تحریک انصاف کو بہترین جیت مبارک ہو


وفاق میں تحریک انصاف کی جیت تو متوقع تھی، لیکن پنجاب میں اس کی پرفارمنس ناقابل یقین رہی ہے۔ مگر سب سے اہم خیبر پختونخوا کے عوام کا اس پر اعتبار ہے۔ واقعی اس نے کچھ پرفارمنس شو کی ہے جو ادھر یہ دوبارہ اکثریتی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اس وقت تک کے موصول شدہ نتائج کے مطابق 99 میں سے 63 سیٹیں اس کے پاس جا رہی ہیں۔ خود میرے لئے اس کے پرفارمنس کے دعوے اہم نہیں تھے، میرے لئے خیبر پختونخوا کے عوام کا ووٹ اس کی پرفارمنس کا ثبوت ہے۔ خدا کرے کہ وہ یہ پرفارمنس مرکز میں بھی دکھانے میں کامیاب رہے۔

تقریباً 42 فیصد پولنگ سٹیشنوں کے ریزلٹ کے مطابق تحریک انصاف اس وقت قومی اسمبلی کی 113 اور مسلم لیگ نون 64 کے قریب سیٹوں پر آگے ہے۔ خیبر پختونخوا میں 35 فیصد پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف اس وقت 99 میں سے 66 سیٹوں پر جیت رہی ہے۔ پنجاب کے 41 فیصد نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کے پاس 132 اور تحریک انصاف کے پاس 121 سیٹیں جا رہی ہیں۔ سندھ کے 28 فیصد نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 73 اور تحریک انصاف 23 پر آگے ہے۔ بلوچستان کے 28 فیصد نتائج کے مطابق باپ 14 اور بی این پی 9 پر آگے ہے۔

ابھی تک پچاس فیصد پولنگ سٹیشنوں کے نتائج بھی سامنے نہیں آ پائے ہیں۔ حتمی ریزلٹ تو شاید رات گئے یا کل تک ہی موصول ہوں گے اور اسی وقت تفصیل سے اور حتمی بات ہو گی، لیکن سوال یہ ہے کہ اب مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں جو دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں، اس مبینہ دھاندلی سے کتنی سیٹوں پر فرق پڑ جائے گا؟

الیکشن کمیشن کی نا اہلی سامنے ہے۔ تاخیر کا الزام نتائج کی ترسیل کے نظام کو دیا جا رہا ہے جو کل شام ایسا بیٹھا کہ ابھی تک نہیں اٹھ پایا ہے۔ کوئی بھی اہم کمپیوٹر سسٹم بناتے وقت اس کی ناکامی کی صورت میں متبادل نظام بھی تیار رکھا جاتا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی متبادل نہیں بنایا تھا؟ گزشتہ انتخابات میں جب یہ جدید ترین کمپیوٹر سسٹم نہیں تھا تو رات بارہ ایک بجے تک بیشتر سیٹوں کے نتائج کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ اب اگلے دن دوپہر تک بھِی 50 فیصد پولنگ سٹیشنوں کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی افسران کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ پہلے فارم 45 کو سکین کر کے الیکشن کمیشن کے سسٹم کو بھیجنا ہے، اور اس کے بعد امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو دینا ہے۔ سسٹم ڈاؤن ہو گیا، فارم 45 الیکشن کمیشن کو بھیجا ہی نہ جا سکا، اور انتخابی افسران الیکشن کمیشن کی ہدایت پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ریزلٹ کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ کل شام ہی جب یہ بحران پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا تو الیکشن کمیشن کو اس پر فوری ردعمل دینا چاہیے تھا۔ اب اس کی نا اہلی کی وجہ سے عمران خان کی فتح پر شک کے تاریک سائے منڈلانے لگے ہیں اور بڑی سیاسی جماعتوں نے نتائج کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔

شکست خوردہ جماعتوں کی یہ روش پاکستان کے لئے بہتر نہیں ہو گی۔ تحریک انصاف اگر حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے، تو اسے پانچ سال تک کام کرنے کی مہلت دی جانی چاہیے۔ پاکستان کو ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے، خواہ یہ کسی بھی جماعت یا اتحاد کی ہو۔ ان جماعتوں کو پاکستان کا سوچنا چاہیے۔ تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے تو اسے حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اور اس حکومت کو پانچ برس کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ زیادہ خوشی کی بات ہے کہ ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آنے کی بجائے ایک پارٹی فیصلہ کن اکثریت حاصل کر رہی ہے جو ایک مضبوط حکومت بنا سکتی ہے۔

تحریک انصاف کو بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ سیاسی انتقام کی راہ پر چل کر دوسری جماعتوں کو مرنے مارنے پر آمادہ نہ کر دے۔ اسے سکون سے اپنے پروگرام پر فوکس کرنا چاہیے۔ اپوزیشن جماعتوں کی تو کوشش یہی ہو گی کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اشتعال دلوا کر فضا کو اس کے خلاف کریں۔ تحریک انصاف کو غیر معمولی تحمل سے کام لینا چاہیے۔ یہی بات اس کے اور پاکستان کے لئے ضروری ہے۔

جہاں تک الیکٹ ایبل کو زبردستی تحریک انصاف میں دھکیلنے کا تعلق ہے، تو الیکٹ ایبل کب کسی ایک جماعت کے وفادار ہوئے ہیں؟ وہ تو چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں، کبھی جنرل مشرف کی ق لیگ میں تھے، پھر ن لیگ میں گئے اور اب اگر وہ تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں تو اس پر شکوہ کیسا؟ ان کا ووٹر کسی جماعت کی بجائے ان کی ذات کو ووٹ دیتا ہے اور ان کے فیصلے پر بھروسا کرتا ہے۔ اس کے ووٹ کو بھی عزت دینی ہو گی۔ ہمیں سیاسی جماعتوں کے نظریاتی کارکنوں کی چاہ ہے تو ہمیں سیاسی جماعتوں کا نظام بھی ایسا بنانا ہو گا جس میں ایک کارکن بھی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لیڈر بن سکے ورنہ الیکٹ ایبلز اور موروثی سیاست دانوں کے رحم و کرم پر ہی رہنا ہو گا۔

ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ تحریک انصاف کچھ ایسی اصلاحات متعارف کروائے گی جو دوسری جماعتیں نہیں کرا سکی ہیں۔ اس کا صحت کا پروگرام اچھا ہے۔ اس کا شجر کاری کا پروگرام اچھا ہے۔ ان کی طرف ابھی تک کسی دوسری سیاسی جماعت نے توجہ نہیں دی تھی۔ خاص طور پر اس کا ٹیکس اصلاحات کا پروگرام بہت متاثر کن دکھائی دیتا ہے۔ اسے موقع دیا جائے کہ وہ سکون سے کچھ عرصے ان اصلاحات پر کام کرے اور اس کے بعد 2023 میں قوم فیصلہ کرے کہ اس نے اگلی حکومت کس سیاسی جماعت کو سونپنی ہے۔ بس عمران خان سے ایک گزارش ہے کہ اب وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ ریاست پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے بات کریں گے، اور بات کر کے پھرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ خواہ یاد داشت کے بل پر بات کریں یا پرچی دیکھ کر، لیکن جو کچھ بھی کہیں خوب سوچ سمجھ کر اور ساتھیوں سے مشورہ کر کے کہیں۔

بہرحال جو بھی حکومت بنے، خواہ تحریک انصاف کسی سے بنائے یا دوسری جماعتیں ایسا کریں، اپوزیشن کو پاکستان کی خاطر ایک مستحکم حکومت کو کام کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ پاکستان اس وقت کسی احتجاجی تحریک کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ اگلے دو تین برس پاکستان کے لئے ویسے بھی معاشی، داخلی اور خارجی طور پر پریشان کن ہیں۔ اس دور کی حکومت ایک بڑے امتحان میں پڑے گی۔ خدا اسے سرخرو کرے۔ ہم نئے پاکستان کے منتظر ہیں اور اس کے لئے دعا گو ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar