شادی سے بیس منٹ پہلے ملنے والے خط میں ایسا کیا تھا جو وہ شادی پھر کبھی نہ ہو سکی؟
برطانوی لڑکی امیلیا اپنی شادی کے موقع پر بے حد خوش تھی اور دیوانہ وار تیاریوں میں مصروف تھی۔ اپنے میک اپ سے پہلے اس نے دولہے کرس کو باہر رخصت کیا جو شادی کی تقریب کے لئے کچھ آخری انتظامات دیکھ رہا تھا۔ امیلیا کا کہنا ہے کہ جب وہ کرس کو ہاتھ ہلا کر رخصت کر رہی تھیں تو ان کے فلیٹ کے دروازے کے پاس انہیں ایک خط ملا، جسے انہوں نے اٹھا لیا اور اندر چلی آئیں۔ اس خط کو کھولنے کے 20 منٹ بعد ہی وہ کرس کے فلیٹ کو چھوڑ رہی تھیں اور اپنے والدین کو بتا رہی تھیں کہ شادی منسوخ ہو چکی ہے۔
ڈیلی سٹار کے مطابق امیلیا کا کہنا ہے کہ اس ایک خط نے ان کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ نجانے یہ خط کس نے لکھا تھا لیکن اس میں ایک نام دیا گیا تھا اور امیلیا سے کہا گیا تھا کہ وہ فیس بک پر اسے سرچ کرے۔ انہوں نے فوری طور پر اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور دیا گیا نام سرچ کیا۔ پھر انہوں نے اس نام سے بنایا گیا فیس بک اکاؤنٹ کھولا اور پھر جو دیکھا وہ ان پر بجلی بن کر گرا اور آن واحد میں سارے خواب جلا گیا۔
امیلیا کے سامنے کرس کی تصویر تھی، اور وہ اکیلا نہیں تھا۔ وہ جس شخص کو کرس کے نام سے جانتی تھی فیس بک پر اس کا ایک اور نام سے اکاؤنٹ تھا، جہاں اس کی بیوی اور تین بچوں کی تصاویر بھی تھیں۔امیلیا کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اور سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کریں۔ انہوں سب سے پہلے اپنے بھائی کو فون کیا اور بتایا کہ وہ اس کے گھر آ رہی ہے۔ پھر اس نے اپنے والدین کو فون کر کے بتایا کہ اس کی شادی کی تقریب شروع ہونے سے چند منٹ پہلے منسوخ ہو گئی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ شادی کی تقریب شروع ہونے سے چند منٹ پہلے اس کا منسوخ ہونا ان کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا لیکن وہ اس بات پر خوش ہیں کہ عین وقت پر حقیقت ان پر کھل گئی۔ انہیں آج تک معلوم نہیں کہ وہ خط کس نے بھیجا تھا، البتہ کہتی ہیں کاش انہیں اس شخص کے بارے میں معلوم ہوتا تو اس کا شکریہ ضرور ادا کرتیں۔


