل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے گندم جیسی بنیادی فصل کوسردیوں کا موسم ختم

Read more

خطے میں امن کی کوششیں؟

جوں جوں باقی ماند ہ امریکی افواج کی افغانستان سے انخلا کی ڈیڈلائن قریب آتی جا رہی ہے نئی امریکی انتظامیہ بھی عجلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یکم مئی کی ڈیڈلائن پر سختی سے عمل کرنا امریکہ کی اولین ترجیح ہے اور اگر اس پراسیس میں تاخیر بھی ہوئی تو وہ معمولی ہو گی۔ یقینا پاکستان افغان مسئلہ کے سیاسی حل کیلئے کلید ی کردار ادا

Read more

خود مختار الیکشن کمیشن چاہیے اور نہیں بھی چاہیے

انیس سو ساٹھ کی دہائی تک الیکشن کمیشن کم و بیش ایک روایتی سا بیورو کریٹک ادارہ تھا۔پہلے ، دوسرے ، تیسرے اور چوتھے چیف الیکشن کمشنر نوکر شاہ تھے۔ جسٹس عبدالستار پہلے جج تھے جو اپریل انیس سو انہتر میں چیف الیکشن کمشنر بنے۔انھوں نے انیس سو ستر کے انتخابات خوش اسلوبی سے کروائے اور سولہ جنوری انیس سو اکہتر کو سبکدوش ہو گئے۔مگر انیس سو تہتر کے آئین کے مطابق کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کا 

Read more

وزیراعظم کرونا میں مبتلا: دعائیں اور سفاکانہ ردّعمل بھی

مجھے تو اب یقیں ہوچلا ہے کہ ہمارے سینوں میں دھڑکتے دل نہیں بلکہ نفرت وغصے کے لاوے اُبل رہے ہیں۔لوگوں کے روبرو انہیں بیان کرنے سے مگر دل گھبراتا تھا۔ سوشل میڈیا نے بالآخر یہ سہولت فراہم کردی کہ تنہائی کی محفوظ پناہ گاہ میں بیٹھے جارحانہ زبان کے استعمال کے ذریعے مخالفوں کی بھد اُڑانا شروع ہوجائیں۔ تعصب کے غضب سے لدی کوئی پوسٹ جب ٹویٹر یا فیس بک پر رونما ہوتی ہے تو اسے دھڑا دھڑ Likes

Read more

استقلال مارشی

قسمت کی خوبی دیکھیے کہ فیض کہاں یاد آئے۔ وہ معرکہ چناق قلعے کی سو سالہ تقریبات تھیں جس میں تقریباً چالیس سربراہانِ مملکت و حکومت شریک تھے۔ اختتامی تقریب میں کنسرٹ تھا اور قائد جمہوریت رجب طیب ایردوآن کا خطاب۔ اس خطاب کی کشش ایسی تھی کہ لگتا تھا کہ شہر کا شہر امڈ آیا ہے۔ کانگریس سینٹر ہم نے بہت دیکھ رکھے ہیں لیکن یہ تو پوری جلسہ گاہ تھی جس میں ہزاروں ترک سما گئے۔ 1974 میں

Read more

’’حیات اقبال‘‘ کچھ الگ تھی

اقبال افغانستان گئے۔ وہاں عبدالمجید اتاشی کے ساتھ مذاق کا سلسلہ رہتا۔ ایک روز عبدالمجید اتاشی نے کہا!ڈاکٹر صاحب کیا اچھا ہو کہ آپ بھی انگلستان آتے ہوئے یادگار کے طور پر بیویاں لانے والوں کی طرح افغانستان سے جاتے وقت افغان خاتون سے شادی کر کے لے جائیں۔ اقبال نے پوچھا کہ یہ خاتون مجھ سے کیا برتائو کرے گی۔ مجید نے کہا کہ اچھا برتائو کرے گی‘ ہاں منہ نہار جگا کر حکم دیا کرے گی’’او ڈاکٹر او

Read more

کچھ تو ہو حکومتی اختیار!

