یہ ایک غیر مطبوعہ، ہاتھ سے لکھی ہوئی کتاب کا نام ہے جس کا مسودہ کل ہی محض اتفاقاً میرے ہاتھ لگا ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ اس کا مصنف خود بھی لیڈر سازی کے عمل سے گزر رہا ہو گا اور لیڈر بننے کے اس عمل کے دوران کسی مرحلے پر اُس نے لیڈر بننے کا ارادہ ترک کر دیا ہو گا مگر عامۂ الناس کی آگاہی کے لئے لیڈر بننے کے یک صد نسخے ایک کتاب میں درج کر دیے ہیں۔ لگتا ہے کتاب کا مصنف کسی وقت چائے پینے کی خاطر پپو کے ہوٹل پر رکا ہو اور غلطی سے یہ نایاب نسخہ میز پر ہی بھول گیا ہو جو میز صاف کرتے ہوئے میرے ہاتھ لگ گیا۔ اگر میں خود اس کالم میں اس کا ذکر نہ کرتا تو یہ بات کسی کو معلوم تک نہ ہوتی کہ اس نہایت ہی اہم موضوع پر ایک کتاب آ چکی ہے۔
میں چاہتا تواس کتاب کو یا کم از کم اس میں درج قیمتی نسخہ جات کو اپنے ذاتی مقاصد اور تشہیر کے لئے استعمال کرسکتا تھا مگر یہ بات ایمانداری کے تقاضوں کے خلاف تھی۔ لہٰذا میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ مسودہ اس کے خالق کو واپس کر دیا جائے۔ اب یہ کتاب میرے پاس اس کے مصنف کی امانت ہے وہ کسی بھی وقت نشانی بتا کر علم و حکمت کے اس خزانے کو واپس لے سکتا ہے کیونکہ میں نے اس کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں کروا لی ہیں۔
Read more