’’نقیب قتل کیس میں مجھے بلاوجہ پھنسایا گیا‘‘


’’نقیب قتل کیس میں بلاوجہ پھنسایا گیا‘‘

راؤ انوار نے کہنا ہے کہ نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کو بلاوجہ پھنسایا گیا، کچھ لوگ ان پولیس والوں سے اپنی مرضی کا بیان لینا چاہتے تھے ۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں راؤ انوار کے وکیل کی جانب سے بریت کی درخواست بھی دائر کر دی گئی۔

آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں راؤ انوار کے مزید 4 ساتھیوں ملزم سب انسپکٹر محمد یاسین، اے ایس آئی سپرد حسین اور ہیڈ کانسٹیبل خضر حیات کی 2،2لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی ۔

کیس میں عدالت نے معطل ڈی ایس پی قمراحمد کی 5لاکھ روپے میں ضمانت منظور کرتے ہوئے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 18 اگست تک ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد عدالت کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راؤ انوار نے کہا کہ نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کو بلاوجہ پھنسایا گیا۔ کچھ لوگ ان پولیس والوں سے اپنی مرضی کا بیان لینا چاہتے تھے، وہ بیان ان کو نہیں ملا تو ان کے اوپر بلاوجہ کیس بنا دیا گیا۔

Facebook Comments HS