جسٹس شوکت عزیز کا اپنے الزامات کے بارے میں چیف جسٹس کو خط


جسٹس شوکت عزیز نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ ان کے لئے بہت عزت کی بات ہے کہ ان کو 23 برس وکالت کرنے کے بعد 2011 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کو اس بات پر تشویش ہے کہ ان کے ادارے کی آزادی چند افراد اور قابل عزت اداروں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے اور مختلف مواقع پر انہوں نے اس کی نشاندہی کی ہے جس کی وجہ سے انہیں ایک ریفرینس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ایک دوسرا من گھڑت ریفرینس بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو باڈی نے انہیں 21 جولائی 2018 کو خطاب کی دعوت دی اور اس کے ممبر کی حیثیت سے انہوں نے دعوت قبول کی۔ اس میٹنگ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بینچ، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، پنجاب بار کونسل کے ممبران اور میڈیا پرسن نے بھی شرکت کی۔

خطاب کے دوران انہوں نے آئین، قانون کی حکمرانی، بار اور بینچ کی آزادی اور انصاف کی فراہمی کے متعلق مختلف حقائق سے پردہ اٹھایا۔ بظاہر جو حقائق انہوں نے بیان کیے چند حلقوں کو ناگوار گزرے اور ان کے خلاف سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر مہم چلائی گئی۔

انہوں نے درخواست کی کہ ان خاص حالات میں جب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی انکوائری کی درخواست کو قبول کیا جائے گا، وہ بھی چیف جسٹس سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک کمیشن تشکیل دیں جو ان حقائق کی درستگی اور سچائی کی تحقیق کرے۔

انہوں نے خود کو نتائج کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ اگر ان کے پیش کردہ حقائق درست نکلیں تو عدالتی نظام کو ساز باز کے ذریعے متاثر کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔

انہوں نے کمیشن کے قیام کے بعد اس کی کارروائی کو کھلے عام چلانے اور وکیلوں، میڈیا اور سول سروس کو اسے دیکھنے اور رپورٹ کرنے کی اجازت دینے کی درخواست بھی کی۔

انہوں نے مزید درخواست کی کہ سپریم کورٹ کے کوئی ایسے موجودہ یا ریٹائرڈ جج جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو، کمیشن کے طور پر مقرر کیے جائیں۔

Facebook Comments HS