نواں خواب نامہ۔۔۔ دوستی کی خوشبو


15 مئی 2018
درویش کو رابعہ کا سلام
رابعہ درویش سے معذرت چاہتی ہے کہ تاخیر سے جواب دے رہی ہے۔ رابعہ بے معنی و لاحاصل اخلاقی مصروفیات میں پھنسی ہوئی تھی ۔جن کا ناتو زندگی سے کوئی گہرا تعلق ہے نا موت سے…
درویش کے ’’دانائی ،، والے سوال سے رابعہ پہلے تو مسکرائی ۔پھر اس کو سقراط کے حوالے سے پڑھا ایک واقعہ یاد آگیا۔نہیں معلوم مصدقہ بھی ہے یا نہیں ۔ مگر دلچسپ ہے۔ سقراط سے کسی نے پوچھا کہ آپ کی دانائی کا راز کیا ہے ؟ اس نے اس شخص سے گھر آنے کو کہہ دیا۔ جب وہ شخص سقراط کے گھر پہنچا تو گھر سے گالیو ں و بد زبانی کی آوازیں آرہی تھیں ۔ وہ شخص پلٹ گیا۔ اور جا کر سقراط کو تلاش کرنے لگا۔ سقراط کہیں بیٹھا اپنے شاگردوں کو لیکچر دے رہا تھا۔ اس شخص نے بتایا کہ وہ اس کے گھر سے آرہا ہے ، جہاں سے بد زبانی و گالیو ں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ سقراط نے کہا وہ میری بیوی ہے اور یہی میری دانائی کا سبب ہے۔ تو رابعہ بھی یہی کہتی ہے کہ اگر درویش کو لگتا ہے کہ کو ئی دانائی ادھر اْڑتی پھر رہی ہے تو یقیناًاس کے اسباب بھی آس پاس ہی ہونگے۔
رابعہ درویش کو بتانا چاہتی ہے کہ وہ روحوں کے قبیلے والی میتھ پہ یقین رکھتی ہے. اس کے مطابق یقیناًرابعہ کی پہلی ملاقات عالم ارواح میں درویش سے ہوئی ہو گی۔ اسی لیئے زمین پہ ہونے والی ملاقات میں اجنبیت نہیں ہے.اور ان کی روحیں ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتی ہو نگی اس لئے دوستی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے ۔تخلیق کا قبیلہ زمین پہ بھی ایک جیسا ہی ہوتا ہے.
یوں بھی رابعہ کو محسو س ہوتا ہے اس کی روح عالم ارواح میں بہت آوارہ روح تھی ، اسی لئے اسے زمین پہ اکثر لوگوں سے ملتے ہوئے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا.
یہ بھی حقیقت ہے کہ رابعہ کا دل ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ وہ دنیا ہی نہیں کائناتوں کا سفر کرے.،ہر وقت سفر میں رہے.وجودی طور پہ تو ایسا نہیں ہو سکا۔مگر ذہنی طور پہ وہ مسلسل سفر پہ ہوتی ہے ۔گھر کے کام کرتے ہوئے.چائے، کافی پیتے ہوئے.درختوں کو پیار سے دیکھتے ہوئے اور یہ سفر بچپن سے ہے جب وہ شام ہوتے ہی جگنووں اور تتلیوں کو گھر میں لگے پودوں پہ سے پکڑ کر خوش ہوتی تھی اور پھر رات کو گھر کے صحن یاچھت کو جاتی کسی سیڑھی پہ بیٹھ کر گھنٹوں آسمان کے تاروں اور چاند کو دیکھتی رہتی تھی.ان میں جھرمٹ کو تلاشتی تھی تو کبھی ان تین روشن ستاروں کو ،جو ایک قطار سے کبھی نہیں ہٹے تھے۔وہ سوچا کرتی تھی سورج اس وقت کہاں ہو گا؟ کہیں بادل بھی تو ہونگے؟ یہ سوچیں وقت کے ساتھ ہر پل ساتھ سفر کرنے لگیں.
اسی لئے رابعہ بچپن سے ہی کم گو تھی کہ اس کے اندر ایک اپنی کائنات سفر میں رہی.وہ تنہا نہیں تھی.اسے تنہائی کا احساس کبھی نہیں ہوا حالانکہ اس کی نا تو کوئی بہن تھی اور نا ہی کوئی ہم عمر فی میل کزن،اگر کوئی اس کی کائنات میں مداخلت کی کوشش کرتا تو وہ الجھ جاتی تھی۔ اگرچہ اب وہ اس کیفیت پہ شعوری طور پہ قابو پانے کے قابل ہو گئی ہے۔
پھر جب وہ ذرا سی بڑی ہوئی تو بچوں کی کہانیوں کی کتابیں پڑھنے لگی۔ آٹھ سال کی تھی اس کے والد کو ملک سے باہر جانا پڑا.تو وہ بیمار ہو گئی اسے ہر وقت سینے میں شدت کا درد محسوس ہوتا۔بہت لاحاصل علاج ہوئے.لیکن کوئی صورت صحت کی نظر نہیں آتی تھی.
ڈاکٹرز تبدیل ہوتے رہے آخر ایک چیسٹ سپشلسٹ نے مرض کی جڑ پکر لی ۔اس کی والدہ سے پوچھا کہ اس کے والد کہاں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ بیرون ملک ہیں.اس نے کہا تو بس اس کا مسلہ یہی ہے، یہ ان کو مس کرتی ہے.آپ اس کو کہیں روز انہیں خط لکھا کرے.
یوں رابعہ روز سکول ہوم ورک کے بعد بابا کو خط لکھتی.یوں وہ آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگی.اور جب تک اس کے والد بیرون ملک رہے وہ خط لکھتی رہی.اور امی جمع کر کے پوسٹ کر دیا کرتیں.
رابعہ کو امی نے ہی بتایا کہ جب وہ دو ماہ کی تھی تو بستر پہ لیٹی رات بھر جاگتی رہتی.اس کے والد کی جاب ایسی تھی کہ وہ آدھی رات کے بعد گھر آتے تھے اور جب دو اڑھائی بجے آتے ،کمرے کے باہر سے ہی آواز دیتے ”گڑیا” اور رابعہ آواز سنتے ہی سو جاتی تھی.
اس کے والد جب واپس آئے تب تک اس کو خط لکھنے کی عادت ہو گئی تھی اس نے ڈائیری لکھنا شروع کر دی. پہلے تو وہ ڈائیری میں دن بھر کے محسوسات لکھتی مگر پھر اس نے راتوں کے دیکھے خواب لکھنے شروع کر دئیے.وہ اپنی اس ڈائیری کو چھپا چھپا کر رکھتی شاید وہ عمر ایسی تھی.
پھر اس نے پینٹنگ شروع کر دی.واٹر پینٹ کرنے لگی کیونکہ اس کے والد پینٹنگ کیا کرتے تھے.یہ اسے وراثت میں ملا تھا۔ اس لئے سکول کالج کے سب پینٹنگ کے مقابلے امتیازی طور پہ جیتے۔وہ آرٹسٹ بننا چاہتی تھی.نیشل کالج آف آرٹس سے پڑھنا چاہتی تھی ۔مگر اس کو آرٹس کالج میں پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
وہ اتنا ہرٹ ہوئی کہ اس نے نا پڑھنے کا فیصلہ کر لیا،مگر جو ہونا ہوتا ہے انسان اس کو کب اپنے فیصلوں سے ٹال سکتا ہے۔اس نے کیلی گرافی سیکھی اور مونٹیسری کو کیلی گرافی پڑھانے لگی ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور قسمت اسے ایشین آکسفورڈ یعنی گورنمنٹ کالج لے گئی جہاں اردو ادبیات پڑھا.اس وقت وہ ہلکی پھلکی شاعری کرتی تھی اور اخبارات میں مضامین لکھتی تھی کوئی باقاعدہ پلیٹ فارم نہیں تھا۔ نا ہی باقاعدہ تخلیق تھی ۔
یونیورسٹی میں ہی ”راوی”کی کو ایڈیٹر اور تخلیق مکرر کی ایڈیٹر ہو گئی ۔اس سفر نے ادب کے اور قریب کر دیا.
پھر تھیسس کا وقت آیا تو اصغر ندیم سید اسکے مقالہ انچارج تھے۔وہ بھی ادیب تھے ۔رابعہ کی خواہش تھی وہ مردانہ کرداروں پہ تھیسس کرے مگر جب وہ یہ بات کرنے اپنے صدر شعبہ ڈاکٹر سہیل احمد خاں کے پاس گئی تو انہوں نے کہا پہلے تو تمہیں یہ کردار تخلیق کرنے ہو نگے تو ہی مقالہ لکھ سکو گی،اس نے بھی ابھی تک جو لٹریچر پڑھا تھا اس میں ثانوی نوعیت کے مردانہ کردار تھے.
بحرحال اس نے احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کا نسائی تجزیہ کیا۔ ابھی قاسمی صاحب کا انتقال ہوا ہی تھا فنون نکل رہا تھا. فنون کی حاکمیت کے جھگڑے چل پڑے ۔ یہ اس وقت کی سب سے بڑی ادبی لابی تھی۔
اب مقالہ لکھنا تھا تو اس لابی کے سب ادیبوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا منصورہ احمد سے تو دوستی ہو گئی وہ رابعہ کوپہلے دن سے ہی کہہ رہی تھیں ”گڑیا میں تم میں کہانی کار دیکھ رہی ہوں ”اور میں ہر بار ٹال جاتی.”آپاں کہاں کہانی کہاں میں؟ ” پھر امجد اسلام امجد صاحب نے وہ ٹوٹی پھوٹی شاعری پڑھی تو کہا”تم میں نثر کے اہلیت ہے.اچھی نثر لکھ سکتی ہو نثر لکھو”
مقالہ جاری تھا کہ ایک روز منصورہ احمد نے بہت مان سے کہا بس مجھے ایک ہفتے میں کہانی چاہئے.یوں رابعہ نے پہلی کہانی (ذراپاس آجائیے ۔۔)لکھ کر بھیجی جو قدرے مزاحیہ تھی۔منصورہ احمد نے اس کا آخری جملہ بدل کر باقی ساری کی ساری کہانی یونہی شائع کر دی۔رابعہ کے لکھے میں جدائی پہ اختتام تھا۔جومنصورہ احمد نے ایک جملے سے وصل میں بدل دیا.
اور کہنے لگیں’’ گڑیا شادی کر لینا.یہ دنیا بہت بے رحم ہے،،
رابعہ نے اس وقت تو بات مذاق میں اڑا دی مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی ڈگری تجربے کی ہی ہے۔مگر یہ حادثہ (شادی)بھی بندے کے اختیار میں نہیں ہوتی.یہ حادثہ ہوتا ہے۔جو اپنے وقت پہ ہی ہوتا ہے ۔اور کبھی نہیں بھی ہوتا۔
ایم اے ہو گیا.رابعہ ایشین آکسفورڈ سے یورپی آکسفورڈ کے خواب دیکھ رہی تھی.مگر اس کے سب خواب انار کلی کے وجود کی طرح چنوا دیئے گئے.تب اسے وہ دن یاد آیا جب وہ یونیورسٹی کے سالانہ میوزک پروگرام کی کمپئرنگ کرنے سٹیج پہ آئی، اس نے سکن چوڑی دار پاجامہ سرخ کرتا اور دوپٹہ لیا ہوا تھا.جب وہ سٹیج سے اتری تواسے سب نے جی سی کی انار کلی کا خطاب دیا.اس لمحے اسے اندازہ ہی نہیں کہ اسے بھی کسی محل کی دیواروں میں چنوایا دیا جائے گا۔
اس کے مشفق استاد اصغر ندیم سید اپنی طالبہ کو شاید لکچرار کے روپ میں دیکھناچاہتے تھے.رابعہ بھی یہی چاہتی تھی ۔مگر اب چاروں اور دیواریں بہت بلند ہو گئی تھیں، اس پہ صلیب بھی رکھی جا چکی تھی.وہ رو پڑی تب اصغر ندیم سید نے بہت جلال اور قوت سے کہا” اب تمہارے پاس بس ایک ہی رستہ بچا ہے لکھو اور اتنا لکھو کہ تمہارے لفظ بولنے لگیں”
اب کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کی دعا تھی یا شاید بابا کی خواہش بھی کیونکہ رابعہ کو بچپن سے ہی وہ ادیب خواتین کی حالات زندگی مختصر اٌبتایا کرتے تھے۔مطالعہ ان کا بھی بہت تھا۔رابعہ نے بابا ہی کی لائیبریری سے کتابیں چرا کرچھپا چھپا کر پڑھنا شروع کی تھیں اور حسن اتفاق کہ بارہ تیرہ برس میں جو پہلی کتاب ہاتھ لگی وہ خلیل جبران کی تھی۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آیا اس نے کیا پڑھا مگر جو پڑھا اس کا لطف بہت آیا.اس کے فورا بعد یوسف زلیخاں پڑھ لی تو یوسف کے عشق میں ایسا مبتلا ہوئی کہ اس وقت تو وہ انہیں چاند میں بھی محسو س ہوتے ستاروں میں بھی۔ وہی کیفیت تھی جو جوانی کے عشق کی ہوتی ہے.
یہ عشق کم نہیں ہوا نوبت یہاں تک آئی کہ چار کتابیں چاروں یو سف کے نام کیں۔
یوسفؑ کو ایک خاص طبقے نے بزدل کہا ۔رابعہ کے مطابق ان سے بڑا بہادر کوئی نہیں تھا.زلیخا کو عورت کا پاگل پن و جنو ن کہامگر اس کے لئے بھی مد مقابل یوسف ہونا ضروری تھا.
تاریخ کے ان دو کرداروں کی بنیاد پہ مرد ووعورت کی نفسیات نہیں ہے.یہ نفس الگ تھے.ان کی نفسیات علیحدہ ہے.
عشق یوسف کا سبب بتانے کے لئے بھی کم از کم ایک اور خط لکھنا پڑے گا.
ابھی یہاں صبح کاذب بھی گزر چکی۔بھیگی رات بھی سونے کو ہے۔ستارے آج نکلے نہیں سو آرام سے ہیں۔بادل بھی کسی کی یاد میں رو کر سسکیاں بھر کر خاموش ہو گئے ہیں۔
رابعہ کو بھی خالق سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔اس سے قبل کہ آسمان بھی مطلب پرستوں کی مانند سفید ہو جائے
رابعہ اجازت چاہتی ہے
فی امان اللہ

Facebook Comments HS