لیرو لیر

فاروق کا تعلق گجرات سے تھا۔ قد درمیانہ، رنگ گندمی، عمر چالیس سال کے لگ بھگ اور سر کے بال گرنا شروع تھے۔ گجرات سے غیر قانونی طور پر یورپ آیا تھا اور یہ سفر اُس نے صرف ایک دفعہ نہیں کیا تھا۔ اُسے دو مرتبہ یورپ سے نکالا گیا تھا مگر وہ پھر کسی ایجنٹ کے ذریعے نیا راہ ڈھونڈ کر یورپ پہنچ جاتا تھا۔ نئے نام سے پاسپورٹ بنواتا، نیا راہ ڈھونڈتا۔ پہلے راستہ ایران، ترکی، یونان سے

Read more

انصاف، ایک افسانچہ

کمرے میں عارضی طور پر عدالت قائم کی گئی تھی۔ اس میں میزیں اس انداز میں لگی تھیں کہ اگر ایک طرف سے چلیں تو میز بہ میز واپس اپنی جگہ پہنچ جائیں۔ سامنے میز پر جج بیٹھا تھا اور اس کی میز سے نوے ڈگری کے زاویے پر اگلے میز پر وکیل استغاثہ بیٹھا تھا۔ وکیل استغاثہ کی میز سے مزید نوے ڈگری پر ملزم بیٹھا تھا اور اس کے آگے بھی میز دھرا تھا۔ ملزم سے آگے نوے

Read more

کیا اتفاق واقعی اتفاق ہے؟

صبح کے دس بج رہے تھے۔ میں دفتری انتظار گاہ میں بیٹھا، اخبار پلٹ رہا تھا۔ ایک دفتری داخل ہوا اور بتایا کہ اب آپ کی باری ہے، آپ میٹنگ روم میں تشریف لے جائیں، دائیں طرف تیسرا کمرہ ہے۔ برآمدے میں مختلف دروازے تھے، جن کے باہر ان دفاتر کے عہدیداروں کے نام نہ تھے بلکہ عُہدوں کے نام تھے۔ اُس برآمدے میں فرد کچھ نہ تھا، منصب کی اہمیت تھی۔ تیسرے دروازے کے باہر دیوار پر میٹنگ روم

Read more

آسٹریلین رضاکار ڈاکٹر اور شہید الاقصی ہسپتال، غزہ

پچھلے ہفتے دو آسٹریلین ڈاکٹروں سے غزہ کے ایک ہسپتال کے مشاہدات سننے کا موقع ملا۔ دونوں جولائی 2024 میں واپس آئے ہیں۔ ان میں سے ڈاکٹر جروم، آسٹریلین سفید فام اور غیر مسلم ہیں جبکہ ڈاکٹر بشری فلسطینی النسل مسلم ہیں۔ دونوں نے شہید الاقصی ہسپتال، دیرالبلح میں دو ہفتے خدمات سر انجام دیں۔ کھجوروں کے باغات کی بنا پر نام لیتا دیرالبلح ( معنی کھجوروں کی خانقاہ) غزہ شہر سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شہید الاقصی

Read more

لیفٹیننٹ ضرار شہید کی یاد میں

وہ دوپہر سرگودھا شہر کے لحاظ سے موسم گرما کی ایک عام سی دوپہر تھی، عام سی دوپہر کہ درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کو پہنچا تھا۔ گلیاں سنسان تھیں اور تمام ذی روح سایوں میں دبک کر بیٹھے تھے، مگر سول ہسپتال سرگودھا کی سٹاف کالونی کے درمیان واقع میدان میں کچھ بچے اپنے ماں باپ سے نظر بچا کر اُس تپتی دوپہر میں جمع تھے۔ سول ہسپتال کی سٹاف کالونی میں داخل ہوں تو پہلے ڈاکٹروں کی

Read more

کفارہ

منیٰ خیموں کا جنگل تھا۔ وادیِ منیٰ جہاں حج کے دنوں میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوتی ہے۔ سفید رنگ خیمے جن کی اوپری سطح مٹی سے گرد آلود ہے۔ چاروں جانب سے سطحیں درمیان میں ابھرتیں اور مل کر ایک چوکور خانہ خالی  چھوڑتی، جن پر ایک ٹوپی کی مانند سفید سطح رکھی گئی ہے، وہ خالی جگہ ہے کہ ہوا اندر جا سکے۔ سطح اور ٹوپی کے سفید رنگوں میں فرق ہے، فرق کہ

Read more

پسِ حرف بھی کچھ ہے

استاد کو علم تھا کہ اسے تیاری کرنی ہے، اور اس بنا پر وہ اس ملاقات کے لیے تیار تھا۔ اب یہ تو عجب بات ہے کہ استاد کو طالب علم سے میٹنگ کے لیے پہلے سے تیاری کرنی ہو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی استاد کے بہت اختیار ہیں، یہ اب وقت وقت اور جگہ جگہ کی بات ہے۔ مغربی یونیورسٹیوں اور پاکستانی یونیورسٹیوں میں فرق ہے۔ کسی زمانے میں استاد نے جامعہ پنجاب میں پڑھایا تھا جہاں کا

Read more

کرٹن یونیورسٹی آسٹریلیا میں طالب علموں کی احتجاجی خیمہ بستی

مسافر آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی میں طالب علموں کے قائم شدہ احتجاجی خیمہ بستی کو روانہ ہے۔ مسافر یونیورسٹی میں داخل ہوا تو خاموشی ہے۔ اتوار کو یونیورسٹی بند ہوتی ہے۔ پارکنگ لاٹس خالی ہیں۔ مسافر کا سفر جاری ہے۔ پہلی پارکنگ کو چھوڑ دیا، اگلے کی جانب گاڑی ڈال دی۔ گاڑی کی درمیانی سکرین کے نقشے پر ایک نقطہ سفر میں ہے۔ مسافر بھی ایک ذرہ ہے جو یونیورسٹی کی راہوں پر سفر میں ہے۔ یونیورسٹی خاموش ہے۔ مسافر

Read more

دادی اور پوتی

کمرے کی دیواریں پر ہلکی زرد سفیدی تھی، پیلاہٹ آمیز، ویسی جو کتاب کے صفحات کی ہوتی ہے، ایسی کتاب جو زندگی کی کہانی سناتی ہے۔ جب میں اپنی کتاب چھپوا رہا تھا تو پبلشر نے مجھے کہا کہ سفید کاغذ آنکھوں کو چبھتا ہے، پیلاہٹ آمیز صفحات آنکھ آسانی سے پڑھ سکتی ہے۔ تیری کہانیاں زندگی کے گرد گھومتی ہیں، ایسی کہانیاں آسانی سے پڑھی جانی چاہیے۔ میں مسکرا دیا، اگر کوئی اس مسکراہٹ کا رنگ دیکھ پاتا تو

Read more

اور ہم نے کتاب چھپوائی

ایک تصویر انٹرنیٹ پر ایک محترمہ نے پبلک پوسٹ کے طور پر لگائی، یہ حال میں ہوئی کسی آرٹ کی نمائش کی تصویر ہے۔ کسی طرح اتفاقاً یہ تصویر مسافر کے سامنے آ گئی۔ مسافر نے اس مکان کو دیکھا تو زمان کے ایک اور دور میں پہنچ گیا جہاں مسافر اس مکان میں پایا جاتا تھا۔ یہ جگہ آرٹ کے لیے شروع سے مختص رہی ہے۔ یہ لاہور میں ایر فورس کا ایر ڈیفنس سکول تھا جو کہ اب

Read more

صلہ

شہر کا وہ علاقہ کبھی نواح میں سمجھا جاتا ہو گا مگر اب شہر اس سے کہیں آگے پھیل چکا تھا۔ وہاں متوسط طبقے کے لوگوں کی رہائش تھی۔ زیادہ گھر ایک منزلہ اور آگے لان رکھتے تھے۔ جنگلے بہت اونچے نہ تھے، پیدل گزرتے گھروں میں لگے درخت اور پھول نظر آتے تھے۔ علاقے کی گلیوں اور سڑکوں کے نام ستاروں اور سیاروں کے نام پر تھے۔ جویپٹر سٹریٹ یعنی گلی مشتری کو مرکری سٹریٹ یعنی گلی عطارد کاٹتی

Read more

مسافر اور گزرے دنوں کا بیان (قسط اول)

ایک تصویر انٹرنیٹ پر ایک محترمہ نے پبلک پوسٹ کے طور پر لگائی، یہ حال میں ہوئی کسی آرٹ کی نمائش کی تصویر ہے۔ کسی طرح اتفاقاً یہ تصویر مسافر کے سامنے آ گئی۔ مسافر نے اس مکان کو دیکھا تو زمان کے ایک اور دور میں پہنچ گیا جہاں مسافر اس مکان میں پایا جاتا تھا۔ یہ جگہ آرٹ کے لیے شروع سے مختص رہی ہے۔ یہ لاہور میں ایر فورس کا ایر ڈیفنس سکول تھا جو کہ اب

Read more

بندر تماشہ

 پرانی آبادی کے وسط میں واقع بڑے احاطہ کے گرد گھر اور گلیاں ہیں۔ اُس احاطے میں بچے کھیلتے اور بڑے سردیوں میں دھوپ سینکتے، بعض جگہ عمر رسیدہ لوگ زمین پر بیٹھے تاش، لوڈو یا بارہ ٹینی کھیل رہے ہوتے۔ کونے پر جانی نائی کی دکان ہے۔ یہ دکان اصل میں محلے کی بیٹھک ہے، اتوار کے دن بال کٹوانے والوں کے ساتھ ساتھ گپ شپ لگانے کے لیے بھی لوگ وہاں بیٹھ کر اخبار پڑھتے۔ کیبل آنے کے

Read more

کندھ کوٹ کا اجمل ساوند نہیں سمجھا

پیرس میں اس کے کمرے سے ایفل ٹاور نظر آتا تھا۔ اونچی عمارتوں سے پرے ایفل ٹاور کے جنگلہ شدہ فریم کا اوپری حصہ جس کے سرے پر ایک علیحدہ تاج براجمان ہے دن میں بھی عجب منظر دیتا تھا، مگر رات کو یہ منظر اور ہوتا کہ ایفل ٹاور کے تمام جنگلے سے پیلاہٹ آمیز روشنی نظر آتی تھی جب کہ اس کے اوپر لگے تاج کی شکل اور اس کی نوک سفید روشنی پھینک رہی ہوتی۔ یہ کمرہ

Read more

ائر پورٹ کا ایک منظر

نوٹ : اپنے ایک سفری بیگ سے سامان نکال رہا تھا تو ایک پرانی تحریر کے کچھ صفحات سامنے آ گئے۔ یہ کسی ائرپورٹ پر انتظار کی کیفیت میں کاغذ پر لکھے گئے ہیں۔ کچھ صفحے گم ہو گئے ہیں مگر سوچا کہ جو لکھا ہوا ہے اسے ٹائپ کرتا ہوں اور احباب کے سامنے رکھتا ہوں کہ کیا کوئی منظر سامنے آتا ہے؟ یہ علم نہیں کہ یہ کون سا ائرپورٹ ہے، مگر اس کا جاننا ضروری بھی نہیں

Read more

سپین کا بیدہ اور چمڑ جی کے سرکاری تحفے

کراچی کا سفر سرکاری ڈیوٹی  کے طور پر تھا، اور کیونکہ سرکار کو جلدی تھی سو اسلام آباد سے ہوائی جہاز پر کراچی جانا تھا۔ جہاز پر ایک بڑا ڈبہ بھی ہمراہ تھا۔ جی، سرکاری کام اُس ڈبے میں بند تھا، بلکہ کہوں گا کہ سرکار کا کام اُس ڈبے میں دھرا تھا۔ وہ ڈبہ لے کر میں کراچی جا رہا تھا۔ ڈبہ چھوٹا نہ تھا۔ آپ سائز جان کر کیا کریں گے، سمجھیئے کہ آپ کی سمجھ سے بڑا

Read more

سوئٹزر لینڈ کی عورت کی محرومیاں

وہ ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا، ادھیڑ عمر اور شرارتی، کلین شیو، سر سے گنجا، بھاری جسم اور مسکراتا چہرہ۔ جیسے ہی اس نے بات شروع کی، مجھے علم ہو گیا تھا کہ وہ ایک شرارتی آدمی ہے۔ اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے کی مسکراہٹ اس کا بتا رہی تھی، مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے ہوتے اعلان کی طرح چار دانگ شور مچاتی۔ آنکھوں میں چمک اصل میں زندگی ہے۔ بچوں کی آنکھوں میں جھانکیے، جوانی کو چھوتے

Read more

تکلیف میں مبتلا بیٹی کی باپ کو تسلی

ابو، آپ تو نہ روئیں۔ وہ دن عام طرح کا ایک دن تھا، ایسا دن جو گزر جائے تو یاد نہیں رہتا۔ تسبیح کے دانوں کی طرز کا ایک ہم رنگ دن، ایک دفعہ گزر گیا تو آپ اس کی شناخت نہیں کر پاتے، مگر مجھے علم نہ تھا کہ وہ دن ایک عام دن نہ رہے گا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا عمومی کاموں میں مصروف تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ ہیلو، عاطف صاحب سے بات ہو سکتی ہے۔

Read more

واٹس ایپ گروپس کے ممبران کی درجہ بندی

ٹیکنالوجی نے کئی رنگ دیے ہیں، چوپال کا متبادل واٹس ایپ گروپس کی شکل میں آیا ہے جہاں مختلف لوگ ارشادات، فرمودات اور خرافات پیش کرتے ہیں۔ خرافات کو پیش کرنے پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے مگر جس محبت سے پیش کرتے ہیں، وہ کوئی ایسی خوشی کی بات بھی تو نہیں۔ شاعر نے کہا تھا کہ ”اے محبت تیرے انجام پر رونا آیا“ مگر یہاں تو کئی دفعہ آغاز پر ہی رونا آ جاتا ہے۔ ایسے ایسے

Read more

کیا بزنس سکول کاروبار کو درست پڑھا رہے ہیں؟

اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی اور مواصلات کی ترقی نے کاروبار کے لیے بے پناہ مواقع دیے ہیں، ٹیکنالوجی کی کئی چھوٹی کمپنیوں نے اپنے قیام کے کچھ عرصے میں ہی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، مثلاً اوبر، واٹس اپ، سکائپ وغیرہ۔ دوسری جانب یہ ترقی بزنسز کے لیے کئی نئے چیلنجز بھی لائی ہیں۔ کاروباری دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ٹیکنالوجی میں بڑا نام رکھنے کے باوجود ان تقاضوں کی صحیح سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے یا وقت

Read more

ڈس کوالیفائیڈ ٹیم

وقت رکا تھا، تھما ہوا، شاید ہوا چل رہی تھی یا شاید رکی تھی، شاید دھوپ تھی یا شاید بادل سورج کے سامنے تھا، اسے کچھ علم نہ تھا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ تھا، دونوں بھنووں کو تر کرتا۔ اس کا حلق خشک تھا، ابھی کچھ منٹ قبل ہی تو اس نے پانی سے لب تر کیے تھے، یہ خیال کرتے کہ پانی زیادہ نہ پیے۔ یہ پانی پیاس بجھانے کے لیے نہ تھا، اس لمحے پیاس بجھ بھی

Read more

وارنٹ افسر مسکین کی کتا مکھی سے واردات

اگر آپ بیوروکریٹ یا ریٹائرڈ فوجی کے پاس بیٹھیں تو آپ کو علم ہوگا کہ وہ تو ماضی میں جی رہا ہے۔ اس کے پاس آپ کو سنانے کے لیے اپنی نوکری کی کہانیاں ہوتی ہیں ؛ وہ کہانیاں سناتا ہے، بے دریغ، بے بریک، بے حساب، بے جواب، بے خواب۔ آپ کا سننا ضروری نہیں، ہوں ہاں کرنا بھی ضروری نہیں، آنکھ ملانے کی ضرورت بھی نہیں، کان کھجائیے، بے زاری کا اظہار کریں، ماتھے کو رگڑیے، کچھ کر لیں

Read more

یونیورسٹی کیسے برباد ہوتی ہے؟

پہلا مسافر: میں نے بیرون ممالک کئی یونیورسٹیوں میں پڑھایا ہے اور جن پاکستانی طلبا سے مجھے واسطہ پڑا ہے، انہیں میں نے محنتی اور ذہین پایا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں اتنا ٹیلنٹ ہونے کے باوجود پیچھے ہیں؟

دوسرا مسافر: اس کی کئی وجوہات ہیں ؛ فنڈز کی کمی، فرسودہ کورسز، پرانا نظام جو طلبا کے صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے نقصان پہنچاتا ہے، غیرمعیاری اساتذہ، پرائمری اور ہائی سکول کی رواجی تعلیم وغیرہ وغیرہ مگر ایک بڑی وجہ یونیورسٹی کے انتظامی امور پر سفارشی لوگوں کی تعیناتی ہے جن میں تعلیمی سمجھ بوجھ کی کمی ہے۔ ان افراد کا بنیادی کام تعلیمی مسائل کو حل کرنا اور نظام میں ترقی لانا ہے مگر بدقسمتی سے وہ خود سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔

پہلا مسافر: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

Read more

لمحہ ادراک

ایک لمحہ کی کیا حقیقت ہے۔
روزآفرینش سے آج تک کی لڑی میں ایک لمحہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔
جسم میں دوڑتے خون کے بہاو میں ایک قطرہ خون کیا ہے۔
سمندروں سے بھری دنیا میں ایک قطرہ شبنم کیا ہے۔

Read more

براستہ جہاد کشمیر: سب سے پہلے ہم

”آئیے مل کر سلام و دعا پڑھتے ہیں“ ، اس کے سامنے بیٹھے شخص نے کہا۔ وہ ہنس پڑا۔ اس کے ذہن میں سوچ آئی کہ یہ سامنے بیٹھا شخص مجھے کتنا بڑا بیوقوف سمجھتا ہے۔ وہ ہنس پڑا یہ خیال کیے بغیر کہ وہ کس صورتحال میں ہے۔ یہ ایک چھپی مسکراہٹ تھی، اس کی کوشش تھی کہ یہ مسکراہٹ سامنے والے کو نظر نہ آئے، مگر صورتحال اتنی عجیب تھی کہ وہ مسکراہٹ چھپا نہ سکا۔ یہ مسکراہٹ

Read more

ایک پرانی تصویر

یہ پرانی تصویر کسی نے بھجوائی ہے تو کیا کیا یادیں بھاگی بھاگی آن پہنچی ہیں۔ یہ زندگی شروع کرتے کچھ لڑکے اکٹھے کھڑے ہیں۔ لڑکے؟ مرد؟ نوجوان؟ یہ کون ہیں، یہ تو عام سے لڑکے ہیں، گندمی رنگ، بال سنوارے، شیو بنائے، داڑھی مونچھ تراشے، عام سے لڑکے، کسی گلی کے موڑ پر کھڑے آوارہ گرد، روایتی، رواجی سے لڑکے۔ ان جیسوں سے ہر بازار بھرا پڑا ہے۔ غور سے دیکھیے، تصویر پر توجہ دیجیئے۔ کچھ نظر آیا؟ ان کی آنکھوں کی چمک دیکھئیے۔ یہ کون ہیں؟

یہ بکھری کہانیاں ہیں؟ یہ زندگی شروع کرتی کچھ کہانیاں ہیں، کہانیاں، جی کہانیاں، متوسط طبقے سے تعلق رکھتے، اپنے وطن سے ہزاروں میل دور، ایک اجنبی زبان بولتے بیگانے معاشرے میں روشن مستقبل کی آس میں اپنے گھر بار سے دور نکلے طالب علم ہیں۔ طالب علم؟ نہیں، یہ طالب علم نہیں ہیں۔ کیوں جھوٹ بولتے ہو، یہ محنت کش ہیں، مزدور، مستقبل کی اجرت کے وعدے پر پہاڑ کاٹتے تیشہ زن ہیں، یہ کان کن ہیں۔ مجھ سے مت جھوٹ بولو، یہ طالب علم نہیں ہیں۔ انہوں نے دیار غیر میں پڑھنا ہے، اپنا خرچہ نکالنا ہے، اپنی فیسیں ادا کرنی ہیں، پیچھے دیس میں منتظر خاندان کے لیے پیسے بھجوانے ہیں، اپنی گیلی آنکھیں خشک کرنی ہیں۔ مجھ سے جھوٹ مت بولو، یہ طالب علم نہیں ہیں، یہ محنت کش ہیں۔

Read more

پرانی کوٹھی (قسط 2)

آپ نے میری پچھلی روداد تو پڑھی ہوگی کہ جس میں میں نے بتایا تھا کہ میں کالج میں پڑھاتی ہوں جبکہ میرے شوہر شاہجہاں ایڈورٹزمنٹ ایجنسی چلاتے ہیں، ہمارے تین بچے ہیں جو سکول جاتے ہیں۔ پچھلی تحریر میں میں نے پرانی کوٹھی خریدنے کا شوق اور بعد میں اسے خریدنے کا قصہ بیان کیا تھا۔ خواہش تو پوری ہوگئی تھی مگر اب اس کوٹھی میں ہمارے ساتھ دو روحیں بھی اقامت پذیر تھیں۔ یہ روحیں پرانے مالک مکان

Read more

پرانی کوٹھی، نئے مکین اور مردہ روحوں کا بسیرا

میں اور میرے میاں کچھ عرصے سے خریدنے کے لیے گھر ڈھونڈ رہے تھے۔ یہ گھر خریدنا بہت مشکل کام ہے خصوصاً اگر آپ کے پاس پیسے کم ہوں اور اگر آپ کے ذہن میں پہلے سے خیال ہو کہ آپ کیسا گھر خریدنا چاہتے ہیں، تو یہ اور مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاملے میں مسئلہ اور گمبھیر تھا کیونکہ ہم ایک پرانا گھر خریدنا چاہتے تھے۔ کم پیسوں کے ساتھ پرانا گھر ہی خریدا جاسکتا ہے، مگر ہمارا

Read more

چواسیدن شاہ کی ایک پراسرار رات

کسی نے پیر پر ٹھڈا مارا اور کہا، ”اٹھ عثمان اٹھ، باقی لوگ پہنچ رہے ہیں، اٹھ ابھی اگلا سفر پڑا ہے، اور دیکھ سڑک کے ایک طرف ہو کر لیٹا کر، کسی گاڑی کے نیچے آکر مارا جائے گا“ ۔ مجھے علم نہیں ہے کہ کتنے ٹھڈے مارے گئے تھے، اور کون تھا جس نے ٹھڈے مارے تھے۔ یہ جو ڈائریکٹلی مولڈیڈ سول جوتے جنہیں عام زبان میں ڈی۔ ایم۔ ایس شوز کہتے ہیں، ان کا سول اتنا موٹا

Read more

نیلام گھر اور دو نادان

لاہور کے الحمرا ہال میں نیلام گھیر کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ سٹیج پر دو بیس سال کی عمر کے لگ بھگ نوجوان بیٹھے تھے۔ طارق عزیز نے ان سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔

لیکن رکیے، اگر آپ نے ان دونوں کو سٹیج پر جاتے دیکھا ہو تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ دونوں تھوڑے سے گھبرائے ہیں۔ سٹیج پر جاتے انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے تھے، ایسے کہ جیسے دونوں نے ایک دوسرے کو حوصلہ دیا ہو۔ دونوں کے بال ایک ہی طرح کے تراشیدہ تھے، ایک کی داڑھی ترتیب اور بے ترتیبی کے درمیان بڑھی تھی جبکہ دوسرا کلین شیو تھا۔ اگر آپ غور کرتے تو دیکھ لیتے کہ دونوں نے اس عمر کے عام لڑکوں کی طرح جینز نہیں بلکہ پتلونیں پہن رکھی تھیں اور ان کی استری شدہ قمیصوں کے بٹن گریبان تک بند تھے۔ اگر آپ یہ سب کچھ دیکھ لیتے تو آپ یہ بھی جان لیتے کہ وہ دونوں شاید دوست نہیں بلکہ راہی ہیں، جنہیں ایک اتفاق اٹھا کر اس سٹیج تک لے آیا تھا۔ یہ زندگی بھی عجب اتفاقات سے پر ہے۔

Read more

شہر مر رہا ہے

ڈاکٹر نے سوچا بوڑھا مر رہا ہے۔ ڈاکٹر کے ذہن میں بوڑھا کبھی بوڑھا نہیں تھا۔ اس کا اور بوڑھے کا بچپن سے تعلق تھا۔ بچپن، جب ڈاکٹر بچہ تھا اور بوڑھا بوڑھا نہ تھا۔ آج جب بوڑھا مر رہا تھا تب بھی ڈاکٹر کے ذہن میں اس کا عکس کئی دہائیوں قبل کا تھا؛ پیچھے کو سنوارے بال، ذہانت کا اظہار کرتی گہری آنکھیں، کالے فریم کی عینک لگائے مسکراتا جوان چہرہ جس پر بچپن کی کسی شرارت کی

Read more

شہید پائلٹ کے بستر پر بڑے بھائی کی ایک رات

استاد نے اپنی چادر جھاڑی، کئی یادیں نکل کر باہر آپڑیں۔  وہ ان یادوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہتا تھا مگر یادیں بھاگ کر پھر واپس آجاتیں۔  اس نے سوچا یہ یادیں بھی کیا بومرنگ ہیں، جتنی زور سے دور پھینکو، اتنی تیزی سے واپس آجاتی ہیں۔  آسٹریلین مقامی لوگوں نے صدیوں پہلے لکڑی سے شکار کی خاطر یہ ہتھیار بنانا سیکھا تھا، ہوا میں گھومتا تیرتا جاتا ہے اور جانور کے سر پر لگتا ہے۔  کیا خوبصورت سادہ سا

Read more

ایروناٹیکل انجینئرنگ کا اکتیسواں کورس: یادِ رفتگاں

یہ مضمون یکم اکتوبر دو ہزار سولہ کو ایروناٹیکل انجینئرنگ کے جی۔ اکتیس کورس کے تیس سالہ سالگرہ کے اکٹھ پر پڑھا گیا۔ کہتے ہیں کہ کورس میٹ بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں کہ دونوں خدا کی طرف سے آتے ہیں اور دونوں کے انتخاب میں آپ کا کوئی کمال نہیں ہوتا۔ آج سے تیس سال قبل جب ہم نے پی اے ایف کالج سرگودھا رپورٹ کی تو اک رنگارنگ گلدستے سے واسطہ پڑا۔ پشاور سے پٹھان بھائی آئے تھے

Read more

قرطبہ، سپین کا سفر

دسویں صدی عیسوی کے وسط میں قرطبہ اندلس میں اموی سلطنت ایک طاقتور مملکت تھی، مختلف ممالک کے سفارتکار اور اہم شخصیات خلیفہ سے ملاقات کے لیے آتی تھیں۔ خلیفہ قرطبہ شہر سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر بنائی گئی آبادی مدینہ الازہرہ میں رہتا تھا۔ یہ ایک عظیم الشان آبادی تھی جہاں خلیفہ کی رہائش کے ساتھ ساتھ دفاتر بھی تھے۔ میں اور ساتھی مدینہ الازہرہ سے نکلے اور واپس قرطبہ شہر کے لیے نکل پڑے۔ ایرپورٹ سے کرائے پر

Read more

سانحہ آرمی پبلک سکول

یہ عجب مناظر تھے۔ یہ درسگاہ تھی جہاں بچے علم حاصل کرنے آتے تھے۔ نرم شاخیں، وہ کلیاں جو پھول بنتی ہیں۔ ماؤں باپوں کے خواب، بہنوں اور بھائیوں کی محبتیں، دادا دادی اور نانا نانی کے لاڈ، کِھلتی ہوئی ہنسیاں۔ یہ بچے نہ تھے، رب کا بنایا عالم تھا، ہر بغض و کینہ سے پاک، رب کا رنگ لیے۔ ان کو دیکھو تو مایوسی بھی جی اُٹھے، یہ نغمے تھے سرشاری کے، اُمنگ کے۔ یہ ماؤں کے سہارے تھے۔

Read more

فضائیہ کراچی سکیم کی شرمندگی سے ایر فورس بچ سکتی تھی

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز شیئر ہوئیں جس میں عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد فضائیہ کراچی سکیم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بچے، بوڑھے، نوجوان، خواتین اس سکیم کے دفتر میں اپنی جمع کرائی رقم کی واپسی کے لیے اکٹھے تھے۔ ان لوگوں نے فضائیہ کے نام پر اعتماد کر کے اس سکیم میں رقم لگائی۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں نے بھی اس سکیم میں سرمایہ کاری کی تھی۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بھی کئی احتجاجی ویڈیوز

Read more

برادر، عید مبارک

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں مسلمان طالبعلموں اور اساتذہ کی نمازوں کے لیے ایک کمرہ یونیورسٹی انتظامیہ نے دیا ہے۔ یہ کمرہ ماضی کے طالبعلموں کی لگاتار کوششوں کی وجہ سے ملا تھا۔ اسے مصلہ کے نام سے جانا جاتا ہے، جمعہ کی نماز یہاں نہیں ہوتی بلکہ یونیورسٹی کے جمنیزیم میں جمعہ کی نماز کے لیے جگہ کرائے پر لی جاتی ہے۔ جوتے اتار کرکمرے میں داخل ہوں تو دائیں جانب ایک دروازہ ہے جو ایک مختصر سے کچن

Read more

ایک دفتری بابو کا قصہ

ہماری ابتدائی نوکری ہوئی تو ٹریننگ کے لیے بھیجے گئے، بعد میں نوکری کی تو محکمے میں جس سے بھی ملے پتا لگا کہ اپنے اپنے وقت میں اِس بھٹی سے گزرے تھے۔ تربیتی ادارہ ایسا تھا کہ مثلِ پلِ صراط کہ جس سے گزر کر ہی منزل پانا تھی۔ یہ بھٹی جلاتی تھی کبھی ہلکی آنچ پر، کبھی بھرپور حرارت پر، کبھی چہرہ دمک اٹھتا تو کبھی سیاہی پھیل جاتی تھی، کبھی سوختہ چنوں کی مانند بھن بھن کر

Read more

ریاضی کی نمبر تھیوری اور رسیوں کی گرہیں

اکشے وینکتش، پیدائش دہلی 1981، دو سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا آگئے۔ والدہ، سویتا وینکتش نے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی۔ اکشے نے تیرہ سال کی عمر میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ریاضی کی تعلیم شروع کی۔ یونیورسٹی کی سو سالہ تاریخ میں وہ سب سے کم عمر میں  یونیورسٹی شروع کرنے والے طالبعلم تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی کی چار سالہ ریاضی کی ڈگری تین سال میں فرسٹ کلاس فرسٹ مکمل کی اور اس طرح وہ یونیورسٹی کی تاریخ کے کم سن ترین گریجوئیٹ بھی ہیں۔

Read more

عورت ہی عورت کی مددگار ہے

سائرہ : نائیلہ، تم سے کتنے عرصے بعد ملاقات ہورہی ہے۔ میڈیکل کالج کے بعد تم ایسی امریکہ گئی کہ کوئی خیر خبر ہی نہ تھی۔ یہ تو بھلا ہو فیس بک کا کہ تم سے اتنے سالوں کے بعد رابطہ ہوسکا اور آج ملاقات ہو پائی۔ نائیلہ : سائرہ، کیا بتاوں تمہیں۔ جب میں امریکا گئی تھی تو پاکستان فون کرنا اتنا مہنگا تھا کہ ہفتہ میں ایک بار ہی گھر فون کر پاتی تھی، اور امریکا میں سیٹل

Read more

میں نے مادر علمی میں آواگون دیکھا

آوا گون ہندو دھرم کا ایک بنیادی عقیدہ ہے جو اِس کو نہ مانے وہ ہندو مذہب کا فرد نہیں۔ اِس کے مطابق موت کے بعد جسم اگرچہ فنا ہوجاتا ہے مگر روح قا ئم رہتی ہے، اعمال کے مطابق دوسرے اجسام کا روپ دھارلیتی ہے اوریوں ایک سفرِمسلسل جاری رہتا ہے۔ ہندومت کا یہ نظریہ میں نے سنا تو تھا مگر اِس پر یقین نہ تھا، لیکن ایک واقعہ نے میرے خیالات پر اثر ڈالا۔ میں آواگون کے نظریے

Read more

ڈاکٹر تنویر الحق کی یاد میں

پنڈی سے آتی ریل کار نے راوی کا پل عبور کیا اور میں نے موبائل نکالا اور پیغام ٹائپ کرنا شروع کیا، ”میں لاہور پہنچ گیا ہوں، کل ملتے ہیں اور دو پہر کا کھانا اکٹھے کھاتے ہیں“۔ دو گھنٹے بعد موبائل پر جوابی پیغام آتا ہے، میں تنویر الحق کی بہن ہوں، تنویر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، دعا کریں۔ وقت مقر ر تھا، سو ڈاکٹر تنویر الحق بہت سوں کو سوگوار چھوڑ کر اگلے جہاں کو چل پڑے۔

Read more

ایک انجینیر اور فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ

اگر آپ سیلانی طبیعیت کے حامل ہوں، آوارہ گرد ہوں، بے چین روح ہوں، آپ کا گھر میں جی نہ لگتا ہو، ویرانے آپ کو صدائیں دیتے ہوں، آپ کو بزرگوں کی بہت دعائیں یا کچھ بد دعائیں ہوں، آپ کی کوئی سفارش نہ ہو، آپ کے پیر میں چکر ہوں، کھنڈرات آپ کے لیے کشش کے حامل ہوں، کوئی چڑیل آپ کے عشق میں گرفتار ہو، تو پاک فضائیہ کی ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ہی آپ کا مقدر ہے۔

اب ہمارے وہ دوست جوایرڈیفنس سے ناواقف ہیں اور موبائل یونٹ کو موبائل فون کی کوئی قسم جان رہے ہیں بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے ساتھ کچھ فری نائیٹ پیکچز بھی ہیں۔ وہ جان لیں کہ ہم نے اپنے چند دوستوں کا حال ان پیکچز میں یوں پایا کہ ہمارے نزدیک یہ کسی دعا کے زمرے میں نہیں آتا۔ توصاحبو، ایر ڈیفنس کی موبائل یونٹ ایک ماڈرن خانہ بدوشوں کا گروپ ہے۔ کہنے کو ان کا ہیڈکواٹر کسی فضائیہ کی بیس میں ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ان کے پاؤں میں پہیے اور کاندھوں پر بسترے لدے ہوتے ہیں۔

Read more

ایک آسٹریلین کے مسلمان ہونے کا منظر

جمعہ کو مسجد بھری ہوتی ہے۔ ایسا ملک جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، وہاں مسجد بھی فرق ہوتی ہے اور نمازی بھی فرق۔ مختلف رنگ ونسل کے، مختلف شباہتوں کے، مختلف لباس پہنے، مختلف زبانیں بولتے، مختلف طریقوں سے نماز پڑھتے، مختلف طرز کی تلاوت کرتے۔ ایسی رنگا رنگی کہ ہمیشہ فروٹ چاٹ یاد آجاتی ہے، مختلف ذائقے، مختلف رنگ، مختلف بناوٹ کے پھل مگر سب میڻھے۔ معاف کیجیئے گا، رمضان ابھی ختم ہوا ہے، عبادت اور فروٹ چاٹ دونوں کا ذائقہ ابھی تازہ ہے۔

اور اس مسجد کی کہانی فرق ہے۔ اس مسجد کے پیچھے طویل قانونی جنگ ہے، کئی سال کی عدالتوں کی پیشیاں، وکیلوں کی فیسیں اور لوگوں کا جذبہ، مشکلوں کے باوجود ناقابل شکست جذبہ۔ یہ مسجد ان مختلف شباہتوں، لباسوں، زبانوں کے لوگوں کی انفرادی کہانیوں سے ملتی جلتی ایک اجتماعی کہانی ہے۔ دیارِ غیر میں بسنا ایک جدوجہد ہے۔ معاشرہ فرق، رہن فرق، لباس فرق، زبان فرق، پودے فرق، چرند فرق، مذاق فرق، قانون فرق، اقدار فرق اور پھر یہ آکر بستے خوددار فرق۔

Read more

آڈیو کالم: پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا

انجینرنگ کی پڑھائی مکمل کی تھی اور مزید پڑھنے کا شوق تھا۔ ہر ایک سے مشورہ کر رہا تھا کہ مزید کیا پڑھائی کی جائے۔ ان دنوں انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے کا رجحان تھا، سو ہمیں بھی یہی خیال ہوا کہ ایم بی اے کیا جائے۔ ملک میں آئی بی اے کا بڑا نام تھا، سو ہم کراچی کو عازم سفر ہوئے۔ نوکری بھی کراچی میں کرلی اور شام کو آئی بی اے میں داخلہ لے کر پڑھائی بھی شروع کر دی۔

Read more

پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا

انجینرنگ کی پڑھائی مکمل کی تھی اور مزید پڑھنے کا شوق تھا۔ ہر ایک سے مشورہ کر رہا تھا کہ مزید کیا پڑھائی کی جائے۔ ان دنوں انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے کا رجحان تھا، سو ہمیں بھی یہی خیال ہوا کہ ایم بی اے کیا جائے۔ ملک میں آئی بی اے کا بڑا نام تھا، سو ہم کراچی کو عازم سفر ہوئے۔ نوکری بھی کراچی میں کرلی اور شام کو آئی بی اے میں داخلہ لے کر پڑھائی بھی شروع کر دی۔کراچی ہمارے لیے فرق تھا۔ عمارتیں وہ اونچی کہ دیکھیں تو ٹوپی گر جائے، اور غریب پرور شہر یوں پھیلا تھا کہ سوچ اور نگاہ دونوں تھک کر راہ میں بیٹھ جائیں۔ شہر تو شہر تھا لوگ بھی لاہور سے فرق تھے، خوراک میں ہی تیزی نہ تھی، افراد کے انداز میں بھی تیزی تھی۔

Read more

کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں؟

چوتھی جماعت میں جب ہمارا ہم جماعت عارف کرشن نگر میں پتنگ لوٹتے چھت سے گر کر مر گیا، تو میں نے اماں سے پوچھا، اماں، کیا بچے بھی مر جاتے ہیں؟ ۔ اماں نے مجھے اپنے ساتھ بھینچتے اداس لہجے میں کہا، ”بیٹا، بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر“۔ ان کی آواز میں وہ کرب تھا کہ اس دن کے بعد سے میں ڈر گیا کہ اگر میں مر گیا تو اماں کو کتنا دکھ ہوگا۔ یہ ڈر اتنا بھاری تھا کہ موت کا ڈر کہیں دور پیچھے رہ گیا۔

Read more

قصہ چہار دوست

پینتیس سال قبل وقت اور قسمت کا سفر چار نوعمروں کو اپنے اپنے گھروں کے آرام سے ایک غبار آلود شہر میں لے آیا۔ شہر بھی خوابیدہ تھا اور یہ لڑکے ابھی خود بھی خوابیدہ تھے، ان کی آنکھیں ابھی نیم وا تھیں۔ دسویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد وہ زندگی کی طرف دیکھنے لگے تھے ؛ حیرت، حیرانی، بے یقینی سب آپس میں گڈ مڈ تھا۔ ان کی آنکھیں ابھی ادھ بند تھیں۔ان میں سے ایک چکوال کے ایک گاؤں سے آیا تھا۔ وہ گاؤں کہ گوجر خاں سے چکوال جاتے راہ میں آتا تھا۔ ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک اور اس پر چلتی ایک پرانی فورڈ ویگن۔ عجب بے ڈھنگی سی ویگن، بونٹ آگے کو نکلا ہوا، فرنٹ پر دو خواتین کے لیے سیٹیں، درمیان میں بیک ویو شیشہ اور اس پر لٹکتے تین رنگ برنگے پراندے، رفتار بدلنے کے لیے گیئر کی لمبی سلاخ اور اس پر لگا کالا لٹو۔ اور اس لٹو پر زور لگاتا ڈرائیور۔ فرنٹ دروازے کے ساتھ ہی پیچھے باہر کھلتا دروازہ اور اس سے لٹکتا کنڈیکٹر۔

Read more

تین ای میلز کی کہانی

پہلی ای میل ڈیئر بسمل صاحب سب سے پہلے تو ہم آپ کے شکر گذار ہیں کہ آپ نے ہماری ویب سائیٹ ”دل جوڑ“ کو جوائن کیا۔ میں آپ کو ذاتی طور پر خوش آمدید کہتی ہوں۔ میرا نام دل آرام ہے اور میں ”دل جوڑ“ کمپنی کی مارکیٹنگ مینجر ہوں۔ یقین جانیئے آپ کے جوائن کرنے سے ہمیں حقیقی خوشی ہوئی ہے۔ ہم آپ کی عمر کے لحاظ کے بغیر آپ کی زندگی بدل دیں گئے۔ ہم دل جوڑنے

Read more

فکر سے لادینیت تک

کرائسٹ چرچ کے واقعہ کے بعد مختلف افسوس کی تقریبات میں شرکت کے دوران مختلف رنگ، مذہب اور نسل کے افراد سے ملاقات ہوئی۔ ان میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ ایتھیسٹ یعنی لادین افراد کی بھی ایک تعداد تھی۔ ان سے گفتگو بھی ہوئِی، ان کا نعرہ انسانیت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر مظلوم کے ساتھ ہیں، مسلمان ہوں یا کسی اور مذہب کے پیروکار، وہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ ہیں، وہ ابارشن

Read more

ہمارے نوجوان کتنی تاریخ جانتے ہیں؟

کرائسٹ چرچ کے سانحے کے بعد نیوزی لینڈ کے لوگوں اور ان کی وزیراعظم کا کردار اور اس کے علاوہ آسڑیلیا میں لوگوں کی روش نے کچھ فکری سوالوں کو جنم دیا ہے۔ اس واقعہ کے مجرم کے آسٹریلین ہونے کے باعث آسٹریلیا میں بھی لوگوں میں ایک غیر یقینی کا احساس دیکھنے میں آیا ہے، اکثر لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مجرم آسٹریلین ہے۔ آج کا آسٹریلیا مجموعی طور پر رنگا رنگ کی

Read more

اللہ ماہی ۔ شاگردوں کی قطار میں میرا استاد

لیکچر کے لیے استاد کلاس کے سامنے کھڑا ہوا۔ یہ کلاس کے سامنے کھڑے ہونا بھی دریا کے سامنے کھڑے ہونا ہے، ٹھہرامنظر اور پھر آہستہ سے بدلتا منظر، دھیمی سی تبدیلی۔ دھیرے سے بہتا پانی جس کے ایک کونے سے ایک آبی پرندہ ابھرتا ہے، اوپر کو دیکھا اور پھر پانی کے اندر غائب۔ ایک لمحہ ہی سب تبدیلی چھپائے ہے، پکڑ لو تو جھولی بھر دے، نکل گیا تو ہاتھ خالی۔ دیکھنے کی آنکھ ہو تو بدلتا منظر نظر آتا ہے، ورنہ سب کچھ سپاٹ ہے۔ سپاٹ سی دیوار اور اس پر ٹنگی ساکت تصویریں۔ دیکھنے کی آنکھ ہو تو تصاویر سرگوشی کرتی ہیں، کہانیاں سناتی، منظر دکھاتی۔ محسوس ہو تو غیر محسوس بھی چھب دکھلاتا ہے۔

استاد کلاس میں کھڑا ہو تو سامنے طالبعلموں کے چہرے ہیں، سپاٹ چہرے اور کہانیاں سناتے چہرے۔ بے زار، جمائیاں لیتے، سر کھجاتے، لیکچر کی بے وقعت قید گذارتے چہرے۔ لیکچر میں دلچسی لیتے، چمکتی آنکھوں سے استاد پر نظر رکھتے، ہاتھ سے کاپی پر تیز تیز نوٹس بناتے چہرے۔ اور بھری کلاس سے علیحدہ کچھ چہرے۔ جماعت کے ایک کونے میں بیٹھی طالبہ اور اس کے ساتھ ہمیشہ بیٹھتا وہ طالبعلم۔ ہتھیلیوں پر چہرہ دھرے وہ لیکچر کی طرف متوجہ ہونے کا گمان دیتی ہے، مگر دونوں کی توجہ ایک دوسرے کی جانب ہے۔ لیکچر کے دوران ایک لمحے کو دونوں دیکھتے ہیں اور ایک ہلکی سے مسکراہٹ یکایک ابھرتی ہے اور کلاس کو بھرتے ہوئے اگلے لمحے کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ استاد جانتا ہے، محسوس ہو تو غیر محسوس بھی چھب دکھلاتا ہے۔

Read more

کرائسسٹ چرچ اور پرتھ، دو مقام ایک لوگ

جمعہ کا دن ڈیپارٹمنٹ میں مہمان لیکچرز کے لیے مختص ہے، تین چار دن قبل اساتذہ اور پی ایچ ڈی کے طالبعلموں کو ای میل بھیج کر مقرر کے بارے میں بتا دیا جاتا ہے۔ مگر یہ جمعہ فرق تھا کہ اس جمعے کو ایک سعودی لڑکی اپنا پی ایچ ڈی کا فائنل ڈیفنس دے رہی تھی۔ میں خصوصاً یہ سننا چاہ رہا تھا، سعودی طالبعلم یونیورسٹی میں ویسے بھی کم تھے اور پی ایچ ڈی مکمل کرنے والی سعودی

Read more

ماں جی: عورتوں کے عالمی دن کے لحاظ سے ایک تحریر

گرمیوں کی چھٹیاں لاہور میں سخت ہوتی تھیں۔لمبے دن، آسمان سے برستی آگ، نلکوں سے نکلتا کھولتا پانی، گرم ہوا پھینکتے پنکھے، خاموش دوپہر، ساکت ہوا اور ایک سرکاری کواٹر میں کھڑکی سے باہر تکتے تین کم سن بچے۔کبھی گھونسلے میں چڑیا کے چھوٹے بچوں کو دیکھا ہے، منہ کھولے، چونچیں اوپر کیے، ایک آس، ایک انتظار رکھے۔ آسماں جتنا بھی وسیع ہو ان کی کائنات مختصر ہے۔ دانا کھلاتے دو ماں باپ، جو دانے کی تلاش کے ساتھ ساتھ بچوں کی حفاظت کے خیال کا بوجھ اٹھائے دور تک نہ پرواز کر پائیں۔

Read more

فلائیٹ لفٹیننٹ وقاص شمیم کی یاد میں

میں نے بچپن سے اپنے بزرگوں سے ککے زئیوں کی کئی باتیں سنی تھیں، نعرہ تھا، ”ککے زئی، ہائے جان گئی“۔ وقا ص کو جب میں نے کہا، ”ککے زئی، میں نے سنا ہے کہ درانتی کے ایک طرف دندے ہوتے ہیں، مگر ککے زئی کے دو طرف دندے ہوتے ہیں“۔ تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا، ”ملک جا نے دے“۔مجھے نہیں علم کہ کب وقاص کے بزرگ اندرون لاہور سے نکلے اور بیگم روڈ پر آ کر رہنے لگے۔ بیگم روڈ مزنگ اڈہ سے شروع ہوتی ہے اور جین مندر پر ختم ہوتی ہے۔ اُس کے گھر میں داخل ہوں تو کھلاصحن تھا، جہاں ہر روز اُسکی والدہ ہر شام نوکروں کے اور محلے کے بچوں کو پڑھا تی تھیں۔ اُسکی والدہ ایف جی سکول میں تعلیم دیتی تھیں، جبکہ اُس کے والد کرنل شمیم پی ایم اے کاکول میں ریا ضی کے استاد تھے۔ یہ اسا تذہ کا گھر تھا ؛ بے لوث، کھرے، مخلٰص۔

Read more

نسلوں کی ہجرت

یہ کیسے ہو سکتا ہے، ایک لمحہ جو اُس نے گذارا نہیں، ایک پل جس میں اُس نے سانس نہیں لیا، جو اُس پر نہیں بیتا، جسے اُس نے محسوس نہیں کیا، جو اُس کے احساسات سے نہیں گزرا، جس کو اُس نے خرچ نہیں کیا اُس کے حساب سے کیسے خارج ہو گیا۔ اُس کی عمر سے کیسے منہہ ہو گیا، خود بخود، بنا اُس سے پو چھے۔ ذاتی بنک اکاونٹ میں جمع رقم کہ جس پر انسان کا حقِ ملکیت ہوتا ہے، ضبط ہو جا ئے، بغیر قصور کے، بغیر بتائے، بنا پو چھے۔

وہ یہی سوچتا رہا، اسے جلن تو نہیں کہتے مگر اِک زیاں کا احساس تو تھا۔ جیسے بو ڑھے کسان سے گندم کی بوری نہ اٹھائی جائے تو جوان بیٹا کچھ کہے بغیر بوری اُٹھا لے، ایک لمحہ جو برسوں بیت جانے کا احساس دلا جاتا ہے، خامو شی کے ساتھ، چپکے سے۔ اُس نے سوچا یہ حکومت کون ہوتی ہے گھڑیوں کی سوئیاں آگے کرنے والی، بنا پوچھے میری زندگی کا ایک گھنٹہ لے جانے والی۔

Read more

ایک سرد رات کا کھانا

سردیوں میں پرندے سرد ممالک سے ہزاروں میل کی اڑان بھر کر پاکستان جیسے گرم علاقوں میں آتے ہیں۔ براعظم آسڑیلیا کا معاملہ الٹ ہے کہ گرمیوں اور کرسمس کی چھٹیاں اکٹھی ملتی ہیں اور ہم جیسے لوگ بطور پرند ہزاروں میل کی اڑان کے ذریعے گرم موسم سے پاکستان سرد موسم میں آتے ہیں۔ سو اس سال بھی ہم سردیاں اور دھند منانے وطن آئے۔

جنوری کی سرد شام تھی کہ انٹرنیٹ بتا رہا تھا کہ درجہ حرارت 4 ڈگری تک ہے۔ بچوں نے منہ سے سرد بھاپ نکالتے کہا کہ اس کلب چلتے ہیں جو کہ مشہور ہے اور ہماری وہاں کی پرانی ممبر شپ بھی ہے۔ سو کلب پہنچے اور وہاں کے کیفے میں داخل ہوئے۔ اس کا ہال گرم تھا۔ سرد ی کی بنا پر کچھ ہی لوگ گھروں سے نکل کر وہاں آئے تھے سو ہال کافی حد تک خالی تھا۔ کرسیاں کھینچ کر بیٹھے ہی تھے کہ کیفے کے مینجر آن پہنچے کہ آپ کی بیٹی 12 سال سے کم عمر ہے سو آپ اندر نہیں بیٹھ سکتے، باہر بیٹھیے۔

Read more

سانحہ آرمی پبلک سکول، پشاور 16 دسمبر 2014

ان بچوں کو سکول چھوڑتے ان کے باپ تھے، اپنی آ نکھوں میں ان گنت خواب بسائے، صبح سے شام تک اپنی بساط سے بڑھ کر محنت اور جدوجہد میں مصروف۔ شام کو جب تھکے ہارے گھر آتے تو بچوں کو دیکھ کر ان کی تھکن دور ہو جاتی۔ چھوٹے بچوں کو ہوا میں اچھالتے، کبھی بستر پرکشتی میں ان سے جان بوجھ کر ہارتے، کرکٹ میں انہیں گیندیں کراتے اور آوٹ ہونے کی صورت میں خود ہی نو بال کی آواز لگا کر ایک اور باری دیتے۔ جمعہ پڑھ کر گھر آتے تو گھر کے دروازے تک کی دوڑ میں جان بوجھ کر ہار جاتے۔ آج جب یہ پودے جوانی کی طرف بڑھ رہے تھے تو باپ اپنے کئی دکھ بھول جاتے۔

یہ بچے مختلف خاندانوں سے آئے تھے۔ اِن میں شہر کی ہر آبادی کا رنگ تھا۔ امراء کے بچے تھے تو غرباء کے گھروں کے چراغ بھی، فوجی افسروں کے بیٹے تھے تو سپاہیوں اور صوبیداروں کے لختِ جگر بھی۔ گورے پٹھان طالبعلم تھے تو پنجاب سے تعلق رکھنے والے گندمی رنگ بھی۔ انہیں میں میرے دوست ڈاکٹر گلزار کا بیٹا بہرام تھا، چھ فٹ کا جوان، جسم بھرا ہوا، محبت آمیز، ملنسار، گرم جوش۔ ان میں باورچی زاہد کا بیٹا ابرار بھی تھا۔ کک زاہد جس کے جسم کی رنگت سردی گرمی میں آگ کے سامنے مسلسل کام کر کے بدل گئی تھی۔

Read more

مرزا اعجاز بیگ

مرزا اعجاز بیگ ہمارے دفتری ساتھی ہیں، نوکری میں ہم نے اُن کے جوہر خوب دیکھے۔ فرماتے کہ نوکری کو اخلاقیات سے الگ رکھو کہ نوکری میں قول و فعل کا تضاد خامی نہیں بلکہ خوبی ہے۔ مزید فرماتے کہ نوکری میں انسان پھول کی مانند ہونا چاہیے، مگر ہر ایرے غیرے پھول کی مانند نہیں بلکہ سورج مکھی کے پھول کی مانند کہ ہر وقت چہرہ سورج کی جانب ہونا چاہیے۔ ہمیں اِن افکار پر سوچ میں پا کر مزیدرہنمائی کی خاطر کہنے لگے کہ دفتر میں اُس مر غی کی مانند ہو جو انڈا دے نہ دے کُڑکُڑ کی مسلسل آوازیں نکال کر سب کو اپنے جانب متوجہ رکھتی ہے۔ سو اسی بنا پر دفتر میں کردار نہیں بلکہ گفتار کے غازی کی شہرت رکھتے تھے۔ زبان کا استعمال مرزا کے مقابل ہم نے کسی کا نہ پایا۔

Read more

علامہ اقبال کو پتلا کر دو

عاصم ایک بدتمیز آدمی تھا اور میں اُ س کا سٹاف افسر۔ دفاتر میں ایسے لوگ آپ کو ملتے ہیں جو اپنے آپ کو عقلِ کلُ سمجھتے ہیں۔ آپ اِن سے معقول بات کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں کہ نہ جانے مزاج پر کیا گراں گذرے اور بے نقط سننے کو مل جائے- معقولیت و نامعقولیت کے فرق سے عاری، عہدے کا نشہ اُن کے سر پر چڑھا ہوتا ہے۔ ماتحت کیا کرے، اگر ان سے بچ کر دن

Read more

بنکاک کی فلائٹ اور آرٹسٹ لوگوں کا پیمانہ

تھائی ایر لائنز کے جہاز نے لاہور سے اڑان بھری ۔ یہ جہاز بنکاک جارہا تھا اور پوری طرح بھرا تھا۔ زیادہ مسافر پاکستانی تھے، کچھ ہی غیر ملکی ہونگے۔ یورپ اور دوسری دور کی منازل کے لیے تھائی ایر لائنز کی پروازیں بنکاک کے راستے سے جاتی ہیں سو اس مسافر کی طرح کئی اور مسافروں نے بنکاک سے آگے کی پروازیں لینا تھیں، جبکہ کئی لوگ بنکاک بھی جارہے تھے؛ کپڑے کے تاجر، سیاح، جنس کے بیوپاری۔ بنکاک

Read more

کتابی افسر، کمانڈو سنتری اور آٹھ سو میٹر کی دوڑ سے سیکھا سبق

وہ فضائیہ کی اکیڈمی سے انجینئرنگ کر کے پاس آوٹ ہوا تو کراچی ملیر پوسٹنگ ہوئی۔ اکیڈمی میں اتھلیٹیکس میں حصہ لیتا تھا، 400 میٹر کی دوڑ خصوصی پسند تھی اور بنیادی طور پر اسی دوڑ کے تعلق سے جانا جاتا تھا۔ 400 میٹر کی دوڑ کوئین آف دی ریسز کہلاتی ہے، اس میں سٹیمنا اور ڈیش یعنی رفتار دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ اگر آپ شروع دوڑ میں زیادہ زور لگا دیں تو 300 میٹر کے بعد ختم ہو ں

Read more

مامی کے مقدر میں رونا لکھ دیا گیا ہے

آج مامی فرحت پھر رو رہی ہے۔ اب تو یہ معمول ہی بن گیا ہے۔ پتا نہیں کیوں اس کا نام ماں باپ نے فرحت رکھا تھا۔ نام بعض اوقات الٹ اثر رکھتے ہیں۔ مگر کیا نام میں کچھ ہوتا ہے، یا نصیب ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ مامی کا نام کچھ بھی ہوتا، اب اس نے رونا ہی تھا۔ اس کے مقدر میں رونا لکھ دیا گیا ہے۔ پکے اسٹامپ پیپر پر، ان مٹ سیاہی سے۔ اور سیاہی ایسی

Read more

کان ہیں کہ پرندوں کی چہچہاہٹ کو ترس گئے ہیں۔

آج صبح پودوں کو پانی لگاتے ایک مینڈک کو دیکھا کہ اونچے مقام پر جا پہنچا تھا۔ اُسے دیکھا تو کئی اور منظر نگاہ میں اورخیال سوچ میں آگئے۔ سب سے پہلا خیال یہ تھا کہ کیا یہ مینڈک ہے کہ مینڈکی۔ آج کے فیمینزم کے دور میں مردانہ صیغہ کا واحد استعمال خصوصاً ترقی کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں۔ مینڈک کی اس ترقی کو دیکھ کر کچھ پرانے تجربے یاد آگئے۔ ایک نوکری تھی جس میں ٹرٹرانے کی

Read more

حلال ذہن میں ہوتا ہے

وہ یونیورسٹی کے آڈیٹوریم سے ماسٹرز کورس کے تین منتخب شرکاء کی تقریریں سن کر ساتھ والے ہال میں داخل ہورہے تھے۔ ارشد کو پہلی تقریر پسند آئی تھی، لیسی کی تقریر۔ اس کورس میں اس کو ویسے بھی لیسی سے گپ شپ کا مزہ رہا تھا۔ اچھی ملنسار سی لڑکی تھی، قدرے بھاری جسم کی ، بال کٹے ہوئے،نیلی آنکھیں چمکتی ہوئیں، ہر وقت مسکراتی۔ یہ وقت بہت سخت رہا تھا۔ یہ بزنس سکول والے بھی آدمی کی مت مار

Read more

ایک فوجی اکیڈمی میں پڑھانے کا تجربہ

قسمت کا لکھا تھا سو ہمیں نسٹ یونیورسٹی کے کالج آف ایروناٹیکل انجینرنگ میں پڑھانے کے لیے تعینات کر دیا گیا۔ یہ کالج پی اے ایف اکیڈمی میں ہے، سو ہمارے تجربے میں اضافہ ہوا۔ اکیڈمی میں استادی در اصل استادوں کا کام ہے، سو اس بنا پر ہم اپنے آپ کو شاگردوں میں شمار کرتے ہیں اور اپنے کئی شاگردوں کو استادوں میں گنتے ہیں، بلکہ ہمارے ہوتے ہوئے ہی استانیوں کی بھی آمد اکیڈمی میں شروع ہو گئی

Read more

غرناطہ کا مدرسہ اور دکھ کے گھاو

چودھویں صدی کے آغازمیں غرناطہ کےحکمران یوسف اول نےغرناطہ کی جامع مسجد کے ساتھ ایک تعلیمی ادارے کی تعمیرکا حکم دیا جسے مدرسہ کے نام سے آج بھی جانا جاتا ہے، گوغرناطہ کی جامع مسجد کومسمارکرکے وہاں چرچ بنادیا گیا ہے۔ موجودہ تصور سے برعکس یہ مدرسہ مذہبی اور دنیاوی دونوں تعلیم دیتا تھا، یہاں مذہب، قانون، منطق، طب، ادب، فلکیات اور ریاضی پڑھائی جاتی تھی۔ یہ ایک شاندارعمارت تھی جس کا سامنے کا رخ سفید سنگ مرمرسے بنا تھا۔

Read more

اگست 1947 اور ماموں رفیق کی کہانی

بچپن میں یاد نہیں کہ کب ماموں رفیق سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ میری والدہ اور والد دونوں کے رشتے کے بھائی تھے۔ شاید وہ ہمارے گھر آئے تھے یا ہم اُن کے گھر گئے تھے۔ اُن کے گھر جانے کی ملاقات کے علاوہ بھی وجہ ہوتی، سو اماں ابا عید تہوار سے قبل اُن کی طرف جاتے تھے۔ لاہور میں انجینئرنگ یونیورسٹی سے جی ٹی روڈ پر شہر کی طرف چلیں تو سڑک ریلوے لائن کے ساتھ چلتی

Read more

ایم ایم عالم سے ایک ملاقات

یہ 2005 کی بات ہے کہ کراچی جانا ہوا پتہ لگا کہ فیصل بیس میں وہ شخص رہتا ہے جس سے مل کر قرون اولی کے مجاہدوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ نمبر معلوم کر کے فون کیا اور حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، اگلے دن کا وقت ملا۔ دو کمروں کے اپارٹمنٹ میں وہ درویش منش رہ رہا تھا جس کے نام پر لاہور کی مہنگی ترین سڑک ہے جس پر واقع کسی بھی ریسٹورنٹ کے ایک وقت

Read more

اکیسویں صدی کے طالبعلم کو کن صلاحیتوں پر عبور حاصل کرنا ہوگا؟

پچھلی چند دہائیوں میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی معاشرے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت معلومات کا ایک بے پایاں بہاؤ ہے جو کہ انسانی نسل کو بہا لے جارہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے زیرِ اثر معاشروں میں نمایاں تبدیلیاں نظر آرہی ہیں، رہن سہن، لباس، زبان، سماجی تعلقات، سیاست غرض ہر شعبے میں ایک تیز تبدیلی آئی ہے۔ فاصلے مٰعنی کھو چکے ہیں کہ آج کی دنیا سمٹ کر قریب آگئی ہے۔ قابل اور صلاحیت مند افراد

Read more

فلامینکو رقص : اندلس کا نوحہ

جولائی 2018، اندلس سپین سے واپسی کے سفر میں لکھا سٹیج دھندلا تھا، روشنی کم تھی، جان بوجھ کر کم کی گئی روشنی۔ سٹیج کے پیچھے ایک رقاص کی تصویر تھی، قد آور تصویر۔ سیاہ سوٹ کے نیچے سفید قمیص پہنے، بائیں ٹانگ پر کھڑا، دائیں ٹانگ مڑ کر بائیں ٹانگ کے گھٹنے پر آئی ہوئی، رقاص کے بازو مڑے ہوئے، دونوں ہاتھ سینے سے کچھ نیچے، بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں ایک جانب کو اشارہ کرتیں اور دائیں ہاتھ

Read more

ایک  مستعفی فوجی کی یاد میں

2004 کی بات ہے کہ میں اسلام آباد میں رہتا تھا۔ کبھی کبھی قریبی گالف کورس کے ساتھ کی بیرونی سڑک پر دو  بوڑھے میاں بیوی  آہستہ آہستہ چلتے نظر آتے تھے۔ خاتون کوئی یورپی خاتون تھیں۔ میں سمجھا کہ کسی کے والدین ہیں ۔ پھر اکثروہ خاتون اکیلی واک کرتی نظر آنے لگیں ، بعد میں علم ہوا کہ اُنکے خاوند علیل ہیں ۔ ایک دن اُن سے بات چیت ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ مسز  ایر کموڈور 

Read more

محبت کے مارے طالبعلم، انٹیگریشن پڑھاتا پیر اور اشفاق احمد

انجیئنرنگ کی پڑھائی کا آخری سال تھا کہ ہمارا ایک ہم جماعت ایک لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ وہ تو عشق میں مبتلا ہوا ہی ہم بھی ایک ابتلا میں مبتلا ہو گئے۔ یہ طالبعلمی کا دور ویسے بھی عجب ہوتا ہے، دوستوں کے ساتھ کا۔ اپنے سامان کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھائے پھرتے ہیں، ویسے ہی، بلا وجہ۔ تو کون میں خوامخواہ سے لیکر پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ بلکہ عبداللہ دیوانے تک۔ اور

Read more

زرد پھولوں میں ایک پرندہ، رزان اشرف النجار

غزہ 25 میل لمبا اور 4 سے 8 میل چوڑا دنیا کا سب سے کھلا قید خانہ ہے جہاں 18 سے 19 لاکھ فلسطینی قید ہیں، 50 سال سے قید، 10 سال سے ناکہ بند؛خوراک، ادویات سب ناکہ بندی کا شکار۔   اور  ابھی سزا باقی ہے، سزا  و امتحاں ابھی باقی ہے، وقت کے شمار سے ماورا سزا ابھی باقی ہے، صعوبت خانے کے امتحاں ابھی باقی ہیں۔ اس کھلے قید خانے میں پرندے بھی اترتے ہیں، پھول بھی کھلتے ہیں۔ پھول

Read more

ہجرت اور گھونسلے کے درمیان عمر گزارنے والی ماں

اماں کے ہاتھ میں سلائیاں ہوتیں، مختلف رنگوں کے اون کے گولوں کے ساتھ،  جن کے نرم دھاگے وہ مہارت سےاُن سلائیوں کی مدد سے ایک دوسرے سےجوڑ دیتیں، اُلجھی ہوئی ڈوریں سیدھی کر دیتیں ۔ مختلف رنگ دھاگے ایک دوسرے سے ریشے، طوالت اور ملائمت میں فرق رکھتے -مگر وہ ایک سلائی سے ایک دھاگے کو اُٹھاتی٘ں، اُس کو اہمیت دیتیں، دوسری سلائی سے دوسرے کو قریب لاتیں، دونوں کو بغلگیر کرتیں اور ٹانکا لگا کر ہمیشہ کے لیے جوڑدیتیں۔ اور

Read more

موچی دروازہ اور پانی اردو زبان میں

آج پتہ لگا کہ موچی دروازے لاہور میں ایک جلسہ کو پانی سے فیضیاب کیا گیا ہے، مقصد کچھ بھی ہو میدان بھی خوش ہوگا کہ پیاسے کو پانی تو ملا۔ اور اس موقع پر تو پانی خود چل کر پیاسے کےپاس آیا اور شاید فائر بریگیڈ کے سرخ رنگ کی گاڑیوں پر لد کر آیا۔ وہ گاڑیاں بھی خوش ہوئیں کہ اسی بہانے ان کے ٹینکرز کی لیکچ کا پتہ بھی لگ گیا۔ پنجاب آئے مہمانوں کی آو بھگت بھی

Read more

پنسل تراش، ایک علامتی افسانہ

اُس کی نوکری پنسل گھڑتے ہی گزری۔ پنسل گھڑنا اس کی عادت بن گئی تھی۔ ایک ہابی، ایک ایسا ساتھ جس کے بغیر جیا نہ جائے۔ اُس کی دفتری میز کی دراز میں رنگ برنگے پنسل تراش تھے۔ مختلف سائز کے، مختلف تراش خراش کے، اپنے تیز نوکیلے بلیڈوں کے ساتھ۔ اُس سے کوئی بھی ان گھڑی پنسل نہ دیکھی جاتی تھی۔ اُس کے میز کی ٹرے پر مختلف پنسلیں چمک رہی ہوتی تھیں۔ تیز سکے بنی، چھبنے والی، نظر

Read more