آٹھواں خواب نامہ۔۔۔ ہیلو‘ آداب‘ سلام


14 مئی 2018
درویش رابعہ کی خدمت میں دوستانہ سلام پیش کرتا ہے

درویش نے جب سے رابعہ سے ادبی خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ لفظوں کی شخصیت اور اہمیت کے بارے میں غور و فکر کر رہا ہے۔ وہ سوچ رہا ہے کہ اگر وہ کنیڈین دوستوں کو ’ہیلو‘ اور ہندوستانی دوستوں کو ’آداب‘ کہتا ہے تو پاکستانی دوستوں کو ’سلام‘ کہنے میں کیا حرج ہے۔ رابعہ نے بھی تو اپنے خط کا آغاز ’آداب‘ اور اختتام ’فی امان اللہ‘ سے کیا ہے۔ رابعہ کا ’فی امان اللہ‘ پڑھ کر درویش کو یاد آیا کہ ایک دفعہ اس نے اپنی ایک بزرگ کنیڈین مریضہ کو‘ جو لسانیات میں تخصص رکھتی تھی اور انگریزی الفاظ کی تاریخ اور مزاج سے واقف تھی‘ پہلے یہ بتایا تھا کہ جب دو دوست ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو
پنجابی میں۔ رب راکھا
اردو میں۔ اللہ حافظ
فارسی میں۔ خدا حافظِ شما
کہتے ہیں‘ اور پھر یہ پوچھا تھا کہ انگریزی میں کیوں good bye کہا جاتا ہے۔ یہ بات سن کر اس ماہرِ لسانیات مریضہ نے مسکرا کر کہا تھا کہ good bye بھی ایک زمانے میں GOD BE WITH YOU ہوا کرتا تھا جو کثرتِ استعمال اور سیکولر مزاج سے GOODBYE بن گیا ہے۔

درویش کو اندازہ ہوا کہ اس کے بہت سے سیکولر دوست جو کسی آسمانی یا زمینی خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ بھی روایت کی وجہ سے ’خدا حافظ‘ کہہ دیتے ہیں۔ اسی لیے اس نے اس حوالے سے ایک شعر لکھا تھا

؂ سمجھ نہ لینا کہ مجھ کو بہت عقیدت ہے
وہ عادتاٌ تھا جو نامِ خدا لیا میں نے

درویش رابعہ کے خطوط پڑھ کر حیران ہوتا ہے اور سوچتا ہے کہ جوانی میں ہی رابعہ کی شخصیت میں اتنی دانائی اور گہرائی کہاں سے آئی ہے۔ شاید یہ اس کا رابعہ بصری کی طرح رتجگا کرنا اور راتوں کی تاریکی اور تنہائی میں زندگی کے رازوں کے بارے میں غور و خوض کرنے کا ماحصل ہے۔ آخر وہ راتوں کو جاگنے والی فنکارہ ہے جسے زندگی نے بصیرتوں کے تحفے دیے ہیں۔ اب وہ اندھیرے میں بھی دیکھ سکتی ہے۔ یہی دانائی کی نشانی ہے۔ درویش نے ایک دفعہ کہا تھا
WISDOM IS THE INNER LIGHT THAT HELPS PEOPLE SEE IN THE DARK

درویش کو یہ جان کر بہت مسرت ہوئی کہ رابعہ کواس پر اعتماد بھی ہے اور اعتبار بھی کیونکہ ان ہی بنیادوں پر دوستی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ درویش رابعہ کے خطوط پڑھ کر سوچتا ہے
ایسا کیوں ہے کہ
درویش نجانے کتنے لوگوں سے اکثر ملتا ہے
لیکن پھر بھی ان کو نہیں جانتا
ان کو نہیں پہچانتا
وہ اس کے لیے اجنبی ہیں

لیکن رابعہ
جس سے وہ کبھی نہیں ملا
لیکن یوں محسوس کرتا ہے
جیسے وہ اسے مدتوں سے جانتا ہے
پہچانتا ہے
اسے اس تعلق سے دوستی کی خوشبو آتی ہے
درویش رابعہ سے پوچھنا چاہتا ہے
اس دوستی کا راز کیا ہے؟

درویش رابعہ کے اس خیال سے متفق ہے کہ جب لوگ اپنا ایک آئیڈیل چنتے ہیں تو اس کے روپ میں ڈھلنے لگتے ہیں۔ رابعہ کا خط پڑھ کر درویش کو ٹورنٹو یونیورسٹی کا ایک پروفیسر یاد آیا تھا جس نے درویش کو بتایا تھا کہ جب طلبا اپنے پسندیدہ ادیب شاعر یا دانشور پر تحقیق کر رہے ہوتے ہیں اس کی تخلیقات اور سوانح عمری پڑھ رہے ہوتے ہیں تو خود بھی دھیرے دھیرے اس کے قالب میں ڈھل رہے ہوتے ہیں اور اس کا فلسفہ اور طرزِ زندگی اپنا رہے ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں اتنی غیر ارادی اور لاشعوری طور پر ہو رہی ہوتی ہیں کہ انہیں خود بھی اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔

درویش رابعہ کی تخلیقی زندگی کے بارے میں متجسس ہے۔ اس نے رابعہ کے جتنے افسانے پڑھے ہیں وہ ان سے بہت متاثر ہوا ہے۔ اسے یوں لگتا ہے جیسے رابعہ افسانہ نگار کا ایک قدم شعور اور دوسرا لاشعور میں ہوتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ رابعہ کو کب اندازہ ہوا کہ اس کے اندر ایک فنکار ایک افسانہ نگار چھپا بیٹھا ہے۔ اس نے جب افسانے لکھنے اور چھپوانے شروع کیے تو اس کے دوستوں اور رشتہ داروں‘ ادیبوں اور نقادوں کا کیا ردِ عمل تھا؟

درویش جب غمِ روزگار سے فارغ ہو جاتا ہے تو شام کو کبھی درویشوں کے ڈیرے پر چلا جاتا ہے جہاں اس کی شہر کے دیگر درویشوں سے ملاقات ہوتی ہے اور کبھی وہ فیملی آف دی ہارٹ کے سیمیناروں کا اہتمام کرتا ہے تا کہ دوسرے شہروں اور ملکوں سے آئے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کی پزیرائی کر سکے۔ درویش سمجھتا ہے کہ ان شاعروں ادیبوں فنکاروں اور دانشوروں کو‘جو اقلیت میں ہوتے ہیں‘ اور انہوں نے روایت کی شاہراہ چھوڑ کر اپنے من کی پگڈنڈی پر سفر کرنا شروع کیا ہوتا ہے‘ تخلیقی اقلیت کے باقی شاعروں اور دانشوروں کی دوستی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ روایتی اکثریت کے دباؤ میں کہیں میر تقی میر کی طرح ذہنی توازن نہ کھو بیٹھیں اور سلویا پلیتھ‘ ارنسٹ ہیمنگوے اور ونسنٹ وین گو کی طرح خود کشی نہ کر لیں۔ تخلیقی اقلیت کی آزمائشوں اور قربانیوں سے بہت کم لوگ واقف ہوتے ہیں۔ تخلیقی عمل دو دھاری تلوار پر چلنے کی طرح ہے۔ عارفؔ عبدالمتین فرماتے ہیں
؂ میری عظمت کا نشاں‘ میری تباہی کی دلیل
میں نے حالات کے ڈھانچوں میں نہ ڈھالا خود کو

درویش کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہے۔ خوشگوار موسم اسے دعوت دے رہا ہے۔ درویش کی خواہش ہے کہ وہ ایک لمبی سیر کے لیے چلا جائے۔ ان لمبی سیروں کے دوران درویش کے ذہن میں تازہ خیالات بھی دبے پاؤں در آتے ہیں۔ اس لیے رابعہ سے اجازت چاہتا ہے۔

Facebook Comments HS