حنیف عباسی کی سزا کے بعد عدالتی نظام کٹہرے میں


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حنیف عباسی کو ملنے والی عمر قید اور نااہلی کی سزا کے بعد این اے 60 میں انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کرکے تنقید کی بھڑکتی آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ اس ایک اقدام سے ناقدین کا منہ بند کیا جاسکے گا یا دو روز بعد منعقد ہونے والے انتخابات کے بارے میں شبہات ختم ہو جائیں گے ۔ گزشتہ دو روز کے دوران سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائیندوں نے انتخابات میں عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن کے غیر مؤثر اور جانبدارانہ کردار پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے لئے حالات کو مشکل بنایا جارہا ہے۔ اسی حوالے سے نیب اور عدالتوں پر بھی الزامات کی بارش ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی بار کی تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک پر جوش تقریر میں عدالتوں اور آئی ایس آئی پر سنگین الزامات عائد کئے تھے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک کے حالات خراب کرنے کی پچاس فیصد ذمہ داری عدالتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے عدالتی کارروائی میں خفیہ ایجنسی کی مداخلت کی مثالیں دیں اور کہا کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک بہر صورت جیل میں بند رکھنے کا تہیہ کیا گیا تھا، اسی لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپنی مرضی کا بنچ بنوایا گیا تاکہ انہیں ریلیف نہ مل سکے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کراچی میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے غم و غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ عدالتوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے جسٹس صدیقی کے بیان پر کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ پیغام میں چیف جسٹس آف پاکستان سے جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات کی تحقیق کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس ٹویٹ میں واضح نہیں ہے کہ فوج کی طرف سے آئی ایس آئی پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لئے باقاعدہ رٹ دائر کی جائے گی یا اس ٹویٹ پیغام کو ہی کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ ٹویٹ بیان بعد میں ایک پریس ریلیز کی صورت میں بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح چیف جسٹس نے عدالتی کارروائی کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے عدالتوں کی خود مختاری اور آزادی کا یقین دلانے کی کوشش کی اور جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

فوج اور عدلیہ نے جسٹس صدیقی کے الزامات کا جواب دینے کے لئے بیان جاری کرنے کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے دراصل اسی روایت کو آگے بڑھایا ہے جو شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر میں ریاستی اداروں کے بارے میں سنسنی خیز الزامات عائد کرکے قائم کی ہے۔ نہ جسٹس شوکت صدیقی کے طریقہ کار کو درست قرار دیا جا سکتا  ہے اور نہ ہی پاک  فوج کے ترجمان یا ملک کے چیف جسٹس کے طریقہ کا ر کو الزامات کی تردید سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسے سنگین الزامات کے بعد دونوں اداروں کی طرف سے واضح تردید سامنے آنی چاہئے تھی ۔ اس کے بعد فوج متعلقہ جج کی ’بے بنیاد‘ الزام تراشی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرسکتی تھی۔ چیف جسٹس نے بھی اس اہم معاملہ کی تردید کرنے کے لئے ملامتی رویہ تو اختیار کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے تجربات یا مشاہدات کی بنیاد پر آئی ایس آئی کی عدالتی کام میں مداخلت اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے کردار کے بارے میں جو الزامات عائد کئے ہیں، ان کی حقیقت جاننے کی کوشش ہونی چاہئیں اور اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کا تدارک کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں ملک کے چیف جسٹس سے جائز طور سے غیر جانبدارانہ کردار کے علاوہ پروفیشنل اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن جسٹس ثاقب نثار نے جس طرح شوکت صدیقی کے بیان پر افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ عدالتوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے، اسے تو فرد واحد کا بیان ہی سمجھا جائے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار بجا طور سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور نہ ہی وہ ملک کے آئین و قانون کے سامنے کسی کی رائے یا مشورہ کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہ اعلان ان کے ذاتی کردار اور تجربہ کو واضح کرتا ہے لیکن بطور ایک فرد خواہ وہ ملک کے چیف جسٹس کے عہدہ پر ہی کیوں فائز نہ ہوں، وہ کیوں کر قیاس کرسکتے ہیں کہ ایک دوسرے جج نے جو تجربات بیان کئے ہیں، وہ لازمی طور سے غلط ہیں۔ یا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے دوسرے ججوں کو کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ چیف جسٹس کو اس افسوسناک صورت حال میں اپنے ادارے کے ایک جج کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ انہیں حقیقت بیان کرنے پر اپنی جان گنوانے کے خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور عدالت عظمی بطور ادارہ ان کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر چیف جسٹس پر کوئی دباؤ نہیں ہے تو اعلیٰ عدالتوں کے بعض دوسرے جج اس قسم کے دباؤ اور ذبردستی سے محفوظ نہ ہوں۔ آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی پوزیشن اور حیثیت کے باوجود اس قسم کے حساس موضوع پر جذباتی انداز میں کھل کر بات کی ہے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali