ایک انجینیر اور فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ

اگر آپ سیلانی طبیعیت کے حامل ہوں، آوارہ گرد ہوں، بے چین روح ہوں، آپ کا گھر میں جی نہ لگتا ہو، ویرانے آپ کو صدائیں دیتے ہوں، آپ کو بزرگوں کی بہت دعائیں یا کچھ بد دعائیں ہوں، آپ کی کوئی سفارش نہ ہو، آپ کے پیر میں چکر ہوں، کھنڈرات آپ کے لیے کشش کے حامل ہوں، کوئی چڑیل آپ کے عشق میں گرفتار ہو، تو پاک فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ہی آپ کا مقدر ہے۔

اب ہمارے وہ دوست جوایرڈیفنس سے ناواقف ہیں اور موبائل یونٹ کو موبائل فون کی کوئی قسم جان رہے ہیں بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے ساتھ کچھ فری نائیٹ پیکچز بھی ہیں۔ وہ جان لیں کہ ہم نے اپنے چند دوستوں کا حال ان پیکچز میں یوں پایا کہ ہمارے نزدیک یہ کسی دعا کے زمرے میں نہیں آتا۔ توصاحبو، ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ایک ماڈرن خانہ بدوشوں کا گروپ ہے۔ کہنے کو ان کا ہیڈکواٹر کسی فضائیہ کی بیس میں ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ان کے پاؤں میں پہیے اور کاندھوں پر بسترے لدے ہوتے ہیں۔

Read more

ایک آسٹریلین کے مسلمان ہونے کا منظر

جمعہ کو مسجد بھری ہوتی ہے۔ ایسا ملک جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، وہاں مسجد بھی فرق ہوتی ہے اور نمازی بھی فرق۔ مختلف رنگ ونسل کے، مختلف شباہتوں کے، مختلف لباس پہنے، مختلف زبانیں بولتے، مختلف طریقوں سے نماز پڑھتے، مختلف طرز کی تلاوت کرتے۔ ایسی رنگا رنگی کہ ہمیشہ فروٹ چاٹ یاد آجاتی ہے، مختلف ذائقے، مختلف رنگ، مختلف بناوٹ کے پھل مگر سب میڻھے۔ معاف کیجیئے گا، رمضان ابھی ختم ہوا ہے، عبادت اور فروٹ چاٹ دونوں کا ذائقہ ابھی تازہ ہے۔

اور اس مسجد کی کہانی فرق ہے۔ اس مسجد کے پیچھے طویل قانونی جنگ ہے، کئی سال کی عدالتوں کی پیشیاں، وکیلوں کی فیسیں اور لوگوں کا جذبہ، مشکلوں کے باوجود ناقابل شکست جذبہ۔ یہ مسجد ان مختلف شباہتوں، لباسوں، زبانوں کے لوگوں کی انفرادی کہانیوں سے ملتی جلتی ایک اجتماعی کہانی ہے۔ دیارِ غیر میں بسنا ایک جدوجہد ہے۔ معاشرہ فرق، رہن فرق، لباس فرق، زبان فرق، پودے فرق، چرند فرق، مذاق فرق، قانون فرق، اقدار فرق اور پھر یہ آکر بستے خوددار فرق۔

Read more

آڈیو کالم: پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا

انجینرنگ کی پڑھائی مکمل کی تھی اور مزید پڑھنے کا شوق تھا۔ ہر ایک سے مشورہ کر رہا تھا کہ مزید کیا پڑھائی کی جائے۔ ان دنوں انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے کا رجحان تھا، سو ہمیں بھی یہی خیال ہوا کہ ایم بی اے کیا جائے۔ ملک میں آئی بی اے کا بڑا نام تھا، سو ہم کراچی کو عازم سفر ہوئے۔ نوکری بھی کراچی میں کرلی اور شام کو آئی بی اے میں داخلہ لے کر پڑھائی بھی شروع کر دی۔

Read more

پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا

انجینرنگ کی پڑھائی مکمل کی تھی اور مزید پڑھنے کا شوق تھا۔ ہر ایک سے مشورہ کر رہا تھا کہ مزید کیا پڑھائی کی جائے۔ ان دنوں انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے کا رجحان تھا، سو ہمیں بھی یہی خیال ہوا کہ ایم بی اے کیا جائے۔ ملک میں آئی بی اے کا بڑا نام تھا، سو ہم کراچی کو عازم سفر ہوئے۔ نوکری بھی کراچی میں کرلی اور شام کو آئی بی اے میں داخلہ لے کر پڑھائی بھی شروع کر دی۔کراچی ہمارے لیے فرق تھا۔ عمارتیں وہ اونچی کہ دیکھیں تو ٹوپی گر جائے، اور غریب پرور شہر یوں پھیلا تھا کہ سوچ اور نگاہ دونوں تھک کر راہ میں بیٹھ جائیں۔ شہر تو شہر تھا لوگ بھی لاہور سے فرق تھے، خوراک میں ہی تیزی نہ تھی، افراد کے انداز میں بھی تیزی تھی۔

Read more

کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں؟

چوتھی جماعت میں جب ہمارا ہم جماعت عارف کرشن نگر میں پتنگ لوٹتے چھت سے گر کر مر گیا، تو میں نے اماں سے پوچھا، اماں، کیا بچے بھی مر جاتے ہیں؟ ۔ اماں نے مجھے اپنے ساتھ بھینچتے اداس لہجے میں کہا، ”بیٹا، بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر“۔ ان کی آواز میں وہ کرب تھا کہ اس دن کے بعد سے میں ڈر گیا کہ اگر میں مر گیا تو اماں کو کتنا دکھ ہوگا۔ یہ ڈر اتنا بھاری تھا کہ موت کا ڈر کہیں دور پیچھے رہ گیا۔

Read more

قصہ چہار دوست

پینتیس سال قبل وقت اور قسمت کا سفر چار نوعمروں کو اپنے اپنے گھروں کے آرام سے ایک غبار آلود شہر میں لے آیا۔ شہر بھی خوابیدہ تھا اور یہ لڑکے ابھی خود بھی خوابیدہ تھے، ان کی آنکھیں ابھی نیم وا تھیں۔ دسویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد وہ زندگی کی طرف دیکھنے لگے تھے ؛ حیرت، حیرانی، بے یقینی سب آپس میں گڈ مڈ تھا۔ ان کی آنکھیں ابھی ادھ بند تھیں۔ان میں سے ایک چکوال کے ایک گاؤں سے آیا تھا۔ وہ گاؤں کہ گوجر خاں سے چکوال جاتے راہ میں آتا تھا۔ ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک اور اس پر چلتی ایک پرانی فورڈ ویگن۔ عجب بے ڈھنگی سی ویگن، بونٹ آگے کو نکلا ہوا، فرنٹ پر دو خواتین کے لیے سیٹیں، درمیان میں بیک ویو شیشہ اور اس پر لٹکتے تین رنگ برنگے پراندے، رفتار بدلنے کے لیے گیئر کی لمبی سلاخ اور اس پر لگا کالا لٹو۔ اور اس لٹو پر زور لگاتا ڈرائیور۔ فرنٹ دروازے کے ساتھ ہی پیچھے باہر کھلتا دروازہ اور اس سے لٹکتا کنڈیکٹر۔

Read more

تین ای میلز کی کہانی

پہلی ای میل ڈیئر بسمل صاحب سب سے پہلے تو ہم آپ کے شکر گذار ہیں کہ آپ نے ہماری ویب سائیٹ ”دل جوڑ“ کو جوائن کیا۔ میں آپ کو ذاتی طور پر خوش آمدید کہتی ہوں۔ میرا نام دل آرام ہے اور میں ”دل جوڑ“ کمپنی کی مارکیٹنگ مینجر ہوں۔ یقین جانیئے آپ کے…

Read more

فکر سے لادینیت تک

کرائسٹ چرچ کے واقعہ کے بعد مختلف افسوس کی تقریبات میں شرکت کے دوران مختلف رنگ، مذہب اور نسل کے افراد سے ملاقات ہوئی۔ ان میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ ایتھیسٹ یعنی لادین افراد کی بھی ایک تعداد تھی۔ ان سے گفتگو بھی ہوئِی، ان کا نعرہ انسانیت ہے۔ ان کا کہنا…

Read more

ہمارے نوجوان کتنی تاریخ جانتے ہیں؟

کرائسٹ چرچ کے سانحے کے بعد نیوزی لینڈ کے لوگوں اور ان کی وزیراعظم کا کردار اور اس کے علاوہ آسڑیلیا میں لوگوں کی روش نے کچھ فکری سوالوں کو جنم دیا ہے۔ اس واقعہ کے مجرم کے آسٹریلین ہونے کے باعث آسٹریلیا میں بھی لوگوں میں ایک غیر یقینی کا احساس دیکھنے میں آیا…

Read more

اللہ ماہی ۔ شاگردوں کی قطار میں میرا استاد

لیکچر کے لیے استاد کلاس کے سامنے کھڑا ہوا۔ یہ کلاس کے سامنے کھڑے ہونا بھی دریا کے سامنے کھڑے ہونا ہے، ٹھہرامنظر اور پھر آہستہ سے بدلتا منظر، دھیمی سی تبدیلی۔ دھیرے سے بہتا پانی جس کے ایک کونے سے ایک آبی پرندہ ابھرتا ہے، اوپر کو دیکھا اور پھر پانی کے اندر غائب۔ ایک لمحہ ہی سب تبدیلی چھپائے ہے، پکڑ لو تو جھولی بھر دے، نکل گیا تو ہاتھ خالی۔ دیکھنے کی آنکھ ہو تو بدلتا منظر نظر آتا ہے، ورنہ سب کچھ سپاٹ ہے۔ سپاٹ سی دیوار اور اس پر ٹنگی ساکت تصویریں۔ دیکھنے کی آنکھ ہو تو تصاویر سرگوشی کرتی ہیں، کہانیاں سناتی، منظر دکھاتی۔ محسوس ہو تو غیر محسوس بھی چھب دکھلاتا ہے۔

استاد کلاس میں کھڑا ہو تو سامنے طالبعلموں کے چہرے ہیں، سپاٹ چہرے اور کہانیاں سناتے چہرے۔ بے زار، جمائیاں لیتے، سر کھجاتے، لیکچر کی بے وقعت قید گذارتے چہرے۔ لیکچر میں دلچسی لیتے، چمکتی آنکھوں سے استاد پر نظر رکھتے، ہاتھ سے کاپی پر تیز تیز نوٹس بناتے چہرے۔ اور بھری کلاس سے علیحدہ کچھ چہرے۔ جماعت کے ایک کونے میں بیٹھی طالبہ اور اس کے ساتھ ہمیشہ بیٹھتا وہ طالبعلم۔ ہتھیلیوں پر چہرہ دھرے وہ لیکچر کی طرف متوجہ ہونے کا گمان دیتی ہے، مگر دونوں کی توجہ ایک دوسرے کی جانب ہے۔ لیکچر کے دوران ایک لمحے کو دونوں دیکھتے ہیں اور ایک ہلکی سے مسکراہٹ یکایک ابھرتی ہے اور کلاس کو بھرتے ہوئے اگلے لمحے کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ استاد جانتا ہے، محسوس ہو تو غیر محسوس بھی چھب دکھلاتا ہے۔

Read more
––>