پراجیکٹ عمران کی ہولناک موت!

2015 میں ایک جنرل کے ساتھ ہونے والی بات چیت ابھی تک میری یادداشت میں ہے جب ہم نے ”پراجیکٹ عمران“ کے لاپرواہی سے پرجوش آغاز کے بارے میں بحث کی، میں نے اس خیال اور پی ٹی آئی کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے یہ بھی متنبہ کیا کہ میں ایک دہائی کے اندر اس منصوبے کے کچھ تباہ کن نتائج کا اندازہ لگا سکتی ہوں اور یہ امریکی فوج کے ”Catalogue of Catastrophe“ میں

Read more

ضیا شاہد اور یادیں

آج چھٹا دن ہے۔ میں روزانہ اپنے فون کو دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ ابھی فون آئے گا اور وہ کہیں گے ”ہاں جی۔ دنیا کی سب سے بیمار اور سست ترین عورت۔ کیا خبریں ہیں“ اور میں ہنستے ہوئے انہیں اندر کی خبریں اس شرط پر بتاؤں گی کہ وہ مجھے کوٹ کر کے نہیں چھاپیں گے۔ لیکن میرا فون خاموش ہے۔

ضیا صاحب دنیا کے لئے پاکستان کی جدید صحافت کے بانی اور مایہ ناز نڈر صحافی تھے لیکن میرے لئے۔ صرف ایک صحافی یا میرے چیف ایڈیٹر نہیں تھے۔ وہ میرے دوست تھے، میرے استاد تھے، اور میرے باپ تھے۔ میرا ان سے تعلق اگست 2013 سے شروع ہوا۔ میں تب برطانیہ کے ہفنگٹن پوسٹ کے لئے انگریزی میں لکھتی تھی کہ مجھے خبریں کے کالم نگار مکرم خان نے کہا کہ میں ضیا صاحب کے اخبار کے لئے اردو میں لکھنا شروع کروں۔ مکرم بھائی ہی نے میری ضیا صاحب سے پہلی بار بات اگست دو ہزار تیرہ میں کروائی اور اس پہلی بات چیت کے بعد ہی ہم فیملی بن گئے۔

Read more

دراڑیں: سمیش کی دھمکی صرف مریم کو نہیں ملی تھی

مجھے کل یہاں لندن میں ایک ذریعے نے بتایا کہ سمیش کی دھمکی صرف مریم نواز کو نہیں ملی، زرداری صاحب کو بھی کچھ ایسا کہا گیا ہے کہ انہوں نے میاں صاحب کو صاف کہہ دیا کہ آپ واپس آئیں کیونکہ اگر ”مار“ کھانی ہے تو مل کے کھائیں گے، حالانکہ دیکھا جائے تو پچھلے تین سال سے مار تو سبھی کھا رہے ہیں بلکہ میاں صاحب کی تو پوری پارٹی جیل میں ہے تو ایسا کیا ہے کہ زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ میاں صاحب واپس آئیں اور کیوں ایک دم تلخیاں اتنی بڑھ گئیں؟

Read more

کینسر آپریشن کے بعد کسی ٹوٹے ہوئے روبوٹ کی طرح

سوشل میڈیا سے بہت پہلے بھی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہماری ذاتی زندگیوں پر فیچرز چھاپتے رہتے تھے جن سے مجھے کوفت ہوتی تھی، مجھے انٹرویوز دینے سے بھی عجیب قسم کی بیزاری ہوتی ہے نہ ہی مجھے دوسری سیلیبرٹیز کی طرح اپنی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کا شوق ہے۔ میں میڈیا میں ہونے کے باوجود سب سے زیادہ پریشان تب ہوتی ہوں جب کوئی چینل مجھے ویڈیو کال کے لئے کہتا ہے۔ لیکن کینسر نے سب بدل دیا۔ مجھے کینسر کی تشخیص سے پہلے بائیوپسیز کے دوران ہی ہزاروں کی تعداد میں پیغامات اور کالز آنے لگے جن کا جواب دینا میری اپنی مینٹل ہیلتھ کے لئے مثبت نہیں تھا تو میں نے زندگی میں پہلی بار پچھلے دو مہینوں میں ہونے والی ہر اپڈیٹ کو پبلک کر دیا۔

مجھے دو مہینے پہلے کینسر کی تشخیص ہوئی اور پچھلے ہفتے نو گھنٹے لمبی سرجری بھی ہو گئی۔ مجھے آنے والے پیغامات کی تعداد اب لاکھوں تک پہنچ چکی ہے تو ”ورلڈ کینسر ڈے“ ہی پر ہسپتال سے گھر آنے کے بعد میں نے مناسب سمجھا کہ ایک اور کالم لکھ دیا جائے جو کہ شاید زندگی کا ایک مشکل ترین کالم بھی ہے۔ کیونکہ میں اب وہ نہیں رہی جو تھی۔ کینسر کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ آپ کے ساتھ کیا ہو چکا ہوا ہے۔

Read more

سنہ 2020 موت کا سال تھا

سنہ 2020 موت کا سال تھا، لیکن اللہ ہی نے ہمیں یہ باور کرایا کہ موت بے شک کتنی ہی ظالم کیوں نہ سہی لیکن انسانیت کو کرونا شکست نہیں دے سکتا۔ آج جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو دنیا کے کئی ملکوں میں 2021 کا نیا سورج طلوع ہو چکا ہوگا۔ آج برطانیہ بھی یورپی یونین سے تاریخی علیحدگی کے بعد اپنا نیا سفر شروع کر رہا ہے۔ ہم اب یورپی یونین کا حصہ نہیں رہے۔ بریکسٹ نے ہمیں کیا دیا یا نہیں وہ اگلے کالمز میں، لیکن یہ برطانیہ ہی ہے جہاں کرونا کو شکست دینے کے لئے دنیا کی سب سے پہلی ویکسین لگائی گئی اور ابھی دنیا بھر کے جتنے ممالک میں امریکی منتخب صدر جو بائیڈن سے لے کے محمد بن سلمان تک جس جس کو ویکسین لگی ہے، وہ ہمارے پاکستانی جغادریوں کے فتووں کے برعکس بندر یا سور میں تبدیل نہیں ہوا۔ پاکستان نرالا ملک ہے اور پاکستان کے سیاسی شور و غل کا بہرحال کرونا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکا لیکن یہ کالم بہرحال سیاسی نہیں ہے۔

Read more

میاں صاحب اب بتا دیں نیب کسٹڈی میں کیا ہوا

میاں صاحب اور مریم نواز دونوں بیک ڈور رابطوں کی وجہ سے چپ رہ کے موقعے گنوا چکے ہیں اور کئی راز ابھی تک سینوں میں دفن کیے بیٹھے ہیں، جس کی وجہ سے اتنی کامیاب مہم کے باوجود پی ڈی ایم کی عوامی رابطہ مہم کو وہ طے شدہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے جس کی بین الاقوامی پولیٹیکل سائنٹسٹ توقع کر رہے تھے۔ کیونکہ دو چار نام لینے کے بعد بھی میاں صاحب نے وہ حدود پار نہیں کیں جس کا ان پر الزام لگ رہا ہے۔ ورنہ اگر لندن آتے ہی میاں صاحب اپنی گردن اور جسم کے نشانوں کی پلیٹ لیٹس کم ہونے کے بعد کی تصویر لیک کر دیتے جنہیں دیکھ کے ہی شاید شیریں مزاری بھی رو پڑی تھیں تو حکومت کو اس غلیظ پروپیگنڈے کا موقع ہی نہ ملتا جو پچھلے ایک سال سے جاری ہے، اور انٹرنیشنل پریشر بھی پوچھتا کہ ایک تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کے ساتھ نیب کسٹڈی میں کیا کیا گیا۔

Read more

مائنس آل کی طرف اٹھتے قدم

ڈیرن اور رابنسن اپنی کتاب  ”why nations fail“ میں سمجھاتے ہیں کہ قوموں کے تباہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ اداروں کا کمزور یا متنازعہ ہونا ہے۔ کسی بھی ملک میں اگر ادارے آپس میں کانفلکٹ کا شکار ہوجائیں۔ انسٹیٹوشنل ہائرارکی تباہ ہو تو لاقانونیت بڑھنے لگتی ہے، احتساب نہیں ہو رہا ہوتا، عدالتیں کمپرومائز ہوجاتی ہیں مہنگائی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور جب مہنگائی ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو عوام میں فرسٹریشن بڑھ جاتی ہے، پھر مظاہرے اور انارکی شروع ہوجاتی ہے اور اگر جمہوریت بھی کمزور ہو تو ریاست کی رٹ کو چیلنج لاحق ہو جاتے ہیں کیونکہ ادارے ایک دوسرے کی بات نہیں مانتے اور یوں کو لیپس کر جاتے ہیں۔ اداروں کے کولیپس کرنے پر بھی جب ریاست غیر جانب دار نہیں ہوتیں تو قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

Read more

یہ آگ لگنے سے پہلے کا وقت ہے لوگو!

میں نے جب 2016 میں ملٹری ایتھکس میں اپنی پی ایچ ڈی شروع کی تو COIN ( کاؤنٹر انسرجنسی) کے پہلے پہلے ٹریننگ سٹیشنز میں سے ایک یو ایس ملٹری اور نیوی کی ورکشاپس کا تھا جس میں لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے پیش لفظ میں نے اپنی نوٹ بک میں لکھ لئے۔ وہ پیراگراف انسرجنسی اور سیاسی طاقت کی تفریق کا تھا۔ پاکستان میں کتابیں زیادہ نہیں پڑھی جاتیں لیکن ترکی کا ایک شو ارطغرل بہت مشہور ہوا ہے۔ اس شو میں ایک بات کو زور دے کے سمجھایا گیا ہے کہ گورنمنٹ ریاست سے مختلف ہے۔ ریاست سے وفاداری کا مطلب گورنمنٹ کی اطاعت نہیں ہے۔ ارطغرل ریاست یعنی کہ سلطان کا وفادار ہے لیکن وزیر کی گورننس کے خلاف اس نے انت مچایا ہوتا ہے۔ اور پاکستان میں یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کو حکومت کا مخالف ہونا ریاست سے بغاوت نہیں ہے۔ یہ بات اگر ”ان“ کی سمجھ میں آجاتی تو آج پاکستان میں کوئی غدار نہ ہوتا نہ ہی ملک دو لخت ہوا ہوتا۔

Read more

ہوئے تُم دوست جِس کے، دُشمن اُس کا آسماں کیوں ہو!

مُشرف صاحب کے خلاف سُنائے گئے سنگین غداری کیس کے فیصلے کو ایک ہفتہ ہونے ہونے کو آیا لیکن اپیل یا صدارتی معافی کا سیدھا اور قانونی راستہ اپنانے کے بجائے اب جو اسلام آباد میں نامعلوم افراد کے ذریعے عدلیہ کے خلاف ایک پوسٹر مہم شروع کی گئی ہے کیا اُس سے فیصلہ ختم ہو جائے گا؟ جواب ہے نہیں! ہماری یہ قومی عادت ہے کہ ہم شور صرف اُس وقت مچاتے ہیں جب چھت سر پہ آن گرے،

Read more

سرفروشی کی تمنا کیوں ہمارے دِل میں ہے!

میں نے بچپن نہیں، مارشل لاء دیکھا۔ لیکن ہماری ساری تنقید جنرل ضیاء کے لئے تھی۔ ہم نے کبھی بھی فوج کو بُرا بھلا نہیں کہا۔ مُجھے اب بھی اپنے بچپن کے دن یاد ہیں جب مارشل لاء ہونے کے باوجود سیاچن کانفلکٹ کے دنوں میں ہم پاکستان کے جھنڈے لے ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے تھے اور چھوٹے بچوں کو اُن کی پہلی سالگرہ کے دن فوجی وردی پہنا کے فوٹوگرافرز کی دکانوں پر لے جاتے تھے۔ میرے

Read more

انتخابی ہنگامے میں ایک گدھے کی آہ

یہ پچھلے سال آج ہی کے دن کی بات ہے۔ خبریں میں میرا کمپالا یوگنڈا سے لکھا گیا ایک کالم ”اب کیا ہوگا“، 23 جولائی 2017 کو شائع ہوا اور 24 جولائی کو مجھے اپنی یونیورسٹی کی ایتھکس کمیٹی سے ایک ایمیل آگئی کہ کیونکہ آپ اپنی ریسرچ اور صحافت کو اوورلیپ کر کے اپنی جان اور ریسرچ پروجیکٹ دونوں کو رسک میں ڈال رہی ہیں تو کیوں نہ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ میں بڑا تڑپی، احتجاج

Read more