چلو یہ تو ثابت ہوا کہ ایک نیا پاکستان درکار ہے


چلو یہ تو ثابت ہوا کہ ایک نیا پاکستان درکار ہے۔ عمران خان نے یہ نعرہ لگایا اور عمران کے ووٹر نے جو اس وقت ملک کی ایک بھاری اکثریت ہیں انہوں نے عمران کے اس نعرے کو ووٹ دے کر ثابت کر دیا کہ وہ بھی ایک نیا پاکستان چاہتے ہیں۔ ووٹر کے ساتھ ساتھ وہ لوگ یا ادارے جن پر عمران کی حمایت کا الزام ہے، گو کہ وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں، وہ بھی ایک نئے پاکستان کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ بات تو بڑی زبردست ہو گئی۔ یہ ثابت ہو گیا کہ موجودہ پاکستان ٹھیک حالت میں نہیں ہے اسی لیے ایک نئے پاکستان کی ضرورت ہے۔

یہی بات اگر کوئی لبرل کہتا تھا کہ موجودہ پاکستان کی صورت حال ٹھیک نہیں اور ایک نیا پاکستان درکار ہے تو وہ ایک وطن دشمن، مغرب زدہ اور غدار ٹھہرتا تھا۔ شکر ہے باقیوں نے ہی جانے یا انجانے میں یہ اہم نقطہ تو تسلیم کر لیا کہ موجودہ پاکستان میں اتنے مسائل ہیں کہ ایک نیا پاکستان ہی درکار ہے۔

پاکستان کے مسائل ہیں کیا؟ کیا ٹھیک کرنے والا ہے کہ نیا پاکستان بنانے کا دعوا پورا ہو سکے۔ تو اس سلسلے میں چند موٹی موٹی باتیں ہیں کہ جن سے تبدیلی شروع کی جا سکتی ہے۔

ہمارا معاشرے کا صدیوں پرانا کلچر ایسا ہے کہ اس میں رہنے والے سبھی لوگ بحیثیت انسان برابر نہیں سمجھے جاتے۔ اس نا ہمواری کا شکار سب سے بڑا گروپ عورتیں ہیں جن کی تعداد کوئی دس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ بحیثیت انسان عورت کا مقام کیا ہے ابھی تک یہ بات طے نہیں ہو سکی۔ ابھی تک یہ بحث چل رہی ہے کہ مرد عورت کو ڈسپلن کرنے کے لیے اس کی پٹائی کر سکتا ہے یا نہیں۔ عورت کو لباس کون سا پہننا چاہیے۔ عورت کو تعلیم کون سی حاصل کرنا چاہیے۔ عورت کو نوکری کرنے کی اجازت ہے کہ نہیں۔ عورت اپنی مرضی کا پارٹنر چن سکتی ہے یا نہیں۔ عورت کو کوئی ریپ کر دے تو اس کی شکایت کرے یا نہیں۔ عورت کو دفتر، سڑک، بس، پارک یا کسی بھی دوسری پبلک جگہ پر جنسی طور پر کوئی ہراساں کرے تو یہ قصور کس کا ہو گا۔ عورت کو اس کی خاندانی جائیداد میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں۔ عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہیے یا نہیں۔

عورت اگر بیمار ہو تو گھر کے کسی مرد کی اجازت بغیر ہسپتال جا سکتی ہے یا نہیں یا بیماری کی صورت میں مرد ڈاکٹر سے دوائی اور مشورہ لے سکتی ہے یا نہیں۔ عورت کی بچہ دانی پر کنٹرول کس کا ہو یہ فیصلہ ہونا بھی ابھی باقی ہے اسی لیے کوئی بھی فیملی پلاننگ کا طریقہ استعمال کرنے کے لیے اسے کئی لوگوں کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ بلا شبہ ہمیں اپنے نظام میں ایسی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ انسانوں کا یہ سب سے بڑا گروپ، یعنی عورت، بحیثیت انسان اپنی زندگی اپنی مرضی سے پلان کر سکے اور گزار سکے اور معاشرہ عورت کو ایک بھرپور زندگی گزارنے کا حق دے اور اسے سپورٹ کرے۔ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا جو حق ہمارے نئے وزیراعظم عمران خان کے بچوں کی ماں (جمائمہ خان) کو حاصل ہے وہی ساری پاکستانی عورتوں کو بھی ہونا چاہیے۔

دوسرا اہم مسئلہ مذہبی آزادی کا نہ ہونا ہے۔ اس سلسلے میں حالات روزبروز خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست مذہبی آزادی کے حق کا تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ ریاست نے لوگوں میں یہ شعور بھی بیدار نہیں ہونے دیا کہ مذہب ذاتی معاملہ ہے اور اس میں کسی دوسرے کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست نے ہمارے بچوں کو دوسرے عقائد کی عزت کرنا سکھانے کی بجائے انہیں نفرت سکھائی ہے۔ جس کی وجہ سے آئے دن عقیدے کی بنیاد پر فسادات ہوتے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں پر خوف کی ایک فضا طاری رہتی ہے۔ خوف کی اس فضا کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہماری ریاست کو غیر جانبدار ہونا پڑے گا اور دور رس تبدیلی لانے کے لیے سکولوں کے نصاب کو تبدیل کرنا ہو گا۔ مسجد اور منبر کو بھی ایک ضابطہ اخلاق کے تحت لانا ہو گا تاکہ وہ دوسرے عقائد کے بارے میں زہر نہ اگلیں۔

ہمارے معاشرے میں بے پناہ ناہمواری ہے جو کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد غربت کے اس درجے پر رہتی ہے کہ انہیں صحت اور بچوں کی تعلیم جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی خاص مدد چاہیے ہو گی۔ ریاست نے ابھی تک اس سب نچلے طبقے کو ترقی کے دھارے میں لانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر ووٹ حاصل کرنے والی ہماری نئی حکومت اس طرف دھیان دے گی اور ایسا بندوبست کرے گی کہ غریب ترین بھی ترقی کے دھارے میں شامل ہو سکیں گے۔

پاکستان کی فارن پالیسی ایسی ہے کہ ہم نے اپنے گرد ایک بد اندیش، مخالفانہ اور دشمنی کا ماحول بنا کر رکھا ہوا ہے۔ ایسے ماحول کی وجہ سے ہماری توجہ سیکیورٹی پر رہتی ہے اور ترقی کی طرف آ ہی نہیں پاتی۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانا ہو گی تاکہ ہم دشمنوں میں گھرے ہونے ک بجائے دوستوں کی محفل میں ہوں اور اپنی سیکیورٹی کی فکر کی بجائے اپنی ترقی پر توجہ دے سکیں۔

میں نے صرف چند ان چیزوں کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی ہے جن پر کوئی پیسے خرچ نہیں ہوتے بلکہ معاشی وسائل ضائع ہونے کی بجائے بچتے ہیں۔ عمران خان، ان کی پارٹی اور اتحادیوں کے کرنے کو بہت کچھ ہے۔ پلیز یہاں سے شروع کریں۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik