سوشل میڈیا سے بہت پہلے بھی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہماری ذاتی زندگیوں پر فیچرز چھاپتے رہتے تھے جن سے مجھے کوفت ہوتی تھی، مجھے انٹرویوز دینے سے بھی عجیب قسم کی بیزاری ہوتی ہے نہ ہی مجھے دوسری سیلیبرٹیز کی طرح اپنی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کا شوق ہے۔ میں میڈیا میں ہونے کے باوجود سب سے زیادہ پریشان تب ہوتی ہوں جب کوئی چینل مجھے ویڈیو کال کے لئے کہتا ہے۔ لیکن کینسر نے سب بدل دیا۔ مجھے کینسر کی تشخیص سے پہلے بائیوپسیز کے دوران ہی ہزاروں کی تعداد میں پیغامات اور کالز آنے لگے جن کا جواب دینا میری اپنی مینٹل ہیلتھ کے لئے مثبت نہیں تھا تو میں نے زندگی میں پہلی بار پچھلے دو مہینوں میں ہونے والی ہر اپڈیٹ کو پبلک کر دیا۔
مجھے دو مہینے پہلے کینسر کی تشخیص ہوئی اور پچھلے ہفتے نو گھنٹے لمبی سرجری بھی ہو گئی۔ مجھے آنے والے پیغامات کی تعداد اب لاکھوں تک پہنچ چکی ہے تو ”ورلڈ کینسر ڈے“ ہی پر ہسپتال سے گھر آنے کے بعد میں نے مناسب سمجھا کہ ایک اور کالم لکھ دیا جائے جو کہ شاید زندگی کا ایک مشکل ترین کالم بھی ہے۔ کیونکہ میں اب وہ نہیں رہی جو تھی۔ کینسر کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ آپ کے ساتھ کیا ہو چکا ہوا ہے۔
Read more