کینسر کی جنگ میں شریک حیات کی ضرورت اور نواز شریف سے اظہار ہمدردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے سیاسی معاملات سے ہٹ کر میری ان سے ایک طرح کی ذاتی ہمدردی ہے۔ وہ یہ کہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ ان دنوں جس موذی مرض کا شکار ہو کر لندن کے ایک اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ میں اور میرا خاندان اس کرب سے حال ہی میں گزر چکے ہیں۔

میری اہلیہ محترمہ ( اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ) کم و بیش تین ماہ کینسر کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد بالآخر گزشتہ ماہ اپنے ابدی سفر پر رخصت ہوئیں۔ میرے اور میرے خاندان کو گھر کے فرد کی بے موقع جدائی کی نتیجے میں حاصل ہونے والا صدمہ ان سطور میں ناقابل بیان ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے انسان چاہے تو بھی کچھ نہیں کر سکتا سوائے مغفرت کے۔

چنانچہ میں ہمیشہ اپنی شریک حیات کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کے ساتھ ساتھ بیگم کلثوم نواز سمیت ان تمام مریضوں کی صحت یابی کے لئے دعا گو رہتا ہوں، جو کینسر جیسے موذی مرض کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیونکہ مجھے اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تکالیف اور ان کے اہلخانہ پر گزر جانے والی صورتحال کا بخوبی ادراک ہے۔

بظاہر کینسر ایک بیماری ہے لیکن اس کا مقابلہ کسی محاذ پر لڑے جانے والے معرکے سے کم نہیں۔ معرکے میں دشمن سامنے نظر آجاتا ہے اور اس کی حملہ آوری و پسپائی کا خوب اندازہ لگا کر اپنے مورچے سنبھالنے پڑتے ہیں۔ لیکن اس جنگ میں دشمن کی پوزیشن کا علم صرف میڈیکل رپورٹس اور ڈاکٹروں کی زبانی ممکن ہے، جو بعض اوقات غلط بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ معرکہ کے لئے افرادی قوت اور مالی وسائل کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے، مگر کینسر کی جنگ میں یہ سارے لوازمات ایک فرد واحد یا خاندان کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یوں اس جنگ میں فتح اس خاندان کی خوش نصیبی اور شکست بدنصیبی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

میں نے اپنی اس مختصر زندگی میں کینسر کی بیماری کے بارے میں سنا ضرور تھا مگر اس کی علامات، تکالیف، علاج و معالجہ اور نتائج کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں تھا۔ لیکن بیگم کے اٹینڈنٹ کے طور پر کراچی کے آغا خان اسپتال میں گزارے جانے والے شب و روز سے نہ صرف کینسر بلکہ متعدد بیماریوں سے متعلق بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

کینسر کو عالمی سطح پر ایک موذی مرض کے طور پر مانا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس مرض کے شکار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی حیرت اور تشویش ناک ہے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ڈنمارک کینسر کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں ہر لاکھ میں سے 338 افراد کینسر کی مرض میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح فرانس، اسٹریلیا، بیلجیم، ناروے، امریکہ، ایئرلینڈ اور جنوبی کوریا بالترتیب کینسر کے عالمی انڈکس میں سر فہرست ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کینسر دنیا کے تقریباً ہر خاندان کو کسی نہ کسی حوالے سے چھو لیتی ہے اور دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک موت کینسر کی بیماری کا سبب بن جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجوہات میں خوراک میں بے احتیاطی، جسمانی ورزش کی کمی اور مرض کی تشخیص میں تاخیر سرفہرست ہیں۔

پاکستان میں اس مرض سے متعلق انٹرنیٹ پر کوئی تازہ اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ تاہم آغاخان یونیورسٹی اسپتال کے ماہرین کے مطابق ملک میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں سالانہ ایک لاکھ اٹھتالیس ہزار افراد کا اضافہ ہو جاتا ہے، جو یقیناً ہر شہری کے لئے باعث تشویش ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا دعویٰ ہے کہ اگر حکومتوں کی جانب سے انسداد کینسر سے متعلق عالمی حکمت عملی کے تحت لوگوں میں منشیات کے استعمال پر پابندی یا ان پر عائد ٹیکسز میں اضافہ، متوازن غذا کا استعمال، جسمانی ورزش کی عادت اور ایچ پی وی ٹیکے لگوانے کے حوالے سے شعوری اقدامات اٹھائے جانے سے اس مرض پر تیس سے پچاس فیصد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اس سلسلے میں کوئی خاص اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اگر کہیں پر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا بھی ہے تو وہ صرف مخصوص علاقوں تک ہی محدود ہے۔

پاکستان میں انسداد کینسر سے متعلق قوانین و حکمت عملی کے ساتھ ساتھ کینسر کے مریضوں کے علاج و معالجے کے سلسلے میں بھی حکومتی سطح پر کوئی خاص سہولیات میسر نہیں۔ چند ایک نجی اداروں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے جہاں پر علاج و معالجہ ہر عام آدمی کی بس کی بات نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینسر کا اعلاج عام بیماریوں سے بالکل مختلف اور اس پر اٹھنے والے اخراجات نا قابل یقین ہیں۔ کسی انسان میں کینسر کی تشخیص کے بعد ماہرین کی جانب سے اس کی طبی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ جس میں اسٹیج ون سے فور تک کے مراحل شامل ہیں۔ پہلے کے دو اسٹیجز میں مریضوں کا باآسانی علاج ممکن ہوسکتا ہے۔ مگر تیسرے اسٹیج کے بعد مریض صرف اللہ کے سپرد ہوتا ہے۔

اگرچہ ماہرین ان اسٹیجز میں بھی کینسر کی نوعیت اور اقسام کے مطابق اپنا طبی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں لیکن ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ لیکن اکثر اوقات نجی اسپتالوں کے ڈاکٹرز ادارجاتی آمدنی میں اضافے کی غرض سے کینسر کے مریضوں اور ان کے اہلخانہ کو مریض کی حالت کے بارے میں حقیقی معلومات فراہم نہیں کرتے۔ وہ بس مریضوں اور اہلخانہ کو تسلیاں دیتے ہوئے ایک لمبے عرصے تک تجرباتی بنیاد پر کام چلا لیتے ہیں اور بل چڑھتا رہتا ہے۔ آخر میں لاکھوں روپے بٹورنے کے بعد مریض کی کفن پوش لاش یہ کہتے ہوئے ورثاء کے سپرد کی جاتی ہے کہ لو جی اپنا مریض، انا للہ و انا الیہ رجعون!

ایسی صورتحال میں مجھ جیسا ایک بے بس و لاچار بندہ اپنی ذہنی، جسمانی، معاشی اور معاشرتی کیفیت کھونے کے بعد اپنے عزیز و اقارب کے مرقد پر انگھوٹھا منہ میں لگائے غم کے آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ بدقسمتی سے میاں نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو رہا ہے، جس میں وہ اپنی نصف بہتر کو میلوں دور لندن کے ایک اسپتال میں ایک ایسی حالت میں اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے ہیں جہاں پر وہ محض مصنوعی سانس کے سہارے جی رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپنی شریک حیات کو چھوڑ کر سیاسی الجھنوں میں الجھ کر قید و بند کی صعبتیں برداشت کرنا یقیناً جگر گردے کا کام ہے اور یہ کام ہر کسی کے لئے سر انجام دینا ممکن نہیں۔

مجھے مریم نواز پر بھی بہت ترس آتا ہے، جنہیں ا پنی ماں کو اس حالت میں چھوڑ کر ان کے قدموں تلے جنت کی بجائے اڈیالہ جیل کی جہنم میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ مجھے نواز شریف اور مریم نواز کے دکھ درد کا اس لئے ادراک ہے کہ مجھ پر حال ہی میں وہ سب کچھ بیت چکی ہے جو ان پر گزر رہی ہے۔ میں بھی نواز شریف کی طرح کسی کا نصف بہتر تھا جو اب اس نصف بہتر حصے کے کٹ جانے کے بعد محض بدتر ہی رہ گیا ہوں۔ میری بھی مریم نواز کی طرح کی ایک معصوم بیٹی بیگم کی جانب سے تحفے میں ہے۔ مجھے اپنی ماں کی ممتا کی یاد میں بیٹی کی آہوں اور سسکیوں سے فوراً مریم نواز کا خیال آجاتا ہے۔

مجھے بھی اپنی اہلیہ محترمہ کے دوران علاج نواز شریف کی طرح مشکلات کا سامنا رہا۔ حتیٰ کہ مجھے نوکری سے نکلنے کا بھی خوف تھا۔ لیکن میں نے اپنی اہلیہ کی خاطر ان سب کو قربان کرتے ہوئے زندگی کے آخری آیام ان کے ساتھ بستر مرگ پر گزار دیے اور بیگم کی جدائی کے غم کے علاؤ ہ کوئی آس باقی نہیں رہی۔ وجہ یہ تھی کہ مجھ پر کسی کی طرف سے کوئی زبردستی تھی نہ میں کسی عدالت سے سزا یافتہ تھا۔ میرے ادارے کے لوگ انسانیت کا دکھ درد رکھتے تھے اس وجہ سے انہوں نے مجھے کھلی چھٹی دی۔

لیکن نواز شریف کے ساتھ ایسا نہ ہوسکا۔ انہیں پہلے وزارت عظمیٰ کی نوکری سے نکال باہر کیا گیا۔ پھر الیکشن لڑنے پر تاحیات پابندی عائد کی گئی، پھر پارٹی صدارت چھین لی گئی اور اب اپنی شریک حیات کے ساتھ زندگی کے مشکل ترین اور قیمتی لمحات گزارنے سے بھی محروم رکھا گیا۔ آخر یہ کہا کا انصاف ہے؟ کونسی قیامت ٹوٹ پڑتی کہ احتساب عدالت کا فیصلہ چند دن اور موخر کرکے انہیں بیگم کلثوم نواز کی خدمت کا موقع دیا جاتا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس ملک کی سیاسی دنگل میں انسانیت نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •