ماں جی: عورتوں کے عالمی دن کے لحاظ سے ایک تحریر

گرمیوں کی چھٹیاں لاہور میں سخت ہوتی تھیں۔لمبے دن، آسمان سے برستی آگ، نلکوں سے نکلتا کھولتا پانی، گرم ہوا پھینکتے پنکھے، خاموش دوپہر، ساکت ہوا اور ایک سرکاری کواٹر میں کھڑکی سے باہر تکتے تین کم سن بچے۔کبھی گھونسلے میں چڑیا کے چھوٹے بچوں کو دیکھا ہے، منہ کھولے، چونچیں اوپر کیے، ایک آس، ایک انتظار رکھے۔ آسماں جتنا بھی وسیع ہو ان کی کائنات مختصر ہے۔ دانا کھلاتے دو ماں باپ، جو دانے کی تلاش کے ساتھ ساتھ بچوں کی حفاظت کے خیال کا بوجھ اٹھائے دور تک نہ پرواز کر پائیں۔

Read more

فلائیٹ لفٹیننٹ وقاص شمیم کی یاد میں

میں نے بچپن سے اپنے بزرگوں سے ککے زئیوں کی کئی باتیں سنی تھیں، نعرہ تھا، ”ککے زئی، ہائے جان گئی“۔ وقا ص کو جب میں نے کہا، ”ککے زئی، میں نے سنا ہے کہ درانتی کے ایک طرف دندے ہوتے ہیں، مگر ککے زئی کے دو طرف دندے ہوتے ہیں“۔ تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا، ”ملک جا نے دے“۔مجھے نہیں علم کہ کب وقاص کے بزرگ اندرون لاہور سے نکلے اور بیگم روڈ پر آ کر رہنے لگے۔ بیگم روڈ مزنگ اڈہ سے شروع ہوتی ہے اور جین مندر پر ختم ہوتی ہے۔ اُس کے گھر میں داخل ہوں تو کھلاصحن تھا، جہاں ہر روز اُسکی والدہ ہر شام نوکروں کے اور محلے کے بچوں کو پڑھا تی تھیں۔ اُسکی والدہ ایف جی سکول میں تعلیم دیتی تھیں، جبکہ اُس کے والد کرنل شمیم پی ایم اے کاکول میں ریا ضی کے استاد تھے۔ یہ اسا تذہ کا گھر تھا ؛ بے لوث، کھرے، مخلٰص۔

Read more

نسلوں کی ہجرت

یہ کیسے ہو سکتا ہے، ایک لمحہ جو اُس نے گذارا نہیں، ایک پل جس میں اُس نے سانس نہیں لیا، جو اُس پر نہیں بیتا، جسے اُس نے محسوس نہیں کیا، جو اُس کے احساسات سے نہیں گزرا، جس کو اُس نے خرچ نہیں کیا اُس کے حساب سے کیسے خارج ہو گیا۔ اُس کی عمر سے کیسے منہہ ہو گیا، خود بخود، بنا اُس سے پو چھے۔ ذاتی بنک اکاونٹ میں جمع رقم کہ جس پر انسان کا حقِ ملکیت ہوتا ہے، ضبط ہو جا ئے، بغیر قصور کے، بغیر بتائے، بنا پو چھے۔

وہ یہی سوچتا رہا، اسے جلن تو نہیں کہتے مگر اِک زیاں کا احساس تو تھا۔ جیسے بو ڑھے کسان سے گندم کی بوری نہ اٹھائی جائے تو جوان بیٹا کچھ کہے بغیر بوری اُٹھا لے، ایک لمحہ جو برسوں بیت جانے کا احساس دلا جاتا ہے، خامو شی کے ساتھ، چپکے سے۔ اُس نے سوچا یہ حکومت کون ہوتی ہے گھڑیوں کی سوئیاں آگے کرنے والی، بنا پوچھے میری زندگی کا ایک گھنٹہ لے جانے والی۔

Read more

ایک سرد رات کا کھانا

سردیوں میں پرندے سرد ممالک سے ہزاروں میل کی اڑان بھر کر پاکستان جیسے گرم علاقوں میں آتے ہیں۔ براعظم آسڑیلیا کا معاملہ الٹ ہے کہ گرمیوں اور کرسمس کی چھٹیاں اکٹھی ملتی ہیں اور ہم جیسے لوگ بطور پرند ہزاروں میل کی اڑان کے ذریعے گرم موسم سے پاکستان سرد موسم میں آتے ہیں۔ سو اس سال بھی ہم سردیاں اور دھند منانے وطن آئے۔

جنوری کی سرد شام تھی کہ انٹرنیٹ بتا رہا تھا کہ درجہ حرارت 4 ڈگری تک ہے۔ بچوں نے منہ سے سرد بھاپ نکالتے کہا کہ اس کلب چلتے ہیں جو کہ مشہور ہے اور ہماری وہاں کی پرانی ممبر شپ بھی ہے۔ سو کلب پہنچے اور وہاں کے کیفے میں داخل ہوئے۔ اس کا ہال گرم تھا۔ سرد ی کی بنا پر کچھ ہی لوگ گھروں سے نکل کر وہاں آئے تھے سو ہال کافی حد تک خالی تھا۔ کرسیاں کھینچ کر بیٹھے ہی تھے کہ کیفے کے مینجر آن پہنچے کہ آپ کی بیٹی 12 سال سے کم عمر ہے سو آپ اندر نہیں بیٹھ سکتے، باہر بیٹھیے۔

Read more

سانحہ آرمی پبلک سکول، پشاور 16 دسمبر 2014

ان بچوں کو سکول چھوڑتے ان کے باپ تھے، اپنی آ نکھوں میں ان گنت خواب بسائے، صبح سے شام تک اپنی بساط سے بڑھ کر محنت اور جدوجہد میں مصروف۔ شام کو جب تھکے ہارے گھر آتے تو بچوں کو دیکھ کر ان کی تھکن دور ہو جاتی۔ چھوٹے بچوں کو ہوا میں اچھالتے، کبھی بستر پرکشتی میں ان سے جان بوجھ کر ہارتے، کرکٹ میں انہیں گیندیں کراتے اور آوٹ ہونے کی صورت میں خود ہی نو بال کی آواز لگا کر ایک اور باری دیتے۔ جمعہ پڑھ کر گھر آتے تو گھر کے دروازے تک کی دوڑ میں جان بوجھ کر ہار جاتے۔ آج جب یہ پودے جوانی کی طرف بڑھ رہے تھے تو باپ اپنے کئی دکھ بھول جاتے۔

یہ بچے مختلف خاندانوں سے آئے تھے۔ اِن میں شہر کی ہر آبادی کا رنگ تھا۔ امراء کے بچے تھے تو غرباء کے گھروں کے چراغ بھی، فوجی افسروں کے بیٹے تھے تو سپاہیوں اور صوبیداروں کے لختِ جگر بھی۔ گورے پٹھان طالبعلم تھے تو پنجاب سے تعلق رکھنے والے گندمی رنگ بھی۔ انہیں میں میرے دوست ڈاکٹر گلزار کا بیٹا بہرام تھا، چھ فٹ کا جوان، جسم بھرا ہوا، محبت آمیز، ملنسار، گرم جوش۔ ان میں باورچی زاہد کا بیٹا ابرار بھی تھا۔ کک زاہد جس کے جسم کی رنگت سردی گرمی میں آگ کے سامنے مسلسل کام کر کے بدل گئی تھی۔

Read more

مرزا اعجاز بیگ

مرزا اعجاز بیگ ہمارے دفتری ساتھی ہیں، نوکری میں ہم نے اُن کے جوہر خوب دیکھے۔ فرماتے کہ نوکری کو اخلاقیات سے الگ رکھو کہ نوکری میں قول و فعل کا تضاد خامی نہیں بلکہ خوبی ہے۔ مزید فرماتے کہ نوکری میں انسان پھول کی مانند ہونا چاہیے، مگر ہر ایرے غیرے پھول کی مانند نہیں بلکہ سورج مکھی کے پھول کی مانند کہ ہر وقت چہرہ سورج کی جانب ہونا چاہیے۔ ہمیں اِن افکار پر سوچ میں پا کر مزیدرہنمائی کی خاطر کہنے لگے کہ دفتر میں اُس مر غی کی مانند ہو جو انڈا دے نہ دے کُڑکُڑ کی مسلسل آوازیں نکال کر سب کو اپنے جانب متوجہ رکھتی ہے۔ سو اسی بنا پر دفتر میں کردار نہیں بلکہ گفتار کے غازی کی شہرت رکھتے تھے۔ زبان کا استعمال مرزا کے مقابل ہم نے کسی کا نہ پایا۔

Read more

علامہ اقبال کو پتلا کر دو

عاصم ایک بدتمیز آدمی تھا اور میں اُ س کا سٹاف افسر۔ دفاتر میں ایسے لوگ آپ کو ملتے ہیں جو اپنے آپ کو عقلِ کلُ سمجھتے ہیں۔ آپ اِن سے معقول بات کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں کہ نہ جانے مزاج پر کیا گراں گذرے اور بے نقط سننے کو مل جائے- معقولیت…

Read more

بنکاک کی فلائٹ اور آرٹسٹ لوگوں کا پیمانہ

تھائی ایر لائنز کے جہاز نے لاہور سے اڑان بھری ۔ یہ جہاز بنکاک جارہا تھا اور پوری طرح بھرا تھا۔ زیادہ مسافر پاکستانی تھے، کچھ ہی غیر ملکی ہونگے۔ یورپ اور دوسری دور کی منازل کے لیے تھائی ایر لائنز کی پروازیں بنکاک کے راستے سے جاتی ہیں سو اس مسافر کی طرح کئی…

Read more

کتابی افسر، کمانڈو سنتری اور آٹھ سو میٹر کی دوڑ سے سیکھا سبق

وہ فضائیہ کی اکیڈمی سے انجینئرنگ کر کے پاس آوٹ ہوا تو کراچی ملیر پوسٹنگ ہوئی۔ اکیڈمی میں اتھلیٹیکس میں حصہ لیتا تھا، 400 میٹر کی دوڑ خصوصی پسند تھی اور بنیادی طور پر اسی دوڑ کے تعلق سے جانا جاتا تھا۔ 400 میٹر کی دوڑ کوئین آف دی ریسز کہلاتی ہے، اس میں سٹیمنا…

Read more

مامی کے مقدر میں رونا لکھ دیا گیا ہے

آج مامی فرحت پھر رو رہی ہے۔ اب تو یہ معمول ہی بن گیا ہے۔ پتا نہیں کیوں اس کا نام ماں باپ نے فرحت رکھا تھا۔ نام بعض اوقات الٹ اثر رکھتے ہیں۔ مگر کیا نام میں کچھ ہوتا ہے، یا نصیب ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ مامی کا نام کچھ بھی ہوتا، اب…

Read more