عام انتخابات میں ہمارا انتخاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بار پھر پاکستان میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس سال بھی تبدیلی کے بلند بانگ دعوےکیے جا رہے ہیں۔ دونوں طرح کے لوگ اس الیکشن میں امیدوار ہیں۔ وہ بھی جو برسوں سے حصہ لے رہے ہیں اور پہلے بھی اسمبلیوں میں رونق افروز ہوتے رہے ہیں۔ دوسرے وہ بھی جو پہلی دفعہ حصہ لے رہے ہیں یا پھر پہلی بار منتخب ہوں گے۔ لیکن ایک سوال بار بار میرے ذہن میں آتا ہے کہ ان عام انتخابات میں ہمارا انتخاب کیا ہوگا؟ کیا ہم کوئی نیا انتخاب کر پائیں گے یا پھر وہی پرانا انتخاب ہی اس بار ہمارا انتخاب ہو گا۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے ذرا سوچئے!

اس بار بھی ہزاروں یا لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے خرچ کر کے ہر امیدوار اپنی انتخابی مہم چلا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ لاکھوں کروڑوں روپے ایک سیٹ حاصل کرنے کے لئے خرچ کر رہے ہیں اول تو وہ الیکشن کمیشن کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ تو وہ لوگ جو الیکن کمیشن کے چھوٹے سے قانون کی کھلے عام دھجیاں بکھیر رہے ہیں وہ کیسے ملک کے آئین اور قانون کا احترام کریں گے؟ بلکہ یہ لوگ تو ہر سیاہ و سفید کے مالک ہو کر اپنی مرضی کا قانون بنائیں گے۔

دوسرے جو لوگ لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے آ رہے ہیں کیا وہ اتنے بیوقوف ہیں کہ کروڑوں روپے صرف ایک سیٹ کے لئے خرچ کریں۔ آپ یقین رکھیں وہ ان کروڑوں کو خرچ کرنے کے بعد اربوں کمانے کی پلاننگ کرکے آ رہے ہیں۔

جتنے امیدوار بھی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن لڑ رہے ہیں ان میں سے 70 فیصد سے زائد جاگیرادار، صنعتکار، وڈیرے یا امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی اولادیں ہیں جو اپنے آپ کو پاکستانی سیاست کا جزو لاینفک سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ یا ان کے خاندان اگر پہلے ملک کے لئے کچھ نہ کر پائے تو اب انہوں نے کیا کرنا؟

ہمیشہ کی طرح اس سال بھی دو طرح کے امیدوار آپ کے سامنے ہوں گے۔ ایک وہ جو مذہب کا نام لے کر ووٹ مانگیں گے اور مذہبی جذبات ابھارنے بلکہ مشتعل کرنے میں خوب فن مہارت دکھائیں گے دوسرے وہ جو اپنے ذات پات، خاندان اور برادری کا حوالہ دے کر ووٹ مانگیں گے۔ گویا کہ آپ کے سامنے، قابلیت، تعلیم، کارکردگی کی کوئی اہمیت نہ ہوگی بلکہ یا تو مذہب سے لگاؤ اورر وابستگی ثابت کرنی ہوگی یا پھر اپنی برادری اور اپنی ذات اور اپنے خاندان کو مدنظر رکھنا ہوگا گویا ”شریکا‘‘ کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ جو لوگ نظریہ، برابری، انصاف اور آزادی کی بات کریں گے ان کا حال جبران ناصر سے زیادہ مختلف نہ ہوگا۔

ایک بہت ہی مشہور مقولہ ہے ”عوام کالانعام ہوتے ہیں‘‘۔ یعنی عوام بھی بھیڑ چال چلتے ہیں۔ اس کا اصل مصداق اگر آج کے زمانے میں کوئی قوم ہے تو اس کا سہرا بھی پاکستانی عوام کو جاتا ہے۔ کیونکہ اکثر ووٹ یا تو چند روپوں اور وعدوں کے عوض خریدا جائے گا یا پھر وڈیروں، چوہدریوں اور جاگیر داروں کے کہنے پر ڈالا جائے گا۔ ایک بڑی تعداد ووٹرز کی صرف بھیڑ چال میں ووٹ ڈالے گی۔ ان کو بتا کر بھیجا جائے گا کہ اپنا دماغ استعمال نہیں کرنا بلکہ بلے، شیر، تیر، کتاب وغیرہ وغیرہ پر ہی مہر لگانی ہے۔ اور وہ اپنے اس ”فریضہ‘‘ کو کما حقہ ادا کریں گے۔

اس جدید دنیا میں جہاں جہاں جمہوریت قائم ہے وہاں ووٹ کی اصل عزت ایسے قائم ہوتی ہے کہ دھاندلی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہوتے ہے۔ بریکزٹ ہوا، ٹرمپ صدر منتخب ہوا لیکن کسی نے یہ شور نہیں ڈالا کہ غلط ووٹ ڈلے یا ”فرشتہ ووٹ‘‘ ڈلے یا کسی ادارے نے مداخلت کر کے جھوٹے ووٹ ڈالے یا پھر ڈیوٹی پر موجود عملہ یا افسران نے دھاندلی کی۔ نہیں۔ کہیں ایسا نہیں ہوتا لیکن پاکستان کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ یہاں نہ صرف ہر ہارنے والا دھاندلی دھاندلی کی دھائی دے گا بلکہ شاید ان باتوں میں صداقت بھی ہوگی۔

ہر پارٹی صرف اس وجہ سے الیکن کی اصلاحات نہیں لاتی کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ ”فول پروف‘‘ یا ”’فری اینڈ فیئر‘‘ الیکشن کا نقصان اس کو بھی ہو سکتا ہے۔ گویا عوام جس نمائندے کو بھی منتخب کریں گے ہو سکتا ہے کہ دھاندلی سے وہ شکست کھا گیا ہو۔

یہ وہ چند حقائق ہیں جن میں امسال 2018 میں عام انتخابات منتخب ہو رہے ہیں۔ اب آپ خود سوچ لیں آپ جس نمائندے کا بھی انتخاب کریں گے وہ ملک کی تقدیر نہیں بدل سکے گا لیکن اپنی تقدیر ضرور بدل لے گا بلکہ اپنے خاندان تک کی تقدیر بدل لے گا۔ تبدیلی آئے یا جیالوں کا جنون غالب آ جائے ہمارے سامنے سب نمائندے ایک جیسے موجود ہیں۔ ان الیکشن قوانین کے ہوتے ہوئے اور ان نمائندوں کے ہوتے ہوئے اور ایسی طرز پر انتخابات ہوتے ہوئے بلکہ میں تو کہوں گا ایسے امیدوار ہوتے ہوئے کوئی جماعت کوئی شخص تبدیلی نہیں لے کر آ سکتا۔

گویا اگلے پانچ سال بھی ہم مہنگائی، کرپشن، دہشتگردی، بے روزگاری اور حکمرانوں کو برا بھلا کہتے اور شور مچاتے ہی گزاریں گے۔ جناح کے پاکستان کا خواب ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ عدل و انصاف اور امن سے بھرپور پاکستان ایک خیال کی طرح صرف ذہنوں میں ہی ہوگا۔

کسی نے امریکہ کے حالیہ انتخابات کے بارے میں تبصرہ کیا تھا کہ ” ہم نے اس مرتبہ دو برے لوگوں میں سے نسبتاً کم برے نمائندے کو چننا تھا‘‘ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں ہمارا انتخاب بھی اس مقولے سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •