اگلا وزیراعظم: کون+کون=کوانین

اگرچہ ٹی وی چینلز پہ روزانہ آنے والے دانشوران اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگلے وزیر اعظم کے منصب پر کس کو بٹھایا جائے مگر اُنہوں نے اس فیصلے میں تبدیلی کا اختیار اپنے پاس ہی رکھا ہؤا ہے۔ یہ اختیار اُس اختیارِ بے اختیاری سے قطعاً مختلف ہے کہ جو ہمارے پاس ہے یعنی عوام کے پاس۔ پچھلے الیکشن میں یہ اختیار انہوں نےعین اُس وقت استعمال کیا کہ جب الیکشن والے دن آدھی رات گزر جانے کے بعد زیادہ تر نشستوں کے نتائج کا اعلان ہو چکا تھا۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اُن کی تابع داری میں وزیراعظم بنانے میں اُن کے فیصلے پر مِن و عَن عملدرآمد کیا۔
اتنے واضع ’کوانین‘ (کون کی جمع) کے باوجود ابھی بھی کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو کہ شک و شبہ کی کیفیت سے گزر رہے ہیں اور بات کرتے ہوئے اگر مگر کے پردوں میں مذید کچھ ’کوانین‘ کھڑے کر دیتے ہیں۔
مرزا بھی اُن لوگوں میں سے ہی ہیں۔ انہوں نے ان دو کوانین میں ایک اپنا کون لا کھڑا کیا ہے۔ وہ ڈنکے کی چوٹ پہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اگلے وزیر اعظم وہ نہیں ہوں گے۔ کل وہ تشریف لائے تھے اور آتے ہی انہوں نے ہمیں بھی دلائل کے ساتھ قائل کر لیا کہ اگلے وزیر اعظم بننے کا اُن کا کوئی چانس نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے پہلی دلیل یہ دی کہ وزیر اعظم بننے کے لئے متعلقہ شخص کی وزیر اعظم بننے کی اپنی خواہش بھی ہونی چاہئیے۔ چونکہ ان کی خواہش نہیں ہے لہٰذا انہیں اس بات کا قوی یقین ہے کہ وہ وزیر اعظم نہیں بنیں گے۔ پوچھا کہ یہ بتا دیں کہ اگلا وزیر اعظم کون ہو گا تو فرمایا کہ اگلا وزیر اعظم ان ہی کی پسندیدہ پارٹی کا ہو گا۔ پوچھا کہ آپ تو ووٹ دینے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تو پھر اتنے وثوق سے نتیجے کی بات کیوں کرتے ہیں۔ کہا ووٹ عوام الناس دیتے ہیں اور یہ انہی کا حق ہے۔ وہ عوام الناس کے حق میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے اس لئے ووٹ نہیں دیتے۔ البتہ جمہوری ضروریات مثلاً بحث مباحث پیشین گوئیاں اپنی پسندیدہ جماعت کے سیمینار میں شرکت کو وہ اپنے لئے بہت ضروری سمجھتے ہیں اور قومی فریضہ سمجھ کر ادا بھی کر رہے ہیں۔
ہمارے خیال میں وزیر اعظم بننا اور وزیراعظم نہ بننا دونوں برابری کے مرتبے کی باتیں ہیں۔ پچھلے الیکشن میں ایک لیڈر وزیراعظم نہ بن سکے تو انہوں نے قوم کے درمیان رہنے کے لئے دھرنے ایجاد کر لئے جبکہ جو لیڈر وزیراعظم بن گئے انہوں نے اقوام کے درمیان رہنے کے لئے بیرونی دورے ایجاد کیے تھے۔ اس سے پہلے عوامی مقبولیت کے لئے لوڈشیڈنگ وغیرہ کا سہارا لیا جاتا تھا۔ کہ قوم کے درمیان رہنے کے لئے قوم کو بنیادی سہولتوں سے دور رکھنا تاریخی اہمیت کا حامل فلسفہ حکمرانی ہے۔
اب معاملہ وزیراعظم بننے کے دو کوانین کے درمیان اٹکا ہؤا ہے۔ اگرچہ یہ بات واضح ہے کہ الیکشن کون جیتے گا اور کون نہیں پھر بھی اندر کی بات جاننے والوں کا خیال ہے کہ الیکشن کے دن کا انتظار ضروری ہے۔ کچھ فیس بک ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کر چکے ہیں کہ چونکہ ہمارا ملک بہت زیادہ مسائل کا شکار ہے اور محض ایک وزیراعظم کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اکیلے اتنے مسائل سے عہدہ برآء ہو سکے تو ملک میں دو وزیر اعظم ہونے چاہییں۔ ایک وزیر اعظم دن کو کام کرے اور ایک رات کو۔ اس سے ان دونوں کے درمیان کسی محاذ آرائی کا بھی خدشہ نہیں رہے گا اور ملک بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے فارمولے پر عملاً عمل پیرا ہو جائے گا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ تجویز دونوں کوانین کو پسند آئے گی۔ اس تجویز پر عملدرآمد کرنے میں بس ایک ہی احتیاط کی ضرورت ہے کہ کوانین کی تعداد دو سے بڑھنے نہ دی جائے ورنہ وزیراعظم کی نشستیں بھی بڑھانا پڑیں گی۔

