اب دھاندلی سے آگے دیکھنے کی ضرورت ہے


پاکستان کی تاریخ کے سب سے متنازع انتخابات انجام کو پہنچے۔ اس روز کوئٹہ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ہونے والی دہشت گردی میں اکتیس افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی کامیابی سے کن عناصر یا قوتوں کو خطرہ لاحق ہے۔ حتمی نتائج تو الیکشن کمیشن بعد میں جاری کرے گا لیکن حسب توقع پاکستان تحریک انصاف کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور رات گئے تک آنے والی خبروں کے مطابق اسے قومی اسمبلی کی 109 نشستوں پر کامیابی حاصل ہورہی تھی۔ مسلم لیگ (ن) 67 اور پیپلز پارٹی38 نشستوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف نے کامیابی کا جشن منانا شروع کردیا ہے تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر جماعتوں نے بھی دھاندلی اور انتخابی عمل میں بے قاعدگیوں کے الزامات عائد کئے ہیں۔ یہ الزامات آنے والے دنوں میں سنگین صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور دیگر خود مختار مبصرین نے بھی انتخابی عمل کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انتخابات سے پہلے ہی پری پول رگنگ اور انتخابات میں ایک خاص پارٹی کو جتوانے کے لئے اسٹبلشمنٹ کی کوششوں کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ اب اسی پارٹی کی واضح کامیابی کے بعد اس حوالے سے شور و غل سامنے آنا فطری بات ہے۔ تاہم انتخاب جیتنے اور ہارنےوالی سیاسی جماعتوں پر یکساں طور سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کامیابی کے جوش اور ہارنے کے غصہ کو ملک میں جمہوری عمل پر اثرانداز نہ ہونے دیں۔

سیاسی پارٹیوں کی بلوغت اور جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی خواہش و کوشش سے ہی پاکستا ن میں کامیاب جمہوریت کی ضمانت فراہم ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں ایک انتخاب میں کامیابی یا ناکامی کو بنیاد بنا کر منفی رویہ اختیار کریں گی تو اس کا خمیازہ بھی سیاسی جماعتوں کو ہی بھگتنا پڑے گا اور ملک میں جمہوریت عوام کی رائے کا اظہار بننے کی بجائے طاقتور عناصر کے ہاتھوں کا کھلونا بنی رہے گی۔ اہل پاکستان ماضی میں متعدد بار اس کھیل کا مشاہدہ کرچکے ہیں اور اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرچکے ہیں ۔ اس لئے اب سیاسی پارٹیوں کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری عمل کو فعال بنانا ہوگا۔ انتخابات میں دھاندلی اور بیرونی عوامل کی مداخلت پر ضرور احتجاج کیا جائے لیکن اس احتجاج کو اتنا سنگین بنانے سے گریز ضروری ہوگا کہ ملک میں جمہوری عمل ہی خطرے میں پڑ جائے۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کے بارے میں یہ تاثر عام رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ اسے کامیاب کروانا چاہتی ہے ۔ گزشتہ ایک برس کے دوران متعدد ایسے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں جن کی روشنی میں آرمی چیف، چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی یقین دہانیوں کے باوجود شبہات پیدا ہوتے رہے۔ خاص طور سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران جس طرح متعدد الیکٹ ایبلز نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے قطع تعلق کرکے پاکستان تحریک انصاف میں شرکت کی ہے، اس سے ان شبہات کو تقویت ملی ہے۔ ملک کے نگران وزیر قانون سید علی ظفر سمیت پاک فوج اور الیکشن کمیشن کے ترجمان یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر انتخابی عمل میں مداخلت کی جارہی ہے تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں۔ اب یہی بات الیکشن کمیشن متعدد سیاسی جماعتوں کی شکایات کے بعد کہہ رہا ہے۔ حالانکہ انتظامی اختیارات کے بے جا استعمال کے ثبوت سامنے لانا کسی بھی فرد یا جماعت کے بس میں نہیں ہو سکتا۔ لیکن منظر نامہ پر موجود بعض حالات اصل کہانی بیان کرتے ہیں اور ان سے ہی یہ تاثر بھی تقویت پکڑتا ہے کہ انتخابات میں غیر منتخب ادارے کس حد تک ملوث ہیں اور ان سے من پسند نتائج حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹبلشمنٹ ایک خاص طریقے سے ایک خاص حد تک ہی کسی پارٹی کو جیتنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔ لیکن جس ملک میں 10 کروڑ60 لاکھ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو، ان میں کسی بھی ایک ادارے یا طاقت کے لئے ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد کو کسی ایک خاص گروہ یا پارٹی کے لئے ووٹ دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ جیتنے والی پارٹی بہر حال عوام کے ووٹ لے کر ہی کامیاب ہوتی ہے۔ یہ تفصیلات آنے والے دنوں میں سامنے آجائیں گی کہ تحریک انصاف اور دوسری پارٹیوں کو کتنے ووٹ ملے ہیں ۔ ملک میں چونکہ حلقہ جاتی انتخابی طریقہ مروج ہے اس لئے کسی بھی پارٹی کو متناسب نمائیندگی کے طریقہ کار کے مطابق مقبول ووٹوں کی شرح کے حساب سے نشستیں حاصل نہیں ہوتیں۔ اس کے باوجود ملنے والے ووٹوں سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ عوام میں کسی پارٹی کی جڑیں کس قدر راسخ ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی غیر معمولی شکست کے بعد یہ گمان کیا جانے لگا تھا کہ یہ پارٹی سندھ کی حد تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن حالیہ انتخابات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں کامیاب انتخابی مہم چلاکر سیاسی جد و جہد کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ اس لئے جو لوگ اب یہ اعلان کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کا سیاسی جنازہ نکل گیا اور اب اس پارٹی کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے ، وہ بھی جمہوری عمل میں سیاسی کام کی قدر و قیمت کا غلط اندازہ لگارہے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں انتخاب میں کامیاب یا ناکام ہوتی رہتی ہیں لیکن انہیں اقتدار میں آکر یا اپوزیشن میں رہ کر سیاسی کام جاری رکھنا چاہئے ۔ اسی طرح جمہوریت مضبوط اور اس پر غیر جمہوری اداروں کی دسترس ختم کی جاسکتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف بلند بانگ دعوے کرنے کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر شدید اور سنگین الزامات لگاتے ہوئے موجودہ کامیابی تک پہنچی ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ خبر ہونی چاہئے کہ لوگوں نے اسے اپنے مسائل حل کرنے کے لئے ووٹ دئیے ہیں۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ کس کو کیا سزا ملتی ہے اور کون کس انجام کو پہنچتا ہے لیکن وہ یہ ضرور چاہیں گے کہ بے روزگاری، معاشی بدحالی، سماجی بے چینی، انتہا پسندی و دہشت گردی اور عالمی سطح پر سفارتی تنہائی سے پیدا ہونے والی مشکلات میں کمی واقع ہو۔ نئی منتخب حکومت دل جمعی سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے صلاحیت اور وقت صرف کرے۔ اسی طرح اپوزیشن پارٹیوں کو انتخابی عمل میں دھونس دھاندلی اور نقائص کے بارے میں جائز شکایات کے باوجود جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کمر بستہ ہونا چاہئے۔ آسان لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر عمران خان نے وزیر اعظم بن کر منتشر اور تقسیم شدہ قوم کو اکٹھا کرنے کی مثبت اور ان تھک کوشش نہ کی اور ملک کی بہبو کی بجائے ان کی توجہ سابقہ حکمرانوں سے انتقام لینے پر مرکوز ہوگئی تو اس کا خمیازہ انہیں بہت جلد بھگتنا پڑے گا۔ اسی طرح اپوزیشن نے اگر دھاندلی کے نام پرانتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے انکار کرتے ہوئے نظام کو معطل کرنے کی کوشش کی تو اس سے جمہوریت تو توانا نہیں ہوگی لیکن بعض نادیدہ قوتوں کو لولی لنگڑی جمہوریت کو بھی لپیٹنے کا موقع مل سکتا ہے۔ کسی بھی سیاسی قوت کو نہ تو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایسی صورت پیدا کرے اور نہ ہی اس میں کسی کی بھلائی ہے۔ اس وقت دھاندلی کے الزامات اور دعوؤں سے آگے دیکھنے اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔

جمہوریت کے بارے میں یہ تصور گمراہ کن ہے کہ پارلیمنٹ میں صرف اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی ہی جمہوری عمل کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ پارلیمانی جمہوری نظام میں اپوزیشن بھی اہم کردارا ادا کرتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو یہ سبق سیکھنا ہو گا کہ پارلیمانی، سیاسی اور آئینی مسائل حل کرنے کے لئے سیاسی قوتوں کو پارلیمنٹ میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی روایت کو راسخ کرنا ہو گا۔ اسی طرح غیر جمہوری اداروں کی مداخلت اور قوت کو کم یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ آج کے انتخاب میں جیتنے اور ہارنے والی پارٹیوں نے اگر یہ فراموش کیا تو پاکستانی سیاست پر اسٹبلشمنٹ ہمیشہ حاوی رہے گی اور مختلف سیاسی گروہ کامیاب ہونے والی پارٹی کو نیچا دکھانے کے لئے درپردہ انہی قوتوں سے ساز باز کرنے کا گناہ بے لذت کرنے کے مرتکب ہوں گے جن کے خلاف شکایات کے انبار سامنے لائے جارہے ہیں۔ جمہوریت کی کامیابی کے لئے اکثریتی اور اقلیتی پارٹیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ 342 کے ایوان میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ارکان پر مشتمل اپوزیشن ایک بہت بڑی قوت ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ اپوزیشن حکمران جماعت کو گمراہ ہونے سے روک سکتی ہے اور جس وقت اسے کسی غیر جمہوری قوت سے تصادم کی صورت حال کا سامنا ہو تو اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کے ہاتھ مضبوط کر کے اور آئین کو واضح اور مؤثر بنا کر پارلیمنٹ اور عوامی نمائیندوں کی قوت میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔

 اکثریت حاصل کرنے والی اور اپوزیشن جماعتیں اگر پارلیمنٹ کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے کام کرسکیں تو مستقبل میں ان شکایات کا تدارک ہو سکتا ہے جو انتخابات سے قبل اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ کی مداخلت کے بارے میں سننے میں آتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس اگر سیاسی قوتوں نے باہم دست و گریبان ہونے کا چلن ترک نہ کیا تو ملک میں جمہوریت کا مستقبل بدستور مخدوش رہے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali