برادر، عید مبارک

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں مسلمان طالبعلموں اور اساتذہ کی نمازوں کے لیے ایک کمرہ یونیورسٹی انتظامیہ نے دیا ہے۔ یہ کمرہ ماضی کے طالبعلموں کی لگاتار کوششوں کی وجہ سے ملا تھا۔ اسے مصلہ کے نام سے جانا جاتا ہے، جمعہ کی نماز یہاں نہیں ہوتی بلکہ یونیورسٹی کے جمنیزیم میں جمعہ کی نماز…

Read more

ایک دفتری بابو کا قصہ

ہماری ابتدائی نوکری ہوئی تو ٹریننگ کے لیے بھیجے گئے، بعد میں نوکری کی تو محکمے میں جس سے بھی ملے پتا لگا کہ اپنے اپنے وقت میں اِس بھٹی سے گزرے تھے۔ تربیتی ادارہ ایسا تھا کہ مثلِ پلِ صراط کہ جس سے گزر کر ہی منزل پانا تھی۔ یہ بھٹی جلاتی تھی کبھی…

Read more

ریاضی کی نمبر تھیوری اور رسیوں کی گرہیں

اکشے وینکتش، پیدائش دہلی 1981، دو سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا آگئے۔ والدہ، سویتا وینکتش نے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی۔ اکشے نے تیرہ سال کی عمر میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ریاضی کی تعلیم شروع کی۔ یونیورسٹی کی سو سالہ تاریخ میں وہ سب سے کم عمر میں  یونیورسٹی شروع کرنے والے طالبعلم تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی کی چار سالہ ریاضی کی ڈگری تین سال میں فرسٹ کلاس فرسٹ مکمل کی اور اس طرح وہ یونیورسٹی کی تاریخ کے کم سن ترین گریجوئیٹ بھی ہیں۔

Read more

عورت ہی عورت کی مددگار ہے

سائرہ : نائیلہ، تم سے کتنے عرصے بعد ملاقات ہورہی ہے۔ میڈیکل کالج کے بعد تم ایسی امریکہ گئی کہ کوئی خیر خبر ہی نہ تھی۔ یہ تو بھلا ہو فیس بک کا کہ تم سے اتنے سالوں کے بعد رابطہ ہوسکا اور آج ملاقات ہو پائی۔ نائیلہ : سائرہ، کیا بتاوں تمہیں۔ جب میں…

Read more

میں نے مادر علمی میں آواگون دیکھا

آوا گون ہندو دھرم کا ایک بنیادی عقیدہ ہے جو اِس کو نہ مانے وہ ہندو مذہب کا فرد نہیں۔ اِس کے مطابق موت کے بعد جسم اگرچہ فنا ہوجاتا ہے مگر روح قا ئم رہتی ہے، اعمال کے مطابق دوسرے اجسام کا روپ دھارلیتی ہے اوریوں ایک سفرِمسلسل جاری رہتا ہے۔ ہندومت کا یہ…

Read more

ڈاکٹر تنویر الحق کی یاد میں

پنڈی سے آتی ریل کار نے راوی کا پل عبور کیا اور میں نے موبائل نکالا اور پیغام ٹائپ کرنا شروع کیا، ”میں لاہور پہنچ گیا ہوں، کل ملتے ہیں اور دو پہر کا کھانا اکٹھے کھاتے ہیں“۔ دو گھنٹے بعد موبائل پر جوابی پیغام آتا ہے، میں تنویر الحق کی بہن ہوں، تنویر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، دعا کریں۔ وقت مقر ر تھا، سو ڈاکٹر تنویر الحق بہت سوں کو سوگوار چھوڑ کر اگلے جہاں کو چل پڑے۔

Read more

ایک انجینیر اور فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ

اگر آپ سیلانی طبیعیت کے حامل ہوں، آوارہ گرد ہوں، بے چین روح ہوں، آپ کا گھر میں جی نہ لگتا ہو، ویرانے آپ کو صدائیں دیتے ہوں، آپ کو بزرگوں کی بہت دعائیں یا کچھ بد دعائیں ہوں، آپ کی کوئی سفارش نہ ہو، آپ کے پیر میں چکر ہوں، کھنڈرات آپ کے لیے کشش کے حامل ہوں، کوئی چڑیل آپ کے عشق میں گرفتار ہو، تو پاک فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ہی آپ کا مقدر ہے۔

اب ہمارے وہ دوست جوایرڈیفنس سے ناواقف ہیں اور موبائل یونٹ کو موبائل فون کی کوئی قسم جان رہے ہیں بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے ساتھ کچھ فری نائیٹ پیکچز بھی ہیں۔ وہ جان لیں کہ ہم نے اپنے چند دوستوں کا حال ان پیکچز میں یوں پایا کہ ہمارے نزدیک یہ کسی دعا کے زمرے میں نہیں آتا۔ توصاحبو، ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ایک ماڈرن خانہ بدوشوں کا گروپ ہے۔ کہنے کو ان کا ہیڈکواٹر کسی فضائیہ کی بیس میں ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ان کے پاؤں میں پہیے اور کاندھوں پر بسترے لدے ہوتے ہیں۔

Read more

ایک آسٹریلین کے مسلمان ہونے کا منظر

جمعہ کو مسجد بھری ہوتی ہے۔ ایسا ملک جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، وہاں مسجد بھی فرق ہوتی ہے اور نمازی بھی فرق۔ مختلف رنگ ونسل کے، مختلف شباہتوں کے، مختلف لباس پہنے، مختلف زبانیں بولتے، مختلف طریقوں سے نماز پڑھتے، مختلف طرز کی تلاوت کرتے۔ ایسی رنگا رنگی کہ ہمیشہ فروٹ چاٹ یاد آجاتی ہے، مختلف ذائقے، مختلف رنگ، مختلف بناوٹ کے پھل مگر سب میڻھے۔ معاف کیجیئے گا، رمضان ابھی ختم ہوا ہے، عبادت اور فروٹ چاٹ دونوں کا ذائقہ ابھی تازہ ہے۔

اور اس مسجد کی کہانی فرق ہے۔ اس مسجد کے پیچھے طویل قانونی جنگ ہے، کئی سال کی عدالتوں کی پیشیاں، وکیلوں کی فیسیں اور لوگوں کا جذبہ، مشکلوں کے باوجود ناقابل شکست جذبہ۔ یہ مسجد ان مختلف شباہتوں، لباسوں، زبانوں کے لوگوں کی انفرادی کہانیوں سے ملتی جلتی ایک اجتماعی کہانی ہے۔ دیارِ غیر میں بسنا ایک جدوجہد ہے۔ معاشرہ فرق، رہن فرق، لباس فرق، زبان فرق، پودے فرق، چرند فرق، مذاق فرق، قانون فرق، اقدار فرق اور پھر یہ آکر بستے خوددار فرق۔

Read more

آڈیو کالم: پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا

انجینرنگ کی پڑھائی مکمل کی تھی اور مزید پڑھنے کا شوق تھا۔ ہر ایک سے مشورہ کر رہا تھا کہ مزید کیا پڑھائی کی جائے۔ ان دنوں انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے کا رجحان تھا، سو ہمیں بھی یہی خیال ہوا کہ ایم بی اے کیا جائے۔ ملک میں آئی بی اے کا بڑا نام تھا، سو ہم کراچی کو عازم سفر ہوئے۔ نوکری بھی کراچی میں کرلی اور شام کو آئی بی اے میں داخلہ لے کر پڑھائی بھی شروع کر دی۔

Read more

پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا

انجینرنگ کی پڑھائی مکمل کی تھی اور مزید پڑھنے کا شوق تھا۔ ہر ایک سے مشورہ کر رہا تھا کہ مزید کیا پڑھائی کی جائے۔ ان دنوں انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے کا رجحان تھا، سو ہمیں بھی یہی خیال ہوا کہ ایم بی اے کیا جائے۔ ملک میں آئی بی اے کا بڑا نام تھا، سو ہم کراچی کو عازم سفر ہوئے۔ نوکری بھی کراچی میں کرلی اور شام کو آئی بی اے میں داخلہ لے کر پڑھائی بھی شروع کر دی۔کراچی ہمارے لیے فرق تھا۔ عمارتیں وہ اونچی کہ دیکھیں تو ٹوپی گر جائے، اور غریب پرور شہر یوں پھیلا تھا کہ سوچ اور نگاہ دونوں تھک کر راہ میں بیٹھ جائیں۔ شہر تو شہر تھا لوگ بھی لاہور سے فرق تھے، خوراک میں ہی تیزی نہ تھی، افراد کے انداز میں بھی تیزی تھی۔

Read more