اکمل خالو کا آستانہ عالیہ


اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ اکمل خالو نے ملازمت سے برطرف ہونے سے پہلے ایک اور کارنامہ انجام دیا تھا اور وہ یہ تھا کہ ایک ضعیف العمر اور ان پڑھ خاکروب جو ایک آدھ ماہ میں ریٹائر ہونے والا تھا، اس کے پینشن کے کاغذات اپنی محیرالعقول صلاحیتوں کے ذریعے اپنے نام کر لئے تھے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ کیوں کر ممکن ہے، تو بھیا جہاں، کئی منزلہ پلازے صرف کاغذوں پر کھڑے ہوکر اپنی پوری قیمت وصول کر لیتے ہیں، جہاں ایک ایک پلاٹ تین تین چار چار لوگوں کو الاٹ ہوجاتا ہو اور جہاں جعلی ڈگریوں والے ملک کی قانون سازی کرتے ہوں، جہاں بہروپیے اور مداری عالم بن کر رمضان میں تماشے دکھائیں، وہاں ایک ان پڑھ کے کاغذات میں ادل بدل کرلینا کون سا بڑا کام ہے اور یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب یہ شناختی کارڈ کا ٹنٹا بھی نہیں تھا۔ اکمل خالو خود تو وہاں جا نہیں سکتے تھے چنانچہ راشد اس خاکروب کا بیٹا بن کر اس کی پینشن وصول کرتا رہتا۔ جن لوگوں نے اس کی شناخت کی تصدیق کرنا ہوتی وہ اپنا حصہ پہلے ہی نکال چکے ہوتے، کچھ راشد مار لیتا اور خالو کے ہاتھ بہت کم رقم آتی لیکن بہرحال ایک لگی بندھی اور مستقل آمدنی تو تھی۔

لیکن جیسا کہ پہلے بھی کہا کہ فلک کج رفتار کہاں چین لینے دیتا ہے۔ کبھی کبھار ایک حقیر سی چیونٹی پہاڑ سے ہاتھی کی سونڈ میں گھس کر اسے ڈھیر کردیتی ہے۔ خالو نے جسے بے ضرر سا ان پڑھ سا دیہاتی جانا تھا، اسی عنایت مسیح کا بیٹا جوزف مسیح کچھ پڑھ لکھ گیا تھا۔ وہ باپ سے ایک دن پوچھ بیٹھا کہ اس کی ملازمت بلدیہ میں مستقل تھی یا عارضی، عنایت کو بھلا کیا پتہ اس نے کوئی ایسا ہی جواب دیا۔ جوزف کو لیکن کرید لگ گئی، اس نے کچھ دوستوں کی مدد سے پتہ لگالیا کہ اس کا باپ بلدیہ کا مستقل ملازم تھا اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن کا مستحق تھا۔

سوال یہ تھا کہ عنایت مسیح کو ریٹائر ہوئے تو کئی ماہ ہوگئے تھے اور اسے اب تک پینشن کیوں نہیں بھیجی گئی۔ پتہ چلا کہ پینشن کے لئے کاغذات یا کارڈ لے کر خود آنا پڑتا ہے یا کسی کو نامزد کرنا پڑتا ہے۔ تو کیا اتنے ماہ کی پینشن عنایت مسیح کے حساب میں جمع تھی؟ جوزف کو ان سوالوں کے جواب چاہیے تھے۔ جب وہ متعلقہ شعبے میں گیا تو اسے بتایا گیا کہ عنایت مسیح کا بیٹا تو کئی ماہ سے یہ پینشن وصول کر رہا ہے۔

جوزف کے لئے تو یہ ایک نئی خبر تھی کہ اس کا کوئی اور بھی بھائی ہے۔ بہرحال اس نے متعلقہ محکمے کو تمام شواہد فراہم کر دیے۔ اکمل خالو تو پہلے ہی مشتبہ تھے اور ان کے خلاف انکوائری چل رہی تھی۔ جب کبھی کوئی تفتیش کے لئے جاتا تو یہی رپورٹ لے کر لوٹتا کہ وہاں تو کوئی پیر صاحب رہتے ہیں۔ یہ تفتیش کنندہ بھی کسی بزرگ ہستی سے پنگا لینے سے خوفزدہ تھے چنانچہ واپس آکر خیر کی ہی خبر دیتے۔ راشد آج بھی پہنچا تو پینشن دینے والے اہلکار نے جوزف کو بتایا کہ یہ ہے عنایت مسیح کا بیٹا۔
۔ ۔
”ابھی تک لوٹا نہیں۔ آج ہی بانسوں پر جھنڈے بھی لگوادیں گے۔ پتواری سے آج ہی دیوار پر قلعی کروائیں گے۔ “ اکمل خالو نے جیب سے کاغذ نکال کر دیکھا ”آستانہ عالیہ، حضرت، پیر طریقت۔ “
دروازے پر دستک ہوئی۔ ” آجاؤ بھئی“
”پردہ کروالیں“ باہر سے ایک مردانہ آواز آئی

”ہائیں! کون ہی بھئی؟ “ اکمل خالو کسی زنانہ سائل کے منتظر تھے۔
ارے یہ کیا۔ ایک پولیس والا ایک سادہ لباس میں ملبوس اہل کار کے ساتھ دروازے پر کھڑے تھے۔
”کون ہو بھئی۔ کیا چاہیے“

”ذرا ہمارے ساتھ چلئے“ سادہ لباس والے نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر دکھایا۔
یہ کورنگی تھانہ تھا۔ شام تک نہ جانے کیا کچھ سوالات ہوتے رہے۔
”بھئی اسے اندر بھیج دو“ تھانے دار کی آواز آئی۔ ”باقی تفتیش کل کریں گے“

نیم تاریک کمرے میں، جس کے دروازوں پر سلاخیں لگی تھیں۔ فرش پر کچھ ڈھیر سے نظر آئے۔ ایک ڈھیر میں جنبش ہوئی اور ایک رونی سے آواز آئی“ ابا“
یہ پیر طریقت، قدوت السالکین، پیر اکمل علی شاہ کے ہونے والے سجادہ نشین راشد بابا کی آواز تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2