فلامینکو رقص : اندلس کا نوحہ



گلوکار کی آواز ہلکی سے بلند ہوتی ہے، بلند مگر دور سے آتی آواز۔ وادی الکبیر کے پھیلاؤ کی آواز، زیتون کے باغات سے گزرتی آواز، کھجوروں کے درختوں کو چھوتی، وادی میں گونجتی آواز، ہلکی سسکی سے اونچا بین ڈالتی آواز، گم گشتہ نسلوں کا ماتم کرتی آواز، میناروں سے گم شدہ اذانوں کی آواز۔ مینار جن کی بلندیوں سے اذان وادی میں گونجتی تھی، جہاں سے اب گرجوں کی گھنٹیوں کی آواز بلند ہوتی ہے۔ مسجدیں جو مسمار ہوگئیں، بچ گئیں تو گرجوں میں تبدیل ہوئیں، میناروں پر گھنٹیاں لگا کر انہیں بھی بپتسما کر دیا گیا۔ گلوکار کی آواز میں کئی گم کردہ صدائیں ہیں۔ مسافر اس کی آواز کے ساتھ ہے، الفاظ کےمعانی سےعلیحدہ ہوکر، اس آواز کے ساتھ، وادی کے درمیان سے گزرتی تیز ہوا کی آواز کے ساتھ۔

ساتھ ساتھ ہاتھ ٹکراتے ہیں، تالی آہستہ ایک ربط میں ہے، ردھم میں اٹھتی آواز، ایک سسکی، پوری وادی میں پھیلتی ایک سسکی۔ گلوکار کے پیر لکڑی کے فرش پر آہستہ سے بجتے ہیں اور تالی ہم آواز ہے۔ یہ غرناطہ کی گلیوں کے سرمئی پتھروں پر آہستہ سے چلتے کسی گھڑسوار کے قدموں کی آواز ہے۔ آواز کہ بتلاتی ہے کہ وہ ایک دور کے معرکے سے واپس آیا ہے۔ معرکہ، ایک تھکا دینے والا معرکہ۔ معرکہ جس میں اُس کے ساتھی مارے گئے ہیں۔ اپنے سوار کی طرح اُسکا گھوڑا بھی تھکا ہے، آہستہ قدم اٹھاتا، گلی کے بے ترتیب پتھروں پر قدم رکھتا، تھکن بتلاتا۔ اُس کے سموں کی آواز غم انگیز ہے، ساتھ بہتی ہوا بھی غم انگیز ہے۔ گلوکار کی لے بھی غم انگیز ہے۔ کہیں روح میں دور اترتی ہوئی۔ غم ہے مگر وہ ہارا نہیں، وہ جنگجو ابھی ہارا نہیں۔

رقاص بھی اب سٹیج پر ہے، اس کے ہاتھ سر سے بلند ہیں، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے۔ اس کا چہرہ بے تاثر ہے، بے رنگ، بے جذبات، اُسکی آنکھیں کہیں دور دیکھتی ہیں۔ رقاص کے پیر بھی اب لکڑی کے فرش پر بجنے لگے، یہ گیت کی لے سے ہم آہنگ ہیں۔ سسکیا ں بھرتی آواز، تھکے گھوڑے کے نعلوں کی گلی کے پتھروں سےٹکراتی آواز، گلوکار کی کہیں دور سے آتی ہلکی آواز، زباں نہ رکھتی ہوئی ہم آہنگ تالی۔ ہتھیلیوں کی مختلف جگہوں سے ٹکرا کر اٹھتی آواز، رقاص کےایڑیوں کی فرش سے ٹکرا کر اٹھتی آواز، سب مل کر ایک دوسرے جہاں میں لے جاتے ہوئے۔

اچانک گلوکار کی آواز بلند ہوگئی ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ معرکے کا اختتام ہے کہ معرکہ کا آغاز۔ بلند، حلق کی تمام طاقت سے نکلتی آواز۔ معرکے کا وقت آگیا ہے۔ بہادرو، اٹھ کھڑے ہو۔ ہاتھ بجنے لگتے ہیں تواتر سے، آواز اونچی ہے۔ تالی سے بجتی آواز تیز ہے، رقاص کے پیروں سےاٹھتی آواز تیز ہے۔ یہ میدانِ جنگ ہے، سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کی آواز، زرہ بکتروں سے اچٹتی تلواروں کی آواز، وادی میں گونجتی تیز ہوا کی آواز۔ یہ گھڑی بہادروں کی گھڑی ہے۔ رقاص کے تن میں بے چینی ہے، تیزی سے دائیں کو گھومتا، پھر بائیں کو گھومتا۔ اُس کے جوتے لکڑی کے فرش پربج رہےہیں، دیوانہ وار، کبھی پنجے پر، کبھی ایڑی پر۔ جسم میں پارہ ہے، بھڑکتی آگ ہے۔ کھڑ کھڑ کرتےجوتے، ہاتھوں سے بجتی تیز تالیاں، تیزی سے بجتا گٹار۔ پیر آگے پیچھے زور سے زمین پر لگتے۔ ایک پیر زمین پر مارا، اور دوسرا فوراً اس کے ساتھ ہی تیزی سے زمین سے ٹکرایا۔ آواز بلند ہے، رقاص کے چہرے پر جوش ہے۔ یہ رقص نہیں اندلس کی تاریخ ہے۔

