انتخابی ہنگامے میں ایک گدھے کی آہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پچھلے سال آج ہی کے دن کی بات ہے۔ خبریں میں میرا کمپالا یوگنڈا سے لکھا گیا ایک کالم ”اب کیا ہوگا“، 23 جولائی 2017 کو شائع ہوا اور 24 جولائی کو مجھے اپنی یونیورسٹی کی ایتھکس کمیٹی سے ایک ایمیل آگئی کہ کیونکہ آپ اپنی ریسرچ اور صحافت کو اوورلیپ کر کے اپنی جان اور ریسرچ پروجیکٹ دونوں کو رسک میں ڈال رہی ہیں تو کیوں نہ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ میں بڑا تڑپی، احتجاج کیا لیکن ایتھکس گائیڈ لائینز واضح طور پر کہہ رہی تھیں کہ دورانِ ریسرچ ہم کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرسکتے جِس سے ہماری جان یا حفاظت کا خطرہ ہو۔ میں چُونکہ اپنے کالمز اور ٹویٹر ہینڈل سے سیدھی فائرنگ کی عادی ہوں، لہٰذا میری یونیورسٹی نے میرے ”ریکلیس ایٹی ٹیوڈ“ پر مجھ پر ”موچڑا“ اُٹھانا لازم سمجھا۔

میں نے کالم تو لکھنے بند کردیے، لیکن ٹویٹر پر اپنی جنگ جاری رکھی، مُجھے پیار سے، ڈانٹ ڈپٹ سے ٹویٹر پر بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا جس کو میں نے سراسر دشمنی اور ”فریڈم آف اسپیچ“ پر پابندی سے مامور کیا تاوقتیکہ مُجھے اسرائیل کی ڈپٹی ایمبسڈر کی ساتھ اپنی ہی ٹویٹ کی ہوئی ایک تصویر پر لینے کی دینے پڑ گئے اور پاکستان سے آپریٹ کیے گئے ٹویٹر اکاونٹس سے ”غدار“ قرار دیتے ہوئے باقاعدہ قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔

میں اسرائیل کے ڈپلومیٹس سے کیوں ملی، اس کی تفصیل اگلے کسی کالم میں، لیکن اس پورے ہنگامے میں آخر کار مجھے ایتھکس کمیٹی نے انٹرویوز کرنے اور ’اپنے رِسک پر“ کالمز لکھنے کی بھی اجازت دے ہی دی، کیونکہ جس رسک سے مجھے روکا گیا وہ ویسے ہی گلے پڑ گیا سو پورے ایک سال کی غیر حاضری کے بعد حاضر ہوں۔ پاکستان اِس ایک سال میں بےحد بدل چُکا ہے، اِتنا کہ روزانہ میں صحافیوں کے ایڈِٹ شُدہ اخباری اور نان ایڈِٹد شدہ ہم سب والے کالمز دیکھتی ہوں۔ لیکن ضیاء شاہد صاحب نے مُجھے زبان دی ہوئی ہے کہ ”جو مرضی آئے لِکھو، ہم پُورا پُورا چھاپ دیں گے“، سو چلئے یہ بھی آزما کے دیکھ ہی لیتے ہیں۔ ورنہ ”ہم سب“ تو ہے نہ۔

آج جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو پاکستان کی تاریخ کے انوکھے اِلیکشن کل اِس صُورت میں ہورہے ہوں گے جِس میں چار لاکھ کے قریب فوجی اہلکار ایک ایسے الیکشن کے لئے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہوں گے، جس کو ”فِری اور فئیر“ بنانے میں ہماری عزت مآب عدلیہ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، بلکہ رات کو بارہ بارہ بجے تک ”یہ عدالت ایک کیمسٹ نہیں ہے“ کی تاویل دینے کے باوجود گوگل سے مواد کو سرچ کر کر کے حنیف عباسی جیسے مجرم کو ”Beyond reasonable doubt ” کیفر کردار تک بھی پہنچا دیا تاکہ عوام اپنے شیخ صاحب جیسے شریف النفس سیاستدانوں کو سلیکٹ (معاف کیجئے گا) الیکٹ کرسکے۔

الیکشن کمیشن کے کچھ شرارتی عناصر نے سازش کرکے گو کہ الیکشن ملتوی کر دیا لیکن امید ہے کہ ہمارے ہر دلعزیز چیف جسٹس شیخ صاحب کی درخواست پر ’ترنت‘ ایکشن لیتے ہوئے کل صبح تک یہ الیکشن ہونے دیں گے تاکہ لعنت زدہ پارلیمنٹ شیخ صاحب کی برکت سے دوبارہ مستفید ہوکے پاک ہوجائے۔ سارے سروے شبھ شبھ لکھ رہے ہیں، پی ٹی آئی اب آئی کہ تب آئی، بس اب چوبیس گھنٹے ہیں اور پھر عمران خان پرائم منسٹر۔

زرداری صاحب الگ خوش کہ ان کو باہر نکلنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ ووٹ بی بی کا بلاول لے گا، اور حلوہ زرداری صاحب کھایئں گے، اکثریت چاہے کوئی بھی لے، زرداری صاحب اپنے کارڈز کھیل لیں گے، اور یوں ممجھ سے لگائی ہوئی اپنی شرط بھی جیت جایئں گے کہ اگلی حکومت پی پی پی کے بغیر نہیں بنائی جاسکتی۔ پی ایم یل این کا ’یو نو ہو‘ عرف عام خلائی مخلوق نے پکا پکا رام نام ستیہ کرنے کا پلان بنایا ہوا ہے، جس کے مطابق نون لیگ کا وہی حشر ہونا ہے، جوکہ 1996 میں بی بی کی پارٹی کا ہوا تھا۔

تاریخ بیشک اپنے آپ کو دہرا رہی ہے لیکن برا ہو کراچی میں تشدد سے ہلاک ہونے والے اس گدھے کا جو کہ آج مر گیا، اور شاید عرش پہ بھی پتہ نہیں کس کس کو اپنی آہوں سے لرزہ گیا۔ گو کہ اس ملک میں جہاں انسانوں کی آہیں اللہ تک نہیں پہنچتیں وہاں بیچارے ایک گدھے کا انصاف کون کرے گا لیکن پھر بھی لگتا ہے کہ اس ایک گدھے کی موت وہ کام کر جائے جو کہ پوری دنیا کے یہودی ایجنٹس (میں نہیں) اور امریکہ، انڈیا کے ٹکڑوں پر پلنے والے غداروں کے کالم اور رپورٹس نہیں کرسکے۔

وہ رپورٹس کیا ہیں؟

میں نے اپنی چھیالیس سالہ زندگی میں کیا، اس کمبخت انٹرنیشنل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کبھی کوئی ایسا الیکشن نہیں دیکھا جہاں ایک جمہوری ملک میں لاکھوں کی تعداد میں ”ہمیں اپنے گھروں میں محفوظ سلانے والی“ پاک فوج ڈیوٹی سر انجام دے، پھر بھی پوری دنیا کے کافر اور متعصب ادارے، ایجنسیاں اور اخبارات ان الیکشنز کی شفافیت پر نہ صرف سوال اٹھایئں بلکہ ”پرائم منسٹر سلیکٹ“ کا نام اور اس حوالے سے ممکنہ ڈیل تک کا بتا دیں کہ ”کچھ معتبر ادارے لاڈلے کی (صرف سیاستدانوں اور بلڈی سویلینز ہی کی ) ملک سے لوٹی ہوئی دولت لانے میں مدد کریں گے اور جواب میں لاڈلا فارن پالیسی، اور داخلہ کی وزارتیں ”ان“ کے حوالے کردے گا، یہاں تک کہ اگر آئین میں بھی کوئی قدغن ہے تو وہ بھی دور کردی جائے گی۔ لیکن چونکہ ”لاڈلا ناقابل اعتبار ہے تو ”چیک اینڈ بیلنس“ کے لئے ایک ہنگ پارلیمنٹ بنا دی جائے گی تاکہ بوقت ضرورت کوئی سنجرانی بھی دستیاب ہو۔ “ لیکن کیونکہ یہ سب یہودی ایجنٹوں اور ہندستانی میڈیا کی اختراع ہے اسی لئے لاڈلے نے اس کو انٹرنیشنل سازش قرار دے دیا۔

دوسری طرف انٹرنیشنل مانیٹرنگ ادارے بھی لگتا ہے چوروں کے ساتھ رلے ہوئے ہیں کہ دو دن پہلے راولپنڈی میں غداروں نے جو ناقابل اشاعت نعرے لگائے، اس نے اقوام متحدہ تک کی سیکورٹی رپورٹس تک کو ہلا کے رکھ دیا ہے کہ پہلے چند غدار قسم کے بھینسے نما موچی ہوتے تھے جوکہ اٹھا لئے جاتے تھے لیکن اب ’ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘ کی بجائے جب پنڈی سے ’ہر گھر سے غدار‘ نعرے لگاتے ہوئے نکلے تو ’ملک کے وسیع تر مفاد‘ میں ان غداروں کو نظر انداز کردیا گیا کہ ویسے بھی الیکشن دو دن بعد تھا تو کیوں اُن کن ٹُٹوں اور کھابہ خوروں کو گرفتار کرکے امن امان کو خراب کیا جائے‘ لیکن بُرا ہو انٹرنیشنل آبزرورز کا جنہوں نے اس کو تبدیلی جانا اور ڈوزئیر کے ڈوزئیر بھیج دیے جس کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان بدل چکا ہے، اب چار گِرفتار کیے گئے تو بیس دوسرے نکل آئیں گے۔

اوپر سے سوشل میڈیا جرنلزم اور موبایل فونوں سے اپلوڈ ہونے والی ویڈیوز نے الگ کام خراب کردیا، غداروں کی اپلوڈ کی گئی ویڈیوز میں صاف دکھ رہا ہوتا ہے ہے کہ پبلک کی املاک کو کون ڈنڈے مار مار کے تباہ کر رہا ہے، اور گدھے کس طرح سڑکوں پر نکل نکل کے کس کا نام لے لے کے چیخیں مار رہے ہیں، ڈیم بنانے والا مائی لارڈ بھی جو کچھ کرے لیکن لاڈلوں کے لئے بریانی کھانے والے گدھوں کی محبت نہیں جیت سکتا۔

اوپر سے گستاخ نواز شریف نے گردے فیل ہونے کے باوجود ”برسوں کی خرابیوں کی ذمہ دار دیوار کو آخری دھکہ دینے کی اپیل کردی“، گدھے ہیں کہ تلے ہوئے ہیں کہ دولتی مار کے ہی دم لیں گے، جب کہ مائی باپ (جس کا ایک بے ادب جج نے نام بھی لے لیا ہیں) ماننے کو تیار نہیں، وہ بضد ہیں کہ پاکستان کو بدلنا ہے اور اپنی مرضی سے بدلنا ہے لیکن بائیس کروڑ گدھے ہیں کہ ماننے کو تیار نہیں، وہ لڑ رہے ہیں، پہلے چند باہر نکلے، پھر سینکڑوں ہوئے، اب ہزاروں میں ہیں۔ یہاں تک کہ مجھ جیسے ’’تھینک یو راحیل شریف“ کہنے والے بھی ہاتھ جوڑ کے کہتے ہیں کہ بس کریں، آپ کی اسسیسمینٹ فیل ہورہی ہے، ہماری نہیں تو اس ایک گدھے ہی کی آہ کا اندازہ کریں، جس کو لاڈلے کے دیوانوں نے انسان سمجھ کر اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ آج مر گیا۔ 25 جولائی کو اسی ایک گدھے کی آہ آپ سے لڑے گی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمع جونیجو

شمع جونیجو علم سیاسیات میں دلچسپی رکھنے والی ماہر قانون ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی (آنرز) کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات میں میں ایم اے کیا۔ ایس او اے ایس سے انٹر نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز اور ڈپلومیسی میں ایم اے کیا۔ آج کل پاکستان مین سول ملٹری تعلاقات کے موضوع پر برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے سے پہلے شمع جونیجو ٹیلی ویژن اور صحافت میں اپنی پہچان پیدا کر چکی تھیں۔

shama-junejo has 14 posts and counting.See all posts by shama-junejo