حنیف عباسی کی سزا کے بعد عدالتی نظام کٹہرے میں
چیف جسٹس ثاقب نثار کا جو بیان اخبارات کے ذریعے رپورٹ ہؤا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ جسٹس شوکت صدیقی کے بیان کو غلط قرار دے رہے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس بیان میں کوئی ایسا تاثر موجود نہیں ہے کہ اگر ہائی کورٹ کی سطح پر یا سپریم کورٹ کے بعض ججوں کو حساس اداروں یا دوسرے عناصر کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے یا انہیں ترغیب و تحریص کے ذریعے ساتھ ملانے کی کوشش کی جارہی ہے تو چیف جسٹس اس کے تدارک کے لئے اقدام کریں گے۔ اس تناظر میں چیف جسٹس کا بیان نامکمل ہے اور عدالتوں کے کردار اور خفیہ ایجنسیوں سے ان کے تعلقات کے حوالے سے تصویر کو واضح کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عدالتوں پر جانبداری برتنے یا ’اشاروں‘ کے مطابق فیصلے کرنے کا الزام نیا نہیں ہے۔ پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد سے یہ پیغام عام کیا جاتارہا ہے کہ عدالتیں خفیہ ایجنسیوں کے ایجنڈے پر کام کررہی ہیں۔ فیصلوں میں الفاظ کا انتخاب، کمزور شواہد کی بنیاد پر سخت فیصلے کرنے کے بعد ان کے خلاف اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے درشت انداز اختیار کرنے کا طریقہ، پاناما کیس میں جے آئی ٹی بناتے ہوئے خفیہ ایجنسیوں کے نمائیندوں کی شمولیت اور انہی کی فراہم کردہ معلومات پر وزیر اعظم کو نااہل اور بعد میں نیب عدالت کے ذریعے سخت سزا دلوانے کا پورا عمل متوازن اور شفاف عدالتی طریقہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس حوالے سے اٹھنےوالے شبہات کا جواب دینے اور معاملات کو درست کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے، سو موٹو اختیار استعمال کرتے ہوئے حکومت کے کاموں میں مداخلت کرنے، اصلاح معاشرہ کے منصوبوں پرتوجہ دینے اور پھر ڈیم بنانے کا حکم دینے کے علاوہ ان کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کے عملی اقدامات کرکے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ ملک و قوم کے درد اور عوام کے مسائل پر سخت پریشان ہے۔ اور اب اس کے فرشتہ صفت چیف جسٹس سیاست دانوں کے ستائے ہوئے عوام کی مشکلیں حل کرنے کے لئے ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس طرح اگرچہ چیف جسٹس کی ذاتی شہرت میں اضافہ ہؤا ہے اور عوام اور میڈیا نے ان کے متعدد اقدامات کی پذیرائی بھی کی ہے لیکن اس سے سپریم کورٹ یا عدالتوں پر اعتماد میں اضافہ نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ تاثر قوی ہؤا ہے کہ ملک میں معاملات آئین و قانون کے مطابق ہی طے پا رہے ہیں۔
سیاسی معاملات میں فوجی اداروں کی مداخلت کے قصے زبان زد عام ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی کے بیان نے عدلیہ کے اندر سے اس تاثر کو پختہ کرنے میں کردارا ادا کیا ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنا فوج کے ترجمان کا کام ہے۔ سپریم کورٹ کو تو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ کسی جج کو اس قسم کی صورت حال کا سامنا نہ ہو اور اگر شوکت صدیقی کو لالچ دیا گیا، ان پر دباؤ ڈالا گیا یا بعض ’مطالبات‘ نہ ماننے کی صورت میں ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو چیف جسٹس اس کا ازالہ کرنے کی ضمانت فراہم کریں ۔ اسی طرح عدالتوں کی غیر جانبداری اور سختی سے قانون کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف جو دو ریفرنس قائم ہیں ان میں سے ایک فوج کے بارے میں ان کے ریمارکس کے بارے میں ہی ہے۔ اب اگر انہوں نے عدالتی معاملات میں آئی ایس آئی کی مداخلت کا بیان سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنے خلاف ریفرنس کی کارروائی کو متاثر کرنے کے لئے دیا ہے تو بھی ملک کے چیف جسٹس ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج کے الزامات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان الزامات کی تحقیقات کے لئے قابل بھروسہ اور غیر جانبدار انتظام ہونا چاہئے۔ جسٹس صدیقی کو اپنے الزامات ثابت کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ الزامات جھوٹ ہونے کی صورت میں سپریم جوڈیشل کونسل کے لئے انہیں ان کے عہدہ سے فارغ کرنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن اگر یہ عمل شفاف اور مناسب طریقہ کے بغیر مکمل کرنے کی کوشش کی گئی تو شوکت صدیقی ’شہید‘ کا رتبہ پائیں گے اور سپریم کورٹ کا دامن مزید داغدار ہوگا۔
عدالتوں کا کردار حنیف عباسی کے معاملہ میں بھی داغدار ہؤا ہے۔ متعلقہ عدالت ان کے خلاف سات سالہ پرانے مقدمہ کی سماعت انتخابات کے بعد اگست میں کرنے کا اعلان کرچکی تھی۔ لیکن پھر ہائی کورٹ میں اپیل کے ذریعے اس کا فیصلہ 21 جولائی تک کرنے کا حکم دیا گیا۔ کل رات گئے اس مقدمہ کے باقی ملزمان کو شبہ کی بنیاد پر بری اور حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ حنیف عباسی این اے 60 سے عوامی مسلم لیگ کے صدر اور نواز شریف کے شدید مخالف شیخ رشید کے مد مقابل تھے۔ اس طرح اس فیصلہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس معاملہ میں شیخ رشید کو واک اوور دلوانے کی کوشش کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن اگرچہ کسی امیدوار کو سزا کی وجہ سے نااہلی پر انتخاب ملتوی کرنے کا پابند نہیں تھا لیکن ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل جاتی۔ الیکشن کمیشن کی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی عملی اقدامات سے عدالتوں کے بارے میں اٹھنے والی شبہات کی دھول کو بٹھانے کی کوشش کرنا ہو گی۔