تالیاں تیز ہیں۔ رقاص کےپیر مسلسل زمین سے ٹکرا کر آواز پیدا کر رہے ہیں۔ اُس کی پیشانی پسینے سے شرابور ہے۔ اُسکا بے تاثر چہرہ اب جوش کی تصویر ہے۔ وہ کبھی آگے بڑھتا ہے، کبھی پیچھے جاتا ہے۔ کبھی تیزی سے چکر گھومتا ہے۔ اس کے ہاتھ کبھی تالی بجاتے ہیں، کبھی چٹکی بجاتے ہیں۔ یہ چٹکی بھی ایک ربط میں ہے، تیز سےتیز تر۔ گلوکار کی آواز بلند ہے، اُسکے گلے کی رگیں نظر آرہی ہیں۔ اُسکی آنکھیں بند ہیں، وہ بھی تصور میں میدانِ جنگ میں ہے۔

اچانک گلوکار کا گیت رک جاتا ہے۔ رقاص بھی رک گیا ہے۔ گٹار کی آواز بند ہے۔ معرکہ ختم ہوا۔ اب گرے بہادروں کو دفنانے کا وقت ہے۔
گیت پھر شروع ہے، یہ فتح کا گیت ہے، یہ غم کی آواز ہے۔ گلوکار کی آواز بلند ہوتی ہے، یہ خوشی کا پیام لاتی ہے۔ اُسکی آواز نیچے جارہی ہے، یہ غم کی آواز ہے، بچھڑے ساتھیوں کو دفنانے کی گھڑی۔

غم اور خوشی ساتھ ساتھ۔ یہ وادی الکبیر کی آواز ہے۔ الحمرا کے محل کی صناعی، اُسکی خوبصورتی کا فخر، اس کے باغات کی ہریالی، ان کی خوشبو، اُسکی بہتی نہروں کی صناعی، اُسکے بہتے جھرنوں کی آواز۔ یہ فخر ہے۔

یہ مسجدِ قرطبہ کے ستونوں کا رنگ ہے، سرخ۔ یہ ماتم ہے، درد ہے، یہ نسل ہا نسل کا درد ہے، روح کے اند ر کا درد۔ درد جس کا کوئی مداوا نہیں۔ قرطبہ کی مسجد کے ستونوں کے درمیان پھرتی ہوا کا ماتم، سرپھری ہوا کا ماتم۔ اُس مسجد کا ماتم جس نے صدیوں سے اذان کی آواز نہیں سنی، جس کا فرش ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پیشانیوں کے لمس کو ترس گیا۔ یہ کئی نسلوں کا ماتم ہے، مارد ی گئی نسلوں کا ماتم، زندہ بچ جانے والی نسلوں کا ماتم، نسلیں جنہیں زندگی یا مذہب میں سے ایک کو چننا تھا۔ وادی الکبیرمیں پھرتی ہوا کا ماتم۔ دریا ئے درو میں بہتے پانی کا ماتم۔ یہ سب ماتم اس رقص میں شامل ہیں۔

صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی الحمرا کی دیواروں پر لکھا نظر آتا ہے، ”و لا غالب الا اللہ“، کوئی فاتح نہیں مگر اللہ۔ پیام ابھی زندہ ہے۔ ساز ابھی خاموش نہیں، دھن ابھی جاری ہے۔ گٹار کی کھنچی تاروں پر پھرتی انگلیاں بتا رہی ہیں کہ لے ابھی جاری ہے، رقص ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہوا ابھی بھی بہہ رہی ہے، گھوڑوں کے سموں کی آواز آرہی ہے، تھکی ہوئی، آہستہ۔ لے تیز ہوگی، ایک دن لے تیز ہوگی، یک دم رقص شروع ہوگا؛ والہانہ رقص، دیوانہ وار رقص، بے جذبات چہروں کو زندہ کرتا رقص، کن کا نعرہ لگاتا رقص۔ لے مدہم ہے، مگر ساز خاموش نہیں۔
مسافر سفر میں ہے اور دیکھ رہا ہے۔ دور افق میں، اس کو لکھا نظر آرہا ہے، ” و لا غالب الا اللہ“۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینئرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے۔ آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں، اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضرار شہید کے نام پر قائم ضرار شہید ہسپتال، برکی روڈ لاہور کے ذریعے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔

atif-mansoor has 82 posts and counting.See all posts by atif-mansoor