2018 کے انتخابات، نیا پاکستان نئی حکومت اور نئے چیلینج
پچیس جولائی کو اب سے چند گھنٹوں بعد پوری قوم کے اکیس سال سے زائد عمر کے افراد صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک ووٹ ڈال کر اپنی اور قوم ملک کی قسمت کو جوں کا توں رکھنے یا بدلنے کا فیصلہ کریں گے. اﷲ نہ کرے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم دنیا کے بدلتے حالات کی نذر ہو کر مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں۔
بہر حال یہ اس وقت پتہ چلے گا جب نئی حکومت بن جائے گی۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مرکزی حکومت میں نئی حکومت کا سربراہ چاہے وہ عمران خان یا شہباز شریف یا پھر مخلوط حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کمزور گھوڑا کیوں نہ ہو، اسکے سامنے مندرجہ ذیل بہت ہی اہم چیلنج ہونگے۔
اٹھارہویں ترمیم
گزشتہ پانچ سالوں میں جو بات کھل کر سامنے آئی وہ اٹھارھویں ترمیم اور اسکے ملک اور صوبوں پر اثرات سے زیادہ ان پر نظر آتے رہے جو اس ملک کے لئے اپنے آپکو عوام سے بھی زیادہ ناگزیر تصور کرتے ہیں. حالانکہ اگر صوبوں کو دیکھا جائے تو اٹھارہویں ترمیم سے سب سے زیادہ فایدہ صوبوں کو ہوا ۔ ہم زمانہ طالب علمی سے کنکرنٹ لسٹ کا نام سنتے آ رہے ہیں جس کا کسی حد تک خاتمہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ہوسکا اور صحت، تعلیم، ماحولیات، مقامی حکومتیں اور اسی طرح کے دوسرے معملات اور انکے لئے مرکز سے زیادہ فنڈز صوبائی حکومتوں کو ملنے لگے جس پر صوبے زیادہ خوش رہے، یہ اور بات کہ نوں لیگ کی حکومت نے کچھ وزارتیں دوبارہ بنا کر وہ فنڈز اپنے ہاتھ میں لے لئے۔
جب وہ قوتیں جو اپنے آپکو ناگزیر قرار دیتی ہیں اپنے لیے مزید فنڈز کا مطالبہ کرتی ہیں تو یہی کہا جاتا رہا کہ صوبوں کے فنڈز کو مرکزی حکومت کہیں اور خرچ نہیں کر سکتی. مجھے یہ خدشہ ہے کہ نئی حکومت کا ان کے تصادم کا آغاز اٹھارہویں ترمیم کے معاملے سے ہوگا کیوں کہ ہو سکتا ہے ان کے بجٹ میں اضافہ وقت کی ضرورت بھی ہو پر صوبوں کے فنڈز کم کرنا اور انکے اختیارات کو سلب کرنا بھی اتنا آسان نہ ہوگا. اور ظاہر ہے کہ ایک کمزور حکومت کسی بھی طور پر آئین میں ترمیم نہیں کرا سکے گی اور ایک معلق پارلیمنٹ تو یقینی طور پر ناکام رہے گی. اگر یہ معاملہ اولیت رکھتا ہے تو کسی نہ کسی پارٹی کو بھاری مینڈیٹ دینا ہو گا۔
ڈیموں کی تعمیر
آج کل ملک بھر میں پانی کا ایک بڑا بحران کھڑا نظر آتا ہے اور یہ بحران ہے اہمیت کا حامل بھی ہے جس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے. حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان نے اس کا نوٹس لیا اور یہاں تک کہ ایک فنڈ بھی قائم کر دیا گیا جس کے لئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے کٹوتی بھی اور اسکا سب سے پہلے مسلح افواج کی طرف سے اعلان کیا گیا، جس سے لگتا ہے کہ بھاشا اور مہمند ڈیموں کی فوری تعمیر کا معاملہ نئی حکوت کے سامنے رکھا جائے گا جس کے لئے پارلیمنٹ کے ذریعے بھی کچھ قراردادیں منظور کرا کر انکی تعمیر کو یقینی بنایا جاسکتا ہے. اس کے لیے فندز مختص کرنے کے علاوہ بھاری قرضے بھی لینے پڑیں گے۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کے لئے ضروری ہوگا کہ کہ ایک اکثریت والی پارٹی کی حکومت بنے اور وہ ان معاملات پر عملی اقدامات کرے۔ ایک کمزور حکومت یہ کسی طور پر نہ کر پایے گی۔
معاشی اور اقتصادی مشکلات
نگران وزیر خزانہ جو مشرف دورمیں اسٹیٹ بنک کی گورنر بھی رہی ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں سے بھی منسلک رہی ہیں ، نے وزارت کا چارج سمبھالتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ ملک کے مالی حالت کچھ اچھی نہیں، پھر ہوا یہ کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل گرتی چلی گئی اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے. اسکے اثرات نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نظر آیے ، بلکہ مہنگائی بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے، اس میں کوئی شق نہیں کہ اسحاق ڈار نے مصنوعی طریقے سے مارکیٹ سے ڈالر خرید خرید کر روپے کی قدر کو قابو میں رکھا. نئی حکومت جس کی بھی ہو ، اسکی معاشی اور اقتصادی ٹیم کو کو معیشت کی بحالی کے لئے بہت اہم اقدامت کرنے ہونگے. سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضے نو سو ارب سے تجاوز کر چکے ہیں اسکی عدم ادائیگیاں ایک بار پھر توانائی اور لوڈ شیڈنگ کا بحران کھڑا کر سکتی ہیں.
روزگار کے مواقع اور غربت میں کمی
اس بار تمام سیاسی جماعتوں نے نوجوانوں پر فوکس کیا ہے کیوں کہ اس بار دو کروڑ نیے ووٹر پہلی بار اپنا ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کریں گے. پچھلے پانچ سال کے دوران نون لیگ کی حکومت وعدے تو کرتی رہی کہ نوجوانوں کو ملازمتیں دی جائیں گی، آسان قرضوں کی اسکیمیں بھی جاری ہوئی جو ناکامی سے ہمکنار ہو کر بس منصوبے ہی رہے، یہاں تک کہ ڈیلی ویجز ملازمین چاہے وہ ٹیچر ہوں یا ڈاکٹر، کلرک ہوں یا معذور افراد ملازمتوں کے حصول اور یا پھر مستقلی کے لئے احتجاج کرتے اور مار کھاتے رہے. روزگار صرف من پسند لوگوں کو ہی ملا.
پی ٹی آیٰ نے اپنے انتخابی منشور میں ایک کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کاا علان تو کر دیا ہے پر نجانے یہ ملازمتیں کیسے اور کہاں سے پیدا ہونگی. ایک صنعتی انقلاب ہی اتنی بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے.
چین کے ساتھ جاری سی پیک کے بارے میں حال ہی میں وال سٹریٹ جرنل کی خطرناک رپورٹ سامنے آیی ہے جس سے لگتا ہے کہ پاکستان سری لنکا کی طرح قرضوں کی جال میں کہیں نہ پھنس جائے، گو کہ پچھلے ماہ پاکستان میں چین کے سفیر سے ایک ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ یہ سب خبریں امریکی پرپیگنڈہ ہیں، پر نیی حکومت کو اس پر بھی ایک محتاط حکمت عملی اختیار کر نہ ہو گی.
تعلیم، صحت، آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ، امن امن کی صورتحال، دہشت گردی جس نے انتخابی مہم کے دوران تین لیڈروں سمیت سو کے قریب بیگناہ افراد کی جان لے لی. پھر ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر صورتحال نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ بھارت کی دونوں سرحدوں پر مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی سے نمٹنا یہ وہ مسائل ہیں جس کے لئے نئی حکومت کو اہم ترین اقدامات کرنا ہونگے.


