الیکشن کے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کچہری میں روتے نظر آئے
25 جولائی 2018 ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے مگر اسلام آباد میں الیکشن کے دن کے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ ہی بے یار و مدد گار نظر آئے۔ ملک میں عام انتخابات سے پہلے ہے انتخابات کے انتظامات پر انگلیاں اور شفافیت پر لوگ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ صوبہ سندھ میں انتخابات سے پہلے ہی بیلٹ پیرز پر ٹھپے لگانے کی تیاری کی جا رہی تھی کہ چوری پکڑی گئی اور ملزمان کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔ اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کہیں کہیں پر الیکشن ڈیوٹی پر غیر حاضر اساتذہ کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔
انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کی میٹنگز اور باتیں بیان بازی تک ہی رہی۔ نہ ہی بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملا نہ ہی انتخابات کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے کوئی مربوط حکمت عملی طے پا سکی۔ بس الیکشن کمیشن سمیت نگران حکومت اور تمام اداروں کے حوصلے جوان ہیں باقی سائنس اور منطق کا کیا لینا دینا ہے پاکستانی انتخابات میں۔ ہہاں تو ماضی میں اتنخابات کو شفاف بنانے کے لیے مٹیلک سیاہی کا بھی چونا لگایا گیا تھا۔ یہاں تو ایک نقلی ڈپلومے والا انجینیئر وقار پاںی پر گاڑی چلا کر دیکھا رہا اور قوم ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کی سائنس اور منطق کو غلط قرار دی رہی تھی۔
پوری دنیا بھلے ہی ٹیکنالوجی کی مدد سے انتخابات کا انعقاد کرے مگر یہاں تو لوگوں کو نادرا کے چکروں نے تباہ و برباد کر رکھا ہے۔ جب ملک کے سب سے بڑے ڈیٹا بیس کا یہ حال ہو جہاں نہ منطق ہو نہ سمجھ بس جو نادرا والے کہیں سمجھو وہی پتھر پر لکیر تو اسے میں بیچارے الیکشن کمیشن کا کیا قصور جو ملک کی سب سے بڑی ذمہ داری کو نباہ رہا ہے۔
اب قصہ شرو ع کرتے ہیں الیکشن کے دن کے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ لوگوں عرف اسلام آباد کے اساتذہ کا جن کو یہ تو بتایا گیا ہے کہ آپ الیکشن کے دن کے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی وہ بے یار و مدد گار روتے پیٹتے نظر آتے ہیں۔ سینکڑوں اساتذہ کی ہمارے با اختیار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس الیکشن کمیشن نے دو دو جگہ پر ڈیوٹیاں لگائی ہیں، کہیں اسٹاف پورا نہیں تو کسی کو اسکول نہیں مل رہا مطلب کہ گھپلے ہی گھپلے اور حل کوئی نہیں۔
جب مرد و خواتین اساتذہ اپنے حل کے لیے ریٹرنگ آفسر کا رخ کرتے ہیں تو وہاں سے جواب ملتا ہے کہ ہماری جان بخشیں جو کرنا ہے خود کریں۔ اسلام آباد میں پورا دن یہ قسمت کے مارے اساتذہ مرد و خواتین روتے پیٹتے نظر آئے کہ ڈیوٹیاں بھی انہوں نے بہت سوں کی ڈبل لگائی اور بات سننے اور مسئلے کو حل کرنے کو تیار نہیں۔ اگر بحث کرو تو جواب میں ناروا سلوک۔
جب اسلام آباد کے تیں حلقوں کے ان غریب استاتذہ کا یہ حال کر دیا ہے جو انتخابات سے پہلے ہی ذہنی مریض بن چکے ہیں ایسے میں پورے ملک کے اساتذہ کا کیا حال ہوگا؟ جب پاکستان کے دارلخلافہ کی یہ صورتحال ہے جہان الیکشن کمیشن کا صدر دفتر ہے اور اعلیٰ عدلیہ کا بڑا جج بیٹھتا ہے اور ملک میں انتخابات کے کروانے کے لیے نگران وزیر اعظم موجود ہو اور وہاں کے مرد خواتیں اساتذہ کی شنوائی نہ ہو جو ریٹرنگ آفیسر کے چپڑاسیوں اور کلرکوں کی جھاڑ کھاتے نظر آتے ہوں تو پھر آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ پوری ملک میں عام انتخابات کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہوں گے۔ اسلام آباد کے اساتذہ کچہری میں ایسے چکر لگا رہے تھے جیسے وہ قتل کے مجرم ہوں اور اپنے ضمانت کروانے کے لیے آئے ہوں۔
جب ایک اسلام آباد جیسے چھوٹے شہر میں محض تین حلقوں کے انتظامات میں ناکامی نظر آئے تو پھر پورے ملک میں شفاف اتنخابات پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔