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عوام کی ٹیلی فون کالز سننے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔،عوام بھی یہی کہتے ہونگے۔۔۔۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا سنائوں کیونکہ عوام کی روز مرہ زندگی کے معاملات اتنے گھمبیر ہوچکے ہیں کہ اب یہ فونز پر سننے کا نہیں بلکہ عمل کا وقت ہے۔  پارلیمانی نظام میں عوام کی نمائندگی ارکان اسمبلی کرتے ہیں لیکن ہم ایسے نام نہاد پارلیمانی جمہوری دور میں

Read more

عمران خان بھی مایوس کریں گے!

پاکستانی وزرائے اعظم کی تاریخ میں،قوی اِمکان ہے کہ عمران خان ،اقتدار کی مُدت پوری کرنے والے پہلے وزیرِاعظم بن جائیں گے۔ جہاں عمران خان یہ اعزاز اپنے نام کریں گے وہاں قوم کو مایوس کرنے میں بھی باقی تمام وزرائے اعظم پر سبقت پالیں گے۔ عمران خا ن سے پہلے میاں نواز شریف سب سے زیادہ قوم کو مایوس کرچکے ہیں۔مایوسی کے ضمن میں میاں نواز شریف کے پاس یہ عذر ہے کہ وہ تینوں بار مُدتِ اقتدار پوری

Read more

’’PDMتباہ دے‘‘

ٹی وی میں دیکھتا نہیں۔’’تازہ ترین‘‘سے باخبر رہنے کے لئے موبائل فون سے رجوع مگر ضروری ہے۔ منگل کی شام اس عادت کی بدولت تھوڑی دیر کو گماں یہ ہوا کہ پی ڈی ایم نامی اتحاد میں جمع ہوئی جماعتوں کے اہم ترین قائدین کے مابین اسلام آباد میں اندرونِ خانہ ’’مشاورت‘‘ نہیں ہورہی۔ کرکٹ کا T-20جیسا کوئی میچ بلکہ جاری ہے۔ ’’سب پہ بھاری‘‘ نے بلّا سنبھال رکھا ہے۔ لندن میں مقیم نواز شریف کی جانب سے آئے لوز

Read more

زرداری ،مریم اور مولانا

سولہ مارچ کی سہ پہر پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا۔اجلاس ختم ہوا تو پی ڈی ایم کے رہنما مولانا فضل الرحمن کی ہمرکابی میں پریس کانفرنس کرنے آئے۔پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن نے مختصراًگفتگو کے ذریعے یہ بتایا کہ پیپلزپارٹی پارلیمان سے استعفوں پر باقی نوجماعتوں سے اتفاق نہیں کرتی،نو جماعتیں استعفوں کے حق میں ہیں اور پیپلزپارٹی نے فیصلے کے لیے وقت مانگا ہے،لہٰذا تب تک لانگ مارچ ملتوی کیا جاتا ہے۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے

Read more

سیاسی گرمی میں مذاکرات کی دعوت؟

حکومت نے سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کے بعد اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دی ہے ۔ یہ دعوت وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فو ادچودھری اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس میں دی ۔ فواد چودھری کا کہنا تھااگر اپوزیشن حکومت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن ان کے مقدمات پر بات نہیں ہوسکتی، اپوزیشن لانگ مارچ منسوخ کر دے کیونکہ یہ میثاق جمہوریت کی

Read more

آخری میدان کہاں لگے گا

سامنے کا منظر یہ ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد ظاہر کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ حکومتی عہدیداروں‘ سکیورٹی اداروں اور سیاسی نمائندوں نے ڈسکہ الیکشن کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف وزی کی۔ ایک جھگڑا یہ ہے کہ مریم نواز کی دھمکیوں کے زیر اثر لیگی کارکن شہباز گل پر حملہ آور ہوئے اور پھر شہباز گل نے پریس کانفرنس میں مریم نواز کو کھری کھری سنائیں۔ تیسرا منظر یہ ہے کہ چیئرمین

Read more

سوشل میڈیا پر اُبھرتے نفرت کے جذبات

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل صاحب سے ملاقات کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ اپنی متحرک شخصیت کی وجہ سے تاہم ٹی وی سکرینوں پر چھائے رہتے ہیں۔ اندازِ گفتگوانتہائی جارحانہ ہے ۔اکثر ’’تمہیں کہو کہ یہ…‘‘ والا مصرعہ یاد دلادیتا ہے۔یہ سب کہنے کے باوجود اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ پیر کے دن لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے مجھے مزید گھبرادیا ہے۔ ’’مزید‘‘ کا لفظ میں نے اس

Read more

جج کو جج ہی جج کر سکتا ہے

روزانہ کا اطلاعاتی ریلا اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس میں ایسی خبریں بھی بہہ کے آگے نکل جاتی ہیں جن کا ہماری روزمرہ زندگیوں پر بہت گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ مثلاً سیاست ، جرائم ، اسکینڈلز اور سستے تلذز کی خبری طغیانی کے بیچ اس ماہ کی چھ تاریخ کو سپریم کورٹ کے جسٹس منظور احمد ملک ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل ایک بنچ نے چوبیس جنوری دو ہزار اٹھارہ کے

Read more

ایک بار پھر امریکی ڈومور

چند روز قبل چھپے ایک کالم میںیہ بیان کرنے کی کوشش کی تھی کہ سپرطاقتوں کی دونمبریاں بھی ’’سپرکلاس‘‘ ہوتی ہیں۔ اپنی عمر کی دو دہائیاں خارجہ امور کی بابت رپورٹنگ کی نذر کرتے ہوئے میں نے اس حقیقت کو بارہا بروئے کار دیکھا ہے۔میرے چند بہت ہی پڑھے لکھے دوست مگر وہ کالم پڑھنے کے بعد ناراض ہوگئے۔اصرار کرتے رہے کہ حال ہی میں منتخب ہوئی جوبائیڈن انتظامیہ ٹرمپ سے قطعی مختلف خیالات کی حامل ہے۔وہ امریکہ کو ایک

Read more

یوسف رضا گیلانی سینٹ چیئرمین کیوں نہ بن سکے؟

بارہ مارچ کے دِن سینٹ چیئرمین کے انتخاب میں ایک دلچسپ مقابلہ ہوا اوریوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہوگئے۔ان سات ووٹ کے مسترد ہونے پر ،یوسف رضاگیلانی چیئرمین سینٹ کے عہدے سے محروم ہوگئے۔پی ڈی ایم جماعتوں کے متفقہ اُمیدوار کاچیئرمین سینٹ نہ بننا ،سیاسی سطح پر معمولی واقعہ نہیں ۔اس انتخاب کی ہارجیت نے سیاسی اُفق پر وسیع پیمانے پر اپنے اثرات مُرتسم کرنے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ دونوں طرف سے فتح یابی کے تمام ’’حربے‘‘بروئے کار

Read more

سینٹ الیکشن: ریاستی قوت کا ٹریلر

چیئرمین سینٹ کے انتخاب سے قبل ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا میں سنجرانی یا گیلانی والا سوال اٹھاتے ہوئے جو شور برپا تھا میں نے اس سے خود کو لاتعلق رکھا۔محض ایک فقرے کے ذریعے عرض بھی کردی تھی کہ میں اس بحث میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔عمران خان صاحب کی جگہ ان دنوں کوئی اور شخص بھی وزیر اعظم کے منصب پر بیٹھا ہوتا تو قومی اسمبلی میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں

Read more

سینیٹ انتخابات میں شفافیت لائیں ، اسے لوٹ سیل نہ بنائیں

پارلیمنٹ کے ایوان بالاکے نئے ارکان کے انتخابات اور بعدازاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن جس انداز سے ہوئے اس سارے عمل میں اپوزیشن اور حکومت دونوں فریق جیت گئے لیکن جمہوریت کو شکست ہوگئی۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ سیاسیات اور اخلاقیات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، لیکن درحقیقت ایسا نہیں کیونکہ سیاستدانوں کی تمام تر قلابازیوں کے باوجود سیاست کی بنیاد بھی اخلاق ہی ہوتی ہے جس کا جنازہ نکال دیا گیا۔ اگرچہ اپوزیشن کو تکنیکی

Read more

’’تخت لہور ‘‘ شوباز اور بزدار

فقدان راحت سے گھبرائے افراد کامیاب لوگوں کے بارے میں حسد سے کڑھتے رہتے ہیں۔ میری اپنی زندگی بھی بے شمارناکام حسرتوں کی زد میں رہی ہے۔ میری مرحومہ ماں کی تربیت نے مگر صبر و قناعت کو طبیعت کا کلیدی حصہ بنادیا۔اپنے شعبے میں مشہور وخوش حال ساتھیوں کو دل سے سراہتا ہوں۔ ہمیشہ مصر رہا کہ ان میں یقینا کوئی خاص بات ہوگی جس نے انہیں صحافت جیسے مشکل دھندے میں بلند ترین مقام تک پہنچایا۔ نہایت خلوص

Read more

ہاتھوں کی لگائی گرہیں اب دانتوں سے کھولیں

کسی بھی زبان کے جو محاورے ہوتے ہیں وہ اسے بولنے والے معاشرے کی اجتماعی بصیرت کا بھرپور اظہار ہوتے ہیں۔اسی باعث میں تواتر کے ساتھ اس کالم میں پنجابی کے چند محاوروں کا تواتر سے حوالہ دیتا رہتا ہوں۔میرے پسندیدہ ترین محاوروں میں سے ایک کمال سادگی اور برجستگی سے خبردار کرتا ہے کہ ہاتھوں سے لگائی گرہوں کو بسااوقات دانتوں کے استعمال سے کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔منگل کے دن یہ محاورہ ایک بار پھر میرے ذہن میں

Read more

اب چیئرمین سینٹ کے لئے دوڑ

نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبارات پرنٹ صحافت کے زوال کے دنوں میں بھی کثیر تعداد میں شائع ہوتے ہیں۔ریاستی اور کاروباری حوالوں سے مقتدر اور مؤثر حلقوں میں انہیں غور سے پڑھا جاتا ہے۔ایسے اخبارات کے لئے مضامین یا کالم لکھنے والے جب کسی دوسرے اخبار میں چھپے مضمون یا کالم کا حوالہ دیتے ہیں تو اس اخبار اور زیر بحث مضمون یا کالم کے مصنف کا نام بھی لکھا جاتا ہے۔ ہماری صحافت میں اس روایت کو

Read more

مسئلہ صرف کوویڈ ویکسین کا نہیں

چند ماہ قبل خوشخبری آئی کہ سرکارِ عالی نے کوویڈ ویکسین کی خریداری کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی رقم مختص کردی ہے۔پھر پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نے قومی اسمبلی میں یہ خبر سنائی کہ عوام کو ویکسین مفت میسر ہو گی۔پھر خبر آئی کہ حکومت نے نجی شعبے کو بھی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔پھر خبر آئی کہ حکومت نے پندرہ فروری سے ملک میں ویکسینیشن پروگرام شروع کر دیا ہے۔ ایک تصویر بھی شایع ہوئی

Read more

خطے میں ہلچل مچا دینے والا خط

میری دانست میں فی الوقت سب سے بڑی ’’خبر‘‘ امریکی وزیر خارجہ کا وہ خط ہے جو اس نے افغان صدر اشرف غنی کو لکھا ہے۔اس خط کو غور سے پڑھیں تو بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے کئی ہفتوں تک مذکورہ خط کی وجہ سے فقط افغانستان ہی میں نہیں پاکستان سمیت ہمارے خطے میں بہت ہلچل مچی رہے گی۔ ابھی تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ہمیں اس گماں میں مبتلا رکھا تھا کہ افغانستان

Read more

تذکرہ ماضی کا، کہانی حال کی

عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لیا، اطمینان کا سانس لینے کے بعد تسبیح کلائی پر لپیٹی اور خم ٹھونک کر ’غداروں‘ کو للکارا۔یہی منظر تھا جسے دیکھ کر تاریخ کے دفینوں سے کئی واقعات نے سر اٹھایا، نیز کتابوں کے انبار تلے دب جانے والی ایک مختصرسی کتاب کی یاد آئی۔ برادر محترم ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے یہ کتاب عنایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فاروق بھائی! آپ اسے پڑھیں گے تو یوں سمجھیے، ماضی کی پر پیچ

Read more

’’کٹ‘‘ لگانے کا ماحول اور اندھی نفرت و عقیدت

میں لاہور کے ایک ایسے محلے میں پیدا ہوکر بڑا ہوا ہوں جو دوخاندانوں کے مابین پرانی دشمنی کی وجہ سے بہت بدنام تھا۔ میرے سکول اور کالج میں بنائے دوستوں کو اس محلے میں جانے سے خوف آتا تھا۔عمومی تاثر یہ تھا کہ وہاں پر روز گروہوں میں بٹے ’’بدمعاشوں‘‘ کے درمیان سربازار جھگڑے ہوتے ہیں۔ سوڈے کی بوتلوں کو ایک دوسرے پر پھینکنے سے ہوئے حملوں کا آغاز بسااوقات چاقوزنی کے ذریعے ہوئے قتل کا باعث ہوتا ہے۔

Read more

آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں

اہل تدبیر کی درماندگیاں آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں ایک رویہ ہے جو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے الگ الگ شکل میں اختیار کر رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی سب کے لئے قابل قبول ہونے کا تاثر دیتی ہے‘مکالمے‘ آئین کی بالا دستی ‘ پارلیمنٹ کے احترام اور جمہوری روایات کی پابندی کی بات کرتی ہے‘ پارٹی میں ابھی ایسے دانشور سیاسی رہنما موجود ہیں جو حالات کا فلسفیانہ تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو پارٹی کبھی

Read more

اعتماد کا ووٹ اور پارلیمنٹ کے باہر

سینیٹ میں پی ٹی آئی کی شکست کا غصہ اپوزیشن پر نکالنا تو قابل فہم ہے لیکن خان صاحب اور ان کے حواری الیکشن کمیشن پر بھی سخت برہم ہیں کہ یہ آئینی ادارہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں یکسر ناکام رہا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں اپنی پارٹی کے ارکان، جواپوزیشن کے ہاتھوں بک گئے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اپوزیشن والے شکلوں سے ہی غدار لگتے ہیں، شکست حکومتی

Read more

کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے بعد کیا ہوگا؟

24 فروری کو پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی)پر جنگ بندی پر سختی سے عمل درآمد کرنے پر اتفاق کا اعلان کرکے ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈالا۔ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف ، طاقت کے عالمی مراکز اور اقوام متحدہ نے اس اقدام کا بھرپورخیر مقدم کیا ۔ اس پیشرفت سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ دونوں ممالک میں حالت جنگ کی مسلسل کیفیت برقراررکھنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ امید ہے کہ یہ

Read more

گیلانی: فخر امام ٹو ہو جائے گا

گزرے اتوار کی دوپہر تک مجھے کامل یقین تھا کہ یوسف رضا گیلانی اسلام آباد سے سینٹ کی خالی ہوئی نشست پر ڈاکٹر حفیظ شیخ کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس دن کی شام سے مگر پنجابی محاورے والی ”ٹلیاں“ کھڑکنا شروع ہو گئیں۔ پیغام یہ ملا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے معاہدے کو برقرار رکھنے کے لئے شیخ صاحب کو ایوان بالامیں بھیجنا عمران حکومت ہی کی نہیں ریاست پاکستان کی ”مجبوری“ بھی ہے۔ اشاروں کنایوں میں اس کا ذکر بھی کر دیا۔ منگل کی دوپہر لیکن ایک انتہائی ”باخبر“ دوست سے ملاقات ہو گئی۔ وہ مصررہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے عمران حکومت سے وابستہ 16 کے قریب اراکین اسمبلی ”کسی نہ کسی صورت“ حفیظ شیخ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بدھ کی شام وہ درست ثابت ہو گئے۔

Read more

آج سینٹ الیکشن: ووٹنگ خفیہ ہو گی یا اوپن ؟

پاکستان کے تحریری آئین پر سرسری نگاہ بھی ڈالیں توہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھا ہر شخص ’’صادق اور امین‘‘ ہے۔ہماری سیاسی تاریخ میں البتہ ایک شخص -نواز شریف-سپریم کورٹ کو اس ضمن میں قائل نہ کرپایا۔ جرائم پیشہ مافیا کا سرغنہ قرار پاتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوا۔ یہ ’’سعادت‘‘ جہانگیر خان ترین کو بھی نصیب ہوئی۔ ان دو اصحاب کے علاوہ منتخب ایوانوں میں بیٹھے تمام افراد نظر بظاہر ’’صادق اور امین‘‘ ہی شمار ہوتے ہیں۔

Read more

سینیٹ الیکشن ، آج کڑا امتحان !

آ ج سینٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں لیکن ماضی کے برعکس اس بار سینٹ کے طریقہ انتخاب کہ خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوں یا کھلے بیلٹ کے ذریعے کے گہرے بادل سیاسی افق پر چھائے رہے، اس کی وجہ وہ صدارتی ریفرنس تھا جس میں سپریم کورٹ سے سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی رائے مانگی گئی تھی ۔ صدارتی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ بیلٹ سے الیکشن کی شفافیت متاثر ہوتی ہے اس لیے

Read more

سینٹ الیکشن خفیہ: سپریم کورٹ کی بالآخر رائے

سینٹ کی اس ماہ خالی ہونے والی 48 نشستوں پر انتخاب سے عین 48 گھنٹے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے بالآخر اس رائے کا اظہار کردیا کہ مذکورہ انتخاب کھلی یعنی Open پولنگ کے ذریعے منعقد نہیں کروائے جا سکتے۔ ہمارے تحریری آئین کا آرٹیکل 226صراحتاََ خفیہ ووٹنگ کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس میں ترمیم کئے بغیر آپ کوئی ایسی راہ دریافت نہیں کرسکتے جو واضح انداز میں بتاسکے کہ کونسے رکن قومی یا صوبائی اسمبلی نے سینٹ کے

Read more

پاکستان بھارت معاہدہ:’’خیر کی خبر‘‘

یوٹیوب پر جائو تو پاکستان کے ’’سینئر‘‘ صحافیوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے۔روزانہ کی بنیاد پر ’’اندر کی خبر‘‘ دیتے ہوئے حیران کردیتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی تاہم علم نہ ہوپایا کہ جنوبی ایشیاء کے دو ازلی دشمنوں-پاکستان اور بھارت-کے مابین مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔اس کی بدولت گزشتہ ہفتے بالآخر یہ خبر آئی کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشن کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوگیا ہے۔ کشمیر میں کھینچی لائن آف

Read more

تنقید کے نئے چراغ…

یہ گذشتہ روز کی بات ہے بہت ہی محترم اُستاداور نقاد ،جو کہ بہاﺅالدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میںشعبہ اُردو کے سربراہ بھی رہے ،کی فیس بک پریکے بعد دیگرے چار ادبی پوسٹ نظر سے گزریں۔ایک پوسٹ کی تحریر اور نیچے دی گئی تصاویر نے مجھے زیادہ چونکایا”تنقید کے نئے چراغ….اِن ہی کے دَم سے روشنی ہے“اس میں سولہ ”نئے چراغوں“کی تصاویر تھیں۔ میری کم علمی اور کوتاہ قامتی اپنی جگہ لیکن اِن سولہ میں سے دوسے تین ”نئے چراغوں“کے

Read more

سینما، فلم سازی اور سیاسی ’’شو‘‘

ایک زمانہ تھا۔سینما ہوتے تھے۔ان میں فلموں کی نمائش ہوتی۔ زندگی کی مشکلوں میں گھرے عوام کی کثیر تعداد انہیں دیکھ کر جی بہلانے کی کوشش کرتی۔چند فلمیں اتنی مقبول ہوجاتیں کہ 25 اور 50 ہفتوں تک مسلسل نمائش کے بعد ان کی سلور یا گولڈن جوبلی بہت اہتمام سے منائی جاتی۔ فلم دیکھنے کے لئے اگرچہ ’’بارہ آنے‘‘ کی ٹکٹ بھی مل جاتی۔اس کے لئے مختص نشستوں کی تعداد مگر بہت ہی کم ہوتی۔ محلوں اور تھڑوں میں روز

Read more